نام کتاب: گلدستۂ دینیات (5/حصے)
مصنف : مولانا محمد افضل حسین قاسمی
تبصرہ نگار: مفتی محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری
استاذ تفسیر و حدیث، دار العلوم سبیل السلام، و جامعہ ریاض البنات، حیدرآباد
آپ نے یہ مقولہ تو سنا ہی ہوگا: "العلم فی الصغر کالنقش علی الحجر” بچپن کا پڑھا ہوا پتھر کی لکیر جیسا ہوتا ہے، جو مٹائے نہیں مٹتا، یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے اپنے اپنے زمانوں اور اپنی اپنی زبانوں میں ہمیشہ ایسی کتابیں لکھی ہیں، جو چھوٹے بچے اور بچیوں کے لیے مفید ہوں، اس میدان میں دینی تعلیم و تربیت کے لحاظ سے بھی کافی کام ہوا ہے، بچپن میں جن عقائد و ایمانیات اور اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے، بچوں کو جو کچھ سِکھایا جاتا ہے، وہ ذہن و دماغ میں پیوست ہوجاتا ہے، حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود بھی اس سے ہٹنا مشکل ہوتا ہے، اور ماضی کی وہی دھندلی تصاویر ذہن و دماغ کے اسکرین پر ابھر کر سامنے آجاتی ہیں؛ لہذا اپنے بچوں اور بچیوںکو صحیح تعلیم دینا، ان کے لیے اچھی کتابوں کا انتخاب کرنا، گھر اور گھر کے باہر اچھا ماحول فراہم کرنا، ہم سب کی ذمّہ داری ہے، اس سلسلے میں بچوں کی درسیات کے عنوان سے، لائبریریوں میں مختلف کتابیں دستیاب ہیں، جو مکاتب و مدارس اور اسکولوں میں داخلِ نصاب ہیں، ہمارے سامنے اسی انداز کی ایک نئی کتاب "گلدستۂ دینیات” نام کی ابھی ابھی طبع ہو کر آئی ہے، جس کے کل 5/حصے ہیں، جو مختصر بھی ہیں اور مفید بھی۔
"گلدستۂ دینیات” مکاتب و مدارس اور اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے لکھی گئی ایک خاص انداز کی کتاب ہے، جو ماضی کی بہت ساری کتابوں سے ممتاز ہے، یہ کتاب "گُل” نہیں، "گلدستہ” ہے، یعنی اس کے اندر ایک ہی قسم کے پھول نہیں؛ بلکہ دینیات کے انواع و اقسام کے پھول ملیں گے، پانچ حصوں کی اس کتاب میں طلبہ و طالبات کی عمروں کا خیال رکھتے ہوئے مضامین مرتب کیے گئے ہیں، اس کتاب میں مرحلہ در مرحلہ مخارج حروف، تجوید کے ضروری قواعد، کلماتِ اسلام، ارکان اسلام، اسلامی بنیادی عقائد، منتخب قرآنی آیات، منتخب احادیث، منتخب دعائیں، قرآنی معلومات، سیرت النبی، اسلامی مہینوں کے نام، اسلامی حقوق، اسلامی احکام، اخلاقیات، جنت و جہنم، کفر و شرک، اصلاحی اشعار اور گنتی جیسے چالیس عناوین شامل ہیں، ہر حصے میں دس متنوع عناوین ہیں، مکررات کو حذف کردیا جائے، تو پانچ حصوں میں تقریباً کل تیس عناوین ہوں گے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں درج مضامین کو ماہانہ کورس کے تحت تقسیم کیا گیا ہے، مقدار بھی اتنی ہی رکھی گئی، جو آسانی سے مکمل ہوجائے، کتاب کی ترتیب میں طلبہ و طالبات کی نفسیات، عمر اور ان کے ذہن کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
اس کتاب (گلدستۂ دینیات) کے مصنف مولانا افضل حسین قاسمی زید مجدہم ہیں، جو اپنی کم عمری کے باوجود تعلیم و تربیت کے میدان میں اچھا تجربہ رکھتے ہیں، انہوں نے چھوٹی عمروں سے لے کر بڑی عمروں تک کے لوگوں کے درمیان درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کا سفر طے کیا ہے، مختلف معتبر اداروں اور متعدد علاقوں میں ان کی خدمات رہی ہیں، دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد اور مدرسہ معھد الطیبات للبنات، دربھنگہ جیسے مشہور اداروں سے بھی منسلک رہے ہیں، فی الحال جامعہ ام سلمہ، پرسونی، مدھوبنی، بہار میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز ہیں۔ ابھی تک تقریباً ایک درجن کتابیں آپ کے قلم سے منظر عام پر آچکی ہیں، یہ کتاب (گلدستۂ دینیات) مولانا کی ایک نئی تصنیف ہے، جو ابتدائی مدارس، مکاتب، اور اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے بہت مفید ہے؛ بلکہ یہ انہی کے لیے لکھی گئی ہے، کتاب کا مسودہ میری نظر سے بھی گزرا ہے، جو معتبر اور متنوع ہے، اسے نصاب میں شامل کرنا مفید ہوگا، ضخامت بھی کم ہے، قیمت بھی مناسب ہے، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
پہلا حصہ: صفحات:64، عام قیمت:40، رعایتی قیمت:30
دوسرا حصہ: صفحات:68، عام قیمت:45، رعایتی قیمت:35
تیسرا حصہ: صفحات:72، عام قیمت:50، رعایتی قیمت:40
چوتھا حصہ: صفحات:96، عام قیمت:60، رعایتی قیمت:50
پانچواں حصہ: صفحات:72، عام قیمت:50، رعایتی قیمت:40
پانچوں حصوں کی مجموعی قیمت: 245، رعایتی قیمت: 195 روپے ہے، ڈاک خرچ آپ کی جانب سے ہوگا۔
دیر نہ کریں، آج ہی صاحبِ کتاب سے اس نمبر (8499832253) پر ربط قائم کرکے اپنا آڈر بک کرائیں اور اس سے مستفید ہوں، ان شاء اللّٰہ یہ کتاب طلبہ و طالبات کے لیے ماضی کی بہت ساری کتابوں سے بہتر ثابت ہوگی، اور گرانی بھی محسوس نہ ہوگی، میں اس کتاب کی تصنیف پر مولانا محترم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کی دعا بھی کرتا ہوں۔
***** _____________________________________*****
*”گلدستۂ دینیات” ____ تعارف و تبصرہ*
Related Posts
الوافی شرح اصول الشاشی
🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام ونصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات وتعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے درمیان کے اس…
Read moreنام کتاب : تراوش قلم
نام کتاب : ترواشِ قلممصنف: پروفیسر محسن عثمانی ندویصفحات : 464قیمت: ۵۰۰ روپےناشر: مکتبہ نشان راہ ، دہلی تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی ملنے کے پتے :مجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ،مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی ” ترواشِ قلم” کتاب کا نام ہے، نام کی ندرت وجدت تخلیقیت کی دلیل ہے،صرف کتاب کے نام میں ہی ندرت نہیں ، بلکہ پوری کتاب ہی ندرت و جدت ، فکر و تدبر اور عمق و استدلال سے معمور تحریروں کا مجموعہ ہے، کتاب کی مثال ایسی ہے گویا کسی کے سامنے یکبارگی مختلف خوش رنگ پھول یکجا رکھ دیے جائیں، وہ کبھی ایک کے رنگ سے آنکھیں چار کرے اور کبھی دوسرے کی خوشبو سے مشام جاں معطر کرے، نہ دیکھنے سے دل بھرے نہ خوشبو سے سیرابی ہو، جی ہاں ! یہ کتاب اپنے دامن ایسے ہی متنوع خوش رنگ پھول رکھتی ہے، اس کتاب میں پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کچھ اپنی کتابوں کے مقدمے ، کچھ دوسروں کی کتابوں پر لکھے گئےاپنے مقدمات اور کچھ متفرق مضامین جمع کر دیے ہیں، عربی میں مقدمات جمع کرنے کی روایت معروف ہے، اردو میں تبصرے جمع کیے جاتے رہے ہیں لیکن مقدمات کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو اس وقت راقم کے سامنے ہے، اس کی ہر تحریر رہنما اور شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے، کتاب کو موضوعات کے اعتبار سے چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، اسلامیات، ادبیات ، شخصیات اور متفرقات، اہل علم جانتے ہیں کہ کتاب کا مقدمہ دراصل موضوع کتاب کا نچوڑ ہوا کرتا ہے، اس پہلو سے یہ کتاب پروفیسر عثمانی کے علمی سفر، تحقیقی ذوق ، تنقیدی مزاج ، اسلوب نگارش، خیالات و افکار اور اہداف قلم کی آئینہ دار اور پوری علمی زندگی کا نچوڑ ہے، کتاب کے آغاز میں پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے ایک طویل پیش لفظ لکھا ہے، انھوں نے نہ صرف کتاب کا مختلف پہلوؤں سے بھرپور جائزہ پیش کیا ہے بلکہ اردو نثر کے "محسن قلم” کی عظمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں قطعاً کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، اعتراف…
Read more