وضو کے فرائض
Related Posts
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری
حسد ایک خطرناک اخلاقی بیماری محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی ، گڈا جھارکھنڈ 9506600725 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یعنی تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کها جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کها جاتی ہے- (ابو داود، کتاب الاداب، باب الحسد، ابن ماجہ، کتاب الذهد) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں هو سکتے- (نسائی، کتاب الجہاد) حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے حسد کا نقصان یہ ہے کہ وه آدمی سے اعلی ایمانی کیفیات کو چهین لیتا ہے- حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وه دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا- موجوده دنیا میں ایسا هوتا ہے کہ کبهی ایک شخص بظاہر بڑا هو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر چهوٹا- یہ امتحان کے لئے هوتا ہے- وه اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجهہ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چهوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف هو جائے تو گویا کہ وه خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے- ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا- حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ هو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے- اس کا نقصان اس کو بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وه اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے : یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے- (البخاری، کتاب التوحید) قرآن میں تقوی کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی هو تب بهی آدمی اس کے بارے میں عدل و…
Read moreنسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردار
نسلوں كی تعمیر میں اساتذه كا كردار! 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ابھی ۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء كی تاریخ گزری هے، ۵؍ ستمبر ۱۸۸۸ء هندوستان كے دوسرے صدر جمهوریه ایك ممتاز فلسفی، ماهر تعلیم، قابل استاذ اور مصنف ڈاكٹر رادھا كرشنن كا یوم پیدائش هے، هندوستان میں یه دن ان كی یاد میں هر سال یوم اساتذه كے عنوان سے منایا جاتا هے، اسی مناسبت سے درج ذیل تحریر پیش كی جا رهی هے: حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ، ہر مذہب اور ہر سماج میں اساتذہ کو بڑا احترام حاصل رہا ہے؛ کیوںکہ سماج میں جو کچھ بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور خدمت خلق کا جو سروسامان موجود ہے ، وہ سب در اصل تعلیم ہی کا کرشمہ ہے اوردرسگاہیں ان کا اصل سرچشمہ ، اسلام کی نگاہ میں انسانیت کا سب سے مقدس طبقہ پیغمبروں کا ہے ، پیغمبر کی حیثیت اپنے اُمتی کی نسبت سے کیا ہوتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہی کہ نبی انسانیت کا مربی اور معلم ہوتا ہے ، و ہ تعلیم بھی دیتا ہے اور انسانیت کو اس علم کے سانچہ میں ڈھالنے کی بھی کوشش کرتا ہے : یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃَ (آل عمران :۱۶۴) اسی لئے اساتذہ کا احترام اسی قدر ضروری ہے جتنا اپنے والدین کا ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فقہاء ِصحابہ میں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت اور فہم و درایت میں بھی بڑے اعلیٰ درجے کے مالک ہیں اور تفسیر و فہم قرآن کا کیا پوچھنا کہ اُمت میں سب سے بڑے مفسر مانے گئے ہیں ؛لیکن اس مقام و مرتبہ کے باوجود صورتِ حال یہ تھی کہ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کی سواری کی رکاب تھام لیتے تھے اورکہتے تھے کہ ہمیں اہل علم کے ساتھ اسی سلوک کا حکم دیا گیا ہے ، (مستدرک حاکم :۳؍۴۲۳) خلف احمر مشہور امام لغت گزرے ہیں ، امام احمد ؒ ان…
Read more

