Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
10.08.2026
Trending News: تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
10.08.2026
Trending News: تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

  1. Home
  2. منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • جنوری 10, 2025
  • 0 Comments


وہ چاروں ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے۔ ایک دن بعد ان کا ایک اہم ٹیسٹ ہونے والا تھا لیکن انھیں فکر نہیں تھی۔ انھوں نے رات کو اپنے کمرے میں گپ شپ کی محفل جمائی اور خوب ہلا گلا کیا۔ اگلے روز ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے وہ اپنے نگران کے پاس گئے، چاروں بہت تھکے لگ رہے تھے، ان کے کپڑوں پر مٹی اور ہاتھوں پر گریس لگی تھی اور جسم سے پسینے کی بو آرہی تھی۔ وہ کہنے لگے، سر! گذشتہ روز ہم چاروں ایک شادی کی تقریب میں گئے تھے۔ وہاں بہت دیر ہوگئی اور جب ہم واپس آنے لگے توکچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ قریب کوئی دکان نہیں تھی جہاں ہم پنکچر لگواتے، چنانچہ ہم گاڑی کو دھکیلتے ہوئے آئے اور ہاسٹل پہنچنے کے بعد اس قدر تھک گئے تھے کہ بستر پر لیٹتے ہی سوگئے، اس وجہ سے ہم تیاری نہیں کرپائے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ کچھ مہربانی کریں۔ کہانی سننے کے بعد استاد کہنے لگا، کوئی بات نہیں، میں آپ کا امتحان تین دن بعد لے لیتا ہوں، تب تک آپ تیاری کریں۔ چاروں خوش ہوگئے کہ چلو آج تو بلا ٹل گئی۔ تین دن انھوں نے تیاری کی اور چوتھے روز وہ استاد کے پاس پہنچے۔ استاد نے انھیں سوالیہ پرچہ تھمانے سے پہلے کہا، اس پرچے میں صرف دو سوال ہیں، ایک سوال کے 2 نمبر ہیں جب کہ دوسرے سوال کے 98 نمبر ہیں۔ طلبہ یہ سن کر حیران رہ گئے استاد دوبارہ کہنے لگے، تم سب نے الگ الگ کمرے میں بیٹھ کریہ پرچہ حل کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی استاد نے انھیں الگ الگ کمروں میں بھیجا۔ جب طلبہ نے سوالیہ پرچہ کھول کر دیکھا تو پہلا سوال تھا، ”آپ کا نام کیا ہے؟“ دوسرے سوال میں پوچھا گیا تھا، ”گاڑی کا کون سا ٹائر پنکچر ہوا تھا؟“ سوال دیکھ کر وہ استادکی چال سمجھ گئے اور کسی نہ کسی طرح پرچہ حل کیا۔ جب استاد کے سامنے جوابی پرچہ آیا تو چاروں کے جوابات مختلف تھے۔ ایک طالب علم نے اگلا دایاں ٹائر لکھا تھا، دوسرے نے بایاں، تیسرے نے پچھلا بایاں اور چوتھے نے پچھلا دایاں، اور یوں ان کی چوری پکڑی گئی۔

یہ واقعہ آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ کا ہے۔اس کہانی میں بہ ظاہر طلبہ اپنی سستی چھپانے کے لیے استاد کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت اس میں ایک گہرا سبق بھی ہے اور وہ یہ کہ جب بھی کوئی اہم کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔
نیا سال شروع ہوچکا ہے اور آپ نے اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کیے ہوں گے یا اس بارے میں سوچ رہے ہوں گے، چنانچہ اس تناظر میں ہم آج منصوبہ بندی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے اور منصوبہ بندی کے بنیادی اصولوں سے آپ کو متعارف کرائیں گے۔

اہداف (Goals) کی دوقسمیں ہیں۔ طویل المیعاد (Long term) اور مختصر المیعاد(Short term)
طویل المیعاد ہدف وہ ہوتا ہے جو پانچ یا دس سال پر مشتمل ہو، جب کہ ایک دن، ہفتے یا مہینے پر مشتمل ہدف کو مختصر المیعاد کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور اصطلاح Mid term goal کی بھی استعمال کی جاتی ہے، اس کا دورانیہ سال سے دو سال تک ہوتاہے۔ جدید مفروضے کے مطابق، انسان جس ہدف کے لیے محنت کرتا ہے وہ اسے پانچ سال میں حاصل کرلیتا ہے۔

طویل المیعاد اہداف بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کاغذ قلم لے کر ایک سیدھی لائن کھینچیں۔ لائن کے آغاز پر ”پیدائش“ اور اختتام پر ”وفات“ لکھیں۔ یوں سمجھیں کہ یہ لائن آپ کی پوری زندگی ہے۔ اس لمبی لائن پر ایک جگہ نشان لگائیں اور فرض کریں کہ اپنی زندگی میں آج آپ یہاں پر ہیں، اس کے بعد دس عدد نقطے آگے کی طرف لگائیں، یہ آپ کی زندگی کے آنے والے دس سال ہیں۔ اس کے بعد اگلے صفحے پر جائیں اور آج سے دس سال بعد آپ جو بننا چاہتے ہیں، وہ تمام اہداف لکھیں۔

یاد رکھیں کہ خواب یا خواہش ایک نئی جنم لینے والی چیز ہے جو آپ کی طلب اور تڑپ کے مطابق وجود میں آتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے گویا کسی انسان کا ہاتھ ریت میں چھپا ہو اور وہ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھے اور بالکل نمایاں ہوجائے، اسے انگریزی میں Manifest یعنی آشکار ہونا کہتے ہیں۔ Manifest کے کچھ بنیادی اصول ہیں، جن کے مطابق خیال کو وجود ملتا ہے، اور انھی کو آپ اپنے خواب اور خواہش سے بھی جوڑ دیں۔

پہلا اصول
اشیا پہلے ذہن میں بنتی ہیں اس کے بعد وجود میں آتی ہیں۔ جو چیز انسان کے ذہن میں نہیں وہ حقیقت کا روپ بھی نہیں دھار سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ دس سال بعد آپ نے جو بننا ہے اسے ابھی سے ذہن میں لائیں۔ قانون کشش بھی یہی کہتا ہے کہ جو چیز آ پ کے ذہن میں ہوگی وہی آپ کی زندگی میں واقع ہوگی۔

دوسرا اصول
اپنے اندر”خود یقینی“کی صلاحیت پیدا کریں اور اپنے بنائے گئے تصور پر یقین ضرور کریں۔ جو انسان اپنے خیالا ت پر یقین نہیں رکھتا تو وہ انھیں حاصل بھی نہیں کرسکتا۔

تیسرا اصول
جو بننا ہے اسے ابھی سے محسوس کریں۔ اس قاعدے کو As if principle کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو بننا ہے اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرلیں، کیوں کہ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو ویسا بن بھی نہیں پائیں گے۔ اس کیفیت کے طاری ہونے پر آپ میں جو سرور اور مستی آئے گی وہی اس چیز کو آپ کی طرف کھینچے گی اور آپ وہی بن جائیں گے جو آ پ چاہتے ہیں۔

چوتھا اصول
ذہن میں یہ خیال نہیں لانا کہ میں نے جو سوچا ہے وہ کیسے وجود میں آئے گا کیوں کہ یہ قانونِ قدرت کی خلاف ورزی ہے۔ چیزوں کو وجود دینا، اللہ کا کام ہے اور وہ اپنے کاموں کو خوب جانتا ہے۔ وہ ہمارے ارادے، عزم اور گمان کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ اس اصول میں جب بھی ”کیسے“ کا لفظ آتا ہے تو یہ اصول کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

جب لوگ اپنے لیے اہداف بناتے ہیں تو عام طور پر وہ ا یک غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ پیسہ، مکان اور گاڑی کے حصول کو اپنا ہدف بنالیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کوئی ہدف نہیں ہے کیوں کہ یہ چیزیں قابلیت کی بنیاد پر ملتی ہیں۔ آپ اگر اپنے اندر کمال پیدا کرلیں تو یہ سب کچھ آپ کو مل جائے گا۔ لہٰذا اپنی منصوبہ بندی اس مقصد کے لیے کریں کہ میں نے اپنے اندر فلاں فلاں خوبیاں پیدا کرنی ہیں اور ان کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ آپ جو ہدف پانا چاہتے ہیں اس کے لیے آپ کے پاس کوئی انسپائریشن ہونی چاہیے۔ آپ کے سامنے ایسی مثال ہونی چاہیے جسے دیکھ کر آپ یہ خواہش کریں کہ کاش میں بھی اس طرح بن جاؤں۔ اس کی ایک مثال سورہ فاتحہ کی ہے جس میں ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔

دوسری چیز یہ ہے کہ آپ جو ہدف پانا چاہتے ہیں آج ہی سے اپنی شخصیت اس کے مطابق بنانا شروع کریں۔ اگر آپ استاد بننا چاہتے ہیں تو اپنی شخصیت، عادات اور خاص طور پر لباس استاد کی طرح بنائیں۔
اگر آپ تربیت کار (Trainer) بننا چاہتے ہیں تو اپنی بات چیت بہتر بنائیں، اپنا علم بڑھائیں اور خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے ملنا شروع کریں۔
اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا شرو ع کریں اور مختلف ادبی و علمی نشستوں میں شرکت کریں۔

طویل المیعاد ہدف حاصل کرنے والوں کی خوبیاں
جو لوگ طویل المیعاد اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں اپنے اندر درج ذیل خوبیاں پیدا کرنی چاہییں۔
1: نظر انداز کرنا
بے مقصد باتوں اور کاموں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور تمام غیر مفید کاموں کو چھوڑ دیں۔
2: درگزر
ہمیشہ درگزر سے کام لیں اور اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ جب ہم دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو نہ صرف ہمارے تعلقات اچھے ہوتے ہیں بلکہ اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔
3: اعلیٰ ظرفی
دل بڑا کریں، کیوں کہ جس کا دل کشادہ ہوتا ہے وہ ہر ایک کو قبول کرتا ہے، وہ ہر ایک کو خوش آمدید کہتا ہے اور یہی خوبی اس کو منزل پر پہنچا دیتی ہے۔

نیا سال، نئی عادات
سٹیفن گوئس کہتا ہے:
”بہت سے لوگ اچانک تبدیل ہونا چاہتے ہیں جب کہ یہ چیز فطرت کے خلاف ہے۔“
ٍٍبہت سے لوگ کہتے ہیں کہ”کل سے میں ایک گھنٹہ ورزش کروں گا“ یا”میں کل سے کتاب پڑھنا شروع کروں گا۔“یاد رکھیں جب بھی آپ کسی کام کو اچانک بڑی سطح پر شروع کریں گے وہ آپ سے کبھی نہیں ہوسکے گا۔ سٹیفن اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ انسان کو Mini habit اختیار کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ قدم بہ قدم کوئی کام کرنا، مثال کے طور پر آپ نے کتاب پڑھنی ہے تو ایک پیراگراف یا ایک صفحہ پڑھ لیں مگر شرط یہ ہے کہ یہ کام مستقل مزاجی کے ساتھ ہو اور روزانہ کی بنیاد پر ہو، مستقل مزاجی آپ کو توانائی دے گی جس سے آپ کے لیے اس کام کو بڑھانا آسان ہوجائے گا۔

1: روزانہ کی بنیاد پر سیکھنا
نئی چیزیں ضرور سیکھیں، جو لوگ شعبہ تدریس یا تربیت سے وابستہ ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ مطالعہ کریں یا یوٹیوب پر کسی کتاب کا خلاصہ سنیں اور ان کے نوٹس بنائیں۔

2: کامیاب لوگو ں کی فہرست
اپنی منصوبہ بندی میں ان کام یاب لوگوں کے نام ضرور شامل کریں جن کی طرح آپ بننا چاہتے ہیں۔ ان کے حالاتِ زندگی پڑھیں اور ان کی اچھی عادات اپنانے کی کوشش کریں۔

3: شخصی تعمیر
روزانہ کی بنیاد پر خود کو بہتر بنائیں۔ اپنی شخصیت کے کمزور پہلوؤں پر محنت کریں اور اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے کاموں مثلاً کھانا کھانا، مہمان کو الوداع کہنا، شکریہ ادا کرنا، گاڑی پارک کرنا، جوتے پالش کرنا، کپڑے پیک کرنا وغیرہ بہتر طریقے کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔

4: مددکرنا
روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کریں۔ مستحق افراد کو ڈھونڈیں کیوں کہ بہت سے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ہماری مدد کرے۔ اگر آپ کسی کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اس کی اخلاقی مدد ضرور کریں۔

5: اپنی غلطیاں تسلیم کریں
اپنی غلطیاں تسلیم کرنا سیکھیں۔ اپنا ناقد بننا بہت مشکل کام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوش ہونا ہے تو تعریف سنو اور بہتر ہونا ہے تو تنقید سنو! جو بھی انسان اپنی غلطیاں تسلیم کرتا ہے اس کی ترقی شروع ہو جاتی ہے۔

6: آغاز
اپنی زندگی میں آغاز کی عادت ڈالیں۔ بہت سے لوگ کوئی کتاب یا لیکچر سن کر ارادہ کرلیتے ہیں کہ ہم فلاں کام شروع کریں گے مگر کرتے نہیں۔ آپ اپنی قوتِ فیصلہ مضبوط کرکے’نیا قدم‘ اٹھانا شروع کریں۔ انسان ہمیشہ یہی سوچتا ہے کہ حالات سازگار ہوں گے تو میں یہ کام شروع کروں گا حالانکہ حالات کبھی سازگار نہیں ہوتے۔ جو بھی کرنا ہے ابھی کریں۔

اپنی منصوبہ بندی میں یہ سوال بھی لکھیں!
مجھے کن کن لوگوں، عادات، کام، خیالات اور یقین کو اپنی زندگی سے نکالنا چاہیے؟
اگر آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ کا وقت ضائع کرنے کا باعث بن رہی ہیں تو انھیں چھوڑدیں۔
مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں:
مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں:
i: ایسا استاد ڈھونڈیں جو آپ کی زندگی میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی لائے۔
ii: ایسی کتابیں پڑھیں جو آپ کی ذہنی اور فکری سطح کو بلند کریں اور آپ کے علم میں اضافہ کر دیں۔
iii: ایسی مہارتیں سیکھیں جن کی بدولت آپ اپنی منزل تک جلدی پہنچ سکیں۔
iv: نئی جگہوں اور مقامات پر جاکر نئے تجربات و مشاہدات کریں۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

نوجوانوں کے لیے نصیحت
وہالو بھروچ میں تین روزہ تبلیغی اجتماع اور اس کی کچھ شاندار جھلکیاں

Related Posts

اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • hira-online.comhira-online.com
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری
  • شورش کاشمیری
  • فروری 6, 2026
  • 0 Comments
اُس بازار میں : شورش کاشمیری

اُس بازار میں : شورش کاشمیری از : معاویہ محب اللہ اس کتاب میں جابجا خوبصورت جملے اور اقتباسات بکھرے پڑے ہیں کہ جن میں غربت، بے وفائی، معاشرتی خرابی، عصمت فروشی، آزادہ روی اور شوقِ تفریح ہے، معاشرے کی اکھڑی ہوئی چولیں بھی ہیں، رقص و سُرود، غنا و موسیقی، تال و سُر اور حسنِ ادب کا دلنشین انداز بھی ہے، دردِ زیست، لُچّوں کا قہقہہ، سگریٹ کا دھواں اور تھرکتے جسم کی داستان المناک بھی ہے جن سے آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔دوسری طرف نفسیات کی گتھیاں سطر سطر پہ سلجھ رہی ہیں، معلومات کا دریا ہے، آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل الفاظ ہی نہیں گویا نگینے ہیں، زندگی کے سبق ہیں، میں ہرگز کسی کو آمادہ نہیں کرتا کہ وہ یہ کتاب مطالعہ کریں، لیکن چند اقتباسات ضرور پڑھتے جائیں، ہر اقتباس محض چند الفاظ و معانی کا سنگھم نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے، ایک فکر ہے، سوچنے کا ایک زاویہ ہے ؛ٹھہر چشمِ تماشا! دیکھ اس حوّا کی بیٹی کو!کہ اس کے حال پر بے درد راہی مسکراتے ہیںلرزتے آنسوؤں کا سُرمئی آنکھوں میں پانی ہےگھنی پلکوں میں ناگفتہ فسانے تلملاتے ہیں(دلنشین اقتباسات)‘‘عام خیال یہ ہے کہ گناہ افلاس کی کُوکھ سے پیدا ہوتا ہے، میرا معاملہ اس کے برعکس تھا، خالی جیب نے گمراہ ہونے سے بچا لیا’’ (صفحہ ۳۰)"کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ زندگی کے سبق ہمیں اُس وقت ملتے ہیں جب وہ ہمارے لئے بیکار ہو جاتے ہیں” (صفحہ ۷۰)"سورج جاگتا ہے قحبہ سو جاتی ہے اور اگر کچھ رہ جاتا ہے تو حکایتِ شبینہ کے غیر مرئی حروف جن سے چہروں پر ایک تھکن سی ہوتی ہے”(صفحہ ۹۹)‘‘ آدمی نے کبھی دوسروں کے تجربہ سے فایدہ نہیں اٹھایا وہ ہمیشہ خود تجربہ کرتا ہے، ہم کرتے ہیں غلطیاں اور نام رکھتے ہیں تجربہ’’ (صفحہ ۱۸۱)’’ عورتیں تصویر ہوتی ہیں اور مرد معمّہ، اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ عورت کا واقعی کیا مطلب ہے، تو اس کی طرف دیکھو، اس کی سنو نہیں: آسکروائلڈ ‘‘ (صفحہ ۲۱۲) ’’ ان رازوں ہی کی ٹوہ میں…

Read more

Continue reading
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
  • hira-online.comhira-online.com
  • ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
  • فروری 2, 2026
  • 0 Comments
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر

ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر از : مولانا ابو الجیش ندوی تعارف: ایپسٹائن فائلز کیا ہیں؟ ​ایپسٹائن فائلز ان لاکھوں دستاویزات، تصاویر، ویڈیوز اور عدالتی بیانات پر مشتمل مجموعے کا نام ہے جو بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹائن (Jeffrey Epstein) کے خلاف ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ایپسٹائن پر الزام تھا کہ اس نے دہائیوں تک امریکہ اور اپنے نجی جزیرے پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور استحصال کا ایک عالمی نیٹ ورک چلایا۔​ان فائلوں کی اہمیت محض ایک مجرمانہ ریکارڈ کی نہیں ہے، بلکہ ان میں دنیا کے طاقتور ترین افراد—بشمول سابق صدور، برطانوی شاہی خاندان کے ارکان، ارب پتی صنعت کار اور نامور سائنسدانوں—کے نام شامل ہیں۔ یہ فائلیں ایک ایسے "بلیک میلنگ سسٹم” کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں اقتدار اور ہوس کا گٹھ جوڑ معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیل رہا تھا۔ ​اسلامی فکر کی روشنی میں تجزیہ ​1. تزکیہ نفس کی کمی اور ‘ہوا پرستی’ ​قرآن حکیم نے انفرادی اور اجتماعی زوال کی بنیادی وجہ "اتباعِ شہوات” (خواہشات کی پیروی) کو قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے لگ گئے، سو عنقریب وہ بڑی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے” (سورہ مریم: 59)۔​ایپسٹائن کا نیٹ ورک اس ‘ہوا پرستی’ کی انتہا تھا جہاں طاقتور طبقے نے خود کو ہر قسم کی اخلاقی پابندی سے آزاد سمجھ لیا۔ جب معاشرہ اللہ کے خوف (تقویٰ) اور آخرت کی جوابدہی سے عاری ہو جاتا ہے، تو وہ معصوم بچوں کے استحصال جیسی قبیح حرکت کو بھی اپنی لذت کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ ​2. سرمایہ داری کا وحشیانہ رخ (Commoditization of Humans) ​اسلامی فکر میں انسان "خلیفۃ اللہ” ہے، جس کی جان، مال اور عزت محترم ہے۔ اس کے برعکس، مغربی سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے ہر چیز کو "جنسِ بازار” (Commodity) بنا دیا ہے۔​ایپسٹائن فائلز یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس نظام میں غریب کی بیٹی بھی ایک "پروڈکٹ”…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہ 10.08.2026
  • تحریک پیام انسانیت 10.08.2026
  • مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام 09.08.2026
  • ناخن پالش 09.08.2026
  • قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم 07.08.2026
  • سرمایہ دار صحابہ کرام 07.08.2026
  • بینک کے سود کے مصارف 05.08.2026
  • ٹیکس میں سود کی رقم دینا 05.08.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

تبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہ

  • hira-online.com
  • اگست 10, 2026
مضامین و مقالات

تحریک پیام انسانیت

  • hira-online.com
  • اگست 10, 2026
فقہ و اصول فقہ

مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام

  • hira-online.com
  • اگست 9, 2026
فقہ و اصول فقہ

ناخن پالش

  • hira-online.com
  • اگست 9, 2026
ناخن پالش
اسلامیات

قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم
اسلامیات مضامین و مقالات

سرمایہ دار صحابہ کرام

  • hira-online.com
  • اگست 7, 2026
سرمایہ دار صحابہ کرام
فقہ و اصول فقہ

بینک کے سود کے مصارف

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026
مضامین و مقالات

ٹیکس میں سود کی رقم دینا

  • hira-online.com
  • اگست 5, 2026

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top