🔰حقیقی گھر کی طرف واپسی
🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
گزشتہ دنوں مشہورنام نہاد سماجی تنظیم آرایس ایس کے قائد جناب موہن بھاگوت صاحب نے بھارت کے مسلمانوں اورعیسائیوں کو ’’گھرواپسی‘‘کی دعوت دی ہے، گھرواپسی سے ان کی مراد ہے: اِن مذہبی اکائیوں کا ہندو دھرم اورنئی اصطلاح میں ’’سناتن دھرم‘‘ کو قبول کرلینا، ملک کے دستور میں جو مذہبی آزادی کا حق رکھاگیاہے، اس کے تحت ہرشخص کو اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق دیاگیاہے؛ لیکن اس سے یہاں کےفرقہ پرست عناصر کو بہت تکلیف ہے، وہ جس مذہب کی پیروی کرتے ہیں، وہ انسانوں کے درمیان نابرابری پر مبنی ہے، اس میں عورتوں کو سماجی حقوق سے محروم رکھاگیاہے، مذہبی فرائض کو صرف برہمن اور اعلیٰ ذات کے افراد ہی انجام دے سکتے ہیں، دوسرے لوگ مذہبی رہنمائی کا فریضہ تو کیاانجام دیں گے، وہ بعض مندروں میں بھی داخل نہیں ہوسکتے، اس کی تعلیمات قدم قدم پر عقل اورفطرت سے ٹکراتی ہیں، جو مورتیاں بولنے سے اورحرکت کرنے سے محروم ہیں، اور خود اپنے آپ سے ایک مکھی کو نہیں بھگاسکتیں، ان کو خداقراردیتے ہیں، جو عورت بیوہ ہوجائے، خواہ وہ کتنی ہی کم عمر ہو، اس پر نکاح کا دروازہ بند کردیاجاتاہے، انسانوں کےایک طبقہ کو اتنا حقیر سمجھاجاتاہے کہ اگر کھانے یاپانی کے برتن میں ان کا ہاتھ لگ جائے تو اس کو ناپاک اورناقابل استعمال باور کیاجاتاہے، ظاہر ہے کہ ایسے مذہب کے بارے میں کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ نئے اورسمجھ دار لوگ اس کوقبول کریں گے!
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے بہت سے پرانے لوگ اس گھر سے باہر آتے رہے ہیں اورنئے لوگ اس ’’گھر‘‘میں داخل نہیں ہورہے ہیں ،ایران وافغانستان سے لے کر مشرقی ایشیاانڈونیشیا، ملیشیا،کمبوڈیا، تائیوان وغیرہ کو دیکھیں تو لاکھوں لوگوں نے اپنی مرضی سے اس گھر کو چھوڑ دیاہے، اورجولوگ اس گھر میں ہیں، وہ کسی عقل اورمنطق کے تحت نہیں ہیں؛ بلکہ موروثی روایت کے تحت ہیں، یہ صرف موجودہ ہندوازم کا معاملہ نہیںہے؛بلکہ تاریخ میں تمام بت پرست قوموں کے پاس اپنے عمل کی کوئی دلیل نہیں تھی، ان کا ایک ہی نعرہ تھاکہ ہمارے باپ دادا اس کو کرتے آئے ہیں؛ اس لیے ہم بھی اس کو کرتے رہیں گے:
قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ ۔(الزخرف: 22)
ان کا کہناتھا:ہم نے اپنے آباءواجداد کو اسی پر پایاہے اور ہم ان کے نقش قدم پر چل کرہی فلاح یاب ہوں گے۔
اس لیے اگر کوئی گروہ آپ کے گھر سے نکل گیا تو پہلے خود اپنے گھر کی کمزوریوں کو تلاش کرناچاہیے، اب یہی دیکھیے کہ اس وقت مغرب سے لے کر مشرق تک اسلاموفوبیا کا بازار گرم ہے،پورا میڈیا اسلام کے خلاف محاذ جنگ کھولے ہوئے ہے؛لیکن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، دوہزار دس سے دوہزار بیس کے درمیان مسلمانوں کی آبادی ایک اعشاریہ سات ارب سے بڑھ کر تقریباً دو ارب ہوگئی، عالمی مذہبی تناسب میں مسلمانوں کی تعداد چوبیس فیصد سے بڑھ کر چھبیس فیصد ہوگئی(بحوالہ پیو ریسرچ سنٹر،بھارت ایکسپریس)مغربی تجزیہ نگاروںکا اندازہ ہے کہ دوہزار پچاس تک مسلمانوں کی تعداد دواعشاریہ اٹھ ارب ہوجائے گی، جو عالمی سطح پر آبادی کا تیس فیصد ہوگا۔
یہ سب ’’گھر واپسی‘‘جیسی کسی تحریک کی وجہ سے نہیں ہورہاہے، ؛بلکہ اسلام کی کشش ، اسلامی تعلیمات کی عقل وفطرت سے ہم آہنگی، اورمساوات وبرابری پرمبنی منصفانہ تعلیمات کی وجہ سے ہے، آرایس ایس کے حامی کتنی بھی نفرت انگیز مہم چلائیں، فسادات برپاکریں، اور ملک کے امن وامان کو تباہ کرنے کی کوشش کریں، مگر ان شاء اللہ وہ مسلمانوں کو اپنی راہ سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے،یہ دل و دماغ کا سوداہے، جسے دھمکیوں سے اورپیسوں سے خریدانہیں جاسکتا، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو دعوت دیں کہ وہ اپنے’’ حقیقی گھر ‘‘کی طرف واپسی کریں، جس فرضی گھر میں ابھی وہ وقت گزار رہےہیں، اس کے بارے میں خلوص کے ساتھ غورکریں۔
پوری انسانیت کا اصل گھر عقیدۂ توحید ہے، پہلے انسان سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے توحید کی ہی تعلیم دی تھی، قرآن مجید کہتاہے کہ جب خالق کائنات نے ان کو وجود بخشا توان سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ،حضرت آدم علیہ السلام اوران کی ذریت جس کی وہ نمائندگی کررہے تھے، نے کہا،ہاں! کیوں نہیں،قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا [الأعراف: 172]فکر ونظرکا یہی وہ گھر ہے جو سب سے پهلے انسانیت کے لیے تعمیر کیاگیاتھا، عقیدۂ توحید کا گھر ، آج بھی دنیا کی مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے؛ چنانچہ رگ وید میں ہے:
جو ایک انسانوں کو دیکھنے والا ہے، اسی ایک کی تعریف کرو(رگ وید:۱۶:۴۵:۵۶)
اتھر وید میں ہے:
وہ ایشور ایک ہے اور حقیقت میں وہ ایک ہی ہے(اتھروید:۱۲:۴:۱۴)
رگ وید میں نہ صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیاگیاہے ؛بلکہ شرک کی صاف طورپر نفی بھی کی گئی ہے، کہاگیاہےـ:
اے لوگو! پرمیشور کے سوا کسی اور عبادت نہ کرو، اسی میں تمہارا فائدہ ہے(رگ وید:۱:۱:۱۸)
یجروید میں شرک کےارتکاب پر عذاب کی خبر دی گئی ہے:
جو کوئی اسمبھوتی(خدا کی بنائی چیزیں جو انسانوں کے لیے ناممکن ہیں، جیسے:آگ،ہوا،پانی، اورمٹی،انسان اورحیوان)کی پوجاکرتے ہیں، انہیں اندھیری جہنم میں داخل کیاجائے گا، اورجولوگ سمبھوتی (انسانوں کے لیے ممکن جیسے مکان، گاڑی اورمورتی وغیرہ) کی پوجاکرتے ہیں ،وہ مزید گہرے اوراندھیرے جہنم میں گرایا جائے گا۔ (یجروید :۹:۴۰)
ہندومذہبی کتابوں سے یہ چند مثالیں ہیں؛لیکن ان کی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں توحید کا بیان کثرت اور تکرار کے ساتھ منقول ہے :پنڈت دیانند سرسوتی جی جو ویدوں کے بڑے عالم تھے، ان کی کتاب سیتیارتھ پرکاش کئی زبانوں میں نقل کی گئی ہے، ان سے پوچھاگیاکہ وید میں ایشور بہت ہیں، اس بات کو تم مانتے ہویانہیں؟جواب دیا: نہیں مانتے؛کیونکہ چاروں ویدوں میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی ہے جس سےکئی ایشور ثابت ہوں؛لیکن یہ تو لکھا ہے کہ ایشور ایک ہے۔
عیسائیت جس کو ماننے والوں کی تعداد کے اعتبارسے دنیا کا سب سے بڑا مذہب کہاجاتاہے، میں بھی قدم قدم پر توحید کی تعلیم ملتی ہے، بائبل کے ایک صحیفہ میں فرمایاگیاہے:
خداوند ،تیرا فدیہ دینے والاہے، جس نے رحم میںتجھے، بنایا،یوں فرماتاہے کہ خداوند سب کاخالق ہوں، میں اکیلا ہی زمین کو تاننے اور بچھانے والا ہوں، کون میرا شریک ہے(یسعیاہ:۲۴:۴۴)
نیز فرمایاگیاہے:
خداوند فرماتاہے :تم میرے گواہ ہو، اورمیرے خادم بھی، جسے میں نے برگزیدہ کیا؛تاکہ تم جانو اورمجھ پر ایمان لائو اور سمجھوکہ میں وہی ہوں ،مجھ سے پہلے کوئی خدانہیں تھا، اورنہ میرے بعد بھی کوئی ہوگا۔ (مصدرسابق )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت ہے:
زمین پر کسی کو اپناباپ نہ کہو، تمہارا باپ ایک ہی ہے، جو آسمانی ہے(متی:۹:۲۳)
غرض کہ عقیدہ ومذہب کے اعتبار سے انسانیت کا حقیقی گھر اسلام ہے، ہر مذہب نے بنیادی طورپر اسی کی دعوت دی ؛لیکن مذاہب کے پیروکاروںنے اس میں ردوبدل کرکےشرک کو شامل کردیا، عیسائیوں نے تین خدا بنالیے اور جولوگ اپنے آپ کو سناتنی کہتے ہیں، انہوں نے ۳۳؍ کروڑ ؛لیکن ان سب کا اصل دھرم سے کوئی تعلق نہیں؛ اس لیے اسلام ہی پوری انسانیت کا’’ حقیقی گھر ‘‘ہے،آرایس ایس کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں كو فرضی گھر کی طرف بلانے کی بجائے ان کے حقیقی گھر کی طرف آنے کی دعوت دیں، اس وقت ہمارے ملک میں جومسائل ہیں، وہ بنیادی طورپر ذات پات اوراونچ نیچ کی وجہ سے ہیں، اگر سارے لوگ اس حقیقی گھر کی طرف آجائیں تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا، کاش ‘آرایس ایس کے سربراہ فراخ دلی سے کام لیں، اوریاتوملک کے دستور پر قائم رہیں یا گھرواپسی کی ہی دعوت دینا ہو تو حقیقی گھر کی طرف بلائیں۔
۰ ۰ ۰