"شر کا مسئلہ” Problem of Evil
یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر خدا رحیم اور قادر مطلق ہے تو دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہے؟ مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا نے انسانوں کو "آزادی اختیار” Free Will کا تحفہ دیا ہے، جو حقیقی اخلاقی انتخاب کی بنیاد ہے، یہی آزادی ظلم کو ممکن بناتی ہے، کیونکہ انسان بھلائی اور برائی دونوں کا انتخاب کر سکتا ہے، دنیا کو ایک امتحان گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں مصائب ہمارے صبر اور ایمان کی آزمائش ہیں، اور ان طاقتوں کی بھی جو ظلم روک سکتے تھے لیکن وہ ظالموں کی پشت پناہی کرنے لگے، ہمارا محدود علم خدا کی وسیع حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتا، اور شر درحقیقت خیر کی عدم موجودگی ہے، خدا فوری طور پر ہر ظلم نہیں روکتا، لیکن وہ بے حس نہیں ہے بلکہ ایک بڑی حکمت کے تحت کام کر رہا ہے، اور ماضی میں ایک مقررہ وقت میں اس نے کرکے دکھایا ہے اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو روز دکھا رہا ہے، حالیہ برسوں میں جو تخت گرائے گئے اور تاج اچھالے گئے اس کی مثالیں ہیں، آئندہ بھی ہوگا، اس لیے کوئی سوپر پاور بدستور نہیں رہا، اور پھر یہ بھی سوچ لیں کہ اگر خدا روز روز انتقام لینے لگے تو سب سے پہلے اس کے منکرین زد میں آئیں گے تب بھی واویلا مچائیں گے، آج کی مہذب دنیا اپنے باغی بچوں اور شاگردوں کو سخت سست کہنے کی اجازت تک نہیں دیتی وہ خدا کا یہ رخ گوارا کر پائے گی!!
اس نے ہمیں ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے اور انصاف قائم کرنے کا فریضہ دیا ہے، آخرت میں کامل انصاف ہوگا، جہاں ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا اور ہر ظالم کو سزا ملے گی؛ لہٰذا، مذہبی perspective سے، خدا موجود ہے اور ہمیں آزادی دے کر آخرت میں مکمل انصاف قائم کر کے اپنی حکمت ظاہر کرے گا، جبکہ ہمارا کام اپنے دائرہ کار میں ظلم کے خلاف لڑنا اور مظلوم کی مدد کرنا ہے۔
ملحدین کا موقف ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، اور یہ کائنات محض مادی قوانین کی پیداوار ہے، اس منطق کے تحت، انسان ہی اخلاقیات کا خالق اور نفوذ واٹر رکھنے والا واحد ذمہ دار ہے، پھر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے: اگر خدا نہیں ہے، اور کوئی آخری انصاف نہیں ہے، تو پھر ظلم کے خلاف دفاع اور انصاف قائم کرنے کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست خود انسانوں پر عائد ہوتی ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو غزہ جیسے المیے میں معصوم بچوں کے قتل عام کے سامنے ملحدین کا عملی کردار کہاں ہے؟ کیا ان کا فلسفہ صرف نظریاتی بحث اور مذہب پر تنقید تک محدود ہے، یا وہ اس سے آگے بڑھ کر مظلوموں کے لیے ایک موثر بین الاقوامی تحریک، سیاسی دباؤ، یا عملی امدادی اقدامات کا اہتمام کر رہے ہیں؟ اگر آخرت کا کوئی بیمہ نہیں ہے، تو پھر اس دنیا میں انصاف کے لیے لڑنا ہی حتمی اور واحد مقصد بن جانا چاہیے۔ مگر عملاً دیکھا جائے تو ملحدین کی اکثریت سہولت پسندانہ خاموشی یا رسمی ہمدردی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہے، جو ان کے اپنے طے کردہ اخلاقی فرض سے ایک واضح انحراف ہے۔
مذہبی نقطۂ نظر کے برعکس، جہاں آخرت میں کامل انصاف کا یقین مصائب میں صبر اور امید کا سبب بنتا ہے، وہیں ملحدین کے پاس صرف یہی دنیا اور اس کی محدود مدت ہے، اس لیے ان پر تو اضطراری فوری عمل Urgent Imperative Action کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ناگزیر ہو جاتی ہے، ان کا یہ کہنا کہ "خدا ہے تو ظلم کیوں ہو رہا ہے؟” اس کا مطلب خاکم بدہن ان کے نزدیک خدا نہیں ہے تو الزام کا پر؟ یہ درحقیقت اپنی ذمہ داری سے فرار کا بہانہ ہے، منطق یہ کہتی ہے کہ ان کے مطابق اگر خدا نہیں ہے، تو پھر انسانی عقل اور سائنس ہی وہ ذرائع ہیں جن کے بل بوتے پر ہم ظلم کا خاتمہ کر سکتے ہیں، پھر کیوں ملحد برادری اجتماعی طور پر غزہ جیسے حالات کے لیے وہی جذبہ اور تنظیم نہیں دکھا پا رہی جو انہوں نے سائنس کے فروغ یا مذہبی تنقید کے میدان میں دکھائی ہے؟ کیا انسانیت کی خدمت صرف اسی وقت تک اہم ہے جب تک کہ اس کا تعلق مذہب کی تردید سے ہو؟
لیکن ان پر افسوس کہ درد کا اظہار اتنا کہ آنسو چھلک پڑیں اور بے دردی یہ کہ اس خدا پر ڈال کر چھوڑ دینا جو ان کے عقیدہ میں ہے ہی نہیں:
وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا