شب برات کی فضیلت
احادیث اور علماء دین کی آراء کی روشنی میں
غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
____________________
کئی قارئین نے شب برات کے حوالے سے مضمون لکھنے پر اصرار کیا ۔ حالانکہ میں نے پچھلے سال شب برات پر ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا ،
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ میں اس طرح کے موضوعات پر بار بار مضامین لکھنے بیٹھ جاؤں ، جبکہ موجودہ دور میں اس سے بھی زیادہ اہم موضوعات پر کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہے ، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق انہی اہم موضوعات پر لکھنا یا بولنا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔
اس لئے میں آج دوبارہ پچھلے سال ہی کا لکھا گیا مضمون کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔
______________________
شب برات کے حوالے سے ایک قاری کا سوال ان الفاظ میں موصول ہوا ہے ۔
” شعبان کی پندرہویں شب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز اور تحریریں بھی دیکھنے کو ملی تھیں ، جن میں بعض اس شب کی فضیلت کے قائل نظر آتے ہیں ، اور بعض اس کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں ، اور وہ اس کے بارے میں قطعی طور پر بتاتے ہیں کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے ، اور اس کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ، وہ سب کی سب یا تو ضعیف ہیں اور یا پھر موضوع ۔
اس سلسلہ میں اگر آپ کوئی مضمون لکھیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی ، کیونکہ آپ کی تحریر سے اطمینان سا حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے جواب سے ضرور ممنون فرمائیں گے "
محمد شفیع ڈار / سرینگر
اس سے کافی عرصہ پہلے ایک اور نوجوان کا مسیج ان الفاظ میں آیا تھا ۔
” میں پچھلے چند ماہ سے آپ کے تعمیر فکر کے پیج پر آپ کے مضامین مسلسل پڑھ رہا ہوں ، جن سے مجھے کافی فائدہ بھی ہو رہا ہے ۔
آپ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ آپ بڑی دیانت داری سے ہر موضوع کا پورا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور ان کو پڑھتے ہوئے اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے ۔
لیکن میں ایک دو دن سے انتظارِ کر رہا تھا کہ آپ کا کوئی مضمون شب برات کے بارے میں بھی آئے گا ، لیکن ابھی تک اس موضوع کے بارے میں کوئی مضمون نہیں آیا ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ اس شب برات کے موضوع پر ایک تفصیلی و تحقیقی مضمون تحریر فرمائیں ، تو یہ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی "
منیر احمد رعناواری /سرینگر
جس طرح قرآن کے ذریعہ شب قدر کی فضیلت قرآن سے ثابت ہے ، اور سورہ قدر کے نام سے ایک پوری سورت شب قدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، اس طرح کی کوئی آیت شب برات کے بارے میں قرآن میں موجود نہیں ہے ، البتہ بعض مفسرین کے نزدیک ایک شاذ قول کے مطابق سورہ دخان کی اس آیت سے شب برات مراد لیا گیا ہے ۔
اِنَّـآ اَنْزَلْنَاهُ فِىْ لَيْلَـةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ ۔
( الدخان : 3)
ہم نے اس ( قرآن مجید) کو مبارک رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم خبر دار کرنے والے ہیں ۔
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس مبارک رات سے شب برات نہیں ، بلکہ شب قدر ہی مراد ہے ۔ جیساکہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔
و من قال إنها ليلة النصف من شعبان كما روي عن عكرمة فقد أبعد النجعة ، فإن النص القرآن أنها في رمضان.
( تفسير ابن كثير : ج 4 ، ص 173)
اور جس نے یہ کہا کہ یہ (رات) شعبان کی پندرھویں رات ہے، جیسا کہ عکرمہ سے منقول ہے، تو اس نے بہت دور کی بات کہی؛ کیونکہ قرآن کی صریح نص یہ ہے کہ وہ (رات) رمضان میں ہے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ لیلۃ القدر اور لیلۃ المبارکہ کے ایک ہی رات ہونے کا تعین ایک اور آیت سے ہوتا ہے کہ وہ رات صرف رمضان میں ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے خود واضح کیا ہے کہ نزول قرآن کا آغاز رمضان کے مہینہ میں ہوا تھا ۔ جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّـذِىٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْـهُـدٰى وَالْفُرْقَانِ ۔
(البقرہ : 185)
رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔
جبکہ اس کے برعکس صحیح بات یہ ہے کہ شبِ برات کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں آیا ، اس کے لئے کوئی اشارہ یا صراحت نہیں ملتی ہے ، بلکہ اس کے لئے تمام تر بنیاد احادیث پر ہے ۔ چنانچہ یہ بات تقریباً سب کے علم میں ہے کہ شب برات کی فضیلت کے بارے میں جتنی بھی حدیثیں آئی ہیں ، ان میں بعض روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں ، اور چند کو تو موضوع بھی قرار دے دیا گیا ہے ، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس شب کی فضیلت کے بارے میں امام ترمذی ، امام نسائی ، امام ابن ماجہ ، امام ابن حبان اور امام بیہقی وغیرہ بہت سے محدثین نے احادیث کو ضعف اسناد کے باوجود نقل کیا ہے ، اور ان پر جو ابواب انہوں نے ترتیب دئے ہیں ، وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ وہ سارے محدثین اس شب کی فضیلت کے حوالے سے کسی نہ کسی پہلو سے ضرور قائل تھے ، کیونکہ ان کا ان احادیث پر ابواب ترتیب دینا ہی ان کے اپنے ذاتی موقف اور ان روایات کی طرف ان کے میلان کو ظاہر کرتا ہے ، اور اگر اس شب کی کوئی اصل ہی نہ ہوتی ، تو پھر وہ اس شب کی فضیلت کے بارے میں کیسے ابواب ترتیب دے سکتے تھے ؟ حالانکہ وہ ان کو نقل کرنے کے بجائے مسترد کر دیتے اور صاف صاف لکھ دیتے کہ شب برات کی فضیلت کے بارے میں منقول روایات ناقابل استدلال ہیں ، لیکن انہوں نے ایسا نہ کرتے ہوئے ان کو نقل کرکے ان پر بیجھجک ابواب بھی قائم کئے ۔
میں نے بھی بہت پہلے اس شب کی فضیلت و شرعی حیثیت کے حوالے سے ایک کتابچہ لکھ دیا تھا ، جسے تقریباً 30 سال پہلے بزم توحید اہلحدیث نے اپنی لاگت سے شائع کیا تھا ، چونکہ میرے جتنے بھی اہلحدیث علماء استاد تھے ، وہ سب کے سب شب برات کی فضیلت کے قائل تھے ، اور بزم توحید اہلحدیث کے بانی مولانا غلام نبی مبارکی مرحوم بھی اس شب کی فضیلت کے قائل تھے ، اور وہ اس شب کو بازار مسجد بہوری کدل میں اجتماعی طور پر کرتے تھے ، اور وعظ و تبلیغ بھی کرتے تھے ۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ متاخرین علماء اہلحدیث میں ایک مشہور اہل حدیث عالم اور سنن ترمذی کے شارح مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوری (1865ء – 1935ء) سے کون واقف نہیں ہوگآ ؟ اور وہ مشہور عالم اور صاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی ( 1904ء – 1997ء) کے استاد بھی تھے ۔ چنانچہ مولانا عبد الرحمن مبارکپوری شب برات کی فضیلت کے بارے میں سیدہ عائشہ سے مروی حدیث ( رقم الحدیث 736 ) کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
اعلم انه قد ورد في فضيلة ليلة النصف من شعبان عدة أحاديث مجموعها يدل على أن لها اصلا .
( تحفة الاحوذى بشرح جامع
الترمذى ، ج 3 – ص 365 )
یہ بات اچھی طرح جان لو کہ نصف ( پندرہ) شعبان کی رأت کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئے ہیں، جن سے مجموعی طور سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس رات کی اصل ( بنیاد اور فضیلت) موجود ہے ۔
اس کے بعد علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری نے شب برات کی فضیلت کے بارے میں متعدد روایات پر نقد و جرح اور کلام کرتے ہوئے آخر میں یہ غور بات بھی تحریر فرمائی ہے ۔
فهذه الأحاديث بمجموعها حجة على من زعم أنه لم يثبت في فضيلة ليلة النصف من شعبان شيئ ۔
( تحفة الاحوذى ، ج 3 ۔ ص 367 )
یہ احادیث مجموعی طور پر ان لوگوں کے خلاف حجت ( یعنی دلیل ) ہیں ، جن کا خیال ہے کہ نصف (پندرہ) شعبان کی فضیلت کے بارے میں کچھ ثابت نہیں ہے ۔
اسی طرح جماعت اہلحدیث ہی کے معروف و ممتاز عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری (1868ء – 1948ء) نے بھی اپنی فتاویٰ میں لکھا ہے کہ اس شب میں اگر کوئی کار خیر کرے گا ، وہ ضائع نہیں ہوگا ۔ جیساکہ ان کی فتاویٰ سے اس شب کے متعلق ایک سوال اور اس کا جواب یہاں من و عن نقل کیا جاتا ہے ۔
” س : پندرہویں شب شعبان کو کیا شب کرنے کا کوئی ثبوت ہے ؟ اس شب کو ثواب جان کر تلاوت یا عبادت کرنا کیسا ہے ؟
ج : اس رات کے متعلق ضعیف روایتیں ہیں ، اس دن کوئی کار خیر کرنا بدعت نہیں ہے ، بلکہ بحکم إنما الاعمال بالنيات موجب ثواب ہے "
( فتاوائے ثنائیہ : ج 1 ، ص 413 ، ایڈیشن 1372ھ / قدیم نسخہ)
علامہ منذری نے اپنی مشہور کتاب ” الترغیب والترھیب ” میں ایک باب اس طرح ترتیب دیا ہے ۔
الترغیب في صوم شعبان و ما جاء في صيام النبي صلى الله عليه وسلم له و فضل ليله نصفه .
یعنی ماہِ شعبان کے روزوں کی ترغیب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شعبان میں روزے رکھنے کے بارے میں وارد روایات، اور شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کا بیان۔
پھر اس باب کے تحت انہوں نے فضیلت شعبان اور فضیلت نصف شعبان کے بارے میں 14 احادیث نقل کی ہیں ، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھی اس شب برات کی فضیلت کے قائل تھے ۔
( دیکھئے تفصیل کے لئے ، الترغيب و الترهيب : ج1 ، ص 71 تا 74 ، پاکستانی عربی ایڈیشن)
علامہ ابن تیمیہ (1263ء -1328ء) بھی شب برات کی فضیلت کے قائل تھے ، جیساکہ جب ان سے اس نصف شعبان کی رات کی عبادت کے متعلق سوال کیا گیا ( و سئل عن صلاة نصف شعبان) تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا .
اذا صلى الإنسان ليلة النصف وحده أو في جماعة خاصة كما كان يفعل طوائف من السلف فهو احسن ۔
( مجموع فتاوی لشيخ الإسلام أمام ابن تیمیة : ج 21 . ص 131/ ایڈیشن 2011ء : بیروت)
جب آدمی نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے ۔
اسی طرح امام ابن تیمیہ نے اپنی ایک اور کتاب میں شب برات کی فضیلت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے ، اور جو باتیں صحیح نہیں ہیں ، ان پر بھی روشنی ڈالی ہیں ، لیکن ان کے نزدیک اس شب کی فضیلت ثابت ہے ، چنانچہ وہ اس بحث کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں ۔
ومن ھذا الباب : ليلة النصف من شعبان فقد روي في فضلها من الاحاديث المرفوضه والاثار ما یقتضی انها ليلة مفضلة .
( اقتضاء الصراط المستقيم : ج 2 ، ص136 ۔ ایڈیشن 1998ء ، ریاض سعودی عربیہ)
اور اس باب میں نصف شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں مرفوع احادیث و آثار مروی ہیں ، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ رات فضیلت والی ہے ۔
یہ بات بھی تقریباً سب کے علم میں ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی (1914ء – 1999ء) نے فضیلت شب برات کے بارے میں بعض روایات کو صحیح قرار دیا ہے ، اور یہ بات بہت سے علماء نے بھی ان کی مشہور کتاب ” سلسلة الاحديث الصحيحة ” کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگرچہ میرے پاس اس کتاب کا عربی ایڈیشن نہیں ، بلکہ اردو ایڈیشن موجود ہے ، چنانچہ جس حدیث کو علامہ ناصر الدین البانی نے صحیح قرار دیا ہے ، وہ حدیث سنن ابن ماجہ کے حوالے سے اس طرح آئی ہے ۔
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ .
( سنن ابن ماجه : كِتَابٌ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا : بَابٌ مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.
رقم الحديث 1390/ حكم الحديث : حسن )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ نے نصف شعبان کی رات ( شب برات) کو جھانکتے ہیں ، اور شرک کرنے والوں اور باہم بغض رکھنے والوں کے علاوہ ساری ( صاحب ایمان) مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔
علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة میں نقل کیا ہے ، جس کے اردو ایڈیشن میں یہ حدیث جلد 5 صفحہ 181 پر موجود ہے ۔
لیکن اس کتاب کے اردو ترجمہ کار محمد محفوظ احمد نے اس حدیث کے تحت شب برات کی رات میں کی جانی والی بعض بدعات کا ذکر کرکے اس حدیث کی اہمیت ہی کو علمی بد دیانتی کے ساتھ مجروح اور بے اثر کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ، لیکن بہرحال حدیث نبوی کا اپنا ایک مقام اور اپنی ایک عظمت ہوتی ہے ، کوئی متعصب شخص خود کو کتنا ہی غیر متعصب ظاہر کرے ، مگر وہ اپنے باطن کے اثرات کسی نہ کسی طرح چھوڑ ہی دیتا ہے ۔
علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کی صحت کو ثابت کیا ہے ، تحقیق کے اعتبار سے یہی بات کافی ہے ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی نصف شعبان کی فضیلت کے قائل تھے ، کیونکہ میرے علم میں آج تک اس کا رد کسی بھی اہلحدیث عالم سے ثابت نہیں ہے ، نیز کافی عرصہ پہلے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نو میں شب برات کی فضیلت کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا تھا ، اور اس میں بھی علامہ ناصر الدین البانی کا حوالہ موجود تھا ، تو اس سے ثابت ہوا کہ جب علامہ ناصر الدین البانی ، جس کی تحقیق و تخریج پر موجودہ اہلحدیث حضرات کو کچھ زیادہ ہی ناز ہے ، کی تحقیق کے مطابق بعض صحیح احادیث سے بھی شب برات کی فضیلت ثابت ہے ، تو پھر اختلاف کس بات پر ؟
جماعت اسلامی ( پاکستان ) کے معروف عالم دین مولانا گوہر رحمان مرحوم (1936ء – 2003ء) نے شب برات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تفصیل سے لکھا ہے ، جس کے آغاز میں یہ عبارت موجود ہے ۔
” شعبان کی پندرھویں رات جو شب برات کے نام سے مشہور ہوگئی ہے ، اس کی فضیلت میں احادیث رسول مروی ہیں ، اگرچہ ان کی اسانید ضعیف ہیں ، مگر ان کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت بالکل بے اصل اور بے بنیاد نہیں ہے "
اس کے علاوہ مولانا گوہر رحمان نے اس شب کے ساتھ جڑی بدعات و خرافات پر بھی تفصیل سے لکھا ہے ۔
( دیکھئے : تفہیم المسائل ، ج1 ، ص211 تا 216 ، ایڈیشن 2012ء پاکستان )
جماعت اسلامی ہند کے ایک اور عالم مولانا سید عروج احمد قادری (1913ء- 1986ء) ” پندرہویں شعبان کا روزہ بدعت نہیں ” کے حوالے سے ایک سوال کے جواب کے آغاز ہی میں تحریر فرماتے ہیں ۔
” یہ بات تو صحیح ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب میں زیارت قبور اور 15 شعبان کے روزے کو جو اہمیت دے دی گئی ہے ، اس کا کوئی شرعی ثبوت موجود نہیں ہے ، لیکن 15 شعبان کے روزے کے بارے میں حضرت علی کی جو حدیث ہے ، اس کو بالکل نا قابل قبول کہنا بھی صحیح نہیں ہے ، وہ حدیث یقیناً ضعیف ہے ، لیکن موضوع نہیں ہے ، اس حدیث کو ابن ماجہ کے علاوہ امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور حافظ منذری نے ترغیب و ترہیب میں درج کیا ہے ، اور کسی محدث نے اس کو موضوع نہیں قرار دیا ہے "
اور آخر میں یہ بھی تحریر فرماتے ہیں ۔
” شب برات میں جو خرافات لوگوں نے رائج کردی ہیں ، ان سے انہیں بچانے کی کوشش کرنی چاہئے ، لیکن اس رات عبادت اور دن کے روزے کو بدعت قرار دینا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے "
( احکام و مسائل : ج 1 ۔ ص 272-273 /
مرتب ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
واضح رہے شب برات کی فضیلت کے حوالے سے جن احادیث کو ضعیف بتایا جاتا ہے ، ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے ۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا، وَصُومُوا نَهَارَهَا ؛ فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ : أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ ؟ أَلَا كَذَا ؟ أَلَا كَذَا ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ .
(سنن ابن ماجه : كِتَابٌ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا : بَابٌ : مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ : رقم الحديث 1388 / ضعيف)
سیدنا علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس کی رات کو قیام کیا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھا کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ اس رات اپنے حسبِ حال غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں ؟ کیا کوئی بیماری میں مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت دوں ؟ کیا کوئی ایسا ہے ؟ کیا کوئی ویسا ہے ؟ یہاں تک کہ طلوعِ فجر ہو جاتی ہے ۔
مولانا محمد تقی عثمانی نے اپنی شرح ” درس ترمذی ” میں شب برات کے متعلق مروی احادیث پر بہت ہی جامع طریقہ سے روشنی ڈالتے ہوئے آخر میں لکھا ہے ۔
” لیکن ان روایات کے ضعف کے باوجود شب برات میں اہتمام عبادت بدعت نہیں ، اول تو اس لئے کہ روایات کا تعدد ان کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ لیلۃ البراءت کی فضیلت بے اصل نہیں ، دوسرے امت کا تعامل لیلۃ البراءت میں بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کا رہا ہے ، اور یہ بات ( دوران درس ) کئی مرتبہ گذر چکی ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہو ، وہ مقبول ہوتی ہے ، لہذا لیلۃ البراءت کی فضیلت ثابت ہے ، اور ہمارے زمانے کے بعض ظاہر پرست لوگوں نے احادیث کے محض اسنادی ضعف کو دیکھ کر لیلۃ البراءت کو بے اصل قرار دینے کی جو کوشش کی ہے ، وہ درست نہیں "
لیکن اس کے ساتھ ساتھ تقی عثمانی صاحب نے اس شب سے جڑی بدعات اور بے اصل چیزوں پر بھی لکھا اور ان سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔
( تفصیل کے لئے دیکھئے ، در س ترمذی : ج 2 ۔ ص 579 تا581 )
ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ شب برات کی فضیلت کے بارے میں 17 صحابہ کرام سے احادیث مروی ہیں ، لیکن اگر شب برات کے بارے میں ساری حدیثیں ضعیف یا موضوع ہوتیں ، تو پھر یہ کیسے ممکن ہوتا کہ مختلف ملکوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے محدثین و راویان احادیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی ایک جھوٹی بات کو منسوب کرنے میں متفق ہوگئے ، اور سب کے سب نے شعبان کی پندرہویں رات کو ہی کیوں فضیلت والی رات قرار دیا ہے ؟ کسی ایک نے بھی کوئی دوسری تاریخ یا کوئی دوسرا مہینہ اختیار نہیں کیا ؟ کیا یہ اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہیں کہ اس شب برات کی کچھ نہ کچھ اصل اور فضیلت ضرور ہے ۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ اس پندرہویں شعبان کی رات اور دن میں اگر کوئی شخص کسی طرح کا کار خیر کرنا چاہئے تو وہ اعتدال پسند علماء کے نزدیک بدعت نہیں ہے ، کیونکہ اس شب میں انفرادی طور پر قیام و تلاوت کرنا اور پھر اس دن روزہ رکھنا ، قدیم زمانے سے امت کے ایک بڑے حصہ کا معمول رہا ہے ، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ جس کو جو توفیق ملے کرے ، اور اگر کوئی نہیں کرنا چاہئے تو یہ کوئی واجب یا لازمی حکم نہیں ہے کہ اس کے نہ کرنے سے آدمی گناہ گار ہوجائے گا ۔
ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ کیا یہ شب مساجد میں کیا جاسکتا ہے ؟ مساجد میں تو شب قدر کا شب کرنا بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ، لیکن اہلحدیث حضرات من پسند دین کے قائل ہیں ، وہ جس کو کرے ، وہ سنت بن جاتی ہے ، اور اسے منہج سلف کا نام دیا جاتا ہے ، لیکن کوئی دوسرا کرے ، تو اس پر دلیل طلب کی جاتی ہے ، اور یا پھر اسے بدعت قرار دیا جاتا ہے ، لیکن خود اس جماعت کے کتنے اعمال ایسے ہیں ، جن پر احادیث نبوی میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ، مثال کے طور پر اہلحدیث حضرات رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ایک شب نہیں پانچ پانچ شب مساجد میں ہی کرتے ہیں ، کبھی ایک مسجد میں جاتے ہیں ، تو کبھی دوسری مسجد کا رخ کرتے ہیں ، اور اسی چکر میں رات بھر گھومتے رہتے ہیں ، چائے اور دوسری کھانے کی چیزوں کا بھی انتظام کیا جاتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالی نے عبادت کرنے کے لئے لوگوں کو مزدوری پر رکھا ہوا ہے ۔
لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا صحابہ کرام بھی شب قدر اجتماعی طور پر مناتے تھے ؟ نہیں ، بالکل نہیں ، ایسا کرنا کسی ضعیف تو کیا موضوع حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے ، لیکن اہلحدیث حضرات مساجد میں اجتماعی شب بیداری کرتے ہیں ، اور چائے وغیرہ کا بھی انتظام کرتے ہیں ۔
اسی طرح نائیلون موزوں پر مسح کرنے کی روایتیں اس طرح کی مضبوط نہیں ، جس طرح چمڑے کے موزوں پر تواتر کے ساتھ احادیث موجود ہیں ، لیکن احناف کے ساتھ ضد پکڑنے اور کچھ الگ کرنے کی جو دھن ان کے قلب و ذہن پر ہر وقت سوار رہتی ہے ، اس کی چکر میں وہ ہر وقت کچھ الگ کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں ، اس لئے اگر وہ شب برات کو مساجد میں کرنے کو بدعت کہتے ہیں ، تو پھر اس کا اطلاق شب قدر کے شبوں پر بھی ہوگا ، کیونکہ اجتماعی طور سے شب قدر میں بھی شب کرنے کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے ، لیکن مادیت کے غلبہ کی وجہ سے اب لوگ گھروں میں شب بیداری نہیں کر پاتے ہیں ، سوجاتے ہیں ، اس لئے وہ مساجد کا رخ کرتے ہیں ، وہاں وہ وعظ وتبلیغ بھی سنتے ہیں ، تلاوت و نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں ، جو کہ قطعاً بدعت میں شامل نہیں ہے ۔
میں بھی ذاتی طور پر اس شب برات کی فضیلت کے قائلین علماء کی تقلید کرتا ہوں ، اور ہمیشہ اس شب میں عشاء کی نماز مسجد میں پڑھنے کے بعد کچھ دیر تک مسجد میں ہی بیٹھتا ہوں اور کبھی کبھی اپنے والد اور دادا جی کی قبر پر بھی فاتحہ پڑھنے کے لئے جاتا ہوں ، لیکن اس عمل کو میں دوسروں پر لازمی قرار دینے کی ضد نہیں کرتا ہوں ، نیز اس شب میں جو کچھ آج کل قبرستانوں میں چراغاں کیا جاتا ہے ، وہ صریحاً بدعت ہے ۔
و ما علینا الا البلاغ
______________________