مولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیا
آج صبح مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال کی خبر ملی تو دل دیر تک افسردہ رہا۔ کچھ خبریں آدمی صرف سنتا نہیں؛ وہ اندر اترتی ہیں، کسی پرانی تہہ کو چھیڑتی ہیں، اور پھر دیر تک آدمی اپنے ہی اندر کسی خاموش کمرے میں بیٹھا رہ جاتا ہے۔ مولانا کے جانے کی خبر بھی میرے لیے ایسی ہی تھی۔ ایک بڑا آدمی، ایک بے قرار روح، ایک شعلہ مزاج عالم، اچانک ہم سے رخصت ہو گیا۔
کبھی کبھی کسی بڑے آدمی کے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پرانا، گھنا، پھیلا ہوا درخت اچانک جڑ سے اکھڑ گیا ہو۔ درخت گرتا ہے تو صرف ایک تنا نہیں گرتا؛ ایک سایہ گرتا ہے، ایک موسم گرتا ہے، ایک پوری فضا بدل جاتی ہے۔ اس کی شاخوں پر بیٹھنے والے پرندے، اس کے سائے میں رکنے والے مسافر، اس کے تنے سے ٹیک لگا کر تھوڑی دیر سانس لینے والے لوگ،سب ایک لمحے کے لیے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی کا جانا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ بہت خاموشی سے گئے، اچانک گئے، مگر ان کے جانے کے بعد جو خلا محسوس ہو رہا ہے، وہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے حاشیے پر نہیں تھے؛ وہ بیچ منظر میں کھڑے ایک بڑے درخت کی طرح تھے۔
مولانا غیر معمولی آدمی تھے۔ اللہ نے انہیں علم، حافظہ، خطابت، عربی و اردو بیان، دینی جوش اور شخصی کشش بڑی فراوانی سے عطا کی تھی۔ ان کے اندر ایک چنگاری تھی جو موقع پاتے ہی شعلہ بن جاتی تھی۔ یہی شعلہ بہتوں کے لیے روشنی تھا، اور بہتوں کے لیے اضطراب کا سبب بھی۔ وہ جہاں ہوتے، اپنے وجود کا احساس دلاتے تھے۔ ندوہ کے ماحول میں ایک زمانہ ایسا تھا کہ کسی طالب علم، کسی زائر، کسی سننے والے کے لیے ندوہ کی زیارت مولانا سلمان ندوی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ اللہ نے انہیں ایک آفتاب جیسی شخصیت دی تھی؛ وہ طلوع ہوتے تو اردگرد کے چراغ، چاند تارے، سب کچھ جیسے پس منظر میں چلا جاتا۔ یہ ان کی اپنی کمائی نہیں، اللہ کی عطا تھی؛ مگر ایسی عطا انسان کے لیے آسان بھی نہیں ہوتی۔ اس سے محبتیں بھی پیدا ہوتی ہیں، اور حسد بھی؛ قرب بھی پیدا ہوتا ہے، اور فاصلہ بھی۔
مولانا کی شخصیت آسانی سے کسی ایک خانے میں نہیں رکھی جا سکتی۔ وہ صاحبِ علم بھی تھے، صاحبِ قلم بھی، صاحبِ جرأت بھی، اور صاحبِ شدت بھی۔ جس بات کو حق سمجھتے، اسے پوری قوت سے کہتے۔ کبھی اس میں غیر معمولی ہمت نظر آتی، کبھی وہی شدت بحث و نزاع کا سبب بن جاتی۔ ان کی زندگی میں محبتیں بھی رہیں، مخالفتیں بھی؛ رفاقتیں بھی رہیں، فاصلے بھی؛ قرب بھی رہا، کشمکش بھی۔ شاید بڑے آدمی کی یہی مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد میں صرف موجود نہیں رہتا، وہ عہد کو بے چین بھی کرتا ہے۔
میرا اپنا تعلق بھی ان سے اسی طرح کے نشیب و فراز سے گزرا۔ ایک زمانے میں وہ ملی پارلیمنٹ کے اولین رفقا میں شامل رہے۔ پٹنہ کے اجلاس کے لیے انہوں نے اپنا ایک مفصل وفد بھیجا تھا۔ خطوط و روابط کا ایک سلسلہ رہا۔ پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب علی گڑھ کی داخلی سیاست، مولویانہ ریشہ دوانیوں، اور فارغینِ مدارس کے لیے شروع کیے گئے ہمارے تعلیمی تجربے کے خلاف مہم میں مولانا ہمارے مخالف محاذ پر کھڑے ہو گئے۔ وہ علی گڑھ تشریف لائے، کینیڈی ہال میں میرے خلاف تقریر ہوئی، شعبۂ دینیات کے ایک جلسے میں بھی انہوں نے میری مخالفت میں گفتگو کی۔ جو مجلہ ہم نے شروع کیا تھا، اس کی مخالفت میں ایک الگ مجلہ نکالا گیا۔ تحریریں ہوئیں، تقریریں ہوئیں، ایک فضا بنائی گئی۔ آدمی کبھی کبھی اپنے ہی بنائے ہوئے راستوں پر اجنبی کی طرح چلنے لگتا ہے؛ اور رفاقتیں، جنہیں ہم محفوظ سمجھتے ہیں، اچانک تاریخ کی دھول میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
یہ سب کچھ ہوا۔ مگر زندگی کی عجیب بات یہی ہے کہ آدمی صرف اپنے اختلافات سے نہیں بنتا، نہ صرف اپنی تلخیوں سے پہچانا جاتا ہے۔ بعد میں جب مولانا بنفسِ نفیس یونیورسٹی میں میرے پاس تشریف لائے تو میں نے انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ میری دعوت، بلکہ میرے اصرار پر، انہوں نے طلبہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملی پارلیمنٹ کے زمانے کی پرانی رفاقتوں کا تذکرہ بھی کیا، محبتوں کو بھی یاد رکھا، اور مجھے محسوس ہوا کہ بڑے آدمی کے اندر اختلاف کے باوجود ایک وسعت باقی رہتی ہے۔ اختلاف کا شور ختم ہو جاتا ہے، مگر ظرف کی ایک مدھم روشنی رہ جاتی ہے، جو بعد میں یاد آتی ہے تو دل کو نرم کر دیتی ہے۔
ان سے بالمشافہ آخری ملاقات کئی برس پہلے قطر کے ایک سرکاری جلسے میں ہوئی تھی۔ مجھے وہاں ایک نشست کی صدارت کے لیے بلایا گیا تھا، مولانا بھی اسی پروگرام میں مدعو تھے، اور کئی دن تک ہم لوگوں کا قیام ایک ہی ہوٹل میں رہا۔ ان دنوں مولانا بار بار ملتے رہے۔ بڑی محبت، اپنائیت اور گرم جوشی سے ملتے۔ نہ لہجے میں کوئی کدورت، نہ چہرے پر کوئی پرانی تلخی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے علی گڑھ کی وہ تمام تلخیاں وقت کی بارش میں دھل گئی ہوں۔ آدمی کو کبھی کبھی دیر سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تلخیاں صرف وقت کی سطح پر تھیں؛ اندر کہیں ایک پرانی رفاقت اب بھی زندہ تھی۔
اس کے بعد بالمشافہ ملاقات کا موقع نہ ملا۔ آخری بار ایک بالواسطہ رابطہ اس وقت ہوا جب ان کے صاحبزادوں نے علی گڑھ کے کتاب میلے میں اپنا اسٹال لگایا۔ میں وہاں گیا، انہوں نے مولانا کی بعض تصنیفات بھجوائیں، اور میں نے بھی اپنی چند کتابیں ان کی خدمت میں پیش بھجوائیں۔ بس، پھر یہ سلسلہ خاموشی میں چلا گیا۔ ہم سمجھتے رہتے ہیں کہ رشتے ابھی ختم نہیں ہوئے، صرف مؤخر ہیں؛ ملاقاتیں ابھی باقی ہیں، صرف ملتوی ہیں۔ مگر موت آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گفتگوئیں ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ گئیں۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو دل میں ایک عجیب سی اداسی اترتی ہے۔ ہم سمجھتے رہتے ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے؛ کبھی بیٹھیں گے، کبھی بات ہوگی، کبھی پرانی باتوں پر ہنس لیں گے، کبھی تلخیوں کو نام لے کر دفن کر دیں گے۔ مگر زندگی اتنی مہلت کہاں دیتی ہے۔ آدمی اچانک چلا جاتا ہے، اور پیچھے ایک خالی کرسی، کچھ ادھوری گفتگوئیں، چند خط، چند یادیں، اور دل میں ایک دھندلا سا افسوس رہ جاتا ہے۔ شاید ہر موت ہمیں صرف مرنے والے کی خبر نہیں دیتی، اپنی ناپائیداری کی بھی خبر دیتی ہے۔
مولانا بے عیب نہ تھے؛ بڑے لوگ عموماً بے عیب نہیں ہوتے۔ مگر وہ چھوٹے بھی نہ تھے۔ ان کے اندر آگ تھی، اور شاید وہ آگ ہمیشہ ان کے قابو میں بھی نہیں رہتی تھی۔ وہ جس سرے کو پکڑتے، اسے پوری شدت کے ساتھ پکڑتے۔ اسی شدت نے انہیں ممتاز بھی کیا، متنازع بھی بنایا۔ مگر جو آدمی اپنے عہد میں کچھ کہتا ہے، خطرہ مول لیتا ہے، اپنے وجود کا اعلان کرتا ہے، وہ مرنے کے بعد بھی آسانی سے غائب نہیں ہوتا۔ مولانا بھی ایسے ہی لوگوں میں تھے۔ وہ منظر سے چلے گئے ہیں، مگر بحث سے، یاد سے، اور اس بے چینی سے نہیں جائیں گے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
یہ درست ہے کہ مولویوں کے مختلف حلقوں میں ان کے بارے میں کدورتیں بھی پائی جاتی تھیں، اور بعض لوگ ان کے شدید مخالف بھی تھے۔ مگر موت کا ایک اپنا انصاف ہوتا ہے۔ وہ آدمی کے گرد جمع گرد و غبار کو ایک لمحے کے لیے ہٹا دیتی ہے، اور ہمیں دکھاتی ہے کہ کون شخص واقعی اپنے زمانے میں جگہ گھیرے ہوئے تھا۔ مولانا کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا قد بڑا تھا۔ درخت پر اعتراض کرنے والے بہت ہو سکتے ہیں، مگر جب وہ درخت گرتا ہے تو سایہ بھی ساتھ چلا جاتا ہے، اور تب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ دھوپ کتنی سخت ہے۔
آج ان کے بعض تاریخی و سیاسی مواقف کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر سخت کلامی بھی دیکھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ موت کے موقع پر زبان کو نرم، دل کو وسیع، اور فیصلہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے۔ ہماری تاریخ خود اتنی پراگندہ، متضاد اور گرد آلود لکھی گئی ہے کہ اس کے کباڑ خانے سے ہر شخص اپنی پسند کی تصویر نکال سکتا ہے۔ اس لیے اختلاف اپنی جگہ، احتیاط اپنی جگہ، مگر مرنے والے کے لیے دعا ہی اہلِ ایمان کا طریقہ ہے۔ جو حساب ہے، وہ اب ہمارے ہاتھ میں نہیں؛ جو دعا ہے، وہ اب ہمارے ذمے ہے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی چلے گئے۔ ایک شعلہ خاموش ہو گیا۔ ایک آواز تھم گئی۔ ایک بے قرار روح اپنے رب کے حضور پہنچ گئی۔ ایسا لگتا ہے وہ جلدی چلے گئے، مگر اللہ کے یہاں ہر ایک کا وقت مقرر ہے۔ دنیا فانی ہے، ہم سب کو جانا ہے۔ آج وہ گئے ہیں، کل ہماری باری ہے۔ آدمی آخر میں اپنے علم، اپنے اختلاف، اپنی شہرت، اپنی تلخی، اپنی محبت، سب کچھ چھوڑ کر صرف اپنے رب کے سامنے رہ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کے علمی و دینی کاموں کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، محبین اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور اگلے مرحلے کی تمام منزلیں ان کے لیے آسان فرمائے۔ آمین۔ (گفتگو پر مبنی)

