Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
15.10.2026
Trending News: حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدماتمفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدماتمولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدماتحضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
15.10.2026
Trending News: حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدماتمفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدماتمولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدماتحضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

  1. Home
  2. اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

اعضاء کی پیوندکاری : شرعی نقطہ نظر

  • hira-online.comhira-online.com
  • فقہ و اصول فقہ
  • دسمبر 20, 2024
  • 0 Comments

(Organ Transplantation)

از : ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی

اعضاء کی پیوندکاری کے شرعی احکام واضح فرمادیں

-الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکرم و معزز اور محترم بنایا ہے- ارشاد باری تعالٰی ہے: (و لقد كرمنا بني آدم، وحملناهم في البر و البحر و رزقناهم من الطيبات و فضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلا). (17/ اسراء:7)- ( ہم نے انسان کو مکرم و معزز بنایا ہے، اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سفر کے مواقع فراہم کیے، اور ان کو پاکیزہ روزی دی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ان کو فضیلت بخشی ہے)-

یہ انسانی تکریم زندگی اور موت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے- اس کے ساتھ کوئی ایسا تصرف نہیں ہونا چاہیے جو انسانی اعزاز کے خلاف ہو- اس کے ساتھ غلط تصرف ہر حال میں موجب گناہ ہے- ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے- حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- سے روایت ہے کہ رسول اکرم – صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- نے ارشاد فرمایا: "كسر عظم الميت ككسره حيا”. (سنن ابی داود، کتاب الجنائز، باب في الحفار يجد العظم هل يتنكب ذلك المكان؟، حدیث نمبر 3207، سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب النهي عن كسر عظام الميت، حدیث نمبر 1616، صحیح ابن حبان- بترتیب ابن بلبان، حدیث نمبر 3167، مسند احمد، حدیث نمبر 24739، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)- ( مردہ کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی کو توڑنا)-

فقہاء نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ انسان کی اہانت کسی حال میں جائز نہیں ہے، اور وہ اپنے تمام اجزاء کے ساتھ معزز و مکرم ہے- "البدائع” میں ہے: "والآدمي بجميع أجزائه مكرم”. ( کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع 5/133، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء، ع.أ.:7)-

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بسا اوقات علاج کی ایسی ضرورت پیش آجاتی ہے کہ کوئی حلال متبادل (alternate) موجود نہیں ہوتا ہے- انسان کی جان بچانے کی صرف ایک ہی صورت ہوتی ہے کہ حرام و نجس چیز کا استعمال دوا کے طور پر کیا جائے- مفتی بہ قول کے مطابق علاج کی ضرورت کے پیش نظر اس کی گنجائش ہے- اس حالت میں اس کی حرمت ساقط ہوجاتی ہے- درج ذیل فقہی اقتباسات سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:1

– "تبیین الحقائق” میں ہے: ” يجوز التداوي بالمحرم كالخمر و البول إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء، ولم يجد غيره من المباح ما يقوم مقامه. والحرمة ترتفع للضرورة، فلم يكن متداويا بالحرام، فلم يتناوله حديث ابن مسعود. و يحتمل أنه قاله في داء عرف له دواء غير المحرم”. (زیلعی، تبیین الحقائق، کتاب الکراھیہ، فصل فی البیع 6/33، قاہرہ، دار الکتاب الاسلامی، ع.أ.:6)-2

– البحر الرائق میں ہے:”هذا، و قد وقع الاختلاف بين مشايخنا في التداوي بالمحرم. ففي النهاية عن الذخيرة: "الاستشفاء بالحرام يجوز إذا علم أن فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر اه. و في فتاوى قاضي خان معزيا إلى نصر بن سلام معنى قوله – عليه السلام- إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم”. إنما قال ذلك في الأشياء التي لا يكون فيها شفاء. فأما إذا كان فيها شفاء فلا بأس به. ألا ترى أن العطشان يحل له شرب الخمر للضرورة….وهذا لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء”. (ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الطھارۃ 1/122، بیروت، دار المعرفہ)-3

– "رد المحتار” میں ہے: "حيث قال: فرع: اختلف في التداوي بالمحرم، و ظاهر المذهب المنع، كما في إرضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة، و هنا عن الحاوي: و قيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء، ولم يعلم دواء آخر، كما رخص الخمر للعطشان، و عليه الفتوى، اه”. (ابن عابدين، رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع 3/211، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8).

4- "ہندیہ” میں ہے: "أدخل المرارة في أصبعه للتداوي. قال أبو حنيفة -رحمه الله تعالى-: لا يجوز. و عند أبي يوسف -رحمه الله تعالى- يجوز، و عليه الفتوى، كذا في الخلاصة”. (ہندیہ، کتاب الکراھیہ، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء و قلم الأظفار 5/356، بيروت، دار الفکر، 1412ھ/1991ء، ع.أ.:6)-5

– "رد المحتار” میں مزید وضاحت مذکور ہے: "لو أدخل في أصبعه مرارة مأكول اللحم يكره عنده؛ لأنه لا يبيح التداوي ببوله، لا عند أبي يوسف؛ لأنه يبيحه. و في الذخيرة والخانية أن الفقيه أبا الليث أخذ بالثاني للحاجة. و في الخلاصة: و عليه الفتوى. قلت: و قياس قول محمد: لا يكره مطلقا لطهارة بوله عنده”. (ابن عابدين، رد المحتار، كتاب الطهارة، مطلب في الفرق بين الاستبراء و الاستنقاء 1/210، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)-

قدیم فقہاء کی آراء

اگرچہ قدیم فقہاء نے صراحت کی ہے کہ دوسرے انسان کے اجزاء کا استعمال اس کی توہین ہے- علامہ کاسانی – رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ- تحریر فرماتے ہیں: ” ولو سقط سنه يكره أن يأخذ سن ميت فيشدها مكان الأولى بالإجماع… و قال أبو يوسف -رحمه الله- لا بأس بسنه و يكره سن غيره….و إعادة جزء منفصل إلى مكانه ليلتئم جائز، كما إذا قطع شيء من عضوه فأعاده إلى مكانه. فأما سن غيره فلا يحتمل ذلك. والثاني أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغير، والآدمي بجميع أجزائه مكرم. ولا إهانة في استعمال جزء نفسه في الإعادة إلى مكانه”. ( کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع 5/133، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء، ع.أ.:7)-

لیکن موجودہ دور میں عطیہ کردہ عضو کی جس مہذب طریقہ سے پیوندکاری کی جاتی ہے، اسے اہانت نہیں قرار دیا جاسکتا ہے

-لہذا درج ذیل شرائط کے ساتھ صرف ایسے عضو کا عطیہ کیا جا سکتا ہے کہ عطیہ کرنے والے کو کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہ ہو

:1- صرف ایسے عضو کا عطیہ کیا جائے، جس پر انسانی زندگی موقوف نہ ہو- لہٰذا دل وغیرہ کا عطیہ جائز نہیں ہے-2- ایک گردہ کے عطیہ سے عطیہ کنندہ کی زندگی کو کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہ ہو، تو وہ مریض کی جان بچانے کے لیے اپنا ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے-3- جو عضو اپنی تلافی کرلے، اور عطیہ دینے والے کو قابل لحاظ ضرر نہ ہو، جیسے: جگر کی خاص مقدار، کھال اور خون وغیرہ، اس کا عطیہ کیا جا سکتا ہے-4- جس عضو کی وجہ سے انسان بد نما اور بد صورت ہو جائے، اس کا عطیہ کرنا جائز نہیں ہے- لہٰذا، ہاتھ، پیر اور آنکھ وغیرہ کا عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-5- عضو کی پیوندکاری کے علاوہ کوئی متبادل نہ ہو-6- معتبر ڈاکٹروں کی ٹیم کو ظن غالب ہو کہ عطیہ کرنے والے کو عطیہ کرنے کی صورت میں کوئی معتد بہ ضرر لاحق نہیں ہوگا-7- معتبر ڈاکٹروں کی ٹیم کو ظن غالب ہو کہ اس عضو کی پیوندکاری سے مریض کی جان بچ سکتی ہے-8- نطفہ (sperm) اوررحم کا عطیہ کرنا حرام ہے-9- اپنے ہی جسم کے ایک حصہ کو دوسرے حصے کی طرف منتقل کرنا جائز ہے-10- اسلامی نقطہء نظر سے مردہ بھی معزز و مکرم ہے- لہٰذا اس کے جسم کے کسی حصہ کو عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-11- تعلیم کی غرض سے پلاسٹک سے بنائے گئے انسان، یا بن مانس وغیرہ کا استعمال کیا جائے- اس مقصد کے لیے اپنے مردہ جسم کو عطیہ کرنا جائز نہیں ہے-12- انسانی اعضاء کی خرید وفروخت سخت حرام ہے، لہٰذا کسی عضو کو خرید وفروخت کا محل نہ بنایا جائے- "البدائع” میں ہے:” الآدمي لم يجعل محلا للبيع”. (کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب البیوع، فصل: شرائط المعقود عليه 5/145، بیروت، دار الکتاب العربی، 1982ء،ع.أ.:7)-13- خون اگر بہ طور عطیہ نہ ملے، تو بہ حالت مجبوری خریدنے کی گنجائش ہے- اسے فروخت کرنا جائز نہیں ہے-اکیڈمی کا فیصلہ:اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی تجویز ہے:اگر کوئی مریض ایسی حالت میں پہنچ جائے کہ اس کا کوئی عضو اس طرح بے کار ہو کر رہ گیا ہے کہ اگر اس عضو کی جگہ کسی دوسرے انسان کا عضو اس کے جسم میں پیوند نہ کیا جائے تو قوی خطرہ ہے کہ اس کی جان چلی جائے گی، اور سوائے انسانی عضو کے کوئی دوسرا متبادل اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا، اور ماہر قابل اعتماد اطباء کو یقین ہے کہ سوائے عضو انسانی کی پیوندکاری کے کوئی راستہ اس کی جان بچانے کا نہیں ہے، اور عضو انسانی کی پیوندکاری کی صورت میں ماہر اطباء کو ظن غالب ہے کہ اس کی جان بچ جائے گی اور متبادل عضو انسانی اس مریض کے لیے فراہم ہے، تو ایسی ضرورت، مجبوری اور بے کسی کے عالم میں عضو انسانی کی پیوندکاری کرا کر اپنی جان بچانے کی تدبیر کرنا مریض کے لیے مباح ہوگا-

انٹرنیشنل فقہ اکیڈمی جدہ کا فیصلہ:ایسا عضو جس پر زندگی کا دار و مدار ہے، جیسے: قلب، اسے کسی زندہ انسان سے دوسرے انسان کے اندر منتقل کرنا حرام ہے-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

کنائی لفظ سے طلاق کی ایک صورت
رجم اور دلائلِ رجم : ایک مطالعہ (قسط) ( 2)

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 8, 2026
  • 0 Comments
مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال محمد رضی الاسلام ندوی سوال : شادی کے موقع پر دولہا کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگائی جاتی ہے – کیا یہ جائز ہے؟ جواب : مردوں کے لیے مہندی لگانے کا حکم مقصد اور طریقۂ استعمال کے اعتبار سے مختلف ہے : سر کے بالوں یا ڈارھی میں مہندی لگانے کا حکم * سر کے بالوں یا داڑھی کو رنگنے کے لیے مہندی لگانا جائز ، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔ نبی کریمﷺ سے سفید بالوں کو ’حنا‘ (مہندی) اور ’کتم‘ (رنگ پیدا کرنے والی ایک نبات) وغیرہ سے رنگنے کی ترغیب منقول ہے   زینت کے لیے مہندی لگانا * ہاتھوں اور پیروں میں زینت کے لیے مہندی لگانا ، جیسا کہ عموماً عورتیں لگاتی ہیں ، مردوں کے لیے جائز نہیں ، کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ احادیث میں مردوں کے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔ علاج کے لیے مہندی لگانا * علاج یا کسی طبّی ضرورت سے ہاتھ یا پیر میں مہندی لگانا جائز ہے ، کیوں کہ اس کا مقصد زینت نہیں ، بلکہ علاج ہے ۔ اسلام کا فلسفۂ یُسر اور آج کل کی شادیاںاز:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی اسلام میں شادی کا طریقہ – مکمل رہنمائی

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ستمبر 2, 2026
  • 0 Comments
میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح

*میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح*  حدیثِ جعفرؓ اور میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام بنیادی حدیث اور اس کا پس منظر: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا؛ فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ” (رواہ الترمذی: 3132) ترجمہ و مفہوم: جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: "جعفر کے اہل و عیال کے لیے کھانے کا انتظام کرو، کیونکہ ان پر ایسا حادثہ گزرا ہے جس کے غم اور تکلیف کی وجہ سے ان کے لیے کھانے وغیرہ کا نظم کرنا ممکن نہیں۔” احادیث کی روشنی میں اہم شرعی و اصلاحی نکات: اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں درج ذیل اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں، جن پر توجہ دینا اور ان کے مطابق معاشرے کی اصلاح کرنا انتہائی ضروری ہے: 1:  میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام مستحب ہے، لازم نہیں اعزہ اور پڑوسیوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ میت کے گھر والوں کے لیے بقدرِ استطاعت کھانے پینے کا انتظام کریں۔ علماء نے اسے ‘مستحب’ لکھا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے لازم سمجھ لیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض غریب رشتہ داروں کو معاشرتی دباؤ کی وجہ سے قرض کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، لہٰذا اسے فرض کا درجہ نہ دیا جائے۔ 2. کھانا صرف غم زدہ خاندان کے لیے ہے ضیافت کے لیے نہیں: یہ انتظام صرف اور صرف میت کے گھر والوں (اہلِ خانہ) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ نمازِ جنازہ کے تمام شرکاء یا میت کے اطراف و اکناف کے سارے رشتہ داروں کے لیے۔ آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ کھانے کے وقت آس پڑوس کے لوگوں اور اعزہ کو باضابطہ بلایا جاتا ہے اور اسے لازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کسی صورت درست نہیں ہے کیونکہ اس سے انتظام کرنے والوں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات 15.10.2026
  • مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 14.10.2026
  • مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات 13.10.2026
  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026

حالیہ تبصرے

  • مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات از حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ از مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 1
  • مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات از مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات 1
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات

  • hira-online.com
  • اکتوبر 15, 2026
حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب: حیات و علمی و دینی خدمات
سیرت و شخصیات

مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی سوانح حیات، علمی و تدریسی خدمات

  • hira-online.com
  • اکتوبر 14, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اکتوبر 13, 2026
مولانا محمد سلمان بجنوری کی سوانح حیات، تعلیم اور علمی خدمات
سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top