بسم اللّه الرحمن الرحيم

 استاذِ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

آكسفورڈ

29/6/2026

آج بروز دوشنبہ، 14 محرم الحرام 1448ھ، علم و حکمت کے گلستان کا ایک اور تناور شجر اپنی مدتِ حیات پوری کرکے اپنے ربِ کریم کے حضور حاضر ہو گیا۔ استاذِ محترم، عالمِ راسخ، محدث، محقق، معلم اور خطیبِ بے مثال، مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

کچھ لوگ دنیا سے جاتے ہیں تو صرف ایک گھر ماتم کدہ بنتا ہے، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی رحلت سے درس گاہیں سوگوار ہو جاتی ہیں، مساجد خاموش محسوس ہونے لگتی ہیں، اور ہزاروں شاگرد اپنے آپ کو یتیمِ علم محسوس کرتے ہیں۔ مولانا سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کا شمار انہی اہلِ علم میں تھا۔ ان کی وفات ایک فرد کی وفات نہیں، بلکہ ایک ایسی آواز کا خاموش ہو جانا ہے جس نے نصف صدی تک علم، فکر اور دین کی دعوت کو اپنے دل نشیں انداز میں لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں علمی بصیرت کے ساتھ ایک غیر معمولی لسانی ملکہ بھی عطا فرمایا تھا۔ عربی ان کی زبان پر اس روانی سے جاری ہوتی تھی گویا وہ ان کی مادری زبان ہو، اور اردو میں ان کا بیان ایسی شگفتگی، شائستگی اور ادبی لطافت کا آئینہ دار تھا کہ سامع بے اختیار ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ ان کی گفتگو میں زیر و بم کی دلآویزی، خطابت کا سحر، اور بیان کی ایسی تاثیر تھی جو دل سے نکل کر براہِ راست دل میں اتر جاتی تھی۔ وہ محض الفاظ ادا نہیں کرتے تھے، بلکہ اپنے سامعین کے اذہان کو روشن اور ان کے قلوب کو گرماتے تھے۔خطابت ان کا محض ایک ہنر نہیں تھا، بلکہ ان کی شخصیت کا جوہر تھا۔ جب وہ منبر پر کھڑے ہوتے تو محسوس ہوتا کہ علم الفاظ کا جامہ پہن کر بول رہا ہے۔ قرآن کی آیات، احادیثِ نبویہ، عربی ادب، اسلامی تاریخ اور معاصر مسائل، سب ان کے بیان میں اس طرح سمٹ آتے کہ سننے والا نہ صرف محظوظ ہوتا بلکہ اس کا ذہن بھی منور ہوتا اور فکر بھی مہمیز پاتی۔

برصغیر کی علمی روایت میں چند ہی ایسے خطباء گزرے ہیں جن کی تقریر خود ایک ادبی تجربہ بن جاتی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ، سید سلیمان ندویؒ، قارى محمد طيبؒ اور مولانا علی میاں ندویؒ کی خطابت اسی روایت کی نمائندہ تھی۔ مولانا سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ بھی اسی ذوق اور اسی علمی و ادبی روایت کے امین تھے۔ ان کی عربی تقریریں عرب دنیا میں بھی اسی انہماک سے سنی جاتیں جس طرح ان کے اردو خطبات برصغیر میں۔ وہ زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے تھے، بلکہ اسے فکر، تہذیب اور دعوت کا وسیلہ بنا دیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ آج جب ان کی یاد آتی ہے تو صرف ایک استاد یاد نہیں آتا، بلکہ ایک ایسی مجلس یاد آتی ہے جس میں علم، وقار، تحقیق اور حسنِ بیان یکجا ہو جاتے تھے۔ وہ مشکل ترین علمی مباحث کو اس سہولت سے بیان کرتے کہ عقدے خود بخود کھلتے چلے جاتے۔ ان کے درس میں حدیث صرف روایت نہیں رہتی تھی، بلکہ ایک زندہ علمی روایت بن کر سامنے آتی تھی۔ وہ طلبہ کو معلومات نہیں دیتے تھے، بلکہ ان کے اندر سوچنے کا سلیقہ، سوال کرنے کا حوصلہ اور علمی دیانت کا ذوق پیدا کرتے تھے۔

آج ان کی آواز خاموش ہو گئی ہے، لیکن اس کی بازگشت ہزاروں شاگردوں کے حافظے میں باقی ہے۔ قلم رک گیا ہے، لیکن اس کی روشنائی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ منبر خالی ہو گیا ہے، مگر اس سے ادا ہونے والے الفاظ اب بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ یہی ایک عالم کی حقیقی زندگی ہے کہ اس کے جسم کو زمین اپنے اندر لے لیتی ہے، مگر اس کا علم، اس کی فکر اور اس کی تربیت زمانے کی سانسوں میں شامل رہتی ہے۔

علم کا ایک روشن چراغ اگرچہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، لیکن اپنی روشنی ہزاروں شاگردوں، اپنی تصنیفات اور اپنی علمی میراث میں چھوڑ گیا ہے۔ ایسے اہلِ علم جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا علم، ان کی فکر اور ان کی تربیت نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ یہی ایک عالم کی حقیقی بقا اور اس کی سب سے قیمتی میراث ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور و رحمت سے بھر دے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کے علم، قلم، درس، دعوت اور تربیت کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور ان کے ہر اس شاگرد، قاری اور سامع کو ان کے میزانِ حسنات میں شامل فرمائے جس نے ان کے علم سے فیض پایا۔ رَبِّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاجْزِهِ عَنِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ خَيْرَ الْجَزَاءِ. آمین۔