Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
04.05.2026
Trending News: بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
04.05.2026
Trending News: بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  1. Home
  2. خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

خود شناسی-اہمیت اور تقاضے

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • مئی 8, 2025
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اسلام نے خدا شناسی کے ساتھ خود شناسی کو بھی کافی اہمیت دی ہے، بلکہ یہاں تک منقول ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا تو اس کی رسائی خدا تک ہوجاتی ہے، حضرت یحیٰ بن معاذ رازیؒ کے قول کے طورپر اسے نقل کیا گیا ہے کہ ”مَنْ عرفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عرفَ رَبَّہ“ یقیناً یہ حدیث نہیں ہے اور جو لوگ اسے حدیث کے طورپر نقل کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں، لیکن اس میں ”عرفان رب“ کے لیے ”عرفان ذات“ پر توجہ مرکوز کرنے کی بات کہی گئی ہے، قرآن کریم میں بھی اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ“ عرفان ذات کی منزل سے گذرکر بندہ اس پوزیشن میں آجاتا ہے کہ وہ اعلان کرسکے کہ ”من آنم کہ من دانم“ یعنی میں جو ہوں اپنے کو خوب جانتا ہوں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے سامنے ان کے ایک مرید نے یہ جملہ کہا تو حضرت نے فرمایا: بڑا دعویٰ کر رہے ہو، کیا تم نے اپنی ذات کو پہچان لیا ہے؟ اگر پہچان لیا ہے تو معرفت رب بھی اس کے نتیجے میں آجائے گا۔

قلب صاف ہو تو خیالات بھی صاف ہوتے ہیں اور دل کے فیصلے کا رخ احکام وہدایات ربانی کی طرف آسانی سے ہوجاتا ہے اور دل غلط فیصلے کر ہی نہیں سکتا، اسی لئے ”اِسْتَفْتَ قَلْبَکَ“ کا حکم دیا گیا کہ فتویٰ اپنے دل سے لو، کیوں کہ وہ غلط نہیں بتائے گا، ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ”لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَق“ تمہارے اوپر تمہارا اپنا بھی حق ہے

۔معاملہ اپنی معرفت کا ہو یاحقوق کا، اس کے لیے خود سے جڑن پڑتا ہے، دل کی آواز کو سننا پڑتا ہے، اگر نہ سنیں تو مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس خود سے جڑنے سے اپنے وجود کا احساس ہوتا ہے، ہماری پسند اور چاہت کیا ہے اس کا ادراک ہوتا ہے، پھر اس چاہت کے اہم ہونے کی حقیقت سامنے آتی ہے، ان امور کی ان دیکھی سے خارجی حالات سے آدمی پریشان ہوجاتا ہے، باہری شور کا غلبہ ہوتا ہے، لوگوں کے غیرضروری مشورے اور جھوٹی خبریں انسان کے دل ودماغ کو اس قدر متاثر کرتی ہیں کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ہے، اس تاثر کا وقتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے کو کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں، قوت ارادی ہمارا ساتھ چھوڑنے لگتی ہے، ان حالات سے نبرد آزما اور مقابل ہونے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ آپ اپنی ذات سے جڑییے، اقبال کے تصور خودی کا مرکز ومحور یہی ہے۔

آدمی جب خود شناسی کی منزل سے گذرتا ہے تو خوف کی دنیا سے وہ باہر آجاتا ہے اور صحیح سمت میں آگے بڑھتے رہنے کا راستہ کھلتا ہے، اس کے اوپر باہری شور وغل کا اثر نہیں ہوتا، بلکہ اطمینان قلب کی دولت اسے ملتی ہے، خود کو سمجھنے کی صلاحیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ہمارے لیے ممکن ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوش حال اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکیں، اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ساری تگ ودو، معاشی مشاغل، الجھنوں اور پریشانیوں سے دور رہ کر تھوڑا وقت خود کو دیجیے، صوفیاء کرام کے یہاں مراقبہ کا جو تصور ہے، اس کی بنیاد یہی ہے کہ انسان تھوڑی دیر جلوت سے نکل کر خلوت اختیار کرے، تاکہ وہ اپنے بارے میں سوچے، اپنی آخرت کے بارے میں سوچے، مراقبہ مابعد الموت اس باب میں بہت مفید ہے، اس احساس کے ساتھ کہ ہمیں اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا میں جانا ہے، جس میں سارا حساب وکتاب ہوگا اور میں وہاں تنہا ہوں گا، اس دن بھائی بھائی سے، شوہر بیوی اور بیوی شوہر سے، والدین اپنے بچوں سے بھاگتے نظر آئیں گے، حساب وکتاب کا یہ تصور اور فکر آخرت آدمی کو اپنی ذات سے جڑنے کے لیے انتہائی مفید ہے زندگی کی بھاگ دوڑ سے تھوڑا وقت اپنے لیے نکالنا بہت مشکل کام نہیں ہے، آپ اس وقت کا استعمال کائنات کی خاموش آواز سننے میں بھی کر سکتے ہیں، آپ چاہیں تو ہوا اور سناٹوں تک کی سرگوشیاں سن سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی بولتے ہیں، شجر وحجر کی گفتگو بھی آپ کو سنائی دے گی کہ وہ کس طرح خالق کائنات کی حمد وثنا میں مشغول ہیں، آپ اس کا بھی ادراک کر سکیں گے کہ کائنات کی ہر چیز عبادت کے مختلف طریقوں کو اپنائے ہوئے ہے، کوئی قیام میں ہے، کوئی قعود میں، کوئی رکوع اور کوئی سجود میں، معرفت کے اس مقام پر پہونچ کر آپ خدا کو بھی پہچاننے لگیں گے اور خدا کی مخلوقات سے بھی آپ کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہوگا، پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ شکریہ کے الفاظ کس قدر طاقت ور ہیں، یہ اللہ کی شکرگذاری تک ہمیں لے جاتے ہیں اور ہمیں ذہنی تناؤ سے نجات حاصل ہوتا ہے، شکریہ صرف ایک رسم نہیں ہے، یہ آپ کے دل کی آواز ہوتی ہے جو جذبات تشکر سے لبریز ہوکر نکلتی ہے اور آپ کو دل کی آواز سننے کے لائق بناتی ہے، اس وقت آپ اپنے دل سے اس کی خواہش پوچھ سکتے ہیں، اپنے جسم کی آواز سن سکتے ہیں، عمل اور رد عمل کی یہ آواز آپ کی خواہش کو شریعت کے مطابق صحیح سمت دینے میں بہت کارگر ہوتی ہے اور اگر اس آواز پر آپ چلنے لگیں تو آپ کی دنیا وآخرت دونوں سنور جاتی ہے۔

اگر آپ اپنے ضمیر کی آواز سننے کو تیار ہوں تو کم از کم ایک ماہ مراقبہ کے ذریعہ اس کی مشق کریں، اپنے اندر واقع ہونے والی تبدیلیوں پر دھیان مرکوز کریں، آپ محسوس کریں گے کہ زندگی کے ایک نئے تجربہ سے آپ گذر رہے ہیں اور یہ تجربہ آپ کو دلی سکون اور اطمینان قلب سے سرشار کر رہا ہے۔

اس مقام کو پانے میں جو رکاوٹ عام طور سے کھڑی ہوتی ہے، وہ ہربات کو اپنے اوپر لے لینا ہے، ہم سب کی کوئی نہ کوئی دکھتی رگ ہوتی ہے، جو دانستہ یانادانستہ طورپر دب جاتی ہے، بات ہماری نہ بھی ہو اور ہدف ہمیں نہ بنایا گیا ہو، تب بھی ہم اسے اپنے اوپر لے لیتے ہیں، ہمارے سامنے کوئی کانا پھسکی کررہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہمارے بارے میں ہی کچھ کہہ رہا ہے، اگر کوئی ہنس رہا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہم پر ہنس رہا ہے، اس سے دل ودماغ میں انفعالی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور انسان ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتا ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کا خیال صحیح ہو اور جان بوجھ کر لوگ آپ ہی کے بارے میں بات کر رہے ہوں، ایسے موقع سے خود پر قابو رکھنا ایک بڑا کام ہے، قابو بھی رکھیے اور اپنی بات سلیقہ سے موقع محل کی رعایت کرتے ہوئے کہہ بھی جایئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ کہا سنی میں اپنا وقت ضائع نہ کریں، سوچ سمجھ کر اپنی بات رکھیں، بَک بَک اور محض گفتگو برائے گفتگو سے پرہیز کریں، بعض لوگ اپنی حاضری درج کرانے کی نفسیات اور نمایاں ہونے کی غرض سے بولنا شروع کرتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں، مشورہ کے آداب کے خلاف ایک دوسرے کی باتوں کو کاٹنے لگتے ہیں، جس سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، اس حالت میں بھی خود پر قابو رکھیے، اس لیے کہ بُرائی کا جواب بُرائی سے دینا شریفوں کا کام نہیں ہے، کتے نے کاٹ لیا تو آپ بھی اس کو کاٹ لیں، یہ عقل وشعور سے دور کی بات ہے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں برداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔بہت موقعوں سے آپ کے خیالات کو منتشر کرنے آپ کو نفسیاتی طورپر کمزور کرنے کے لیے خلط مبحث کیا جاتا ہے، بحث کے دوران کبھی غیرشریفانہ الفاظ کا استعمال سامنے والا کرتا ہے، نوبت گالی گلوج تک پہونچ جاتی ہے، لیکن آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ قرآنی حکم ”اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن“ کو نہ چھوڑیں، بہتر طورپر دفاعی پوزیشن اختیار کیجئے ایک موقع سے راحت اندوری کے کسی شعر پر کسی نے ہوٹنگ کی تو راحت نے اس کے جواب میں صرف اس قدر کہا کہ میں جس مقام پر آج ہوں، یہاں پہونچنے میں مجھے تیس سال لگے، تو کیا میں اپنی تیس سالہ محنت کو ایک غیرشریفانہ عمل کا جواب دینے کی وجہ سے ضائع کردوں، ظاہر ہے کہ ایسا میں نہیں کرسکتا، خود بھی حدوں کو پار نہ کیجیے اور دوسروں کو بھی حد میں رکھنے کی کوشش کیجیے، سامنے والے کی منشا کو سمجھئے، بہت سا کام دوسرے ناسمجھی اور بے شعوری کی وجہ سے کرتے ہیں، ایسا ہے تو عفو ودرگذر سے کام لیجیے، ہرچھوٹی بات پر اپنے رد عمل کا اظہار آپ کی فکر کو منفی رخ دیتا ہے، جس سے آپ کا ہی نقصان ہے، ہر بات کو اپنے اوپر لینے کی ہماری عادت ہے، جسم وجان ہی متأثر نہیں ہوتا؛ بلکہ ہمارے مستقبل پر بھی یہ بڑا اثر ڈالتا ہے، آپ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سے بچ نہیں سکتے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر اس کا کچھ عنصر پایا جاتا ہے، اگر پایا جارہا ہے تو اسے دور کرنا چاہیے، اگر نہیں ہے تو اسے پاگل کی بَڑ سمجھ کر نظرانداز کردینا چاہیے، اگر اس کا جواب دینا غور وفکر کے بعد ضروری معلوم ہو تو بھی اس کا انداز منطقی اور سنجیدہ ہونا چاہیے، اگر یہ صفت ہمارے اندر پیدا ہوجائے تو یقینی طورپر ہم بہت سارے دکھ اور شرمندگی سے نجات پاسکتے ہیں، اس سے ہماری خود شناسی کو تقویت ملے گی اور ہم معرفت رب تک پہونچیں گے، جو ہماری زندگی کا مطلوب ومقصود ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

"عید مبارک”
مدارس اسلامیہ ماضی۔، حال اور مستقبل !

Related Posts

بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت
  • hira-online.comhira-online.com
  • بچوں کے لیے دینی تعلیم کی اہمیت
  • دینی تعلیم
  • مئی 1, 2026
  • 0 Comments
بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت

بچوں كے لئے دینی تعلیم كی اهمیت! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏ انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے ، اسی لئے ہر شخص سچائی ، انصاف ، دیانت داری ، مروت اور شرم و حیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ ، ظلم ، خیانت ، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتا ہے ، یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے اوربعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ، انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے ؛ لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ، یہ دراصل فطرت کی آواز ہے ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیدا ہوتا ہے ، یعنی خدا کی فرمانبرداری کے مزاج پر پیدا کیا جاتا ہے ؛ لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں : کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ ، او ینصرانہ او یمجسانہ(مسند احمد ، حدیث نمبر : ۷۱۸۱) لیکن خارجی حالات کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے ، اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے ، ظلم و ناانصافی ، بے حیائی و بے شرمی ، کبر وغرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے ، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ہے ؛ بلکہ خارجی عوامل ۔کی وجہ سے پیدا ہونے والا انحراف ہے ! جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ، وہ بنیادی طورپر دو ہیں : ایک : ماحول ، دوسرے : تعلیم ، تعلیم کا مطلب تو واضح ہے ، ماحول کے اصل معنی گرد و پیش کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ، فکر و نظر…

Read more

Continue reading
قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات
  • hira-online.comhira-online.com
  • جادو
  • جادو کی حقیقت
  • اپریل 12, 2026
  • 0 Comments
قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات ​اسلامی عقیدے کے مطابق جادو محض ایک وہم یا افسانہ نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم نے اس کے وجود اور اس کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی فن ہے جو انسان کے ایمان اور دنیا دونوں کے لیے مہلک ہے۔ ​جادو کی حقیقت اور نقصان ​قرآن کریم نے جادو کو ایک ایسے علم کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کا سیکھنا سراسر نقصان کا باعث ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:​”وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ”(اور وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں نفع نہیں دیتی۔)​اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جادو کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے روحانی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ جادوگر اپنے ناپاک مقاصد کے لیے شیاطین کا سہارا لیتا ہے، جو اسے اللہ کی بندگی سے دور کر کے کفر کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔​ نظر بندی اور تخیلاتی جادو ​جادو کی ایک قسم وہ ہے جس میں جادوگر انسانی حواس، بالخصوص نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے "سحرِ تخئیل” یا نظر بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی صورت میں دی ہے:​”يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ”(ان کے جادو کے زور سے موسیٰ علیہ السلام کے خیال میں یہ بات آئی کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔)​یہاں جادوگروں نے رسیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ایسا اثر کیا تھا کہ انہیں وہ رسیاں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جادو انسان کی نفسیات اور ادراک کو متاثر کر سکتا ہے۔ ​خاندانی بگاڑ اور میاں بیوی میں تفریق ​جادو کا ایک بدترین سماجی پہلو یہ ہے کہ اسے انسانی رشتوں کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جادوگر ایسے عمل سیکھتے ہیں جن کے ذریعے وہ میاں بیوی جیسے مقدس اور…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت 01.05.2026
  • خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954 30.04.2026
  • (بلاعنوان) 30.04.2026
  • قربانی کس پر واجب ہے ؟ 30.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ 27.04.2026
  • ذبح کرنے کا صحیح طریقہ 27.04.2026
  • حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر 26.04.2026
  • مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم) 26.04.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت

  • hira-online.com
  • مئی 1, 2026
بچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیت
سیرت و شخصیات

خلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
فقہ و اصول فقہ

قربانی کس پر واجب ہے ؟

  • hira-online.com
  • اپریل 30, 2026
قربانی کس پر واجب ہے ؟
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ
فقہ و اصول فقہ

ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

  • hira-online.com
  • اپریل 27, 2026
ذبح کرنے کا صحیح طریقہ
حدیث و علوم حدیث

حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

  • hira-online.com
  • اپریل 26, 2026
حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر
سیرت و شخصیات

مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

  • hira-online.com
  • اپریل 26, 2026
مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top