NEW LIFE MENTOR:
(9)
The 7 Habits of Highly Effective People:
نمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیں
اجمالی تعارف اور فکر اسلامی کی روشنی میں تنقیدی مطالعہ
از : مولانا ابو الجیش ندوی
تعارف
اسٹیفن آر کووی کی تصنیف "The 7 Habits of Highly Effective People” جدید دور کی اُن چند کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے فرد، ادارے اور معاشرے—تینوں سطحوں پر سوچ کے زاویے بدلے۔ یہ کتاب محض وقتی کامیابی کے نسخے پیش نہیں کرتی بلکہ انسان کی شخصیت، اقدار اور طرزِ فکر کی ازسرِنو تشکیل پر زور دیتی ہے۔ کووی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ پائیدار کامیابی اصولوں (Principles) سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ وقتی حربوں (Techniques) سے۔
عادت اول: فعال بنیں (Be Proactive)
کووی کے نزدیک انسانی عظمت کی بنیاد ذمہ داری کے شعور میں ہے۔ فعال انسان حالات کا رونا نہیں روتا بلکہ اپنے ردِ عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محرک (Stimulus) اور ردِ عمل (Response) کے درمیان ایک شعوری فاصلہ ہے، اور یہی فاصلہ انسان کو بااختیار بناتا ہے۔
یہ عادت انسان کو جذباتی غلامی سے نکال کر اقدار کی قیادت میں دیتی ہے، جو ہر فکری اور اخلاقی ترقی کی پہلی سیڑھی ہے۔
عادت دوم: انجام کو ذہن میں رکھ کر آغاز کریں (Begin with the End in Mind)
یہ عادت فکری سمت (Direction) عطا کرتی ہے۔ کووی انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا ذاتی دستور (Personal Mission Statement) مرتب کرے۔
بغیر مقصد کے سرگرمی محض تھکن پیدا کرتی ہے، جبکہ واضح انجام کے ساتھ کی گئی محنت معنی خیز بنتی ہے۔ یہ عادت وقتی ترجیحات کے بجائے طویل مدتی وژن کو مرکز بناتی ہے۔
عادت سوم: اہم کاموں کو پہلے رکھیں
(Put First Things First)
یہ عادت نظریے کو عمل میں ڈھالتی ہے۔ کووی کا Time Management Matrix اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مؤثر لوگ فوری (Urgent) کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ اہم (Important) امور پر توجہ دیتے ہیں۔
Quadrant II—یعنی منصوبہ بندی، تعلقات، خود تربیت—اصل کامیابی کی زمین ہے۔ یہی عادت زندگی میں نظم، سکون اور توازن پیدا کرتی ہے۔
عادت چہارم: جیت-جیت کی سوچ
(Think Win-Win)
کووی فرد کو مسابقتی ذہنیت سے نکال کر اخلاقی اشتراک کی طرف لے جاتے ہیں۔ جیت-جیت کی سوچ قلت (Scarcity) کے خوف کے بجائے وسعت (Abundance) کے یقین پر کھڑی ہے۔
یہ عادت ذاتی زندگی سے لے کر ادارہ جاتی فیصلوں تک انصاف، اعتماد اور پائیدار تعلقات کی بنیاد رکھتی ہے۔
عادت پنجم: پہلے سمجھیں، پھر سمجھائیں
(Seek First to Understand, Then to Be
Understood)** یہ عادت ابلاغ کو طاقت دیتی ہے۔ کووی کے مطابق اصل مسئلہ بولنے میں نہیں، سننے میں ہے۔
Emotional Bank Account کا تصور بتاتا ہے کہ تعلقات اعتماد کے ذخیرے سے چلتے ہیں، اور یہ ذخیرہ ہمدردی، احترام اور سچی سماعت سے بنتا ہے۔ یہ عادت گھریلو، تعلیمی اور پیشہ ورانہ تعلقات میں انقلاب لا سکتی ہے۔
عادت ششم: ہم آہنگی پیدا کریں (Synergize)
ہم آہنگی اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ موقع سمجھتی ہے۔ مختلف ذہن، مختلف تجربات اور مختلف صلاحیتیں جب احترام کے ساتھ ملتی ہیں تو نتیجہ غیر معمولی ہوتا ہے۔
کووی یہاں اجتماعی عقل (Collective Intelligence) کی بات کرتے ہیں، جو فرد کی محدود صلاحیتوں سے کہیں آگے کی چیز ہے۔
عادت ہفتم: آری کو تیز کرتے رہیں (Sharpen the Saw)
یہ عادت باقی تمام عادات کی محافظ ہے۔ کووی انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر وہ خود کو تازہ نہ کرے تو ساری کامیابی تھکن میں بدل جاتی ہے۔
جسمانی، ذہنی، روحانی اور سماجی—ان چاروں پہلوؤں کی متوازن نگہداشت انسان کو طویل عرصے تک مؤثر رکھتی ہے۔ یہ عادت خود احتسابی اور مسلسل نشوونما کی دعوت ہے۔
فکرِ اسلامی کی روشنی میں ایک تنقیدی جائزہ
اسٹیفن آر کووی کی کتاب The 7 Habits of Highly Effective People جدید انسان کی فکری، نفسیاتی اور عملی تشکیل میں غیر معمولی اثر رکھتی ہے۔ یہ کتاب فرد کو خود ذمہ داری، مقصدیت اور اخلاقی تعلقات کی طرف بلاتی ہے، جو بظاہر اسلامی فکر سے قریب محسوس ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظامِ فکر اسلامی تصورِ انسان، مقصدِ حیات اور اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہے یا نہیں؟ یہی سوال اس تنقیدی جائزے کی بنیاد ہے۔
انسان کا تصور: خود مختار یا عبد؟
کووی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا خود خالق ہے، اور حالات اس کے فیصلوں کا تعین نہیں کرتے۔ اسلام اس تصور کو جزوی طور پر قبول کرتا ہے مگر بنیادی اصلاح کے ساتھ۔
اسلام کے نزدیک انسان:
مختار ضرور ہے
مگر مطلق خودمختار نہیں
وہ عبد ہے، خالق نہیں
قرآن کہتا ہے:
وما تشاؤون إلا أن يشاء الله
اسلام میں اختیار، عبدیت کے دائرے میں بامعنی بنتا ہے۔ کووی کے ہاں جہاں خود ارادیت (Self-determination) مرکز ہے، وہاں اسلام میں ارادۂ الٰہی کے تحت ذمہ داری اصل قدر ہے۔
مقصدِ حیات: ذاتی مشن یا بندگی؟
عادت دوم میں کووی ذاتی مشن اسٹیٹمنٹ پر زور دیتے ہیں۔ یہ تصور نظمِ زندگی کے لیے مفید ہے، مگر اسلامی فکر میں مقصدِ حیات انسان خود متعین نہیں کرتا بلکہ اسے عطا کیا گیا ہے:
وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون
اسلام میں ذاتی اہداف اسی وقت معتبر ہیں جب وہ:
رضائے الٰہی کے تابع ہوں
اخلاقی حدود کے اندر ہوں
آخرت کے شعور سے جڑے ہوں
کووی کا وژن دنیا مرکوز (World-centered) ہے، جبکہ اسلام آخرت مرکز (Hereafter-centered) ہے۔
وقت اور ترجیحات: دنیا کی تنظیم یا آخرت کی تیاری؟
تیسری عادت میں وقت کی منصوبہ بندی اسلامی تصورِ قدرِ وقت سے ہم آہنگ ہے:
والعصر إن الإنسان لفي خسر
مگر فرق یہ ہے کہ کووی کے ہاں:
کامیابی کا پیمانہ کارکردگی ہے
جبکہ اسلام میں:
اصل پیمانہ اخلاص اور جواب دہی ہے
اسلام وقت کو امانت سمجھتا ہے، محض Resource نہیں۔
جیت-جیت کی اخلاقیات: مفاد یا عدل؟
کووی کی Win-Win سوچ بظاہر اسلامی اخلاق سے قریب ہے، مگر ایک بنیادی فرق کے ساتھ۔
اسلام میں تعلقات کی بنیاد:
عدل
احسان
ایثار
پر ہے، نہ کہ صرف باہمی فائدے پر۔
اسلام میں بعض مواقع پر:
ایک فریق نقصان برداشت کرتا ہے
مگر حق پر قائم رہتا ہے
کووی کے ماڈل میں قربانی کا پہلو کمزور ہے۔
ابلاغ اور تعلقات: ہمدردی یا نیت؟
پانچویں عادت میں Empathetic Listening اسلامی اصولِ:
قولوا للناس حسنا سے ہم آہنگ ہے۔
مگر اسلام ابلاغ کو صرف Skill نہیں بلکہ امانت سمجھتا ہے، جس کا تعلق نیت سے ہے:
إنما الأعمال بالنيات
کووی کے Emotional Bank Account میں نیت کا اخلاقی وزن شامل نہیں۔
ہم آہنگی اور اجتماعیت: ٹیم یا امت؟
Synergy کا تصور اسلامی اجتماعیت سے قریب ہے:
وتعاونوا على البر والتقوى
مگر اسلامی تعاون:
حق کے لیے ہوتا ہے
خیر کے لیے ہوتا ہے
ہر اشتراک قابلِ قبول نہیں۔ کووی کے ہاں یہ اخلاقی قید واضح نہیں۔
تجدیدِ ذات: خود سازی یا تزکیہ؟
ساتویں عادت میں Self-renewal اسلامی تصورِ تزکیۂ نفس سے مشابہ ہے:
قد أفلح من زكاها
مگر فرق یہ ہے:
کووی کا تزکیہ نفسیاتی ہے
اسلام کا تزکیہ روحانی اور اخلاقی بھی ہے
اسلام میں عبادت محض روحانی پہلو نہیں بلکہ مرکزی ستون ہے، جو کووی کے فریم ورک میں ثانوی ہے۔
کووی کی کتاب:
اخلاقی حساسیت رکھتی ہے
نظم و ضبط سکھاتی ہے
انسانی تعلقات بہتر بناتی ہے
مگر: وحی سے کٹی ہوئی ہے
آخرت کے تصور سے خالی ہے
عبدیت کے بجائے خود مرکزیت رکھتی ہے
حاصل تحریر
The 7 Habits of Highly Effective People ایک مفید اخلاقی-عملی کتاب ہے، مگر نظامِ حیات نہیں۔
اسلامی فکر کے تناظر میں یہ کتاب:
ایک معاون Tool ہو سکتی ہے
مگر متبادل نظریہ نہیں
اگر ان عادات کو:
توحید
عبدیت
آخرت
اخلاقِ نبوی
کے سانچے میں ڈھال دیا جائے، تو یہ کتاب مسلمان قاری کے لیے زیادہ بامعنی اور محفوظ بن سکتی ہے۔