سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ

 

از : مولانا ابو الجیش ندوی 

ہم میں سے اکثر لوگ ہر ہفتے کے اختتام پر سورة الکہف کی تلاوت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس سورت میں موجود نہی یعنی منع کرنے والے دس ‘لا’ پر غور کیا ہے؟ یہ دس انکار آپ کو تدبر کی ایک نئی راہ دکھائیں گے۔ آئیے، ذرا ٹھہر کر اور اطمینان سے ان الہیٰ ارشادات پر غور کرتے ہیں۔

پہلا ‘لا’

فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا

لوگوں سے گفتگو اور بحث کے دوران خود کو کامل سچائی کا واحد مالک نہ سمجھیں اور نہ ہی لاحاصل تکرار میں اپنا وقت ضائع کریں۔

دوسرا ‘لا’

وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا

جو مسائل آپ کے لیے الجھن کا باعث ہوں، ان میں ایسے شخص سے رہنمائی یا فتویٰ نہ طلب کریں جو معاملے کی حقیقت سے ناواقف ہو یا حق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہو۔

تیسرا ‘لا’

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا ۝ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ

آئندہ کی منصوبہ بندی کرتے وقت کبھی بھی خود سے یا کسی دوسرے سے ان شاء اللہ کہے بغیر کوئی حتمی وعدہ نہ کریں۔

چوتھا ‘لا’

وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا

نیک اور صالح لوگوں کی صحبت میسر ہو تو دنیاوی چمک دمک کی خاطر ان سے اپنی توجہ ہرگز نہ ہٹائیں۔

پانچواں ‘لا’

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا

ہر اس رشتے اور چیز سے فاصلہ اختیار کریں جو آپ کو اللہ سے دور کرے۔ اس شخص کی ہرگز پیروی نہ کریں جس کا دل یادِ خدا سے غافل ہو چکا ہو، جو اپنی نفسانی خواہشات کا غلام بن گیا ہو اور جس کا ہر قدم تباہی کی طرف اٹھتا ہو۔

چھٹا ‘لا’

فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا

معلومات حاصل کرنے اور چیزوں کی تہہ تک پہنچنے کے شوق میں، جب تک بات پوری طرح کھل کر سامنے نہ آ جائے، سوال کرنے میں جلدی نہ کریں۔

ساتواں ‘لا’

لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ

یاد رکھیں کہ وہ بھی انسان ہیں، اس لیے ان کی بھول چوک یا مجبوری میں کیے گئے افعال پر ان کی گرفت نہ کریں۔

آٹھواں ‘لا’

وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا

ہر انسان کی ایک حد اور طاقت ہوتی ہے، لہٰذا کسی پر بھی اس کی برداشت اور صلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔

نواں ‘لا’

فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا

جس شخص کے ساتھ آپ اصلاح کے تمام راستے اور مواقع آزما چکے ہوں، اب اس کی ہمراہی ترک کر دیں۔

دسواں ‘لا’

ان نو ارشادات کے بعد ایک آخری اور دسواں ‘لا’ باقی رہ جاتا ہے، جو سورة الکہف کی آخری آیت میں ان تمام احکامات کا عطر اور خوبصورت ترین اختتام ہے:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

اگر پہلے نو ‘لا’ ایک مومن کی اخلاقی تربیت اور بندوں کے ساتھ اس کے برتاؤ کی رہنمائی کرتے ہیں، تو یہ دسواں ‘لا’ خاص طور پر بندے اور اس کے خالق کے تعلق کو استوار کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نیک اعمال کی قبولیت کی واحد شرط یہ ہے کہ ہر عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال کو شرفِ قبولیت بخشے، ہمیں قرآنِ کریم میں تدبر کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

( اس خیر کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔)