نالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاء
ایک خاموش موت کی داستان (تحقیقی و تنقیدی جائزہ)
نالندہ یونیورسٹی کی تباہی کو عام طور پر 1193ء میں بختیار خلجی کے ایک وحشیانہ حملے سے منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن جدید تاریخی حقائق اور ڈاکٹر روچیکا شرما جیسی محققین کی آراء اس بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں۔ نالندہ کا خاتمہ کسی ایک اچانک حملے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ صدیوں پر محیط مذہبی کشمکش، معاشی تنہائی اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک پیچیدہ عمل تھا۔
۱. جغرافیائی مغالطہ: اودانتاپوری بمقابلہ نالندہ
تاریخی کتاب ‘طبقاتِ ناصری’ کے گہرے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بختیار خلجی نے جس ‘قلعہ نما بہار’ پر حملہ کیا تھا، وہ دراصل اودانتاپوری (موجودہ بہار شریف) تھا نہ کہ نالندہ۔
فاصلہ اور اثر: اودانتاپوری نالندہ سے محض چند کلومیٹر دور تھا، جہاں ترک فوج نے اپنا اڈہ قائم کیا۔ نالندہ پر براہِ راست حملے کے کوئی مستند معاصر ثبوت نہیں ملتے، لیکن پڑوس میں ہونے والی اس تباہی نے نالندہ کے حفاظتی حصار اور سپلائی لائن کو مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیا۔
۲. شنکر اچاریہ اور فکری پسپائی
نالندہ کی عمارت گرنے سے صدیوں پہلے اس کی فکری بنیادیں ہل چکی تھیں۔ آٹھویں صدی میں شنکر اچاریہ کی ویدانت تحریک نے بدھ مت کو علمی سطح پر زبردست شکست دی تھی۔
مناظروں کا اثر: شنکر اچاریہ نے بدھ فلسفے کے ‘خلا’ کے مقابلے میں ‘براہمن’ (حقیقتِ مطلق) کا تصور پیش کر کے اشرافیہ اوردانشوروں کو دوبارہ ویدک دھرم کی طرف موڑ دیا۔
جذب کرنے کی پالیسی: برہمنی نظام نے بدھ مت کی خوبیوں کو اپنا کر اسے اپنی ایک شاخ بنا لیا، جس سے بدھ مت کی انفرادی کشش ختم ہو گئی۔
۳. برہمنی مخالفت اور ‘آگ’ کا افسانہ
تبتی مورخ لاما تارناتھ (17 ویں صدی) کی روایات اس دور کی شدید مذہبی رقابت کی عکاسی کرتی ہیں،اگرچہ روایتی کہانی میں خلجی کو آگ لگانے کا ذمہ دار مانا جاتا ہے، لیکن تارناتھ کی روایت اس کا ذمہ دار دو ناراض برہمنوں کو ٹھہراتی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ‘جادوئی آگ’ سے نالندہ کی لائبریری کو جلایا،یہ تضادات ثابت کرتے ہیں کہ نالندہ صرف بیرونی حملوں کا شکار نہیں تھا بلکہ اسے مقامی مذہبی گروہوں کی شدید دشمنی کا بھی سامنا تھا۔
۴. معاشی گلا گھونٹنا: شاہی سرپرستی کا خاتمہ
نالندہ کی بقا ان 200 دیہاتوں کے لگان پر تھی جو اسے گپتا اور پال خاندانوں سے ملے تھے۔
سینا خاندان کا دور: جب ‘سینا’ خاندان (Sena Dynasty) کا اقتدار آیا، جو کٹر برہمنی عقائد رکھتے تھے، تو نالندہ کی مالی امداد روک دی گئی۔
نئی یونیورسٹیوں کا قیام: پال خاندان کے آخری دور میں بھی توجہ نالندہ سے ہٹ کر ‘وکرم شیلا’ اور ‘سومہ پوری’ جیسی نئی درسگاہوں کی طرف منتقل ہو گئی تھی، جس سے نالندہ معاشی طور پر مفلوج ہو گیا۔
۵. عینی شاہد: دھرم سوامی (1234ء) کی گواہی
سب سے اہم ثبوت تبتی سیاح دھرم سوامی کی یادداشتیں ہیں، جو خلجی کے دور کے 40 سال بعد نالندہ آئے،انہوں نے نالندہ کو کھنڈر نہیں بلکہ ایک "تڑپتا ہوا ادارہ” پایا، جہاں ایک 90 سالہ بوڑھے استاد چند طلبہ کو اب بھی پڑھا رہے تھے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نالندہ جلا نہیں تھا، بلکہ اسے لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔ ترکوں کے چھوٹے دستوں کے مسلسل خوف اور مقامی تعاون کی کمی نے اس کے بچنے کی آخری امید بھی ختم کر دی۔
حاصل تحریر :
بختیار خلجی تاریخ میں ایک”علامت” (Symbol) بن گیا ہے۔ تمام بدھ مراکز کی تباہی کا ملبہ اس پر ڈالنا دراصل تاریخ کو آسان بنانے کا ایک طریقہ تھا تاکہ پیچیدہ مذہبی اور داخلی اسباب پر بحث نہ کرنی پڑے،حقیقت یہ ہے کہ شنکر اچاریہ نے اسے فکری طور پر کمزور کیا۔برہمنوں اور مقامی راجاؤں نے اسے معاشی طور پر تنہا کیا۔بختیار خلجی نے اس کے پڑوس (اودانتاپوری) کو تباہ کر کے اس کے بچنے کی آخری امید (سیکیورٹی اور سپلائی) ختم کر دی،یوں نالندہ جلا نہیں، بلکہ بجھ گیا،اگر نالندہ اندرونی طور پر مضبوط ہوتا اور اسے مقامی معاشرے کی حمایت حاصل ہوتی، تو وہ اس حملے کے بعد دوبارہ جی اٹھتا، جیسا کہ ماضی میں کشان اور گپتا دور کے حملوں کے بعد ہوا تھا۔ نالندہ کا مستقل خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی زمین اس وقت تک بدھ مت کے لیے اجنبی ہو چکی تھی، بختیار خلجی نالندہ کی تباہی کا "واحد مجرم” نہیں بلکہ اس زوال کے آخری مرحلے کا ایک "سیاسی مہرہ” تھا۔