از : محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
جب سے یہ دنیا قائم ہے، ہر دور میں افراد و اشخاص اور قومیں آزمائشوں سے گزری ہیں، مگر تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں سربلند ہوئیں جنہوں نے مشکل حالات میں اپنے اصولوں، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق اور اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آج ہندوستان کے مسلمان بھی ایک نازک، مشکل ، ناگفتہ بہ اور پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ سماجی بے چینی، فکری انتشار، مذہبی غلط فہمیاں اور سیاسی کشمکش نے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں وقتی جذبات، شور و غوغا اور بے مقصد ردِّ عمل کوئی پائیدار حل نہیں دے سکتے، بلکہ کامیابی کا راستہ سنجیدہ فکر، خاموش خدمت، اتحادِ ملت، دینی شعور اور جمہوری و آئینی جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔
مسلمانوں کی حقیقی کامیابی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کریں ، مسجد سے اپنے دلوں کو معلق کریں ،اپنے گھروں کو ایمان، علم، اخلاق اور تسبیح و تلاوت اور ذکر و شکر کا مرکز بنائیں۔
کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس کے اندرون مضبوط نہ ہوں۔ اگر ہمارے گھروں میں فجر کی نماز کی پابندی نہ ہو، اگر تلاوتِ قرآن کی آوازیں خاموش ہوجائیں، اگر بچوں کی تربیت اسلامی فکر و شعور کے مطابق نہ ہو، اگر سونے سے پہلے گھروں میں سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلامی کتابوں کا مطالعہ نہ ہو، اگر نئی نسل کو اسلامی تاریخ، اعلیٰ اخلاق اور صحیح افکار سے واقف نہ کرایا جائے، تو پھر محض نعروں اور احتجاجوں سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر کو ایک چھوٹا دینی و اخلاقی مرکز بنائے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھیں۔ معاشرتی اصلاح کی ایسی مہم چلائی جائے جس میں محبت، خیر خواہی، اخلاق اور کردار کی طاقت ہو۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ گھروں کی علمی ، روحانی اور دینی و فکری سے ہوتی ہے۔
قرآن مجید نے مشکل اور آزمائشی حالات میں کامیابی کے لیے ایک عظیم پانچ نکاتی فارمولا عطا فرمایا ہے، موجودہ حالات میں ان کو ہمیں گائڈ لائن بنانا چاہیئے اور اس کی روشنی میں عمل کرنا چاہیے۔
سورۂ انفال کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو وہ اصول دیے ہیں جو ہر دور کے فتنوں اور چیلنجز میں روشنی کا مینار ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اے ایمان والو! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر سے کام لو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
یہ آیات در اصل موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ کے لیے مکمل لائحۂ عمل پیش کرتی ہیں۔
پہلا اصول: ثابت قدمی اور حوصلہ
مشکل حالات میں سب سے پہلی ضرورت گھبراہٹ سے بچنے کی ہے۔ مایوسی مؤمن کا شیوہ نہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حالات سے خوف زدہ ہونے کے بجائے صبر و حکمت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری اور آئینی ملک ہے، یہاں اپنے حقوق کے لیے قانون اور دستور کی زبان میں بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جذباتی ردِّ عمل کے بجائے دلیل، تحقیق، اخلاق اور شعور کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا جائے۔ مخالف قوتوں کو بھی نفرت نہیں بلکہ حکمت اور انصاف کی زبان میں سمجھایا جائے۔
دوسرا اصول: ذکرِ الٰہی
قرآن کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر جاری رکھا جائے، خصوصاً آزمائش اور مصیبت کے وقت۔ ذکرِ الٰہی انسان کے دل کو مضبوط بناتا ہے، خوف کو ختم کرتا ہے اور امید کی شمع روشن رکھتا ہے۔ جو قوم اپنے رب سے تعلق مضبوط کرلیتی ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ نماز، تلاوتِ قرآن، دعا اور اذکار کو اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تیسرا اصول: اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت
کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہے جب انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو اختیار کیا جائے۔ اگر مسلمان تجارت، معاشرت، سیاست، تعلیم اور عائلی زندگی میں اسلامی اصولوں کو نظر انداز کریں گے تو ان کی کمزوری بڑھتی جائے گی۔ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ مکمل طرزِ حیات ہے۔ سچائی، دیانت، عدل، رحم دلی اور انسانیت نوازی وہ صفات ہیں جن سے مسلمان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
چوتھا اصول: اتحاد و اتفاق
قرآن کا چوتھا اصول یہ ہے کہ آپس میں اختلاف اور انتشار سے بچا جائے۔ آج ملت کا سب سے بڑا نقصان باہمی تقسیم اور گروہی تعصبات سے ہورہا ہے۔ مسلکی، جماعتی اور سیاسی اختلافات اگر نفرت میں بدل جائیں تو قوم کی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف کے باوجود اتحاد ممکن ہے۔ مشترکہ مسائل پر ایک آواز بننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر ملت متحد رہے گی تو اس کی بات میں وزن ہوگا اور اگر وہ منتشر رہی تو اس کی قوت کمزور پڑ جائے گی۔
پانچواں اصول: صبر و استقامت
قرآن کا آخری اور عظیم اصول صبر ہے۔ صبر کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ حکمت، برداشت، مستقل مزاجی اور صحیح وقت تک ثابت قدم رہنا ہے۔ موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمان ایک اعتبار سے مکی دور کی کیفیت سے گزر رہے ہیں، جہاں صبر، اخلاق، حکمت اور دعوت کا راستہ اختیار کیا گیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں نے صبر و استقامت کے ذریعے ہی مدینہ کی کامیابی حاصل کی۔
آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کے لیے جمہوری انداز میں آواز بلند کریں، آئین و قانون پر اعتماد رکھیں اور ملک میں امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اخلاق، انصاف اور انسانیت سے دیا جائے۔
اسی تناظر میں “حلف الفضول” کی مثال ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ وہ تاریخی معاہدہ تھا جس میں مختلف قبائل نے مظلوم کی مدد اور انصاف کے قیام کے لیے متحد ہوکر عہد کیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے نبوت کے بعد بھی اس معاہدے کو سراہا۔ آج ہندوستان میں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے کہ مختلف مذاہب، طبقات اور برادریوں کے لوگ مل کر امن، انصاف، رواداری اور انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔ یہ وقت تصادم نہیں بلکہ تعاون، محبت اور مشترکہ انسانیت کو فروغ دینے کا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے تمام انصاف پسند لوگ نفرت کے بجائے محبت کی زبان بولیں، تعصب کے بجائے رواداری کو فروغ دیں اور انسانیت کے احترام کو اپنی پہچان بنائیں۔ اگر سماج میں محبت کی بادِ بہاری چل پڑے، اگر لوگ ایک دوسرے کے درد کو سمجھنے لگیں، اگر مذہب کو نفرت کے بجائے اخلاق و انسانیت کا ذریعہ بنایا جائے، تو یقیناً حالات بدل سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے کردار، اپنے اخلاق، اپنی خدمت اور اپنی دیانت سے معاشرے میں مثبت مثال قائم کریں۔ تعلیم، خدمتِ خلق، رفاہی کاموں اور اخلاقی تعمیر کے ذریعے قومیں عزت پاتی ہیں۔ مستقبل انہی کا ہوتا ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن رکھتے ہیں۔
یقیناً آزمائش کی یہ گھڑیاں ہمیشہ باقی نہیں رہیں گی۔ اگر ملت اسلامیہ قرآن کے اس پانچ نکاتی پروگرام ثابت قدمی، ذکرِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ، اتحاد اور صبر — کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے، تو اللہ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوگی۔ حالات بدلیں گے، فضا سازگار ہوگی اور حق و انصاف کی روشنی مزید نمایاں ہوکر ابھرے گی۔ ان شاء اللہ۔