Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

  1. Home
  2. 🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

🔰سیاسی فائدہ کے لئے جھوٹ اور پروپیگنڈانا

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • فروری 21, 2025
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

موجودہ حکومت ہمیشہ ایسے موض کی تلاش میں رہتی ہے، جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے میں معاون ومددگار ہو، اور زیادہ تر اس میں جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے، ایک ایسا ہی جھوٹ ہے، جس کو ’’ لَو جہاد‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے، یعنی مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں سے محبت وپیار کے نام سے تعلق استوار کرتے ہیں، اور بالآخر اس لڑکی کو مسلمان بنا لیتے ہیں، اس جھوٹ کو اتنی شدت اور تکرار کے ساتھ بار بار پیش کیا جاتا ہے کہ ایک بڑا طبقہ اس سے متاثر ہو رہا ہے؛ کیوں کہ اکثر لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، تحقیق کی زحمت نہیںاُٹھاتے؛ چنانچہ اس وقت مہاراشٹرا کی بھاجپا حکومت نے لَو جہاد کے خلاف قانون سازی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا صاف مقصد سیاسی فائدہ اُٹھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کچھ ایسی رکھی ہے کہ وہ محبت کا بھوکا ہے؛ اسی لئے اسے خوشی کے ماحول میں ایسے لوگوں کی جستجو ہوتی ہے جو اس کی مسرت میں شریک ہوسکیں ، یہ شرکت اس کی خوشی کو دو بالا کردیتی ہے ، اسی طرح کسی انیس و غمخوار کی موجودگی اس کے غم کو ہلکا کرنے کا باعث بنتی ہے ، یہ محبت اسے اکثر ایسے رشتوں سے حاصل ہوتی ہے جو فطری ہیں اورجس میں اس کے اختیار کو کوئی دخل نہیں؛ مگر ایک رشتہ ایسا بھی ہے جس کو انسان اپنی پسند اوراختیار سے وجود میں لاتا ہے ، یہ ہے رشتۂ نکاح، نکاح کے بندھن میں بندھنے والے مرد وعورت کا ایک خاندان ایک علاقہ اور ایک زبان سے وابستہ ہونا ضروری نہیں ، بہت سی دفعہ بالکل اجنبی لوگوں کے درمیان رشتہ طے پاتا ہے ؛ لیکن یہ رشتہ ایسی محبت و اُلفت کو جنم دیتا ہے جس کی گہرائی اکثر اوقات دوسرے تمام رشتوں سے بڑھ جاتی ہے ، پرانے رشتے اس نئے رشتہ کے مقابلہ میں ہیچ ہوجاتے ہیں ، یہ رشتہ یوں بھی اہم ہوتا ہے کہ دونوں فریق کا مستقبل موت تک ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے ، یہ ایک دوسرے کے ذریعہ ماں باپ بنتے ہیں اور باہمی تعاون کے ساتھ اپنے جگر پاروں کی پرورش کرتے ہیں ، ایک زمانہ تک وہ خود ایک دوسرے کے لئے سنہرے خواب کی حیثیت رکھتے تھے اور اب دونوں مل کر اپنی آئندہ نسل کے لئے خواب دیکھتے ہیں ۔

اسی لئے رشتۂ نکاح میں دونوں فریق کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی ہونی چاہئے ، یہ ہم آہنگی رشتوں کو پائیدار بناتی ہے ، جو لوگ وقتی طورپر کسی پر دل پھینک دیتے ہیں اور اس بنیاد پر ازدواجی رشتہ سے بندھتے ہیں، عموماً ان کے درمیان تعلق میں استحکام باقی نہیں رہتا ، ہم آہنگی کے لئے ایک ضروری شرط فکر و عقیدہ کی موافقت بھی ہے ، سوچئے کہ اگر ایک شخص اللہ کو ایک مانتا ہو اور اللہ کے سوا کسی کے سامنے اپنی پیشانی رکھنے کو سب سے بڑا جرم تصور کرتا ہو ، اس کی اس شخص کے ساتھ چوبیس گھنٹے کی زندگی میں کیسے موافقت ہوسکتی ہے جو سینکڑوں مخلوقات کا پجاری ہو ، جب دونوں کے مذہبی تہوار آئیں گے تو اگر وہ اپنے نظریہ میں سنجیدہ اورسچا ہوتو کیا ان کے درمیان نزاع پیدا نہیں ہوگی ؟ جب اولاد کی تعلیم و تربیت اور ان کی مذہبی وابستگی کا مسئلہ آئے گا تو کیا آپس میں کھینچ تان کی نوبت نہیں آئے گی ؟ یقیناً آئے گی؛ اسی لئے اسلام میں جو چیزیں نکاح میں رکاوٹ مانی گئی ہیں، جن کو فقہ کی اصطلاح میں’’ موانع نکاح ‘‘کہا جاتا ہے، ان میں ایک اختلاف ِدین بھی ہے۔ اس کی تفصیلات کو تین نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے ، اول یہ کہ مسلمان لڑکی کا نکاح کسی بھی غیر مسلم لڑکے سے نہیں ہوسکتا ، خواہ وہ یہودی و عیسائی ہو یا کافر و مشرک ، جیسے ہندو بدھسٹ وغیرہ ، اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ایک عور ت کے لئے مخالف ماحول میں اپنے ایمان کی حفاظت دشوار ہوجائے گی ، دوسرے: کسی مسلمان مرد کا نکاح یہودی اور عیسائی عورت کے علاوہ کسی بھی غیر مسلم عورت سے نہیں ہوسکتا ، ظاہر ہے اس میں ہندو خواتین بھی شامل ہیں ، تیسرے: مسلمان مرد کا نکاح یہودی اور عیسائی عورت سے ہوسکتا ہے ؛ لیکن اس سلسلہ میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہئیں ، ایک یہ کہ یہودی اور عیسائی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے حکومت کی مردم شماری کے خانہ میں اپنے ساتھ یہودی یا عیسائی لکھا ہو ، جیساکہ آج کل اہل مغرب کا حال ہے ؛ بلکہ ضروری ہے کہ وہ حقیقتاً یہودی اور عیسائی ہو ، یعنی خدا پر ، نبوت پر ، الہامی کتاب پر اورآخرت کے نظام پر ایمان رکھتی ہو ، دوسرے اگرچہ یہودی اور عیسائی خواتین سے نکاح کی گنجائش ہے ؛ لیکن یہ بھی کراہت سے خالی نہیں ، سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے جب یہ بات سنی کہ شام کے علاقہ میں مسلمان مرد یہودی اور عیسائی عورتوں سے نکاح کررہے ہیں تو اس کو سختی سے منع کیا ، اس کی دو مصلحتیں بالکل واضح ہیں ، پہلی مصلحت یہ ہے کہ اس سے مسلم خاندانوں میں غیر اسلامی افکار اور اجنبی ثقافت کے گھس آنے کا اندیشہ ہے ، دوسری مصلحت یہ ہے کہ سیاسی اوردفاعی اعتبار سے مسلمانوں کے حرم میں ایسی خواتین کا آنا نہایت نقصاندہ ہے ، جنرل اکبر خان نے سیرت نبوی (ﷺ) پر اپنی کتاب ’’حدیث ِدفاع‘‘ میں اس پر بڑی چشم کشا گفتگو کی ہے ، ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل کی کامیابی اور مصر و شام کی پسپائی کا بنیادی سبب یہی ہوا کہ بڑے بڑے کمانڈروں کی بیویاں عیسائی اور یہودی تھیں اور سارے جنگی راز لمحہ بہ لمحہ اسرائیل تک پہنچ رہے تھے ، افسوس کہ عربوں کی آنکھ اب تک نہیں کھلی ، مصر کے موجودہ ڈکٹیٹرسیسی کی ماں یہودی تھی ، یہاں تک کہ اس کا ماموں طویل عرصہ تک اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ، اسی طرح شاہ اُردن کی بیوی عیسائی ہے، یاسر عرفات مرحوم کی بیوی کا بھی یہی حال تھا ، یہی بے راہ روی ہے جس نے مسلم ملکوں کو ایسا کمزور کردیا ہے کہ وہ یہودی اور عیسائی طاقتوں سے آنکھ ملانے اور ان کے سامنے زبانِ احتجاج کھولنے کی بھی ہمت نہیں پاتے ؛ اس لئے کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو جو تنبیہ فرمائی تھی ، وہ ان کی فراست ایمانی اور گہری بصیرت پر مبنی تھی۔بہرحال اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ مشرک مرد سے مسلمان عورت کا یامشرک عورت سے مسلم مرد کا نکاح نہیں ہوسکتا ، افسوس کہ اس روشن حقیقت کے باوجود اس وقت فرقہ پرست طاقتوں نے ’’لَوْ جہاد‘‘ کا افسانہ چھیڑ رکھا ہے ، اگر اسلام اس کا قائل ہوتا اورمسلمان نکاح کو اشاعت ِاسلام کا ذریعہ بنانا چاہتے تو غیر مسلم اقوام سے نکاح کی ممانعت نہیں کی گئی ہوتی ؛ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ، جیساکہ آج کل عیسائی دنیا میں کی جاتی ہے ؛ بلکہ اسلام میں تو یہ بات بھی پسندیدہ نہیں ہے کہ کوئی مرد یا عورت اس لئے اسلام قبول کرے کہ اس کی فلاں شخص سے شادی ہوجائے ، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہدایت کو حاصل کرنا اس کا مقصد نہ ہو ، عہد نبوی میں مکہ فتح ہونے سے پہلے تک یہ بات واجب قرار دی گئی تھی کہ وہ مدینہ منورہ ہجرت کر جائیں ، ایک صاحب اسلام قبول کرچکے تھے ؛ لیکن وطن سے جو فطری محبت ہوتی ہے ، اس کی وجہ سے ان کا دل ہجرت کرنے پر آمادہ نہیں تھا ؛ لیکن وہ جن خاتون سے نکاح کرنا چاہتے تھے ، ان خاتون نے شرط لگا دی کہ اس کے لئے ہجرت کرنی ہوگی ، بالآخر انھوںنے ہجرت کی، رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند نہیں آئی ؛ چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ عمل کی قبولیت اور اس پر اجر و ثواب کا مدار نیت پر ہے ’’إنما الأعمال بالنیات‘‘ جس کی نیت اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل کرنا ہوگا ، اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف سمجھی جائے گی ، یعنی اللہ تعالیٰ اس کو اجر عطا فرمائیں گے، اور جس کی ہجرت نکاح یا کسی دنیاوی غرض کے لئے ہو، اس کی ہجرت قابل اجر و ثواب نہیں ہے، تو اگر کوئی شخص دل کی آمادگی کے ساتھ اسلام قبول نہ کرے ، صرف اس لئے مسلمان ہوجائے کہ فلاں لڑکے یا لڑکی سے میری شادی ہوجائے تو اندیشہ ہے کہ اس کو کما حقہ اجر و ثواب نہ ملے اور اگر وہ اسی کیفیت پر قائم رہے تو یہ ایک طرح کا نفاق ہوگا اور عجب نہیں کہ آخرت میں اس کا ظاہری ایمان اس کے منھ پر مار دیا جائے ۔ہندوستان میں مسلمانوں نے ہمیشہ حلال و حرام کی سرحدوں کو باقی رکھا ہے اور معتبر اوردین دار مسلمانوں نے کبھی غیر مسلم لڑکیوں کو بحیثیت منکوحہ اپنانے کی کوشش نہیں کی ، بعض لوگ اکبر کی جودھا بائی سے شادی کا ذکر کرتے ہیں ؛ لیکن یہ شادی راجپوتوں کی رضامندی ؛ بلکہ رغبت کی بنیاد پر ہوئی تھی، اور اکبر کوئی عالم یا دین دار مسلمان نہیں تھا کہ اس کے عمل کو مسلمانوں کے سر تھوپا جائے ، حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی اپنے ضمیر کی آواز پر کسی مذہب کو قبول کرلے اور اپنے ہم مذہب سے نکاح کرنا چاہے تو ہمارے ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور اس کو تبدیلی ٔمذہب کے لئے شادی نہیں کہا جاسکتا، اگر موجودہ ماحول میں جب کہ مخلوط تعلیم کی اجازت ہے، کوئی اپنی پسند کی بناء پر دوسرے مذہب کی لڑکی یا لڑکے سے رشتہ کرتا ہے تو اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اور کم سے کم ہندوستان میں ایسے واقعات بہت پہلے سے ہوتے آئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ سنگھ کے اہم لیڈروں کے گھروں میں اس کی مثالیں موجود ہیں؛ مگر ایسی شادیاں مذہب کی اشاعت کے جذبہ سے نہیں ہوتیں ؛ بلکہ نفسانی جذبات کے تحت ہوتی ہیں، اس میں ہندو مسلم کا کوئی امتیاز نہیں، ایسے واقعات کو ’’لو جہاد‘‘ کا نام دینا جھوٹ اور دھوکہ کی بنیاد پر اپنے سیاسی قد کو اونچا کرنا ہے ۔

علماء اور خطباء کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی نئی نسل کو نکاح کے سلسلہ میں اسلامی تصورات سے واقف کرائیں اور ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کریں ، جن میں ایک مسلمان لڑکا ایک غیر مسلم لڑکی کو بیاہ کر لے آتا ہے ، یا مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتی ہے کہ اس سے مسلم معاشرہ کو نقصان پہنچ رہا ہے ، یہ گناہ کی زندگی ہے ، شریعت کی نگاہ میں یہ نکاح ہے ہی نہیں اور اس سے معاشرہ کا امن بھی درہم برہم ہوتا ہے ، ہاں اگر کوئی ہندو لڑکا یا لڑکی واقعی صدقِ دل سے اسلام قبول کرلے تو یقیناً شرعی طریقہ پر مسلمان لڑکے اور لڑکی کو اس سے نکاح کرنا چاہیے اور اسے اپنے خاندان کا حصہ بنالینا چاہئے ، یہ شریعت کا حکم بھی ہے اور ہمارے ملک کا قانون بھی واضح طور پر اس کی اجازت دیتا ہے ۔= = =

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

  فكر اسلامى كا مطالعه كس طرح كريں؟
روزہ جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہونا چاہیے !

Related Posts

Quranic Arabic Grammar Course
  • hira-online.comhira-online.com
  • Quranic Arabic Grammar Course
  • فروری 1, 2026
  • 0 Comments
Quranic Arabic Grammar Course

Quranic Arabic Grammar Course (Ramadan Special – Level 1)📘 Duration: 1st Ramadan se 25th Ramadan⏰ Class Time: Rozana 1 Ghanta📚 Total Classes: 25Is Course mein aap kya seekhenge?1️⃣ Arabic Word Roots▪️ Quranic Arabic ka root system samajhna▪️ Lafzon ke meanings kaise bante hain2️⃣ Quranic Arabic Grammar▪️ Basic Nahw aur Sarf▪️ Qur’an ke jumlon ki structure3️⃣ Common Quranic Words▪️ Baar baar aane wale Qur’ani alfaaz▪️ Aasan yaad karne ke tareeqe4️⃣ Tafseer of Selected Verses▪️ Simple aur authentic tashreeh▪️ Qur’an ke paighaam ko samajhna5️⃣ Scientific Miracles of the Qur’an▪️ Qur’an aur modern science ki roshni mein6️⃣ Basic Arabic Conversation▪️ Rozmarra istemal ki Arabic▪️ Confidence ke saath bolna💰 Course Fee: Sirf ₹299/-⚠️ Limited seats available – Jaldi register karein!🌐 hira-online.com📸 Instagram: @al_hira_academy_1📱 Join us on WhatsApp📞 Contact: 8235826323✨ Is Ramadan Qur’an ki zaban seekhiye! ✨

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top