کمال مولانا مسجد تاریخ کے آئینے میں
یہ تصاویر "مسجد کمال مولانا” دھار کے اندرونی حصے کی ہیں۔ جس کے بارے میں کل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ مسلم فریق کے دلائل سے قائل نہ ہو سکے۔ یہ باتیں وکلا اور لیگل ٹیموں کی ہیں۔ ان کو یہ ہینڈل کر لینے دیا جائے۔ ہمیں چند موٹی موٹی باتیں اِس مسجد کے بارے میں جان لینا چاہیے۔
اس علاقے کو جس وقت سلطان علاؤالدین خلجی نے فتح کیا اس وقت سلسلۂ چشتیہ کے ایک صوفی بزرگ شیخ کمال یہاں مقیم تھے۔ سلطان مشائخِ چشتیہ کا ارادت مند اور عقیدت مند تھا، اس نے یہاں ایک عالیشان مسجد بنوانے کا حکم دیا۔ ساتھ ساتھ اس میں درویشوں اور طلبا کے لیے کمرے بھی بنوائے تاکہ شیخ کے مریدین اور شاگرد یہاں آرام کر سکیں۔ چونکہ یہ عمارت بہت کم مدت میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں خاطر خواہ گارہ یا اس وقت کے لحاظ سے مضبوط مسالے کا استعمال نہیں ہوا تھا، لہذا ایک صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے یہ محمد بن تغلق کے دور میں مرمت کی طالب ہوئی۔ سلطان علاؤالدین نے اس مسجد کو چودھویں صدی عیسوی کے بالکل ابتدائی دنوں میں بنوایا تھا اور اس کی مرمت چودہویں صدی بالکل آخر میں ہوئی۔ محمد بن تغلق کے گورنر دلاور خان غوری نے اس کی مرمت کروائی اور اس پر تختی بھی لگوا دی کہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں مرمت کے بعد مزین ہوئی۔
اس مسجد کی عمارت میں چونکہ جو پتھر لگا ہے، یہ بالکل صاف طور سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کسی پرانے مندر کا ملبہ ہے۔ اور چونکہ ان پتھروں اور ستونوں میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے، لہذا اِس بات کی پوری گنجائش موجود ہے کہ اس کو ہندو عوام سے خرید کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اور جب کہ ہمیں کئی سو سال تک اس پر کسی طرح کی کوئی چپقلش اور باہمی عداوت نہیں نظر آتی سو اس کو درست ماننے میں کسی طور متأمل نہیں۔ سلطنت دور شاہی میں طرزِ تعمیر بہت اعلا اور با ذوقی کا حامل نہیں دکھتا۔ یہ صرف اس مسجد کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ آپ سلطنت دور کی اور بھی عمارتوں کی زیارت کر آئیے آپ کو معاملہ جوں کا توں ملے گا۔ یہ تو مغلوں کی دین ہے جو انہوں نے Indo persian arch پر عمارتیں بنوانا شروع کِیں۔ قوۃ الاسلام مسجد کا پورا معاملہ بھی یہی ہے۔ فیروز شاہ تغلق کے مقبرے کو جاتے ہوئے باب الداخلہ ( entry gate) پر اوپر کی ڈیزائن کلش کی صورت میں بنی ہوئی ہے۔ اس وقت تک محرابوں کا بھی چلن نہیں تھا۔
سلطنت پیریڈ پر کام کرنے والے کچھ لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسجد کمال مولانا کو بھوج شالہ کا تحفۂ مکروہ انگریزوں کی باقیات ہے۔ اِس مسجد اور اِس کے احاطے کے لیے بھوج شالہ یعنی راجہ بھوج کا مدرسہ لفظ تو بیسویں صدی کے بالکل اوائل میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ غالبا لارڈ کرزن کے پاس جو رپورٹ پیش ہوئی اس میں سب سے پہلے اس حصے کو بھوج شالہ کہا گیا۔ حالانکہ معروف تاریخ دان قاضی عبدالقدوس فاروقی نے اپنی کتاب "مالوہ کی کہانی – تاریخ کی زبانی” میں لکھا ہے کہ بھوج شالہ کے باقیات دھار شہر کے شمالی حصے میں "کَن تالاب” کے کنارے ملتے ہیں۔ یہاں پر بھوج شالہ جیسی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔
اِس مسجد کو برٹش دور سے بلکہ آزادی کے بعد بھی محکمۂ آثار قدیمہ نے مسجد کے ضمن میں ہی رکھا تھا۔ عرصے سے پنج گانہ ساقط ہیں لیکن جمعے کے روز مسلمانوں کو ایک سے تین بجے کے درمیان نماز کی اجازت ہے اور منگل کے روز ہندؤں کو پوجا کی۔ کہتے ہیں کہ یہاں کسی زمانے میں سرسوتی دیوی، جو کہ ہندو نقطۂ نظر میں علم کی دیوی ہیں، کی مورتی نصب تھی جو اب لندن کے کسی میوزیم میں موجود ہے اور اس کو واپس لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی بنا پر سال میں ایک مرتبہ ایک خاص تقریب کے موقع پر یہاں سرسوتی دیوی کی مورتی مسجد کے منبر پر رکھ کر پوجا کی جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ تقریب کا دن اور یومِ جمعہ ایک ساتھ آگیا اور نوبت فساد و خوں ریزی تک پہونچ گئی۔ لیکن جیسے تیسے کر کے یہ قصہ اب یہاں تک پہونچ گیا ہے کہ اب اس کو ہائی کورٹ نے مندر مان لیا ہے۔ اب ضرورت اِس امر کی ہے اپنے کیسۂ دلائل کو مزید مضبوط کرکے سپریم کورٹ پہونچا جائے اور باقاعدہ اس کیس کو لڑا جائے۔
- عبداللہ ثاقب