Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
20.06.2026
Trending News: معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلت
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ

  1. Home
  2. علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ

علم و تقویٰ کا حسین سنگم *شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی* رحمہ اللہ علیہ

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جنوری 18, 2025
  • 0 Comments

[یومِ وفات 17 جنوری کی مناسبت سے)

(از: (شاہ اجمل فاروق ندوی*(نئی دہلی

جنوری 2020م کو جمعے کے دن عصر کے بعد اپنے دفتر میں مشغول تھا کہ موبائل پر یکے بعد دیگرے بہت سارے پیغام موصول ہونے کا احساس ہوا۔ میں نے فون اٹھاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ علمی دنیا شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کی وفات کی خبر پر ماتم کناں ہے۔ کچھ دیر پہلے مولانا اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اپنے نہایت محبوب اور مشفق استاد کی رحلت کی خبر پڑھ کر میں بھی ماتم کنندگان میں شامل ہوگیا۔

مولانا محمد برہان الدین سنبھلی کی پیدائش 5 فرور 1938م کو ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے انھوں نے 82 سال عمر پائی۔ زندگی کے ابتدائی دو چار سال کو نکال دیں، تو اُن کی پوری زندگی تعلیم و تعلم میں گزری۔ 58-1957 میں تقریباً بیس سال کی عمر میں وہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے۔ اس سے پہلے وہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ قرأت اور حٖفظ قرآن کی تکمیل کر چکے تھے۔ دارالعلوم سے فراغت کے بعد وہ

مدرسہ عالیہ فتح پوری، دہلی میں استاد مقرر ہوئے۔ ایک دہائی تک وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ساتھ میں دروس قرآن کا عوامی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ مفکراسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ بھی اِن دروس سے متأثر تھے، اس لیے آگے چل کر اُن ہی کی دعوت پر مولانا سنبھلی 1970م میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ تشریف لائے۔ ندوے میں تقریباً نصف صدی تک درس دیتے رہے۔ مختلف اوقات میں متن قرآن، تفسیر بیضاوی، تفسیر کشاف، صحیح بخاری، سنن ابو داؤد، حجۃ اللہ البالغۃ اور افتاء و قضاء کی تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آخری چند برسوں میں اگرچہ عملی تدریس سے سبک دوشی اختیار فرمالی تھی، لیکن احاطہء ندوہ میں قیام کی وجہ سے طالبان علم مستقل استفادہ کرتے رہتے تھے۔ اس طرح مولانا کی زندگی کے بیس سال حصولِ علم اور ساٹھ سال تدریس و تعلیم میں گزرے۔ ساٹھ سال کے عرصے میں تصنیف و تالیف، خطبات و تقاریر، اصلاح و ارشاد، ملی سرگرمیاں اور کانفرنسوں، سمی ناروں میں شرکت بھی جاری رہی۔ پوری زندگی اسلامی تعلیمات سے وابستہ رہ کر طویل زندگی گزارنے کے بعد جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اُن کے دامن پر کسی بداخلاقی یا بدعنوانی کے الزام کا دھبا تو دور کی بات ہے، کسی سطحی حرکت کا بھی الزام نہیں تھا۔ آج کے زمانے میں ایسا پاکیزہ کردار کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ استادِ عالی مقام کے اس مثالی کردار کی گواہی عہد جوانی سے اُن کے رفیق اور ملت اسلامیہ ہندیہ کے قائد اعلیٰ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے بھی دی ہے۔ 2004م میں ندوے سے ہمارے سند فراغ حاصل کرنے کے چند برس بعد ہی مولانا فالج کا شکار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد اُن کی تدریسی مصروفیات برائے نام اور پھر ختم ہی ہوگئی تھیں۔ اس لیے اِن برسوں میں اپنا کوئی بھی عزیز ندوے میں زیر تعلیم ہوتا تو میں اس سے ضرور معلوم کرتا تھا کہ مولانا برہان الدین سنبھلی صاحب سے ملاقات کرتے ہو؟ اکثر جواب نفی میں ہی ملتا اور میں دل مسوس کر رہ جاتا۔ عام طور پر احباب یہ شکوہ کرتے تھے کہ ان کی بات صاف سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن میرا احساس بلکہ اعتقاد تھا کہ ہمارے مولانا علم اور تقویٰ کا خوب صورت سنگم ہیں۔ اُن کی شخصیت میں شریعت و روحانیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ایسی شخصیات کچھ بولیں اور ہم ان کا کہا سمجھ لیں تو علمی فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ کچھ نہ کہیں، خاموش رہیں، یا کچھ کہیں اور ہم سمجھ نہ سکیں، تو بھی ہمارا بیٹھنا روحانی فائدے سے خالی نہیں ہوتا۔ یعنی ہم ان کے در سے علم یا روحانیت یا دونوں کے ڈھیروں موتی اپنے دامن میں سمیٹ کر اٹھتے ہیں۔ اس لیے ایسی شخصیت کی موجودگی کو ہی کافی سمجھنا چاہیے۔ گویا:مے خانے کا محروم بھی محروم نہیں ہےلیکن عام طور پر ہم لوگ یہ حقیقت سمجھ نہیں پاتے اور اس طرح کے بے نظیر افراد کی صحبتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اُن کے جانے پر ہمیں احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ ہم کیسی عظیم نعمت سے محروم ہوچکے ہیں۔پیدا کہاں ہیں، ایسے پراگندہ طبع لوگافسوس تم کو میرسے صحبت نہیں رہیاستاد عالی مقام مولانا محمد برہان الدین سنبھلی قرآن کریم کے متبحر عالم، صحیح بخاری کے نہایت کام یاب استاد، فقہ اسلامی کے ماہر، اسرارِ شریعت کے رمز شناس، متعدد بزرگوں کے تربیت و صحبت یافتہ، کئی نسلوں کے مربی، کئی اہم کتابوں کے مصنف اور شیریں بیان واعظ و مقرر تھے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں انھوں نے کئی دہائیوں تک مسندِ درس کو رونق بخشی۔ اپنے ایامِ تدریس کے آخری برسوں میں اُن کا درسِ حجۃ اللہ سب سے زیادہ مقبول تھا۔ عالمیت کے آخر ی سال میں صحیح بخاری کا درس بھی اُن ہی کے ذمے تھا۔ اِن دونوں کتابوں کو وہ جس شان سے پڑھاتے تھے، وہ ان ہی کا حصہ تھا۔ ہم اگر اندازے کے لیے اُن کے درس کی کچھ علمی باتیں بیان کر بھی دیں تو اُن کا اندازِ تفہیم، گفتگو کا زیروبم اور آنکھوں اور باتوں کے معنی خیز اشارے کیسے بیان کرسکتے ہیں؟ ان چیزوں کو کسی نہ کسی طرح بیان کر بھی دیا جائے تو اُن کی شخصیت کا ظاہری جمال، نظافت و نفاست، لہجے کی شائستگی اور آواز کی دل کشی کو کیسے بیان کیا جاسکتا ہے؟ غرض یہ کہ اُن کا درس کیسا ہوتا تھا، اس کو سمجھنے کے لیے اُن کے درس میں جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ جن نصیبے والوں کو اس کا موقع میسر آگیا، وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور جو اس سے محروم رہے، اُن کے پاس ہاتھ ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ کیوں کہ اُن کے درس میں علمی گہرائی وگیرائی، نازک تعبیرات، لطیف اشارات، شائستہ اسلوبی، حسنِ صوت اور مدرس کی ظاہری پاکیزگی اور نظافت مل کر ایک الگ کیفیت پیدا کرتے تھے۔ اس کیفیت کو مجلس میں بیٹھ کر دیکھا تو جاسکتا تھا، الفاظ کے ذریعے پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ بہ قول استاد جگر:جمال رنگیں، شباب رنگیں، وہ سر سے پا تک تمام رنگیں تمام رنگیں بنے ہوئے ہیں، تمام رنگیں بنا رہے ہیں1998م میں دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستگی کے وقت میں صرف تین ناموں سے واقف تھا۔ مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مرشد الامت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور شیخ التفسیر مولانا محمد برہان الدین سنبھلی۔ کیوں کہ اُس وقت تک مرشد الامت کی شہرت ندوے کے مہتمم اور ادیبِ شہیر کی حیثیت سے تھی، ملت اسلامیہ کے قائد اور ایک عظیم مرشدِ روحانی کی حیثیت سے وہ سامنے نہیں آئے تھے، اس لیے میں ان کے نام، کام اور مقام سے کم واقف تھا۔ دہلی اور اس کے اطراف میں ہونے والے دینی جلسوں کے پوسٹرس کے ذریعے مولانا برہان الدین سنبھلی کا اسمِ گرامی زیادہ سن رکھا تھا۔ اس لیے ان کی زیارت و ملاقات کا شدید اشتیاق بھی تھا۔ندوے پہنچنے کے بعد تکلف کی وجہ سے کئی ماہ تک کسی سے معلوم بھی نہ کرسکا کہ مولانا کون ہیں؟ کہاں رہتے ہیں؟ کئی ماہ گزر گئے تو یہ شرم آنے لگی کہ کسی سے پوچھوں گا تو وہ ہنسے گا کہ تم اب تک مولانا کو نہیں جانتے۔ اس گومگو میں کئی ماہ گزر گئے تو میں نے اساتذہ و ملازمین کے مکانات کی جانب کھلنے والے مسجد کے دروازے پر نظریں جمانی شروع کردیں۔ ہر نماز میں پہلے پہنچتا اور اُسی دروازے کے نزدیک بیٹھا رہتا کہ مولانا آئیں گے تو معلوم ہوجائے گا۔ لیکن مولانا بھی دیگر مشاہیرِ ندوہ ہی کی طرح ہٹو بچو کے آدمی تو تھے نہیں۔ اِس لیے اُس دروازے سے مجھے اپنے تصور کے برہان الدین سنبھلی آتے نظر نہ آئے۔ البتہ ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ سردیوں میں سفید رومال لپیٹے ہوئے۔ پرنور چہرہ، سفید رنگ، روشن آنکھیں اور قد درمیانی۔ اکثر میں دیکھتا کہ وہ بزرگ اذان کے آگے پیچھے ہی تشریف لاتے ہیں، ایک مخصوص جگہ اپنے چپل رکھتے ہیں اور تیزی کے ساتھ مسجد کی پہلی صف میں اپنی مخصوص جگہ پہنچ کر مصروفِ عبادت ہوجاتے ہیں۔ ایک دن خیال ہوا کہ کہیں یہی مولانا برہان الدین سنبھلی تو نہیں۔ میں بلاوجہ جاہ و جلال والی شخصیت کا تصور دماغ میں جمائے بیٹھا ہوں۔ کمرے میں اپنے ایک دوست سے اُن بزرگ کا حلیہ بتا کر پوچھا تو اُس نے ایک پہچان اور بتادی۔ کہا کہ انھیں سلام کرکے دیکھنا۔ اگر کھنکتی ہوئی آواز میں بشاشت کے ساتھ جواب دیں تو سمجھنا کہ وہی مولانا ہیں۔ اگلے دن میں مسجد کے باہر میں کھڑا ہوگیا۔ اُن بزرگ کو آتے دیکھا تو آگے بڑھ کر سلام کیا۔ جواب ویسا ہی ملا، جیسا بتایا گیاتھا۔ اب تقریباً یقین ہوگیا کہ وہ مولانا برہان الدین سنبھلی ہی ہیں۔ پہلی یا دوسری ملاقات میں ہی مولانا نے مجھ سے والد محترم کا نام دریافت کیا۔ اس کے بعداُن کی عنایات، شفقتوں اور افادے کا مضبوط سلسلہ شروع ہوگیا۔ سچ یہ ہے کہ استادِ عالی مقام سے مجھے توقع اوراپنی حیثیت سے کہیں زیادہ محبت و شفقت ملی۔ ایسی محبت جو میرے لیے سرمایۂ حیات بھی ہے اور سرمایۂ افتخار بھی۔میں نے معمول بنالیا تھا کہ اکثر عشا کی نماز سے فارغ ہوکر مولانا کے چپلوں کے پاس کھڑا ہوجاتا۔ مولانا تشریف لاتے تو اُن کے ساتھ ساتھ اُن کے گھر تک پہنچ جاتا۔ اسی درمیان اکثر کوئی سوال اُن کی خدمت میں پیش کردیتا تھا اور اس کے جواب کے درمیان حاصل ہونے والے موتیوں سے اپنا دامن بھرتا چلا جاتا۔ اس ذیل میں نہ جانے کتنی قیمتی باتیں ذہن میں گردش کررہی ہیں۔ ان میں سے ہر بات میں مولانا کی مخصوص عالمانہ شان بہت ابھری ہوئی نظر آتی تھی۔مجھے فقہ اسلامی سے خصوصی مناسبت تھی۔ اس لیے عالیہ ثانیہ میں جب ہدایہ اول پڑھنے کا موقع ملا تو میں مولانا برہان الدین سنبھلی ؒ کے پاس پہنچا۔ اپنی دل چسپی اور کچھ دشواریوں کا تذکرہ کیا۔ مولانا نے تین باتوں کی تاکید کی۔ ایک یہ کہ ابن ہمام کی فتح القدیر دیکھنے کا اہتمام کرو۔ دوسرے یہ کہ اُس شرح میں کوئی عبارت سمجھ میں نہ آئے تو اسے لکھ لیا کرو اور مجھ سے پوچھ لیا کرو۔ تیسرے یہ کہ مفتی محمد شفیع عثمانی کی جواہر الفقہ کا سلسلے وار مطالعہ کرتے رہو۔ میں نے ان چیزوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کی۔ جواہر الفقہ تو پوری ہی پڑھ ڈالی۔اُس وقت تو اتنا فائدہ محسوس نہیں ہوا تھا، لیکن آج استادِ محترم کی اس رہنمائی کا زبردست فائدہ محسوس ہوتا ہے۔عالیہ رابعہ میں پہنچے توخوش نصیبی سے اُسی سیکشن میں نام آیا جس میں مولانا محمد برہان الدین سنبھلی بخاری شریف پڑھاتے تھے۔ سال کے ابتدائی ایام میں ہی میں نے مولانا سے دریافت کیا کہ بخاری کی کون سی شرح دیکھنی چاہیے؟ مولانا نے فرمایا کہ اس سال پوری توجہ ترمذی شریف پر رکھو۔ بخاری کے لیے بس میرا درس غور سے سن لیا کرو۔ وہی کافی ہے۔ میں ٹھہرا نرا جاہل۔ مولانا کی یہ بات ہضم نہیں ہوئی تو فتح الباری اور عمدۃ القاری دیکھ کر جانے لگا۔ مولانا کے درس کی یادداشتیں بھی لکھتا رہا۔ چند روز کے اندر ہی معلوم ہوگیا کہ استادِ محترم کے درس میں بہت سادگی کے ساتھ شروحِ بخاری کا عطر آجاتا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنی حماقت کے کامل اعتراف کے ساتھ اُن کے مشورے پر عمل کرنا شروع کردیا۔ درسِ بخاری میں بھی مولانا کا البیلا انداز تھا۔ روایت کے ہر اہم لفظ پر رکتے اور فرماتے: ”اس میں دو باتیں یاد رکھو۔“ پورے سال اسی طرح دوباتوں کا ہی سلسلہ جاری رہتا۔ ایک مرتبہ مسکراتے ہوئے فرمایا: ”دو باتیں اس لیے بتاتا ہوں کہ اگر ایک بات بھول جاؤ تو کم سے کم ایک تو یاد رکھو۔“ آج بھی اُن روایات کو پڑھتے ہوئے مولانا کی باتیں اور اُن کا پیارا انداز نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ درسِ بخاری کے اس بے نظیر انداز سے ہمیں معلوم ہوا کہ نصوصِ اسلامی میں عام الفاظ سے کیسے کیسے اہم معانی پیدا کیے جاسکتے ہیں اور اس کے نہج اور حدود کا تعین کس طرح ہوسکتا ہے۔ندوے سے تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد بھی مولانا محمد برہان الدین سنبھلی ؒسے استفادے کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا پر فالج کا حملہ ہونے کے بعد پہلے رمضان میں تکیہ کلاں، رائے بریلی حاضری کی مناسبت سے میں نے مولانا کی عیادت کا بھی پروگرام بنایا تھا۔ دہلی سے لکھنؤ پہنچا اور مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا حسب معمول اپنے گھر کے باہری کمرے میں تشریف فرما تھے۔ میرے سلام کا جواب دیتے ہی فرمایا:”آگئے؟“ میں نے اپنی نالائقی کا اعتراف کیا تو فرمایا: ”اچھا کیا آگئے۔ چراغِ سحری کو دیکھ لو۔“ گھر کے تمام افراد کی خیریت اور تفصیلات معلوم کیں۔ ہمارے نانا ابا شارح ِ علومِ نانوتوی مولانا اشتیاق احمد عثمانی دیوبندی کا تذکرہ آیا تو فرمایا: ”انھوں نے معاش کے لیے فن خطاطی اختیار کیا تھا۔ اس میں بڑے کارنامے بھی انجام دیے۔ پھر یہ فن ہی اُن کی شناخت بن کیا۔ لیکن اس میں اُن کا علم و فضل چھپ گیا۔“ ایک دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد میں نے اجازت چاہی تو فرمایا: ”تمھارے آنے سے بہت خوشی ہوئی۔ کبھی کبھی دیکھ جایا کرو۔“ پھر میرا پروگرام معلوم کیا۔ میں نے بتایا کہ اب رائے بریلی جاؤں گا۔ اس پر فرمایا: ”یا تو افطار تک رکو اور افطار ساتھ کرکے جاؤ، یا مجھ سے پیسے لے کر جاؤ اور افطار میری طرف سے ہی کرنا۔“ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، مولانا نے اپنے پاس رکھا ایک لفافہ اٹھایا اور اس میں سے بیس کا نوٹ نکال کر مجھے دیا۔ مولانا کی محبت میں اُس نوٹ کو میں خرچ نہ کرسکا اور آج تک اُسے سنبھال کر رکھ رکھا ہے۔ہائے افسوس! ہمارے سروں پر شفقت و عنایت کا ایک مبارک سایہ دار درخت نہیں رہا۔ ہم علم و تقویٰ کے ایک ایسے حسین سنگم سے محروم ہوگئے جسے اہل علم اور اہل تقویٰ دونوں کی محفل میں بہ طور سند پیش کیا جاسکتا تھا۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*جعفر بهائى !**آپ بھی ساتھ چھوڑ گئے -*محمد رضی الاسلام ندوى
یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہے!

Related Posts

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • hira-online.comhira-online.com
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟ جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد…

Read more

Continue reading
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • بشیر بدر
  • بشیر بدر حیات و خدمات
  • مئی 28, 2026
  • 0 Comments
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

ڈاکٹر بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن بابایک تحقیقی و ادبی جائزہ تمہید اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض شاعر نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تہذیبی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو نہ صرف ایک نئی تازگی عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت بھی بخشی۔ ان کی شاعری محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، سماجی تغیرات اور داخلی احساسات کی شاعری ہے۔ انہوں نے غزل کو روایتی پیچیدگیوں سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی جس کی وجہ سے ان کے اشعار خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026ء کو ہوا اور ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے شاعر سے محروم ہوگئی جس نے غزل کو نئی نسل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں ہوئی۔ بعض روایات میں کانپور کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم عمومی طور پر ایودھیا کو ان کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر بھی نمایاں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ نوجوانی کے زمانے تک ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے کلام کی اشاعت کے خواہش مند تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی جریدے “نگار” میں شائع ہوئے۔ تعلیم اور علمی خدمات ڈاکٹر بشیر بدر نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اردو ادب میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل 19.06.2026
  • گداگری اور ہمارا رویہ 19.06.2026
  • ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون 19.06.2026
  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

فقہ و اصول فقہ

معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
معاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عمل
اسلامیات

گداگری اور ہمارا رویہ

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
گداگری اور ہمارا رویہ
مضامین و مقالات

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

  • hira-online.com
  • جون 19, 2026
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون
مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top