زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
از : مولانا ابو الجیش ندوی
اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے جو فرد کی عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کا بھی ضامن ہے۔ زکوة اسی اجتماعی نظامِ عدل و رحمت کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ قرآن کے بعد احادیثِ نبویہ میں زکوة کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کے فوائد اور ترکِ زکوة کے انجام کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
زکوة: اسلام کی بنیادوں میں سے ایک
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ… وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ»
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں نماز کے ساتھ زکوة کا ذکر بھی ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ زکوة کوئی نفلی یا اختیاری عمل نہیں بلکہ دین کا ستون ہے۔ جس طرح نماز ترک کرنا سنگین گناہ ہے، اسی طرح زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی بھی دین کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔
زکوة: اجتماعی عدل کا نظام
جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو انہیں ہدایت دی کہ لوگوں کو بتائیں:
“اللہ نے ان پر صدقہ (زکوة) فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں میں لوٹائی جائے گی”۔
یہ حدیث زکوة کے معاشرتی فلسفے کو واضح کرتی ہے۔ زکوة دولت کی گردش کو یقینی بناتی ہے، طبقاتی خلیج کو کم کرتی ہے اور معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔
زکوة نہ دینے کا ہولناک انجام
احادیث میں ترکِ زکوة کے سخت انجامات بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زکوة ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جو اسے طوق کی طرح لپٹ کر کہے گا: “میں تیرا خزانہ ہوں”۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اونٹ، گائے یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوة نہ دیں تو قیامت کے دن وہ جانور انہیں روندیں گے اور سینگ ماریں گے، یہاں تک کہ حساب مکمل ہو جائے۔ یہ احادیث زکوة کی عدم ادائیگی کی سنگینی کو دلوں میں بٹھانے کے لیے کافی ہیں۔
زکوة: مال کی طہارت
نبی ﷺ نے فرمایا:
“اللہ نے زکوة اس لیے فرض کی ہے تاکہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے”۔
زکوة محض مالی فریضہ نہیں بلکہ روحانی تطہیر کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ بخل، حرص اور خود غرضی جیسی بیماریوں کو ختم کرتی ہے اور مال میں برکت پیدا کرتی ہے۔
زکوة اور اسلامی ریاست کا موقف
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب بعض قبائل نے زکوة دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کے خلاف قتال کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فرمایا:
“اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوة میں فرق کرے”۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زکوة کی حیثیت محض فردی عبادت کی نہیں بلکہ اسلامی نظام کی علامت ہے، اور اس سے انحراف دین سے انحراف کے مترادف سمجھا گیا۔
زکوة کی عدم ادائیگی اور مال کی ہلاکت
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“زکوة جس مال میں خلط ہو جائے وہ اسے ہلاک کر دیتی ہے”،
یعنی جس مال پر زکوة واجب ہو اور ادا نہ کی جائے، تو حلال و حرام سب ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث آج کے دور میں خاص طور پر قابلِ غور ہے، جہاں بظاہر مال کی کثرت ہے مگر برکت ناپید۔
حاصل تحریر
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں زکوة کی اہمیت بالکل واضح ہے۔ یہ ایمان کا عملی اظہار، معاشرتی عدل کا ضامن، مال کی پاکیزگی کا ذریعہ اور اسلامی نظام کی بنیاد ہے۔ زکوة کی ادائیگی فرد کو اللہ کے قریب اور معاشرے کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ اس سے غفلت دنیا و آخرت دونوں میں خسارے کا سبب بنتی ہے۔
لہٰذا ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خوش دلی اور ذمہ داری کے ساتھ زکوة ادا کرے، کیونکہ یہی دین کی روح اور معاشرے کی بقا کا ضامن ہے