Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

  1. Home
  2. منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

منصوبہ بندی کیسے کریں؟(قاسم علی شاہ)

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • جنوری 10, 2025
  • 0 Comments


وہ چاروں ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے۔ ایک دن بعد ان کا ایک اہم ٹیسٹ ہونے والا تھا لیکن انھیں فکر نہیں تھی۔ انھوں نے رات کو اپنے کمرے میں گپ شپ کی محفل جمائی اور خوب ہلا گلا کیا۔ اگلے روز ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے وہ اپنے نگران کے پاس گئے، چاروں بہت تھکے لگ رہے تھے، ان کے کپڑوں پر مٹی اور ہاتھوں پر گریس لگی تھی اور جسم سے پسینے کی بو آرہی تھی۔ وہ کہنے لگے، سر! گذشتہ روز ہم چاروں ایک شادی کی تقریب میں گئے تھے۔ وہاں بہت دیر ہوگئی اور جب ہم واپس آنے لگے توکچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا۔ قریب کوئی دکان نہیں تھی جہاں ہم پنکچر لگواتے، چنانچہ ہم گاڑی کو دھکیلتے ہوئے آئے اور ہاسٹل پہنچنے کے بعد اس قدر تھک گئے تھے کہ بستر پر لیٹتے ہی سوگئے، اس وجہ سے ہم تیاری نہیں کرپائے، لہٰذا آپ ہمارے ساتھ کچھ مہربانی کریں۔ کہانی سننے کے بعد استاد کہنے لگا، کوئی بات نہیں، میں آپ کا امتحان تین دن بعد لے لیتا ہوں، تب تک آپ تیاری کریں۔ چاروں خوش ہوگئے کہ چلو آج تو بلا ٹل گئی۔ تین دن انھوں نے تیاری کی اور چوتھے روز وہ استاد کے پاس پہنچے۔ استاد نے انھیں سوالیہ پرچہ تھمانے سے پہلے کہا، اس پرچے میں صرف دو سوال ہیں، ایک سوال کے 2 نمبر ہیں جب کہ دوسرے سوال کے 98 نمبر ہیں۔ طلبہ یہ سن کر حیران رہ گئے استاد دوبارہ کہنے لگے، تم سب نے الگ الگ کمرے میں بیٹھ کریہ پرچہ حل کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی استاد نے انھیں الگ الگ کمروں میں بھیجا۔ جب طلبہ نے سوالیہ پرچہ کھول کر دیکھا تو پہلا سوال تھا، ”آپ کا نام کیا ہے؟“ دوسرے سوال میں پوچھا گیا تھا، ”گاڑی کا کون سا ٹائر پنکچر ہوا تھا؟“ سوال دیکھ کر وہ استادکی چال سمجھ گئے اور کسی نہ کسی طرح پرچہ حل کیا۔ جب استاد کے سامنے جوابی پرچہ آیا تو چاروں کے جوابات مختلف تھے۔ ایک طالب علم نے اگلا دایاں ٹائر لکھا تھا، دوسرے نے بایاں، تیسرے نے پچھلا بایاں اور چوتھے نے پچھلا دایاں، اور یوں ان کی چوری پکڑی گئی۔

یہ واقعہ آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ کا ہے۔اس کہانی میں بہ ظاہر طلبہ اپنی سستی چھپانے کے لیے استاد کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت اس میں ایک گہرا سبق بھی ہے اور وہ یہ کہ جب بھی کوئی اہم کام منصوبہ بندی کے بغیر کیا جائے تو نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔
نیا سال شروع ہوچکا ہے اور آپ نے اپنے لیے کچھ اہداف مقرر کیے ہوں گے یا اس بارے میں سوچ رہے ہوں گے، چنانچہ اس تناظر میں ہم آج منصوبہ بندی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے اور منصوبہ بندی کے بنیادی اصولوں سے آپ کو متعارف کرائیں گے۔

اہداف (Goals) کی دوقسمیں ہیں۔ طویل المیعاد (Long term) اور مختصر المیعاد(Short term)
طویل المیعاد ہدف وہ ہوتا ہے جو پانچ یا دس سال پر مشتمل ہو، جب کہ ایک دن، ہفتے یا مہینے پر مشتمل ہدف کو مختصر المیعاد کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور اصطلاح Mid term goal کی بھی استعمال کی جاتی ہے، اس کا دورانیہ سال سے دو سال تک ہوتاہے۔ جدید مفروضے کے مطابق، انسان جس ہدف کے لیے محنت کرتا ہے وہ اسے پانچ سال میں حاصل کرلیتا ہے۔

طویل المیعاد اہداف بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کاغذ قلم لے کر ایک سیدھی لائن کھینچیں۔ لائن کے آغاز پر ”پیدائش“ اور اختتام پر ”وفات“ لکھیں۔ یوں سمجھیں کہ یہ لائن آپ کی پوری زندگی ہے۔ اس لمبی لائن پر ایک جگہ نشان لگائیں اور فرض کریں کہ اپنی زندگی میں آج آپ یہاں پر ہیں، اس کے بعد دس عدد نقطے آگے کی طرف لگائیں، یہ آپ کی زندگی کے آنے والے دس سال ہیں۔ اس کے بعد اگلے صفحے پر جائیں اور آج سے دس سال بعد آپ جو بننا چاہتے ہیں، وہ تمام اہداف لکھیں۔

یاد رکھیں کہ خواب یا خواہش ایک نئی جنم لینے والی چیز ہے جو آپ کی طلب اور تڑپ کے مطابق وجود میں آتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے گویا کسی انسان کا ہاتھ ریت میں چھپا ہو اور وہ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھے اور بالکل نمایاں ہوجائے، اسے انگریزی میں Manifest یعنی آشکار ہونا کہتے ہیں۔ Manifest کے کچھ بنیادی اصول ہیں، جن کے مطابق خیال کو وجود ملتا ہے، اور انھی کو آپ اپنے خواب اور خواہش سے بھی جوڑ دیں۔

پہلا اصول
اشیا پہلے ذہن میں بنتی ہیں اس کے بعد وجود میں آتی ہیں۔ جو چیز انسان کے ذہن میں نہیں وہ حقیقت کا روپ بھی نہیں دھار سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ دس سال بعد آپ نے جو بننا ہے اسے ابھی سے ذہن میں لائیں۔ قانون کشش بھی یہی کہتا ہے کہ جو چیز آ پ کے ذہن میں ہوگی وہی آپ کی زندگی میں واقع ہوگی۔

دوسرا اصول
اپنے اندر”خود یقینی“کی صلاحیت پیدا کریں اور اپنے بنائے گئے تصور پر یقین ضرور کریں۔ جو انسان اپنے خیالا ت پر یقین نہیں رکھتا تو وہ انھیں حاصل بھی نہیں کرسکتا۔

تیسرا اصول
جو بننا ہے اسے ابھی سے محسوس کریں۔ اس قاعدے کو As if principle کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو بننا ہے اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کرلیں، کیوں کہ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو ویسا بن بھی نہیں پائیں گے۔ اس کیفیت کے طاری ہونے پر آپ میں جو سرور اور مستی آئے گی وہی اس چیز کو آپ کی طرف کھینچے گی اور آپ وہی بن جائیں گے جو آ پ چاہتے ہیں۔

چوتھا اصول
ذہن میں یہ خیال نہیں لانا کہ میں نے جو سوچا ہے وہ کیسے وجود میں آئے گا کیوں کہ یہ قانونِ قدرت کی خلاف ورزی ہے۔ چیزوں کو وجود دینا، اللہ کا کام ہے اور وہ اپنے کاموں کو خوب جانتا ہے۔ وہ ہمارے ارادے، عزم اور گمان کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ اس اصول میں جب بھی ”کیسے“ کا لفظ آتا ہے تو یہ اصول کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

جب لوگ اپنے لیے اہداف بناتے ہیں تو عام طور پر وہ ا یک غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ پیسہ، مکان اور گاڑی کے حصول کو اپنا ہدف بنالیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کوئی ہدف نہیں ہے کیوں کہ یہ چیزیں قابلیت کی بنیاد پر ملتی ہیں۔ آپ اگر اپنے اندر کمال پیدا کرلیں تو یہ سب کچھ آپ کو مل جائے گا۔ لہٰذا اپنی منصوبہ بندی اس مقصد کے لیے کریں کہ میں نے اپنے اندر فلاں فلاں خوبیاں پیدا کرنی ہیں اور ان کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ آپ جو ہدف پانا چاہتے ہیں اس کے لیے آپ کے پاس کوئی انسپائریشن ہونی چاہیے۔ آپ کے سامنے ایسی مثال ہونی چاہیے جسے دیکھ کر آپ یہ خواہش کریں کہ کاش میں بھی اس طرح بن جاؤں۔ اس کی ایک مثال سورہ فاتحہ کی ہے جس میں ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔

دوسری چیز یہ ہے کہ آپ جو ہدف پانا چاہتے ہیں آج ہی سے اپنی شخصیت اس کے مطابق بنانا شروع کریں۔ اگر آپ استاد بننا چاہتے ہیں تو اپنی شخصیت، عادات اور خاص طور پر لباس استاد کی طرح بنائیں۔
اگر آپ تربیت کار (Trainer) بننا چاہتے ہیں تو اپنی بات چیت بہتر بنائیں، اپنا علم بڑھائیں اور خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے ملنا شروع کریں۔
اگر آپ لکھاری بننا چاہتے ہیں تو کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا شرو ع کریں اور مختلف ادبی و علمی نشستوں میں شرکت کریں۔

طویل المیعاد ہدف حاصل کرنے والوں کی خوبیاں
جو لوگ طویل المیعاد اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں اپنے اندر درج ذیل خوبیاں پیدا کرنی چاہییں۔
1: نظر انداز کرنا
بے مقصد باتوں اور کاموں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور تمام غیر مفید کاموں کو چھوڑ دیں۔
2: درگزر
ہمیشہ درگزر سے کام لیں اور اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ جب ہم دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو نہ صرف ہمارے تعلقات اچھے ہوتے ہیں بلکہ اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔
3: اعلیٰ ظرفی
دل بڑا کریں، کیوں کہ جس کا دل کشادہ ہوتا ہے وہ ہر ایک کو قبول کرتا ہے، وہ ہر ایک کو خوش آمدید کہتا ہے اور یہی خوبی اس کو منزل پر پہنچا دیتی ہے۔

نیا سال، نئی عادات
سٹیفن گوئس کہتا ہے:
”بہت سے لوگ اچانک تبدیل ہونا چاہتے ہیں جب کہ یہ چیز فطرت کے خلاف ہے۔“
ٍٍبہت سے لوگ کہتے ہیں کہ”کل سے میں ایک گھنٹہ ورزش کروں گا“ یا”میں کل سے کتاب پڑھنا شروع کروں گا۔“یاد رکھیں جب بھی آپ کسی کام کو اچانک بڑی سطح پر شروع کریں گے وہ آپ سے کبھی نہیں ہوسکے گا۔ سٹیفن اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ انسان کو Mini habit اختیار کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ قدم بہ قدم کوئی کام کرنا، مثال کے طور پر آپ نے کتاب پڑھنی ہے تو ایک پیراگراف یا ایک صفحہ پڑھ لیں مگر شرط یہ ہے کہ یہ کام مستقل مزاجی کے ساتھ ہو اور روزانہ کی بنیاد پر ہو، مستقل مزاجی آپ کو توانائی دے گی جس سے آپ کے لیے اس کام کو بڑھانا آسان ہوجائے گا۔

1: روزانہ کی بنیاد پر سیکھنا
نئی چیزیں ضرور سیکھیں، جو لوگ شعبہ تدریس یا تربیت سے وابستہ ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ مطالعہ کریں یا یوٹیوب پر کسی کتاب کا خلاصہ سنیں اور ان کے نوٹس بنائیں۔

2: کامیاب لوگو ں کی فہرست
اپنی منصوبہ بندی میں ان کام یاب لوگوں کے نام ضرور شامل کریں جن کی طرح آپ بننا چاہتے ہیں۔ ان کے حالاتِ زندگی پڑھیں اور ان کی اچھی عادات اپنانے کی کوشش کریں۔

3: شخصی تعمیر
روزانہ کی بنیاد پر خود کو بہتر بنائیں۔ اپنی شخصیت کے کمزور پہلوؤں پر محنت کریں اور اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے کاموں مثلاً کھانا کھانا، مہمان کو الوداع کہنا، شکریہ ادا کرنا، گاڑی پارک کرنا، جوتے پالش کرنا، کپڑے پیک کرنا وغیرہ بہتر طریقے کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں۔

4: مددکرنا
روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی مدد کریں۔ مستحق افراد کو ڈھونڈیں کیوں کہ بہت سے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ہماری مدد کرے۔ اگر آپ کسی کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اس کی اخلاقی مدد ضرور کریں۔

5: اپنی غلطیاں تسلیم کریں
اپنی غلطیاں تسلیم کرنا سیکھیں۔ اپنا ناقد بننا بہت مشکل کام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خوش ہونا ہے تو تعریف سنو اور بہتر ہونا ہے تو تنقید سنو! جو بھی انسان اپنی غلطیاں تسلیم کرتا ہے اس کی ترقی شروع ہو جاتی ہے۔

6: آغاز
اپنی زندگی میں آغاز کی عادت ڈالیں۔ بہت سے لوگ کوئی کتاب یا لیکچر سن کر ارادہ کرلیتے ہیں کہ ہم فلاں کام شروع کریں گے مگر کرتے نہیں۔ آپ اپنی قوتِ فیصلہ مضبوط کرکے’نیا قدم‘ اٹھانا شروع کریں۔ انسان ہمیشہ یہی سوچتا ہے کہ حالات سازگار ہوں گے تو میں یہ کام شروع کروں گا حالانکہ حالات کبھی سازگار نہیں ہوتے۔ جو بھی کرنا ہے ابھی کریں۔

اپنی منصوبہ بندی میں یہ سوال بھی لکھیں!
مجھے کن کن لوگوں، عادات، کام، خیالات اور یقین کو اپنی زندگی سے نکالنا چاہیے؟
اگر آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ کا وقت ضائع کرنے کا باعث بن رہی ہیں تو انھیں چھوڑدیں۔
مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں:
مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنی زندگی میں شامل کریں:
i: ایسا استاد ڈھونڈیں جو آپ کی زندگی میں کوئی بڑی مثبت تبدیلی لائے۔
ii: ایسی کتابیں پڑھیں جو آپ کی ذہنی اور فکری سطح کو بلند کریں اور آپ کے علم میں اضافہ کر دیں۔
iii: ایسی مہارتیں سیکھیں جن کی بدولت آپ اپنی منزل تک جلدی پہنچ سکیں۔
iv: نئی جگہوں اور مقامات پر جاکر نئے تجربات و مشاہدات کریں۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

نوجوانوں کے لیے نصیحت
وہالو بھروچ میں تین روزہ تبلیغی اجتماع اور اس کی کچھ شاندار جھلکیاں

Related Posts

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • hira-online.comhira-online.com
  • ذات پات کا نظام
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • جنوری 30, 2026
  • 0 Comments
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یہ دور نظام حیات کی جنگ کا دور ہے، مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ مختلف نظام ہائے حیات کے مابین کشمکش جاری ہے، اسلام چوں کہ محض عقائد کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے واضح عقائد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے دیگر نظام ہائے حیات کے ٹھیکداروں کے لیے اسلام ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ کیے بغیر وہ اپنے نظام حیات کو باقی یا غالب نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہے، اسلامی نظام حیات اس سے متصادم ہے، اور اس کی تمام برائیوں سے پاک ہے،اس کے نظام حیات کی کشش طبقاتی نظام میں زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام حیات کے تصادم کے اس دور میں ہمیں دیگر نظام حیات کی خصوصیات سے واقف ہونا ناگزیر ہے، اس سے اسلام کا تقابلی مطالعہ کرنے اور تقابلی تعارف کرانے میں مدد ملے گی اور اسلام کی افضلیت کا ادراک ہوگا، نیز مدعو اقوام کی نفسیات سے آگہی ہوگی اور نظریاتی جنگ میں مقابل نظریہ کے کمزور پہلووں کا ادراک ہوگا۔ یوں تو دنیا کے مختلف سماج میں مختلف بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم پائی جاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر اس تقسیم کی وجہ سے آپسی نفرت بھی پائی جاتی ہے؛ لیکن بھارتی سماج کے طبقاتی نظام کی جو خصوصیات ہیں وہ اسے دنیا کے دیگر سماجی نظام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:٭ عدم مساوات: بھارتی سماج میں پائے جانےوالی منووادی طبقاتی نظام کی یہ سب سے بنیادی خصوصیت ہے، اس نظام میں طبقات کی تقسیم عمودی ہے، یعنی یہ تقسیم نابرابری اور اونچ نیچ کی بنیاد پر ہے، اس میں انسانی مساوات کی کوئی جگہ نہیں ہے، انسانی مساوات آتے ہی یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوجاتا ہے، اس میں کچھ ذاتیں اونچ ہیں اور کچھ نیچ ،ہر ذات کے نیچے کوئی ذات ہے اور ہر ذات کے اوپر کوئی ذات۔ اور برہمن کی ذات سب سے اوپر ہے،…

Read more

Continue reading
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • hira-online.comhira-online.com
  • UGC
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔ امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top