عقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدود
(کچھ لوگ اس وہم مين مبتلا ہیں کہ عقل خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے، حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ عقل کبھی کسی متعین (definite) حقیقت کو ثابت نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ اَعرَفُ المعارف ہیں، يعنى سارى متعين حقيقتوں سے زياده متعين ہیں، اور عقل کی ادراکاتی حدوں سے ماوراء، جب ہم عقل کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا مکلف بناتے ہیں تو عقل، خدا کو اس کی خارجی اور حقیقی ذات سے الگ کرکے محض ایک کلی ذہنی تصور (concept) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ تصور قابلِ حلول اور قابلِ اتحاد ہوتا ہے، کوئی نظام مسلسل ہو سکتا ہے، اور اس کا اطلاق متعدد مصادیق پر کیا جا سکتا ہے۔ اس تصور کے لیے توحید لازم نہیں، بلکہ اس کی طينت میں شرک داخل ہے۔ دوسرے لفظوں ميں عقل اس خدا کو ثابت نہیں کرتی جس كى دعوت قرآن مين ہے، اور جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ مزید یہ کہ خدا کو محض عقل کے ذریعے ثابت کرنے کا گمان قرآن سے متناقض ہے، اور یہ طرزِ فکر مسلمانوں کو کتابِ الٰہی میں حقیقی تدبر سے بھی روکتا ہے۔ اسی نکتے کی وضاحت کے لیے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور زیرِ نظر مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔)
از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آكسفورڈ
9/1/2026
عقل انسانی ایک ایسی ادراکی قوّت ہے جو دیگر مداركـ سے اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ وہ جزوی مشاہدات سے کلی اور مجرد معانی اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، حسی ادراک اشیاء کو ان کے وقتی و مکانی تعیّن کے ساتھ حاصل کرتا ہے، اور محدود تجربے کی روشنی میں ان کی پہچان کرتا ہے، لیکن عقل ان جزئیات سے ایک عالی مرتبہ کا شعوری نقش اخذ کرتی ہے، اور انہیں عمومی تصورات کی شكل میں مرتب کر کے ایک فکری نظام قائم کرتی ہے۔ یہی وصف عقل کی طاقت بھی ہے اور اس کے حدود کا تعین بھی۔ عقل قادر ہے کہ وہ کلی اصول وضع کرے، ان سے لازمی نتائج اخذ کرے، اور حقیقت کے عمومی قواعد کی نشان دہی کرے، لیکن اپنی فطرت کے مطابق کسی مخصوص شے یا واقعہ کی جزوی اور معین شناخت پیش نہیں کر سکتی۔ اس کے احکام ہمیشہ عمومی اور مجرد ہوتے ہیں، یعنی وہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اصولی طور پر کیا ہونا لازم ہے، نہ کہ یہ کہ کسی معین زمان و مکان میں کیا ہے۔
عقلی ادراک کا آغاز حسی تجربے سے ہوتا ہے، لیکن اس کا دائرہ صرف مشاہدہ تک محدود نہیں رہتا۔ عقل انفرادی مشاہدات میں سے مشترکہ اوصاف و خصائص اخذ کرتی ہے، اور ان سے ایسے کلی تصورات قائم کرتی ہے جو ہر جزوی واقعہ یا شے پر منطبق ہو سکتے ہیں۔ علت، نظم، مقصدیت، وابستگی اور فاعلیت جیسے تصورات اسی عمل کے نتیجہ ہیں۔ یہ تصورات کسی ایک جزوی شے کی خصوصیت نہیں رکھتے، بلکہ مختلف مصادیق پر قابل اطلاق ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عقلی معرفت کی فطرت کلی اور مجرد ہے۔ کسی شے کو عقلاً جاننا اس کے تمام جزئیات کے مشاہدے سے مختلف ہے؛ بلکہ یہ اس شے کو ایک وسیع تر مفہومی زمرے کے تحت سمجھنا ہے، تاکہ اس کے وجود کے عمومی اسباب اور اصول سامنے آئیں۔
یہ کلی رُخ بندی عقل کے احکام اور استدلال کی نوعیت کو متعین کرتی ہے۔ جب عقل کسی پیچیدہ اور منظم شے کا سامنا کرتی ہے، تو وہ اسے محض ایک انفرادی وجود کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے ایک مصنوع، ایک منظم وجود یا ایک فاعلی نظام کی مثال کے طور پر سمجھتی ہے۔ اس مفہومی درجہ بندی کے بعد عقل کلی علّی اصولوں کو بروئے کار لاتی ہے: اشیاء جن میں ترتیب، تناسب، مقصدیت اور نظام پایا جائے، خود بخود وجود میں نہیں آتیں بلکہ کسی علت کی محتاج ہوتی ہیں۔ اس اصول کے تحت عقل یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ تاج محل یا کوئی دیگر شاندار عمارت بغیر معمار یا فاعل کے وجود میں نہیں آ سکتی۔ یہ نتیجہ محض تاریخی دستاویزات یا مشاہدات پر منحصر نہیں ہے، بلکہ کلی عقلی اصولوں اور ضروریات سے حاصل شدہ نتیجہ ہے۔
تاہم یہ نتیجہ اپنی ماہیت میں مجرد اور کلی رہتا ہے۔ عقل معمار یا فاعل کے وجود کی ضرورت کو ثابت کر سکتی ہے، لیکن اس کی شناخت یا تعیّن بیان نہیں کر سکتی، کسی مخصوص تاریخی شخصیت یا واقعہ کی تعیین کے لیے اضافی ذرائع معرفت درکار ہوتے ہیں، جیسے مشاہدہ، تاریخی اسناد، روایت اور تجربی شواہد۔ عقل ایسی جزئیات پیدا نہیں کر سکتی، کیونکہ وہ صرف کلی اور عمومی اصولوں کی بنیاد پر استدلال کرتی ہے۔ اس طرح عقل یہ ظاہر کرتی ہے کہ وجود میں آنے والی ہر شے محتاج فاعل ہے، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ وہ فاعل کون ہے، ايكـ ہے، يا كئى، مادى ہے يا معنوى، خارجى ہے يا داخلى۔
یہی استدلالی ساخت اس وقت بھی برقرار رہتی ہے جب عقل کائنات کی حقیقت پر غور کرتی ہے۔ عقلی سطح پر کائنات کو اس کی تمام تجرباتی تفصیلات کے ساتھ نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے کلی تصورات کے تحت سمجھا جاتا ہے، جیسے امکان، وابستگی، نظم، ترتیب اور نظام۔ ان تصورات کی روشنی میں عقل یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ کائنات بذات خود قائم بالذات نہیں ہو سکتی، بلکہ اسے کسی جوہر، علت یا لازمی وجود يا وجودوں کی ضرورت ہے۔ یہ استدلال فلسفیانہ اعتبار سے درست ہے، اور ہر اس وجود کے لیے قابل اطلاق ہے جو منظم، محتاج اور تابع قوانین و اصول ہو۔ اسی اعتبار سے عقل یہ درست طور پر ثابت کر سکتی ہے کہ کائنات کا کوئی جوہر، يا علتِ يا تسلسل معنوى ہونا ضروری ہے۔
لیکن یہاں بھی نتیجہ اپنی ماہیت میں مجرد اور کلی رہتا ہے۔ عقل محض جوہر يا علت کی ضرورت کو بتا سکتی ہے، لیکن محض اسی استدلال سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ یہ جوہر کسی مخصوص مذہبی تصورِ خدا کے مطابق ہے۔ ذات، ارادہ، علم، اخلاقی اقتدار، قدرتی احکام کی تعمیل، اور تاریخی ظہور جیسے اوصاف محض مجرد علت کے تصور سے حاصل نہیں ہوتے۔ ایک مجرد علت سے ایک معین، متشخص اور اوصاف سے مزین ہستی تک پہنچنے کے لیے اضافی ذرائع علم درکار ہیں، جو خالص عقلی استدلال کے دائرے سے باہر ہیں۔
اس حد کو عقل کی کمزوری یا ناکامی نہ سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ عقل کے فطری دائرہ کار کی وضاحت ہے۔ عقل کا کام کلی حقائق اور لازمی نسبتوں کو سمجھنا ہے، نہ کہ ہر تاریخی یا شخصی تعیّن کو قائم کرنا۔ جب عقل سے ایسے امور کا مطالبہ کیا جائے جو اس کے دائرے سے باہر ہوں، تو یا تو وہ قیاسات پیدا کرتی ہے جو بے بنیاد اور غیر مستند ہوں، یا اس کی فہم و استدلال پر غیر ضروری شک پیدا ہوتا ہے۔ ایک متوازن نظریہ علم مختلف ذرائع معرفت کے باہمی تکمیلی کردار کو تسلیم کرتا ہے، جہاں ہر ذریعہ وہ معلومات فراہم کرتا ہے جو دیگر ذرائع سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔
نتیجتاً، عقلی استدلال انسانی فہم میں ایک بنیادی اور ناگزیر مگر غیر حتمی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کلی اصولوں کو واضح کرتا ہے، مجرد سطح پر نتائج اخذ کرتا ہے، اور ظاہر کر سکتا ہے کہ بعض حقائق اور موجودات علت کے محتاج ہیں اور کائنات بذات خود بغیر علت يا بغير نظام مسلسل نہیں ہو سکتی۔ تاہم، یہ عقلى استدلال اپنی ذات میں ان علل کی مکمل نوعیت، اوصاف، یا معین شناخت قائم نہیں کر سکتا۔ عقل کے دائرے اور اس کی حدود کا ادراک ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ عقل کی قوت کس حد تک قابلِ اعتماد ہے اور کہاں تک وہ صرف تجریدی اور عمومی حقائق ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ حقیقی اور معین شناخت کے لیے دیگر معرفتی وسائل کی ضرورت لازمی ہے۔