فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عمل
از : مولانا ابو الجیش ندوی
اللہ رب العزت نے انسان کی ہدایت اور اس کے درجات کی بلندی کے لیے جہاں انبیاء اور کتب کا سلسلہ قائم فرمایا، وہی زمان و مکان (وقت اور جگہ) کے اعتبار سے بھی بعض چیزوں کو دوسروں پر فضیلت بخشی۔ مکانات میں جو فضیلت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو حاصل ہے، بعینہٖ زمانہ اور وقت کے اعتبار سے سال کے مختلف دنوں کو ایک دوسرے پر فوقیت حاصل ہے۔ انہیں بابرکت اور فضیلت والے دنوں میں سے "عشرہ ذوالحجہ” (یعنی ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن) بھی ہیں، جنہیں خود لسانِ نبوت نے "دنیا کے بہترین دن” قرار دیا ہے۔
ذیل میں قرآن و سنت کی روشنی میں اور امت کے جلیل القدر عالم امام ابن القيم علیہ الرحمہ کی تحقیقات کے تناظر میں اس عشرے کی فضیلت اور اس کے اہم اعمال کا ایک علمی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
۱. عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ان دس دنوں کی عظمت کو انتہائی واشگاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم سے شہادت: اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالْفَجْرِ * وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر: ۱ – ۲] یعنی "قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی”۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کا یہی پہلا عشرہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی قسم کھانا اس کی عظمتِ شان کی دلیل ہوتا ہے۔
سنتِ مطہرہ سے دلیل: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ان دس دنوں (عشرہ ذوالحجہ) میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو دوسرے دنوں میں محبوب نہیں”۔ صحابہ کرام نے حیرت سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر) نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر نکلے اور (شہادت پا کر) ان میں سے کچھ بھی واپس لے کر نہ لوٹے”۔ [بخاری، ابو داؤد]
یہ حدیث صراحت کرتی ہے کہ ان دنوں میں کی جانے والی ایک چھوٹی سی نیکی بھی عام دنوں کے بڑے بڑے اعمال، یہاں تک کہ نفلی جہاد سے بھی فضیلت میں بڑھ جاتی ہے۔
۲. ان دنوں کی انفرادیت (ابن القيم کی حکیمانہ تشریح)
امام ابن القيم رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف زاد المعاد فی ہدی خیر العباد (۱/ ۵۶-۵۷) میں ان دنوں کی فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے ایک انتہائی لطیف نکتہ لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
”عشرہ ذوالحجہ دنیا کے افضل ترین دن ہیں، کیونکہ ان دنوں میں ایسی بنیادی عبادتیں بیک وقت جمع ہو جاتی ہیں جو سال کے دیگر دنوں میں کبھی یکجا نہیں ہوتیں؛ اور وہ عبادات ہیں: نماز، روزہ، صدقہ، حج اور ذکرِ الٰہی۔”
چونکہ حج جیسا عظیم رکنِ اسلام اسی مہینے کے ساتھ خاص ہے، اس لیے ان ایام کی برکتیں دوچند ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ اسی عشرے میں "یومِ عرفہ” (۹ ذوالحجہ) ہے، جس کے روزے کے بارے میں احادیث میں آتا ہے کہ وہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ سلف صالحین ان دنوں کی بے حد تعظیم کرتے تھے اور ان میں اس درجہ عبادت کی محنت کرتے تھے جس کی مثال سال کے باقی دنوں میں نہیں ملتی تھی۔
۳. عشرہ ذوالحجہ کا ایمانی پروگرام اور اعمالِ صالحہ
ایک مسلمان کو ان مبارک گھڑیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے اوقات کو منظم کرنا چاہیے اور درج ذیل اعمال کا خاص اہتمام کرنا چاہیے:
الف: عام نیک اعمال کی کثرت
ان دنوں میں ہر قسم کی بدنی اور مالی عبادات، جیسے نوافل، غریبوں کی امداد، تلاوتِ قرآن اور حسنِ سلوک کی کثرت کرنی چاہیے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ مدارج السالکین (۱/ ۱۱۰) میں رقمطراز ہیں:
”عشرہ ذوالحجہ میں سب سے افضل عمل کثرت سے عبادت کرنا ہے، خصوصاً تکبیر، تہلیل اور تحمید کہنا؛ یہ عمل اس جہاد سے بھی افضل ہے جو فرضِ عین نہ ہو”۔
ب: ایامِ عشرہ کے روزے اور علمائے اصول کا موقف
عشرہ ذوالحجہ کے (ابتدائی نو) روزے رکھنا مستحب ہے۔ روایات میں اس حوالے سے بظاہر دو طرح کا انداز ملتا ہے:
أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشرہ ذوالحجہ میں کبھی روزہ رکھتے نہیں دیکھا [مسلم]۔
جبکہ أم المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی تھیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے، جن میں سے ایک "عشرہ ذوالحجہ کے روزے” تھے [احمد]۔
ان دونوں روایات میں تطبیق دیتے ہوئے امام ابن القيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیگر ازواجِ مطہرات سے بھی روزوں کا اثبات منقول ہے، اور علمِ اصول کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ "المُثبِتُ مُقَدَّمٌ عَلَى النَّافِي” (یعنی ثبوت پیش کرنے والی روایت، انکار کرنے والی روایت پر مقدم ہوتی ہے)۔ لہذا ان دنوں میں روزہ رکھنا سنت اور باعثِ اجر ہے۔
ج: دعا اور ذکرِ الٰہی کا اہتمام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں میں کثرت سے دعا فرماتے اور مسلمانوں کو کثرتِ ذکر کا حکم دیتے۔ احادیث کے مطابق ان دنوں میں تین کلمات کی کثرت کرنی چاہیے: تہلیل (لا إله إلا الله)، تکبیر (الله أكبر)، اور تحمید (الحمد لله)۔
تکبیر کے صیغے: اسلاف سے تکبیر کے مختلف صیغے منقول ہیں۔ حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے تین تین بار تکبیر کہنا منقول ہے، جبکہ عام تعامل دو دو بار پر ہے: «الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر ولله الحمد»۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں ایک خوبصورت اضافے کو پسند فرمایا ہے، جو مسلمانوں میں رائج ہے: «الله أكبر كبيراً، والحمد لله كثيراً، وسبحان الله بكرة وأصيلاً…»۔
۴. بلند آواز سے تکبیریں کہنا: امت کا خاص شعار
عشرہ ذوالحجہ کا ایک اہم اور متروک سنن میں سے ایک سنت یہ ہے کہ ان دنوں میں گھروں، بازاروں، مسجدوں اور راستوں میں بلند آواز سے تکبیریں کہی جائیں۔
امام ابن القيم رحمہ اللہ اپنی معرکہ آراء کتاب ہداية الحيارى في أجوبة اليہود والنصارى (۲/ ۳۵۲) میں لکھتے ہیں:
”بلند آواز سے اللہ کی تکبیر بیان کرنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا خاص شعار ہے۔ یہ امت اذان میں، عید الفطر و عید الاضحیٰ میں، عشرہ ذوالحجہ میں اور ایامِ منیٰ میں نمازوں کے بعد بلند آواز سے تکبیریں کہتی ہے”۔
سلف صالحین کے احوال میں آتا ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب منیٰ میں اپنے خیمے سے بلند آواز سے تکبیر کہتے، تو مسجد والے سن کر تکبیریں کہنے لگتے، پھر بازار والے سن کر تکبیریں شروع کر دیتے، یہاں تک کہ پورا منیٰ تکبیروں کی آواز سے گونج اٹھتا۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں خاص طور پر بازاروں کی طرف نکلتے ہی اس لیے تھے تاکہ بلند آواز سے تکبیریں کہیں اور لوگ ان کی آواز سن کر اپنی تکبیریں یاد کریں۔
حاصلِ تحریر
عشرہ ذوالحجہ غفلت میں گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اطاعتِ الٰہی میں مسابقت (ایک دوسرے سے آگے بڑھنے) کا موسمِ بہار ہے۔ بازاروں اور گھروں میں تکبیرات کو زندہ کرنا، روزوں کا اہتمام کرنا اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے کرنا ہی اس عشرے کا اصل حق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مبارک ایام کی قدر دانی کرنے، اور اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خوب نیکیاں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)