مولانا سید سلمان حسینی ندوی:


مختصر سوانحی، علمی خاکہ

 

​تحریر۔۔ الطاف جمیل شاہ سوپور

​آج 29 جون 2026ء کی وہ المناک اور تاریک صبح برصغیر کے علمی و دعوتی افق پر ایک دلسوز قیامت بن کر ٹوٹی، جب نمازِ فجر سے کچھ دیر قبل علم و عمل کا ایک درخشندہ آفتاب، اور ہم یتیم تلامذہ کے مخلص و بے باک مربی، حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی ہمیشہ کے لیے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور قلم لرز رہا ہے کہ ہم اپنے اس شفیق اور جری استاذِ محترم کا نوحہ لکھ رہے ہیں جن کی زندگی علم، تدریس اور جراتِ رندانہ کا ایک دلفریب مرقع تھی۔
​مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا شمار چودہویں صدی ہجری اور پندرہویں صدی ہجری کے برصغیر پاک و ہند کے ممتاز اسلامی اسکالرز، شعلہ بیان مقررین، اور عربی و اردو کے صاحبِ طرز مصنفین میں ہوتا ہے۔ ان کی ولادت 1954ء میں لکھنؤ کے ایک ایسے علمی، دینی اور روحانی گھرانے میں ہوئی جو علم و عمل کا گہوارہ رہا ہے۔ ان کا نسبی تعلق منصور پور، مظفر نگر کے ساداتِ بارہہ (زیدی سادات) کے ایک معزز گھرانے سے ہے، جب کہ ان کا شجرۂ نسب ساداتِ حسنی کے واسطے سے براہِ راست نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے۔
​مولانا سلمان حسینی ندوی کا ندوۃ العلماء کے بانی سادات خاندان سے گہرا مادر زاد تعلق تھا۔ وہ برصغیر کی نابغہ روزگار شخصیت، مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کے سگے بھائی اور سابق ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء ڈاکٹر سید عبدالعلی حسنی کے نواسے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید محمد طاہر حسینی بھی ایک نیک صفت اور علمی انسان تھے۔ اس جلیل القدر علمی و خاندانی پس منظر کے باعث ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت براہِ راست مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی کی فکری سرپرستی اور ندویت کے سائے میں پروان چڑھی۔
​تعلیمی سفر، جلیل القدر اساتذہ اور اسانیدِ حدیث
​سید سلمان حسینی ندوی نے حصولِ علم کا آغاز اپنے خاندانی مکتب اور ندوۃ العلماء سے کیا۔ انہوں نے ندوۃ العلماء کے درجۂ حفظ میں داخلہ لیا اور قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اسی عظیم دانش گاہ سے باقاعدہ نظامِ تعلیم میں شامل ہو کر 1974ء میں عالمیت اور پھر 1976ء میں فضیلت (ایم اے کے مساوی) کی ڈگری حاصل کی۔ اس دور میں انہوں نے ندوۃ العلماء کے مایہ ناز اساتذہ بشمول مولانا محمد رابع حسنی ندوی، مولانا محمد واضح رشید حسنی ندوی، اور مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سے علمی و ادبی علوم حاصل کیے۔
​ندوہ سے فراغت کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا اور جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض میں داخلہ حاصل کیا۔ وہاں انہوں نے شعبہ حدیث میں تخصص حاصل کیا اور 1980ء میں ماسٹرز (M.A.) کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا ایم اے کا تحقیقی مقالہ ان کے وقت کے عظیم الشان شامی محدث اور محقق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہوا، جو خود ان کے علمی معیار اور حدیث شناسی کا بین ثبوت ہے۔
​ان کی علمی وجاہت اور اسانیدِ حدیث کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ معاصر دنیا کے ممتاز محدث اور محقق محمد اکرم ندوی نے ان کی اسانیدِ حدیث پر ایک مستقل کتاب بنام "العقد اللجيني في أسانيد المحدث الشريف سلمان الحسيني” تحریر کی، جو 2004ء میں بیروت کے مشہور اشاعتی ادارے دار الغرب الاسلامی سے شائع ہوئی۔ یہ تصنیف عالمی علمی حلقوں میں ان کے جلالتِ علمی اور روایتِ حدیث میں ان کے مرتبے کی عکاسی کرتی ہے۔
​تصوف، روحانی سلاسل اور تزکیہ و تربیت
​سید سلمان حسینی ندوی نے علمِ ظاہر کے ساتھ ساتھ علمِ باطن اور تزکیہ و سلوک کے میدان میں بھی نامور اولیاء اور مشائخ سے فیض پایا۔ وہ تصوف و سلوک کے میدان میں بنیادی طور پر درج ذیل جلیل القدر شخصیات سے مجازِ بیعت و ارشاد تھے:
​شاہ نفیس الحسینی (لاہور)، جو برصغیر کے مشہور خطاط اور نقشبندی بزرگ تھے۔
​سید محمد رابع حسنی ندوی (ناظم ندوۃ العلماء)، جن کے ساتھ ان کا خاندانی اور علمی تعلق تھا۔
​شام کے نقشبندی شیخ، شیخ سراج الدین، جن سے انہوں نے سلوک کی منازل طے کیں اور خلافت حاصل کی۔
​یہ روحانی وابستگی ان کی شخصیت میں علم و تصوف کے حسین امتزاج کو ظاہر کرتی ہے، جس کی بدولت ایک طویل عرصے تک وہ ندوہ اور دیوبند کے حلقوں میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے۔
​علمی، تدریسی اور تنظیمی خدمات
​سعودی عرب سے واپسی کے بعد مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے تقریباً چالیس برس تک دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں حدیث، تفسیر اور عربی ادب کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ ندوۃ العلماء کے "شعبۂ دعوت” کے ڈین (عمید) بھی رہے۔
​ہم تلامذہ کے لیے ان کا درسِ حدیث محض ایک روایتی تدریسی گھنٹہ نہیں بلکہ فکری و انقلابی بیداری کا ایک طوفان ہوتا تھا۔ ان کا طریقۂ تدریس روایتی حدبندیوں سے آزاد تھا؛ وہ کسی ایک مسلک یا فقہی مکتبِ فکر کی اندھی تقلید کے بجائے ہم میں آزادانہ علمی تحقیق، نصوص پر براہِ راست تدبر، اور معاصر چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا ذوق پیدا کرتے تھے۔ ان کی شعلہ بیانی اور رعب دار علمی شخصیت کا یہ عالم تھا کہ ندوہ کے در و دیوار ان کے جلالِ کلام سے گونج اٹھتے تھے۔ ندوہ کی مسجد کا وہ منظر ہمیں کبھی نہیں بھول سکتا جب خود ایک فلسطینی عالم نے ان کی گواہی دیتے ہوئے برملا کہا تھا:
​”شیخ جب بولتے ہیں تو ان کی طاقتور آواز ہم تک پہنچتی ہے اور ہمیں حوصلہ ملتا ہے!”
​ان کی یہ طاقتور اور مخلص آواز مظلومانِ عالم بالخصوص فلسطینیوں کے لیے ایک درخشاں ڈھارس اور ہمت کا سرچشمہ تھی۔
​تنظیمی سطح پر ان کی خدمات درج ذیل اہم اداروں کے قیام سے واضح ہیں:
​جمعیت شباب الاسلام (1974ء): اس تنظیم کا مقصد نوجوانوں کے فکری و اخلاقی بگاڑ کو دور کرنا اور انہیں دعوتی سرگرمیوں کا حصہ بنانا تھا۔
​جامعہ سید احمد شہید، کتولی (1985ء): یہ ادارہ تحریکِ مجاہدین اور فکرِ شاہ ولی اللہ کے احیاء کے لیے ایک اہم نظریاتی مرکز بنا۔
​ڈاکٹر عبدالعلی یونانی میڈیکل کالج و ہسپتال: اس ادارے کے ذریعے انہوں نے طبی میدان میں بھی خدمات فراہم کیں۔
​اس کے علاوہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا)، اور رابطہ عالمِ اسلامی (مکہ مکرمہ) جیسی بین الاقوامی اور قومی تنظیموں سے وابستہ رہے اور علمی کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔
​علمی و تصنیفی مہمات
​سید سلمان حسینی ندوی نے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں گرانقدر تصانیف چھوڑیں، جو ان کی وسعتِ مطالعہ، علمی گہرائی اور تحریکی سوچ کی عکاس ہیں۔ ان کی چند تصانیف

| الأمانة في ضوء القرآن | عربی | قرآن کی روشنی میں امانت کا حقیقی تصور اور معاشرتی اطلاق |
| مشعال المصابيح | عربی | بارہ (12) جلدوں پر مشتمل مشکوٰۃ المصابیح کی مفصل شرح |
| لمحة عن الجرح والتعديل | عربی | علمِ رجال اور راویوں کے پرکھنے کے اصول |
| مذكراتي (20 جلدیں) | عربی | ان کی ذاتی یادداشتیں، معاصر تاریخ اور علمی مکالمے |
| الإمام ولي الله الدهلوي وآراؤه في التشريع | عربی | شاہ ولی اللہ کے قانونِ اسلامی اور تشریح پر افکار کا تفصیلی جائزہ |
| المدخل إلى دراسة جامع الترمذي | عربی | امام ترمذی کے علمی منہج اور جامع ترمذی کا مقدمہ |
| تقلید و اجتہاد | اردو | اجتہاد کی ضرورت اور تقلید کی حدود کا شاہ ولی اللہ کے افکار کے تحت جائزہ |
| ہمارا نصاب تعلیم کیا ہو؟ | اردو | اسلامی مدارس کے تعلیمی نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کا خاکہ |
| دستورِ حیات | اردو | "العقيدة والعبادة والسلوك” کا اردو ایڈیشن، مسلم زندگی کا مکمل ہدایت نامہ |
| آزادئ ہند حقیقت یا سراب؟ | اردو | تقسیمِ ہند کی تاریخی و سیاسی حقیقت پر تنقیدی بحث |
| یہودی خباثتیں | اردو | عبد اللہ التل کی تصنیف کی اردو ترجمانی، صیہونیت کے عزائم کا پردہ چاک |
| آخری وحی | اردو | قرآن مجید کا جدید، سلیس اور اثر انگیز اردو ترجمہ و تفہیم |
​بین الاقوامی سرگرمیاں اور خلافت کا عالمی و عسکری نظریہ
​مولانا سلمان حسینی ندوی کا عالمی امور پر ایک منفرد، جذباتی اور انقلابی موقف رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ عالمی سطح پر متنازع بنے۔ ان کی بین الاقوامی فکری سرگرمیوں کا ایک اہم رخ ان کا نظریہ خلافت تھا۔
​جولائی 2014ء میں برطانوی اخبار "فرسٹ پوسٹ” کے مطابق مولانا نے سعودی حکومت کو ایک باقاعدہ مکتوب تحریر کیا جس میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ بھارتی مسلم نوجوانوں پر مشتمل پانچ لاکھ (500,000) کی ایک عسکری فورس یا ملیشیا تیار کی جائے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ فوج عالمی سطح پر ایک خلافت کے تحت شام اور عراق میں شیعہ عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرے گی اور دنیا بھر کے ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرے گی۔

​بابری مسجد تنازع، شری شری روی شنکر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے علیحدگی
​ہندوستان کے اندر مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی زندگی کا سب سے بڑا سیاسی اور تنظیمی طوفان بابری مسجد تنازع پر ان کے موقف سے پیدا ہوا۔ فروری 2018ء میں، متنازعہ اراضی کو مندر کی تعمیر کے لیے چھوڑنے اور دوسری جگہ اراضی لے کر وہاں مسجد و یونیورسٹی بنانے کے ان کے انفرادی موقف پر بورڈ کی مجلس عاملہ میں شدید اختلاف رائے پیدا ہوا۔
​مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اصولی موقف یہ تھا کہ مسجد شریعت کی رو سے ہمیشہ مسجد رہتی ہے، لہٰذا اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظریاتی تصادم کے بعد حیدرآباد کے اجلاس میں انہیں بورڈ سے معطل کر دیا گیا، اگرچہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ اس تنازع کی بازگشت ندوۃ العلماء تک پہنچی، جہاں ان کے حامیوں اور مخالفین کے مابین شدید ہنگامے پیش آئے۔
​فکری انحراف، صحابہ کرام سے متعلق آراء اور مسلکی تبدیلی
​مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی زندگی کا آخری دور جہاں ایک طرف فکری ارتقاء اور انقلابی نظریات کا آئینہ دار تھا، وہیں ان کے بعض ایسے بیانات بھی سامنے آئے جنہوں نے معاصر علمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے صحابۂ کرام، بالخصوص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بعض سیاسی فیصلوں پر ایک مخصوص اور تنقیدی طرزِ گفتگو اختیار کی۔
​اہلِ سنت والجماعت کے تمام مکاتبِ فکر نے ان کے اس طرزِ گفتگو پر سخت اعتراضات کیے اور اسے "عظمتِ صحابہ” کے منافی قرار دیا۔ مظاہر علوم سہارنپور اور دار العلوم دیوبند کے دار الافتاء سے ان کے بائیکاٹ کے فتوے جاری ہوئے۔ ان کے اپنے ادارے، ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے انہیں 65 سال کی عمر کی بنیاد پر تدریسی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا، جس پر مولانا نے 10 نکات پر مشتمل ایک سخت مکتوب کے ذریعے اپنے علمی موقف کا دفاع کیا۔
​تنہائی کے اس پرآشوب دور میں مولانا نے اپنی مسلکی وابستگی کو تبدیل کرتے ہوئے بریلوی مکتبِ فکر سے قربت اختیار کی۔ انہوں نے اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری دی جہاں درگاہ کے سجادہ نشینوں نے ان کی دستار بندی کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے مخالفین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جہاں ان کے مخالفین نے اسے فکری غیر مستقل مزاجی قرار دیا، وہیں ان کے مخلصین کا کہنا تھا کہ مولانا ہمیشہ سے مسلکی تنگ نظری سے ماورا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے تئیں ہمیشہ حق گوئی کا علم بلند رکھا۔
​فکری تبدیلی کے ان مراحل کا موازنہ درج ذیل جدول میں پیش کیا گیا ہے:
سانحہ ارتحال
​مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی زندگی کا آخری سفر اپنی تمام تر علمی عظمتوں اور مسلکی آویزشوں کے ساتھ بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔
​آج 29 جون 2026ء کو، نمازِ فجر سے کچھ ہی دیر قبل، لکھنؤ میں ان کی رہائش گاہ پر ان کا دل دھڑکنا بند ہو گیا اور وہ روح جو علم و دعوت کے جذبے سے ہمیشہ مچلتی تھی، اپنے خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئی۔ ہم تلامذہ کے لیے یہ حادثہ دل دوز اور ناقابلِ برداشت ہے؛ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے علم کی بزم اجڑ گئی، شفقت کا ایک گھنا سایہ اٹھ گیا اور ایک طاقتور، بے باک اور سچی مخلص آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
​ان کی سوانح کے اس المناک موڑ پر جہاں تاریخ ان کے فکری اختلافات اور مسلکی تبدیلیوں کو درج کرے گی، وہیں ہم شاگرد ان کے درسِ حدیث، ان کے خلوص، ان کی فصاحت و بلاغت اور ان کی لرزہ خیز شعلہ بیانی کے ماتم میں اشکبار رہیں گے۔ ان کی وفات برصغیر کی جدید اسلامی تاریخ کے ایک درخشاں اور فصیح باب کا خاتمہ ہے۔
​ہم باری تعالیٰ کے حضور گریہ کناں ہیں اور دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے، ان کی گرانقدر علمی و تدریسی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ہم تمام تلامذہ و پسماندگان کو اس عظیم المیہ پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔