دس محرم کا روزہ کیوں ؟
1️⃣ مدینہ منورہ آمد پر رسول اللہ ﷺ نے یہود کو عاشورا کا روزہ رکھتے دیکھا کیونکہ اس دن فرعون غرق ہوا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ: 1734)
2️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162)
3️⃣ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ آئندہ سال ہم 9 محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134)
4️⃣ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عاشورہ کے علاوہ کسی دن اور رمضان کے سوا کسی مہینے کو افضل سمجھ کر روزے کا خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: 2006)

