شبلی: روایت اور تجدید کا معمار
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
عربی اور اردو کے معتبر ادیب، عالم اور داعی، مولانا محمد یوسف صدیقی ندوی بھوپالی نے درجِ ذیل استفسار فرمایا:
فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب السلام علیکم، علامہ شبلی نعمانی کی عبقری شخصیت، جو جامع الکمالات، ہر فن مولیٰ تھی، بلکہ وہ تو جدت و تخلیق، ابداع وایجاد کے امام تھے مگر برصغیر کے علماء نے وہ مقام نہیں عطا کیا جس کے وہ حق دار تھے – اس کے پس پردہ کیا عوامل و محرکات کار فرما تھے ۔ اس کا منصفانہ جواب عنایت فرمائیے – بہت شکریہ
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے ایک نہایت دقیق، منصفانہ اور تاریخِ افکار سے گہرا تعلق رکھنے والا سوال اٹھایا ہے۔ اس کا جواب جذبات کی سطح پر نہیں، بلکہ تاریخ، فکر اور علمی روایت کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ کہنا درست نہیں کہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو سرے سے ان کا مقام نہیں ملا؛ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت کی وسعت، ان کے افکار کی ہمہ گیری اور ان کی خدمات کی گہرائی کا وہ جامع اور ہمہ گیر اعتراف نہ ہوسکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ اس کا سبب ان کی علمی قامت میں کوئی کمی نہ تھی، بلکہ وہ خود اپنے عہد کے پیمانوں سے بلند تھے۔ بعض شخصیتیں زمانے کی پیداوار ہوتی ہیں اور بعض زمانے کے معیار بدل دیتی ہیں؛ شبلیؒ دوسری قسم کی شخصیت تھے۔ وہ اپنے دور کے محض شارح نہ تھے، بلکہ اس کے معمار تھے؛ محض وارث نہ تھے، بلکہ تجدید و تخلیق کے امین تھے۔
برصغیر کی فکری تاریخ میں شبلیؒ کی مثال اس دریا کی سی ہے جو قدیم پہاڑوں کے دامن سے نکلتا ہے، اپنے سرچشموں سے وفادار بھی رہتا ہے اور نئی زمینوں کو سیراب بھی کرتا ہے۔ ان کی شخصیت میں روایت کی گہرائی، تحقیق کی وسعت، تنقید کی بصیرت، ادب کی لطافت، تاریخ کا شعور، تعلیم کی اصلاح اور اجتہاد کی جرأت ایک ایسے حسین امتزاج کے ساتھ جمع ہوگئی تھی جو کم ہی کسی ایک فرد کو نصیب ہوتا ہے۔ وہ شاعر بھی تھے اور مورخ بھی؛ متکلم بھی تھے اور ادیب بھی؛ معلم بھی تھے اور مصلح بھی۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے اسلامی علمی روایت کو جمود سے نکال کر حرکت، تحقیق اور تجدید کی نئی راہوں سے آشنا کیا۔
عربی، فارسی اور اردو پر ان کی غیر معمولی دسترس نے انہیں اسلامی تہذیب کے کلاسیکی سرمایہ کا امین بنایا، لیکن ان کا کمال صرف اتنا نہ تھا کہ وہ ماضی کے خزینوں کے محافظ تھے؛ ان کی اصل عظمت یہ تھی کہ انہوں نے ان خزانوں کو نئی نسل کی فکری ضرورتوں کے مطابق ازسرِنو مرتب کیا۔ انہوں نے روایت کو مومی مجسمہ نہیں سمجھا جسے صرف محفوظ رکھا جائے، بلکہ ایک زندہ شجر جانا جس کی آبیاری ہر دور میں نئے شعور اور نئی بصیرت سے ہوتی رہتی ہے۔
ان کی نثر بھی ان کی فکر کی مانند صاف، شگفتہ اور متوازن تھی۔ جہاں سر سید احمد خان کی تحریروں میں مغربی طرزِ استدلال کی چھاپ نمایاں دکھائی دیتی ہے، وہاں شبلیؒ کی زبان اردو اور فارسی کی تہذیبی روایت سے پوری طرح وابستہ رہتی ہے۔ ان کی عبارت میں نہ تصنع ہے، نہ تکلف؛ نہ لفظی نمائش ہے، نہ فکری ابہام۔ ان کے یہاں سادگی حسن ہے، وضاحت قوت ہے اور شائستگی وقار۔
محدود اعتراف کے اسباب:
اب اصل سوال یہ ہے کہ ایسی جامع الکمالات اور عبقری شخصیت کو برصغیر کے اہلِ علم نے وہ ہمہ گیر مقام کیوں نہ دیا جس کی وہ مستحق تھی؟ اس کے متعدد اسباب تھے، اور ان میں سب سے بنیادی سبب یہ تھا کہ شبلیؒ کسی ایک فکری یا ادارہ جاتی خیمے کے آدمی نہ تھے۔ وہ اس زمانے میں نمودار ہوئے جب برصغیر کی مسلم فکر کئی دھاروں میں تقسیم ہوچکی تھی: ایک طرف علی گڑھ کی جدیدیت، دوسری طرف مدارس کی روایت، اور تیسری طرف نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ جنم لینے والے نئے فکری سوالات۔ شبلیؒ نے ان سب سے استفادہ کیا، مگر کسی ایک کے اسیر نہ ہوئے۔ علی گڑھ سے وابستگی اختیار کی، لیکن جب محسوس کیا کہ بعض اصولی امور میں فکری راہیں جدا ہورہی ہیں تو بے کم و کاست علیحدگی اختیار کرلی۔ ندوۃ العلماء سے وابستہ ہوئے تو وہاں بھی محض انتظامی شرکت پر اکتفا نہ کیا، بلکہ نصاب، منہج اور علمی نصب العین کی ایسی اصلاحات پیش کیں جن کا مقصد دینی علوم اور عصری معارف کے درمیان ایک زندہ ربط پیدا کرنا تھا۔ یہی آزاد مزاجی ان کی قوت بھی بنی اور ان کی تنہائی کا سبب بھی۔
دوسرا سبب ان کا تحقیقی اور اجتہادی منہج تھا۔ شبلیؒ تقلید کے قائل نہ تھے، لیکن بغاوت کے بھی علمبردار نہ تھے۔ انہوں نے مشرق اور مغرب، دونوں کے علمی مناہج سے استفادہ کیا، مگر کسی کے سامنے سپر نہیں ڈالی۔ اسلامی تاریخ، سیرت، ادب اور تنقید میں انہوں نے ایسے تحقیقی اصول متعارف کرائے جن میں قدیم مصادر کی عظمت بھی محفوظ رہی اور جدید تنقیدی شعور کی ضرورت بھی پوری ہوئی۔ ان کی تصانیف میں روایت اور تحقیق ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اعتدال کی آواز اکثر انتہاؤں کے شور میں دب جاتی ہے، اور شبلیؒ بھی اس قانونِ تاریخ کا استثنا نہ بن سکے۔
تیسرا سبب ان کی ادارہ سازی کی وہ فکر تھی جسے ہمارے معاشرے نے ہمیشہ افراد کی شہرت کے مقابلے میں کم اہمیت دی۔ ان کی نظر محض کتاب لکھنے پر نہیں تھی، بلکہ کتاب لکھنے والے پیدا کرنے پر تھی۔ علی گڑھ سے علیحدگی کے بعد اعظم گڑھ میں نیشنل انگلش اسکول کا قیام، پھر ندوۃ العلماء میں نصابی اصلاحات، اور آخرکار دارالمصنفین کی بنیاد، یہ سب ایک ہی خواب کی مختلف تعبیریں تھیں: ایسا علمی ماحول پیدا کیا جائے جہاں تحقیق عبادت بن جائے، تصنیف ذمہ داری بن جائے اور علم زندگی کی تعمیر کا وسیلہ بن جائے۔ دارالمصنفین اسی خواب کی وہ شمع ہے جس کی روشنی آج بھی اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
تصانیف، شاعری اور علمی میراث:
چوتھا سبب یہ تھا کہ شبلیؒ کی تصانیف اپنے عہد سے بہت آگے تھیں۔ سیرۃ النبی ﷺ نے سیرت نگاری کو محض مناقب کے بیان سے نکال کر تاریخی تحقیق اور تنقیدی استدلال کی بنیادوں پر استوار کیا۔ اگرچہ یہ عظیم منصوبہ ان کی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا، لیکن ان کے لائق ترین شاگرد سید سلیمان ندویؒ نے اسے اسی روح اور امانت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا، اور یوں یہ کتاب برصغیر کی سیرت نگاری کا ایک سنگِ میل بن گئی۔ الفاروق نے حضرت عمر بن خطابؓ کی حیات و خدمات کو جس تحقیقی اور تجزیاتی انداز میں پیش کیا، اس نے اسلامی سوانح نگاری کو ایک نیا معیار عطا کیا۔ الغزالی میں انہوں نے امام غزالیؒ کی فکری عظمت کو عالمانہ بصیرت کے ساتھ واضح کیا، جبکہ شعرالعجم نے فارسی ادب کی تنقید میں وہ مقام حاصل کیا جو شاید ہی کسی دوسری تصنیف کو نصیب ہوا ہو۔ یہ صرف فارسی شاعری کی تاریخ نہیں، بلکہ ذوق، تہذیب، فکر اور ادبی ارتقا کا ایسا انسائیکلوپیڈیا ہے جس نے اردو اور فارسی تنقید کے لیے نئے افق روشن کیے۔ اسی طرح جرجی زیدان کی تاریخ تمدنِ اسلامی پر ان کی تنقید صرف ایک کتاب کا رد نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کے علمی دفاع کا ایک درخشاں نمونہ ہے، جس میں تقابلی منہج، تاریخی شعور اور تحقیقی دیانت کا قابلِ رشک امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
شبلیؒ کی شاعری کو بھی محض ادبی ذوق کا مظہر سمجھنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کے نزدیک شعر تفنن نہیں، بیداریِ ضمیر کا وسیلہ تھا۔ ان کے کلام میں قوم کا درد، ملت کی بے بسی، اخلاقی بیداری اور سیاسی شعور اس شدت کے ساتھ موجزن ہے کہ وہ محض شاعری نہیں رہتا، ایک عہد کی اجتماعی روح کی ترجمانی بن جاتا ہے۔ ان کی نظم شہدائے قوم اس کی روشن مثال ہے، جس میں سانحۂ کانپور کے مقتول مسلمانوں کے المیے کو انہوں نے ایسی سوزناکی عطا کی کہ شعر تاریخ کی گواہی بن گیا۔
ایک اور اہم سبب یہ تھا کہ برصغیر کا علمی ماحول، بدقسمتی سے، اکثر علمی عظمت کا اندازہ مسلکی وابستگی کے پیمانے سے کرتا رہا ہے۔ شبلیؒ کی شخصیت ان خانوں میں سمٹنے سے انکار کرتی تھی۔ وہ کسی ایک مسلک، ایک جماعت یا ایک ادارے کی ملکیت نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حلقے نے ان سے استفادہ کیا، لیکن شاید ہی کسی نے ان کی پوری فکری وسعت کو قبول کیا۔ جو شخصیت ایک باغ کی نہیں بلکہ پورے گلستان کی ہو، اس پر کسی ایک شاخ کی ملکیت قائم نہیں ہوسکتی۔
اس تمام پس منظر کے باوجود یہ کہنا بھی انصاف کے خلاف ہوگا کہ شبلیؒ کی خدمات فراموش کردی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض شخصیات کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ ان کی وفات کے بعد ہوتا ہے، اور شبلیؒ بھی انہی میں سے ہیں۔ ان کے شاگرد سید سلیمان ندویؒ نے ان کے مشن کو آگے بڑھایا، دارالمصنفین آج بھی ان کی علمی بصیرت کی زندہ یادگار ہے، اور ان کی تصانیف اسلامی تاریخ، سیرت، ادب، تنقید اور تہذیب کے میدان میں بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا اثر صرف ان کی کتابوں میں نہیں، بلکہ ان اداروں میں بھی زندہ ہے جو انہوں نے قائم کیے، ان شاگردوں میں بھی جو انہوں نے تیار کیے، اور اس علمی روایت میں بھی جو انہوں نے پروان چڑھائی۔
راقم نے بھی اپنی عربی تصنیف، جو 2001ء میں دمشق کے دارالقلم سے مسلم مفکرین کے معروف سلسلے میں شائع ہوئی، میں علامہ شبلی نعمانیؒ کی حیات، فکر اور علمی خدمات کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے، اور انہیں برصغیر میں اسلامی تجدیدِ فکر کی ایک مرکزی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو اگر کسی اعتبار سے ان کے استحقاق سے کم سراہا گیا تو اس کی وجہ ان کی علمی عظمت نہیں، بلکہ ان کی علمی بلندی تھی۔ وہ اپنے زمانے کے معمول کے پیمانوں میں سمانے والی شخصیت نہ تھے۔ ان کی فکر افق کی مانند وسیع، ان کی نگاہ کوہسار کی مانند بلند، اور ان کی علمی میراث دریا کی مانند رواں ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تجدید، روایت سے انقطاع کا نام نہیں، بلکہ اس کے باطن میں پوشیدہ حیاتِ نو کو بیدار کرنے کا عمل ہے۔ یہی ان کا سب سے بڑا پیغام ہے، اور یہی ان کی سب سے دا
ئمی میراث۔
2/7/2026

