تحریر: سید شعیب حسینی ندوی
صاحبِ فکر و نظر اور ذی استعداد نوجوان عالم، برادرِ مکرم ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی کی دعوت پر دار العلوم وقف دیوبند میں منعقد عظیم الشان سیمینار بعنوان "علامہ انور شاہ کشمیریؒ: حیات، افکار اور خدمات” میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
میں دہلی سے سیدھا جمعہ، 12 دسمبر 2025 کو کاندھلہ پہنچا، جہاں اقرباء سے ملاقات مقصود تھی۔ وہاں ایک دن کا قیام ہمارے دادا، مولانا نور الحسن راشد صاحب مدظلہ (دادا محترم مولانا سید محمد طاہر حسینیؒ کے حقیقی بہنوئی) کے دولت کدہ پر رہا۔ دادا کی علمی و تحقیقی مجالس سے بھرپور استفادہ کا موقع ملا، جبکہ دادی کی شفقت، محبت اور بے مثال ضیافت حسبِ روایت دل کو چھو لینے والی تھی۔ وہ پورے خاندان میں مہمانوں کے اکرام کے لیے معروف ہیں۔
اسی قیام کے دوران چچا محترم مولانا ارشد کاندھلوی کے ادارے کی زیارت کا موقع بھی ملا، جو دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کے ساتھ علاقے میں ایک مؤثر تعلیمی مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
دیوبند حاضری اور سیمینار کا آغاز:
بروز سنیچر، 13 دسمبر 2025 کو دادا اور چچا کے ہمراہ دیوبند روانہ ہوئے۔ وہاں مولانا اسجد مدنی دامت برکاتہم کے ہاں پر تکلف ناشتہ سے تواضع ہوئی، جس کے بعد دار العلوم وقف دیوبند حاضری ہوئی۔ دار الحدیث کی عمارت کے داخلی دروازے پر ہی نائب مہتمم دار العلوم وقف اور ڈائریکٹر حجۃ الاسلام اکیڈمی، ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ اگرچہ برسوں پرانی شناسائی تھی، مگر بالمشافہ یہ پہلی ملاقات تھی، خلوص، محبت اور اپنائیت نے اجنبیت کا شائبہ بھی باقی نہ رہنے دیا۔
افتتاحی نشست اختتامی مرحلے میں تھی، تاہم شرکت کا موقع ملا اور اکابر علماء سے ملاقات و نیازمندی کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضرت مولانا محمد سفیان صاحب (مہتمم دار العلوم وقف)، حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ صاحب (صدر مدرس)، چچا محترم مفتی سلمان منصورپوری، چچا عفان (مفتی عفان منصورپوری) اور دیگر اکابر اہلِ علم سے ملاقاتیں رہیں۔
علمی نشستیں اور انتظامی حسن:
سیمینار میں مقالات کی کل چار نشستیں رکھی گئی تھیں اور مقالہ نگاروں کی تعداد تقریباً ایک سو چالیس تھی۔ ظاہر ہے، اس کثرت کے باعث مقالوں کے صرف خلاصے ہی پیش کیے جا سکتے تھے۔ پہلی نشست کی نظامت فاضلِ ندوی، صاحبِ قلم ڈاکٹر طارق ایوبی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ وقت کی پابندی اور مقالہ نگاروں کی علمی توقیر، دونوں کا حسین امتزاج نظر آیا۔
دوپہر کے بعد ظہرانے کا اہتمام دار الحدیث کے زیریں ہال میں تھا۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام کے لیے مہمان خانہ "فرودگاہِ صالحین” میں قیام رہا۔ کمرہ نمبر 11 میں میری رفاقت نوجوان، باصلاحیت فاضل مفتی عمر عابدین کے ساتھ رہی، جن کی خوش مزاجی اور بے تکلفی نے قیام کو نہایت خوشگوار بنا دیا۔
اسی قیام کے دوران متعدد اہلِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں مفتی خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم، مولانا ابو اللیث خیرآبادی، مولانا فضل الرحیم مجددی اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔ آخری مجلس میں عارف باللہ، شیخِ طریقت مولانا قمر الزماں الہ آبادی عمت فیوضہم کی تشریف آوری پر دست بوسی کا شرف بھی حاصل ہوا۔
عشائیہ اور فکری تبادلۂ خیال:
پہلے دن مقالات کی دوسری نشست کے بعد عشائیہ جامعہ انور میں تھا، جس کے مہتمم علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے حفید، مولانا سید احمد خضر شاہ صاحب ہیں۔ دسترخوان پر مولانا سفیان صاحب، مفتی سلمان بجنوری، ڈاکٹر شکیب قاسمی اور ڈاکٹر یاسر ندیم صاحب بھی شریک تھے۔ دورانِ طعام مختلف علمی و فکری امور پر گفتگو ہوئی، بالخصوص الحاد کے موضوع پر اور ڈاکٹر یاسر ندیم صاحب کے بعض مناظرات کے حوالے سے تبادلۂ خیال اور تنقیدی نکات بھی پیش کیے۔
دوسرا دن اور میرا مقالہ:
اتوار، 14 دسمبر 2025 کو ناشتہ کے بعد ڈاکٹر رشید قاسمی، ڈاکٹر جمشید ندوی، ڈاکٹر طارق ایوبی اور سید احمد انیس کے ساتھ دار العلوم دیوبند بھی حاضری ہوئی۔ دار الافتاء کی زیارت اور مہتمم دار العلوم سے ملاقات باعثِ مسرت رہی۔
میرا مقالہ اختتامی نشست میں شامل تھا، جس کی صدارت مفتی خالد سیف اللہ رحمانی فرما رہے تھے اور مہمانِ خصوصی مولانا سجاد نعمانی مدظلہ تھے۔ نشست 11 بجے شروع ہوئی۔ تین منٹ کے وقت میں تیرہ چودہ صفحات کے مقالے کا خلاصہ پیش کرنا ممکن نہ تھا، تاہم میں نے اپنے مقالے "علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور اختلافی مسائل: منہج و طریقۂ کار” کے دو بنیادی پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی:
- علامہ کشمیریؒ کی ہمہ جہت، جامع الکمالات شخصیت، جن کا علمی تبحر شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بعد اپنی مثال آپ ہے۔
- اختلافی مسائل میں ان کا علمی منہج، اصولی استقامت کے ساتھ رواداری، اعلی ظرفی اور علمی دیانت، یہ منہج آج کے اہلِ علم کے لیے نہایت ضروری پیغام رکھتا ہے۔
قلبی تاثرات:
اس پورے قیام میں چند باتیں خصوصی طور پر دل کو متاثر کر گئیں:
اتحادِ امت کا پیغام: دار العلوم دیوبند اور دیگر اداروں و جماعتوں کے اکابر کے اس اجتماع نے مثبت اور حوصلہ افزا پیغام دیا، اس علمی ادارہ میں ان سب کو ایک اسٹیج پر جمع کرلیا گیا جن سے پچھلے سالوں میں فکری و انتظامی سخت اختلافات رہے ہیں۔
موضوعات کا جامع انتخاب: علامہ کشمیریؒ کی حیات، فکر اور علمی خدمات کے تقریباً تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لیا گیا، ان کی مطبوعہ ومخطوط کتابوں کا تعارف، ان کی علمی شخصیت کے تمام نمایاں پہلو اور دعوتی و اصلاحی جد وجہد کا وسیع جائزہ سب جمع کرلیا گیا اور نہایت گراں قدر علمی مجموعہ کا مواد تیار ہوگیا۔
حسنِ انتظام: قیام، طعام، نشستوں کے اوقات اور مہمانوں کی عزت و تکریم، ہر پہلو مثالی تھا، اور کسی کو ادنی شکایت کی گنجائش نہ رہی، جس سلیقہ سے مہمانوں کو ٹھہرایا گیا ان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا سامان بہم مہیا رکھا گیا اور خدمتگار جس خلوص سے لگے رہے اور آمد ورفت کا بہترین نظم کیا گیا وہ سیمینار کی زبردست انتظامی کامیابی تھی۔
یہ سیمینار میرے لیے علمی، فکری اور روحانی اعتبار سے ایک قیمتی تجربہ رہا۔ اتوار کی شام ٹرین کے ذریعے لکھنؤ روانگی ہوئی، والدین کی قدم بوسی کے بعد منگلور کے لیے سفر درپیش تھا۔ دورانِ پرواز، وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تاثرات قلم بند کرلیے گئے۔
الحمد للہ علی ذلک۔