اکراہ کی حالت میں خلافِ توحید کلمات: شرعی حکم اور حدود

 

از : اسجد حسن ندوی

اسلام کی پوری عمارت جس بنیادی عقیدے پر قائم ہے، وہ توحید ہے۔ مسلمان کا ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد معبود ہے، وہی خالق و مالک ہے اور عبادت کی تمام صورتیں اسی کے لیے مخصوص ہیں۔ اسی لیے قرآن و سنت نے توحید کو ایمان کی بنیاد اور شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔

لیکن انسانی زندگی ہمیشہ یکساں حالات میں نہیں گزرتی۔ کبھی انسان ایسے حالات میں مبتلا ہوجاتا ہے جہاں اس کے سامنے ایمان اور جان، عقیدہ اور معاش، اصول اور مجبوری کے درمیان ایک مشکل صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے۔ خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، بعض اوقات انہیں اپنی مرضی کے خلاف ایسے مذہبی کلمات یا نعرے ادا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے جو ان کے عقیدۂ توحید سے متصادم ہوں۔ انکار کی صورت میں ملازمت کے خاتمے، مالی نقصان، سماجی دباؤ یا انتظامی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، اور بعض انتہائی صورتوں میں جسمانی اذیت یا جان کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔
یہاں ایک اہم شرعی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا حقیقی جبر کی حالت میں بھی مسلمان پر ایسے کلمات ادا کرنے کی وہی ذمہ داری ہوگی جو عام حالات میں ہوتی ہے؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک طرف توحید کی عظمت کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اور دوسری طرف اکراہ کی شرعی حقیقت اور اس کی حدود کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ شریعت نہ تو عقیدے کے منافی کلمات کو معمولی چیز قرار دیتی ہے، اور نہ ایسے شخص کو، جو حقیقتاً مجبور کردیا گیا ہو، اس شخص کے برابر قرار دیتی ہے جو اپنی خوشی اور رضامندی سے باطل عقیدہ اختیار کرے۔

توحید کی اہمیت

توحید مسلمان کے لیے محض ایک نظری مسئلہ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ "پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
مسلمان اسی عقیدے کی بنیاد پر نماز ، روزہ ، قربانی ، دعا وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے۔ اور وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ حقیقی عبادت اور الوہیت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔
اسی لیے اگر کوئی کلمہ یا نعرہ حقیقتاً غیر اللہ کی الوہیت، عبادت یا کسی ایسے عقیدے کا اقرار کرتا ہو جو توحید کے منافی ہو، تو عام حالات میں مسلمان کے لیے اسے اختیار کرنا جائز نہیں۔ اسے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کرنی چاہیے اور حتی الامکان ایسے کلمات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ یہاں ایک بنیادی فرق ہمیشہ ملحوظ رہنا چاہیے: کسی باطل عقیدے کو دل سے قبول کرکے اپنی مرضی سے اس کا اظہار کرنا ایک چیز ہے، اور شدید جبر کے تحت زبان سے کوئی بات کہہ دینا، جبکہ دل ایمان پر قائم ہو، بالکل دوسری چیز ہے۔ شریعت دونوں صورتوں کو یکساں قرار نہیں دیتی۔

 

اکراہ کیا ہے؟ ( اکراہ کی تعریف)

اکراہ کے لغوی معنی کسی ناپسندیدہ کام پر مجبور کرنا ہیں۔ فقہی اصطلاح میں کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف کسی کام پر اس طرح مجبور کرنا کہ انکار کی صورت میں اسے کسی معتبر اور سنگین نقصان کا سامنا کرنا پڑے، اکراہ کہلاتا ہے۔ ” حمل الانسان علی ما یکرہ” ( فقہی قواعد جدید تحقیق و تطبیق ۔ ص : ( 322 ) اصل ماخذ: المفصل فی قواعد : 270 ")
"و المراد بہ ھنا: الإجبار علي فعل الممنوع” فقهي قواعد جديد تحقيق و تطبيق : ص : (322) اصل ماخذ: القواعد الفقهيه للسدلان : ( 298)
فقہاء نے اکراہ کے لیے مختلف شرائط اور تفصیلات بیان کی ہیں، تاہم اس بحث کے لیے بنیادی بات یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ ہر مجبوری، خوف یا نقصان کو شرعی اکراہ نہیں کہا جاسکتا۔
اکراہ اسی وقت معتبر ہوگا جب جبر حقیقی ہو، دھمکی محض خیالی نہ ہو بلکہ اس کے پورا کیے جانے کا غالب اندیشہ ہو، اور مجبور شخص کے لیے اس سے بچنے کا کوئی مناسب اور قابلِ عمل راستہ موجود نہ ہو۔
اسی طرح نقصان کی نوعیت بھی اہم ہے۔ ایسا نقصان جو معمولی اور قابلِ برداشت ہو، اسے ہر حال میں اکراہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے برخلاف جان، جسم یا کسی شدید اور ناقابلِ برداشت ضرر کا حقیقی خطرہ اکراہ کی زیادہ واضح صورت ہے۔
یہاں ایک اور اہم بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اکراہ کا حکم حالات اور اشخاص کے اعتبار سے مختلف ہوسکتا ہے۔ جو نقصان ایک شخص کے لیے معمولی ہو، ممکن ہے دوسرے کے لیے انتہائی شدید ہو۔ اس لیے کسی واقعے پر اکراہ کا حکم لگانے کے لیے اس کے تمام حالات کو دیکھنا ضروری ہے۔

مصلحت، مجبوری اور اکراہ کا فرق

اس مسئلے میں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ مصلحت، عام مجبوری اور شرعی اکراہ ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ مصلحت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی دنیاوی فائدے کے حصول یا کسی فائدے کے ضائع ہونے سے بچنے کے لیے کوئی کام کرے، مثلاً ملازمت میں ترقی، زیادہ تنخواہ، کسی عہدے کا تحفظ یا کاروباری منفعت کا حصول۔ ایسی صورت میں انسان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی فائدے کو حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں مجبوری کی صورت یہ ہے کہ انسان کو کسی ایسے نقصان کا سامنا ہو جس سے بچنے کے لیے اس کے پاس کوئی مناسب راستہ باقی نہ ہو ۔ تاہم ہر مجبوری شرعی اعتبار سے اکراہ نہیں ہوتی۔ شرعی اکراہ اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کسی شخص کو کسی ایسے کام پر مجبور کیا جائے جس سے انکار کی صورت میں اسے شدید ضرر کا حقیقی اندیشہ ہو، اور اس ضرر سے بچنے کا کوئی قابلِ اعتبار راستہ بھی موجود نہ ہو۔
لہٰذا محض یہ اندیشہ کہ ’’انکار کرنے سے نوکری چلی جائے گی‘‘ یا ’’ترقی رک جائے گی‘‘، فی نفسہٖ شرعی اکراہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ملازمت کا نقصان کس درجے کا ہے، اس کے متبادل ذرائع موجود ہیں یا نہیں، اس نقصان سے بچنے کی کوئی دوسری تدبیر ممکن ہے یا نہیں، اور انکار کی صورت میں واقعی ایسا شدید ضرر لاحق ہوگا جو شرعی اکراہ کی حد تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

آیتِ اکراہ: بنیادی قرآنی دلیل

اس مسئلے کی بنیادی دلیل سورۂ نحل کی یہ آیت ہے:
مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ( النحل:106)
’’جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے، سوائے اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو؛ لیکن جس نے کفر کے لیے اپنا سینہ کھول دیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘

اس آیت میں دو بالکل مختلف حالتوں کو الگ کیا گیا ہے۔
ایک شخص وہ ہے جو اپنے اختیار سے کفر کو قبول کرتا ہے، اس کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے اور دل سے اسے اختیار کرتا ہے۔
دوسرا شخص وہ ہے جسے مجبور کیا گیا، مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے۔ قرآن نے اس کے لیے واضح استثنا بیان فرمایا: إلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی اکراہ کی حالت میں ظاہری قول اور باطنی عقیدہ کو ہر حال میں ایک ہی حکم نہیں دیا جائے گا۔ اگر زبان سے کوئی بات جبر کے تحت کہلوائی گئی، مگر دل ایمان پر قائم رہا، تو یہ اس شخص کے برابر نہیں جس نے اپنی رضامندی سے باطل عقیدہ اختیار کیا۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا واقعہ

آیتِ اکراہ کی سب سے روشن عملی مثال حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں حضرت عمارؓ اور ان کے خاندان کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے سخت اذیتیں دی گئیں۔ مشرکین نے انہیں اس قدر تکلیف پہنچائی کہ ایک موقع پر وہ ان کے مطالبے کے مطابق کچھ ایسے کلمات کہنے پر مجبور ہوگئے جو ان کے حقیقی عقیدے کے خلاف تھے ۔

حضرت عمارؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی کیفیت بیان کی۔ آپ ﷺ نے ان کے دل کے بارے میں دریافت فرمایا۔ حضرت عمار کی اس کیفیت کے سلسلے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : إلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی اکراہ کے تحت زبان سے نکلنے والا قول، جب دل اس کے معنی کو قبول نہ کرے، انسان کے حقیقی عقیدے کی لازمی ترجمانی نہیں کرتا۔
لیکن اس واقعے کو سمجھتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عمارؓ کی حالت ایک حقیقی اور شدید جبر کی حالت تھی۔ اسے ہر معمولی دباؤ یا دنیاوی مصلحت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف ’’اکراہ‘‘ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا: وقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ "اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکراہ کی رخصت کا تعلق اس شخص سے ہے جس کا باطن ایمان پر قائم ہو اور زبان سے نکلنے والا کلمہ حقیقی اعتقاد و رضامندی کی ترجمانی نہ کرتا ہو۔
لہٰذا اگر کوئی شخص دل سے باطل عقیدے کو قبول کرلے اور صرف ظاہری طور پر مجبور ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا معاملہ مختلف ہوگا۔
اسی طرح اگر کوئی شخص محض دنیاوی فائدے، ترقی، شہرت یا لوگوں کی خوشنودی کے لیے عقیدے کے خلاف کلمات ادا کرے تو اسے حضرت عمارؓ کے واقعے کے ساتھ تشبیہ دینا درست نہیں۔

یہاں ایک اہم غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ اکراہ کی حالت میں بعض کلمات کے تلفظ کی گنجائش کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کلمات اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہوگئے۔ کفر یا شرک پر مشتمل کلمات اپنی اصل کے اعتبار سے ممنوع ہیں۔ رخصت کا تعلق صرف اس مخصوص حالت سے ہے جس میں انسان حقیقتاً مجبور کردیا گیا ہو۔
جیسے کوئی حرام چیز شدید اضطرار کی صورت میں بقدرِ ضرورت مباح ہوسکتی ہے ، لیکن اس سے وہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے حلال نہیں ہوجاتی، اسی طرح اکراہ کی وجہ سے کسی کلمے کے تلفظ کی گنجائش پیدا ہونا اس کلمے کو فی نفسہٖ درست قرار دینا نہیں ہے۔

رخصت کی حدود

اگر کسی موقع پر واقعی اکراہ کی حالت پیدا ہوجائے تو بھی شریعت کی دی ہوئی رخصت بقدرِ ضرورت ( الضرورات تقدر بقدرها) ہوگی۔ اگر خاموش رہنے سے معاملہ حل ہوسکتا ہے تو بلا ضرورت کلمات ادا نہ کیے جائیں۔ اگر کسی دوسرے جائز طریقے سے معاملہ ٹالا جاسکتا ہے تو اسے اختیار کیا جائے۔ اگر موقع سے الگ ہونے یا کسی متبادل طریقے کی گنجائش موجود ہو تو اسے اختیار کیا جائے۔
یہی شریعت کے عمومی مزاج کا تقاضا ہے کہ ضرورت کے وقت رخصت دی جاتی ہے، مگر ضرورت ختم ہوجانے کے بعد اصل حکم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی حالات پر اس مسئلے کا اطلاق

ہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں یہ مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مسلمان اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا معاملہ کرے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے بنیادی عقیدے سے دست بردار ہوجائے۔
اگر کسی مسلمان سے ایسے مذہبی کلمات یا نعرے ادا کرنے کا مطالبہ کیا جائے جن کے معنی اس کے عقیدۂ توحید کے منافی ہوں تو اسے سب سے پہلے حکمت، نرمی اور وقار کے ساتھ انکار کرنا چاہیے۔ وہ مؤدبانہ انداز میں کہہ سکتا ہے: "میں اپنے مذہبی عقیدے کی وجہ سے یہ مخصوص کلمات ادا نہیں کرسکتا، البتہ جائز امور میں تعاون اور حسنِ سلوک کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔‘‘ یہ طرزِ عمل کسی دوسرے مذہب کی توہین نہیں بلکہ اپنے عقیدے کی حفاظت ہے۔

آج کے حالات میں یہ مسئلہ خاص طور پر سرکاری یا نجی ملازمتوں کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ اگر کسی مسلمان سے کسی تقریب یا موقع پر ایسا کلمہ یا نعرہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا جائے جو اس کے عقیدے کے خلاف ہو تو اسے فوراً یہ سمجھ نہیں لینا چاہیے کہ اس کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ یہ کلمہ ادا کرے یا ملازمت چھوڑ دے۔
بلکہ پہلے ممکنہ جائز راستے اختیار کیے جائیں: خاموش رہنے کی کوشش کی جائے۔ اپنی مذہبی مجبوری کو مؤدبانہ انداز میں واضح کیا جائے۔ کسی متبادل جملے یا طریقے کی درخواست کی جائے۔ اگر ممکن ہو تو ایسی ذمہ داری یا مقام کی درخواست کی جائے جہاں یہ مسئلہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ ذمہ دار سے گفتگو کرکے مسئلے کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔
اگر اس کے باوجود ایسی صورت پیدا ہوجائے جس میں واقعی شدید اور ناقابلِ برداشت نقصان کا خطرہ ہو اور بچنے کا کوئی مناسب راستہ باقی نہ رہے، تو پھر اس خاص صورتِ حال کو حقیقی اکراہ کی شرائط کے مطابق دیکھا جائے گا۔

محض ملازمت کے ختم ہونے کا اندیشہ، فی نفسہٖ، اکراہِ شرعی کے تحقق کے لیے کافی نہیں۔ اگر کوئی شخص صرف اس لیے عقیدے کے خلاف کلمہ کہتا ہے کہ اس کی ترقی رک جائے گی، تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا، افسر ناراض ہوجائے گا یا اسے کسی دنیاوی فائدے سے محروم ہونا پڑے گا، تو اسے حضرت عمارؓ کی طرح مجبور قرار دینا درست نہیں۔
البتہ اگر کسی خاص شخص کی صورتِ حال ایسی ہو کہ ملازمت ختم ہونے سے اس کی بنیادی ضروریات، اہل و عیال کی کفالت یا زندگی کے ضروری معاملات اس طرح متاثر ہوں کہ اس وقت کوئی مناسب متبادل موجود نہ ہو، تو مسئلہ محض ’’نوکری ختم ہوجانے‘‘ کے اندیشے کی بنیاد پر طے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اس شخص کے پورے حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اسی لیے ایسے معاملات میں عمومی فتوے کے بجائے مخصوص واقعے کی تفصیلات دیکھنا ضروری ہے۔

خلاصہ

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خلافِ توحید کلمات اپنی اصل کے اعتبار سے مسلمان کے لیے ممنوع ہیں ، اور اسے عام حالات میں ایسے کلمات سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو حقیقتاً ایسی حالت میں مجبور کردیا جائے جہاں شدید اور معتبر ضرر کا خطرہ ہو، اس کے پاس اس جبر سے بچنے کا کوئی مناسب راستہ نہ ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تو قرآن کریم نے اس کے لیے واضح گنجائش بیان فرمائی ہے: إلَّا من أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ

لہٰذا مصلحت کو اکراہ، معمولی نقصان کو شدید ضرر، اور دنیاوی فائدے کو شرعی مجبوری سمجھنا درست نہیں۔ دوسری طرف حقیقی اور شدید جبر کو بھی محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان کو ہر حال میں ظاہری طور پر وہی حکم دیا جائے جو مکمل اختیار کی حالت میں ہوتا ہے۔
اسلام کا مزاج نہ بے جا سختی ہے اور نہ بے قید نرمی؛ بلکہ عقیدے میں استقامت، حالات میں حکمت، ضرورت میں رخصت اور اختیار کی حالت میں شریعت کی پابندی ہے۔
پس مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ایمان و توحید کی حفاظت کے لیے حتی الامکان ہر جائز تدبیر اختیار کرے، بلا ضرورت اپنے آپ کو ایسے حالات میں نہ ڈالے ۔ اور اگر کبھی حقیقی اکراہ کا سامنا ہو تو اس کے شرعی حکم کو اس کی مکمل کیفیت اور حالات کے ساتھ سمجھنے کے لیے مستند اہلِ علم سے رجوع کرے۔

 

خواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیت

بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام