غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟
غلام نبی کشافی آنچار صورہ سرینگر
_________________
موجودہ دور میں جاوید احمد غامدی اور راشد شاز اگرچہ اپنی ذہنی ، لسانی اور علمی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ، لیکن افسوس کہ ان کی ان صلاحیتوں کا اصل نشانہ ( target) علم حدیث ہے ، یہ لوگ کسی بھی موضوع پر بات کریں گے تو اس میں فتنہ انکار حدیث کا زہر گھولے بنا نہیں رہ سکتے ہیں ۔ اس لئے ان کی ساری علمی ، فکری ، لسانی اور ذہنی صلاحیتیں رائیگان نظر آتی ہیں ، اگرچہ ان کے ارد گرد بھی ایک محدود تعداد اہالہ کے طور پر موجود رہتی ہے ، لیکن یہ وہ لوگ ہیں ، جن کا روح دین اور عملی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، اور ان کی محفلیں فلسفیانہ و مفسدانہ موشگافیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتی ہیں ۔ اس لئے تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے افراد کا کبھی کوئی ثبات ہوا ہے اور نہ کوئی قبولیت عام حاصل ہوا اور اس طرح ہر منکر حدیث اپنی موت کے ساتھ اپنے افکارو نظریات کے ساتھ زمین میں دفن ہوگیا ۔ اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ فتنہ خیز دماغوں کی آوارگی سے ہوشیار بھی رہے اور ان سے اجتناب بھی کریں ۔چنانچہ اس وقت جو مضمون آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، انہی دو افراد غامدی و شاز کے فتنہ انکار حدیث کے رد میں لکھا گیا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں ۔
___________________
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گزری ، جس میں جاوید احمد غامدی صاحب سے ایک یہ سوال کیا جاتا ہے ۔” کیا قرآن مجید کے ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملنے والی روایت صحیح ہے ؟ کیا واقعی میں قرآن کا ہر حرف پڑھنے میں دس دس نیکیاں مل جاتی ہیں ؟ ” جاوید احمد غامدی نے اس سوال کا جو جواب دیا ہے ، میں اس سے چونک گیا کہ کس طرح انہوں نے ایک صحیح حدیث کا مذاق اڑایا ، اور انہوں نے بڑے سخت لہجہ میں اپنے مخاطب سے بات کرتے ہوئے کہا :” کیا آپ نے دیکھا کہ کہاں اس کی روایت ہوئی ہے ؟ محدثین نے اس پر کس طرح کا کلام کیا ہے ؟ "پھر کہا کہ” قرآن کو شروع سے آخر تک دیکھئیے کہ کیا اس طرح کی باتیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں ؟ قرآن تو اصل میں ہدایت اور غور و فکر کی کتاب ہے ، نہ کہ رٹے رٹائے الفاظ کے ذریعہ نیکیاں حاصل کرنے کی کتاب ” یہ تو ان کے جواب کا خلاصہ ہے ، لیکن جب بھی اس طرح کا کوئی سوال ان کے سامنے آتا ہے ، خاص کر جب کوئی سوال کسی حدیث کے حوالے سے ہوتا ہے ، تو وہ اپنا جواب اسی طرح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔اسی طرح ایک اور منکر حدیث راشد شاز صاحب ہیں ، جو بظاہر قرآن کو عمل کی کتاب کی رٹ لگاتے پھرتے ہیں ، لیکن جب ان کی مجالس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں ، تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے سامنے مرد و خواتین اختلاط میں بیٹھتے ہوئے سورہ نور کی تعلیمات کو عملاً دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ نماز کے اوقات کا بھی کوئی اہتمام نہیں ہوتا ۔ ان کا بھی میں ابھی کچھ دیر پہلے ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا ، جس میں وہ ان تمام احادیث صحیحہ کو مسترد کرتے ہیں ، جن میں قرآن کی فضیلت کا ذکر آیا ہے اور ان کو من گھڑت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن اس طرح کی فضیلت والی باتوں سے مکمل خالی ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے بہت سے سادہ لوح تعلیم یافتہ نوجوان ان کے بہکاوے میں آ کر ان کی شاطرانہ اور گمراہ کن باتوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، اور ان کا انداز گفتگو ان کو اپیل کرتا ہے ، اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ غامدی صاحب یا شاز صاحب فرماتے ہیں ، وہی حق ہے ، اور باقی علماء جو کچھ کہہ رہے ہیں ، وہ روایات پرستی کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے ، اور اس کا ذکر خود قرآن میں بھی کثرت سے آیا ہے ، مثال کے طور پر قرآن کی یہ چند آیتیں اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں ۔(1) ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ، فِیۡه هدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ (البقره : 2) یہ وہ کتاب ہے ، جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ، جو پرہیزگاروں کے لئے راہ ہدایت ہے ۔(2) شَهرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡه الۡقُرۡاٰنُ هدًی لِّلنَّاسِ . ( البقره : 185) رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن کو اتارا گیا ہے ، جو لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے ۔ اسی طرح یہ بھی قرآن میں آیا ہے ۔(3) اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُها ( محمد : 24) کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں ؟ اس طرح کی اور بھی درجنوں آیات قرآن مجید کے بارے میں غور وفکر کی دعوت دیتی ہیں ، لیکن تلاوت قرآن کی اہمیت و افادیت کو ختم کرکے یہ کہنا کہ قرآن میں شروع سے آخر تک اس طرح کی ایک آیت بھی موجود نہیں ہے ، جس میں قرآن کی تلاوت کے بارے میں ثواب کا ذکر آیا ہو ، ایک مضحکہ خیز بات ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان منکرین حدیث کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے ، تو پھر قرآن کو شروع سے آخر تک پڑھ لیجئے تو اس میں کہیں پر بھی روزانہ نماز پنجگانہ کا ذکر نہیں ملے گا ، قرآن میں زکوٰۃ کے احکام یا اس کا سال میں ایک بار ادا کرنے کا ذکر بھی موجود نہیں ہے ، روزہ اور حج کے بہت سارے تعلیمات بھی موجود نہیں ہیں ، اسی طرح اور بھی سیکڑوں مسائل ایسے ہیں ، جن کا ذکر قرآن میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے ، تو کیا ان کو محض اس لئے مسترد کر دیا جائے کہ ان کا ذکر قرآن میں نہیں آیا ہے ؟ اگر دین کے احکام صرف قرآن تک ہی محدود ہیں ، تو پھر کیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دین میں شارع ہونے کی حیثیت ہی حاصل نہیں تھی ؟ جبکہ تمام شرعی احکام آپ کے اسوہ ، آپ کی سیرت اور آپ کے ارشادات کے بغیر سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ واضح رہے قرآن مجید نے تلاوت قرآن کے آداب بھی سکھا دئے ہیں ، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰه مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ۔ (النحل : 98)پس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ یہ آیت محض قرآن مجید پر غور و فکر کرنے کے لئے نہیں آئی ، بلکہ آیت کے پہلے ہی لفظ ‘ قراءت ” سے واضح ہوتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرآن کی تلاوت کرنا یا اس کو پڑھنا چاہے تو وہ پہلے شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگے ، اور جب ہم نماز پڑھتے ہیں ، تو اس وقت بھی ہم قراءت قرآن سے پہلے اسی حکم قرآنی کی تعمیل کرتے ہوئے تعوذ کے ان الفاظ کو دوہراتے ہیں ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ میں اللہ سے شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں ۔ ایک صحیح حدیث کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، بلاشبہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے ، جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔ حدیث اس طرح آئی ہے ۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ؛ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .( مسلم : كِتَابٌ الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ : بَابٌ اسْتِحْبَابُ صَلَاةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ وَجَوَازُهَا فِي الْمَسْجِدِ ، رقم الحدیث 212 ) سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، بلاشبہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے ، جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔ اس حدیث کا بنیادی مفہوم یہی ہے کہ گھروں میں سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے سے شیطانی جنیات کا اثر زائل ہوجاتا ہے ، اور وہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں ، اس حدیث سے یہ مراد نہیں ہے کہ سورہ بقرہ پر غور و فکر کرنے سے شیطان بھاگ جاتے ہیں ، کیونکہ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کوئی حکم دینا ہوتا تو پھر آپ تخصیصِ کے ساتھ صرف سورہ بقرہ پڑھنے کی تلقین نہیں کرتے ، بلکہ آپ مجموعی طور پر پورے قرآن مجید پر غور و فکر کرنے کے لئے فرماتے ، اس لئے اس حدیث سے مراد صرف تلاوت قرآن ہے ۔ اسی طرح قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن کرنے کی کتنی زیادہ اہمیت ہے ؟ جیساکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے ۔اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡهوۡدًا ( بنى إسرائيل : 78) تم نماز کو قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات کا اندھیرا ہونے تک ، اور فجر کی نماز میں قرآن پڑھنا ، یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا مشاہدہ کا وقت ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں خود جاوید احمد غامدی صاحب کیا تحریر فرماتے ہیں ؟ وہ بھی ملاحظہ کیجئے ۔ ” اس سے فی الجملہ طول قراءت کی طرف بھی اشارہ ہے ، اور جہر قراءت کی بھی ، اسی طرح یہ اسلوب نماز فجر ، بالخصوص اس میں قرآن مجید کی قراءت کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے ” آگے مزید لکھتے ہیں ۔ ” یعنی اس میں ملائکہ حاضر ہوتے ہیں ، روایتوں میں اس کی تصریح ہے ، یہ اسی طرح کی برکت ہے کہ اس نماز میں امام اور مقتدی دونوں کو دل و دماغ کا حضور حاصل ہوتا ہے ” ( البیان : ج 3 ص – 183، ایڈیشن 2016ء لاہور ) اسی طرح مسلمان رمضان المبارک میں نہ صرف کثرت تلاوت کرتے ہیں ، بلکہ وہ نماز تراویح کے لئے بھی کسی حافظ کا اہتمام کرتے ہیں ، تاکہ وہ اس نماز تراویح میں بھی پورے رمضان میں ختم قرآن کرسکیں ۔ مسلمانوں میں تلاوت قرآن کا جو شوق و جذبہ پایا جاتا ہے ، اس کی بنیادی ترغیب خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ، اور آپ نے متعدد احادیث میں یہ واضح کیا ہے کہ قرآن مجید پڑھنے کا بہت بڑا ثواب ہے ، اور جو شخص قرآن کی تلاوت کثرت سے کرتا ہے ، تو اس کے عمل میں اخلاص اور اس کی عبادت میں خشوع وخضوع پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن مجید کی فضیلت کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں ، لیکن جس حدیث کا غامدی صاحب اور شاز صاحب نے مذاق اڑاتے ہوئے مسترد کیا ہے ، اس کو علامہ ناصر الدین البانی نے صحیح الاسناد قرار دیا ہے ، اور یہاں پر نمونہ کے طور پر اسی خوب صورت حدیث کو پیش کیا جاتا ہے ۔عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَ لَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌوَ لَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ ( سنن الترمذى : أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ، رقم الحديث 2610 / مشکاۃ المصابیح ، رقم الحدیث 2137 ، ج 1 ص 659 ، تحقیق محمد ناصر الدین البانی ، اسنادہ صحیح ) سیدنا عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھے گا ، اس کے لئے ایک نیکی ہے ، اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے ، اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے ، بلکہ الف ایک حرف ہے ، اور لام ایک حرف ہے ، اور میم ایک حرف ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاوتِ قرآن کتنا بڑا اجر و ثواب کا کام ہے ؟ اور اس کا ایک ایک حرف ورد کرنے پر دس دس نیکیاں نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں ۔ نیکیوں پر ثواب کی بارش اللہ تعالی کی رحمت سے تعلق رکھتی ہے ، ورنہ اگر دماغ میں فتور ہو تو آدمی نماز کو ایک بیکار اور ورزش کا عمل بتا کر اسے مسترد کر دے گا ، لیکن اللہ تعالی نے جن و انس کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت بتایا ہے ، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ۔ ( الذاريات : 56) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ اگر ان منکرین حدیث کو ایک حرف کو دس نیکیاں ملنے پر اعتراض ہے یا ان کی سمجھ میں حدیث نہیں آرہی ہے ، تو وہ نیکیوں میں اس برکت اور ثواب کی حقیقت کو قرآن کی اس ایک آیت کے ذریعہ ایک حسی اور مشاہدہ میں آنے والی مثال سے سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰه کَمَثَلِ حَبَّة اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَة مِّائَة حَبَّة ؕ وَ اللّٰه یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰه وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ . ( البقره : 261 ) جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ ہو جس سے سات بالیں پیدا ہوں ، ہر بالی میں سو دانے ہوں ، اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے ، اور اللہ وسعت والا ، علم والا ہے ۔ اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ایک انسان ایک دانہ زمین میں بوتا ہے تو اللہ تعالی زمین دار کی محنت کو رائیگان نہیں کرتا ، اور اس کے ایک دانہ زمین میں بونے کے بدلے سات سو دانے عطا کرتا ہے ، تو اگر اللہ تعالی اسی طرح اپنے نیک بندوں کو قرآن کے ایک حرف کی تلاوت کرنے پر ان کو دس نیکیاں دیتا ہے ، تو اس پر اعتراض کیوں ؟ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک حرف پڑھنے پر اجر کی مقدار کو صرف اس لئے رد کرنا کہ قرآن میں عدد نہیں آیا ، صریحاً جہالت اور عدم تدبر کا نتیجہ ہے ۔ جبکہ قرآن خود نیکیوں کے حوالے سے اجر و ثواب کے اصول بیان کرتا ہے کہ ایک نیکی کا دس گنا اجر و ثواب ہوگا ۔ جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَـةِ فَلَـهٝ عَشْـرُ اَمْثَالِـهَا ۖ وَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَـةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَـهَا وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ۔ ( الانعام : 160)جو کوئی ایک نیکی کرے گا اس کے لئے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی کرے گا سو اسے اسی کے برابر سزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ دراصل منکرینِ حدیث کا اعتراض حدیث پر نہیں، بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت پر ہے۔ اور جب آپ کی تشریعی حیثیت کو رد کر دیا جائے، تو پھر عملی احکام کے اعتبار سے سارا اسلام خطرے میں پڑ جائے گا۔ اور منکرین کی یہی سب سے بڑی گمراہی ہے کہ وہ مخصوص مکاتبِ فکر کے رد عمل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت سے ہی انکار کر دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تلاوت قرآن کی اہمیت و فضیلت اپنی جگہ ، اور تلاوت قرآن سے اپنے قلب و ذہن کو ہمیشہ تر و تازہ ضرور رکھنا چاہئے ، لیکن جو شخص تلاوت قرآن سے آگے بڑھ کر قرآن کے حروف ، الفاظ اور آیات پر بھی غور و فکر کرکے اس کے علوم و احکام جاننے ، ان پر خود بھی عمل کرنے اور دوسروں کو بھی قرآن کو سیکھنے اور سمجھنے کی طرف ترغیب دلانے کی کوشش کرے ، تو اندازہ کیجئے کہ اس کا کتنا بڑا اجر و ثواب ہوگا ؟ یہاں تک کہ ایسے شخص کو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کس بہترین اعزاز سے نوازا ہے ؟ اس کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے ۔ عَنْ عُثْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (البخارى كِتَابٌ : فَضَائِلُ الْقُرْآن ، رقم الحديث 5027) سیدنا عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے بہترین شخص وہ ہے ، جس نے خود قرآن کو سیکھا اور اسے دوسروں کو بھی سکھا دیا۔
___________________
غامدی صاحب کا ویڈیو نظر نہیں آرہا ہے ، یوٹیوب پر دستیاب ہوگی ۔ البتہ راشد شاز کی ویڈیو کی لنک یہاں پر دی جاتی ہے ، تاکہ آپ خود بھی ان کی انکار حدیث پر مبنی بکواس اور گمراہ کن باتیں سنیں کہ کس طرح یہ لوگ احادیث نبوی سے لوگوں کو متنفر کر رہے ہیں ؟https://www.facebook.com/share/v/1H4vVh2Zbg/