Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
17.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
17.06.2026
Trending News: نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

وہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے

  1. Home
  2. وہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے

وہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئے

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • دسمبر 14, 2025
  • 0 Comments

(15 سال قبل حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوستان آمدپرلکھاگیا مضمون از قلم:جناب ندیم واجدی صاحب رحمہ اللہ دار العلوم دیوبند انڈیا)

پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی مدظلہ العالی ان دنوں ہندوستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔اپنے دورۂ ہند کے تیسرے مرحلے میں وہ دیوبند بھی تشریف لائے اور چار روز قیام کرکے حیدرآباد چلے گئے۔ قیام دیوبند کے دوران انہوں نے متعدد چھوٹی بڑی مجلسوں سے خطاب کیا ان کی تشریف آوری کے لوگ شدت سے منتظر تھے اور دور دور سے سفر کرکے ان کی ایک جھلک پانے کے لیے اور ان کی تقریریں سننے کے لیے دیوبند پہنچے ہوئے تھے۔ یوں تو دیوبند میں دارالعلوم کی برکت سے سال کے بارہ مہینے دینی اور علمی شخصیتوں کی آمدورفت رہتی ہے مگر شیخ ذوالفقار کی آمد کا واقعہ اپنے آپ میں بالکل انوکھا واقعہ ہے ، اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس طرح آئے جیسے صحرا کی سخت دھوپ میں ہوا کا خوش گوار جھونکا میسر آجائے اور روح میں اتر کر اندر تلک شاداب و شرسار کرجائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ، اہل دیوبند کو یہ چار تاریخی دن مدتوں یاد رہیں گے اور دیر تک ان کے روحانی وجود کی مہک دیوبند کی فضاؤں میں رچی بسی رہے گی۔
اس دورِ قحطِ الرجال میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کا وجود کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں وہ اس امت کا ایک زندہ معجزہ ہیں انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا ہے اور ان کی باتیں سن کر دلوں میں سوز اور تڑپ پیدا ہوتی ہے ۔ یہ صرف میں ہی نہیں کہہ رہا بلکہ تقریباً یہی جملے ہر اس شخص کی زبان پر ہیں جس نے ان چار دنوں میں سے کوئی ایک لمحہ بھی ان کے ساتھ گزار لیا ہے یا ان کی باتیں دل کے کانوں سے سن لی ہیں۔ واقعی کوئی زمانہ اﷲ کے نیک بندوں سے خالی نہیں رہتا ، اس کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اﷲ اپنے بندوں میں سے جس سے چاہے بڑے سے بڑا کام لے لیتا ہے، ماضی قریب میں جو کام سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ نے تھانہ بھون کی خانقاہ میں کیا، ان کے بعد جو کام ان کے باکمال خلفاء حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ پھر ان حضرات کے خلفاء شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ اور ان حضرات کے بالواسطہ یا بلاواسطہ جانشینوں نے کیا آج وہی کام پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی انجام دے رہے ہیں، اصل میں تو یہ کام حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی ؒ کی روحانی اولاد کا تھا جو دار العلوم دیوبند سمیت ہزاروں مدارس میں بکھری ہوئی ہے لیکن انجام دے رہے ہیں شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی جو اصطلاحی معنوں میں اس روحانی سلسلے سے وابستہ نہیں اور نہ اس سلسلۂ زریں کے باقاعدہ فیض یافتہ ہیں۔ ہوسکتا ہے شیخ کی آمد اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد دلانے کے لیے ہو ، جس طرح لوگ ان کی مجلسوں میں ٹوٹ کر پڑے اور جس طرح ذوق و شوق کے کانوں سے ان کے مواعظ کا ایک ایک لفظ انہوں نے سنا اور دل میں اتارا اس سے پتہ چلتا ہے کہ راہ حق کے طلب گاروں کی کمی نہیں ہے تشنگان شوق بھی بے شمار ہیں بس ایک راہنما کی ضرورت ہے جو ہاتھ پکڑ کر منزل پر پہنچا دے اور ایک صاحب دل ساقی کی ضرورت ہے جو ’’مئے حق‘‘ پلا کر تشنہ کاموں کی پیاس بجھا دے۔
لفظ’’ پیر‘‘ سے لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی بوڑھے اور عمر رسیدہ بزرگ ہوں گے جنہیں لوگوں کے سہارے سے چلنا پڑتا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے وہ ابھی ساٹھ سال کے بھی نہیں ہوئے ماشاء اﷲ صحت بھی اچھی ہے، بلند قد و قامت اور معتدل جسامت کے ساتھ ان کی صحت قابل رشک ہے۔ ہم نے اپنے بہت سے بزرگوں کو دیکھا ہے جن پر نگاہ پڑتی تھی تو ہٹنے کا نام نہیں لیتی تھی، بعینہٖ یہی کیفیت پیر صاحب کی ہے، چہرہ ایسا منور تر وتازہ اور شاداب کہ نگاہ پڑے تو ہٹنا بھول جائے ، لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ آنکھوں میں یاد الٰہی کا سوز اور تڑپ ، طبیعت میں حد درجہ انکسار اور تواضع ، اپنی ہر ادا سے گہری چھاپ چھوڑنے والی شخصیت ، اہل دیوبند کو مدتوں یاد رہے گی۔
مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی کی پیدائش 1953ء کو صوبہ پنجاب پاکستان کے شہر جھنگ میں ایک کھرل خاندان میں ہوئی، ان کے والدین نہایت دین دار اور عبادت گزار تھے، گھر میں نماز ، تلاوت کا بڑا اہتمام تھا، یہاں تک کہ تہجد کی بھی پابندی ہوتی تھی، اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’والدہ ماجدہ بھی پابند صوم و صلوٰۃ تھیں، راقم جب تین برس کی عمر کا تھا تو رات کے آخری پہر میں والدہ صاحبہ کو بستر میں موجود نہ پا کر اٹھ بیٹھتا ، دیکھتا تھا کہ وہ سرہانے کی طرف مصلّٰی بچھا کر نماز تہجد پڑھنے میں مشغول ہیں، راقم منتظر رہتا کہ نماز کب ختم ہوگی، والدہ صاحبہ نماز کے بعد دامن پھیلا کر اونچی آواز سے رو رو کر دعائیں مانگتیں، راقم نے اپنی زندگی میں تہجد کے وقت جس قدر اپنی والدہ صاحبہ کو روتے دیکھا ہے کسی اور کو اس قدر روتے نہیںدیکھا ، بعض اوقات والدہ صاحبہ راقم کا نام لے کر دعائیں کرتیں تو راقم خوشی سے پھر بستر پر سو جاتا۔‘‘ (حیات حبیب ص 744)
یقینا یہ والدہ محترمہ کی دعائے سحر گہی اور نالۂ نیم شبی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے بیٹے کا نام پورے عالم میں گونج رہا ہے اور ان سے دلوں کی اصلاح کا کام لیا جارہا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی۔ انہوں نے کئی عصری کورس کئے 1972ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہوگئے، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر ، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے ، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے ، جس زمانے میں وہ انجینئر بن رہے تھے اس زمانے میں جمناسٹک ، فٹ بال ، سوئمنگ کے کیپٹن اور چمپیئن بھی رہے۔ ان حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی طالب علم دین کی طرف مائل بھی ہوسکتا ہے، مگر یہ معجزہ ہوا، انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناظرہ بھی پڑھا ، ابتدائی دینیات ، فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھیں ، قرآن کریم بھی حفظ کیا، یہاں تک کہ جب وہ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے ان کا تعلق عمدۃ الفقہ کے مصنف حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ سے ہوگیا، جو نقشبندیہ سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے، شیخ ذوالفقار احمد نے ان سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً سبقاً پڑھی، ان کی وفات کے بعد وہ حضرت مرشد عالم خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی ؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، یہ 1980ء کی بات ہے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز کئے گئے، اس دوران انہوں نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ، اپنے مرشد کی وفات کے بعد وہ پوری طرح دین کے کاموں میں لگ گئے ، کئی سال امریکہ میں گزار کر اب مستقل طور پر جھنگ میں مقیم ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے متعدد دینی ادارے ان کی سرپرستی اور اہتمام میں چل رہے ہیں، پچاس سے زائد ملکوں کے اصلاحی و تبلیغی دورے بھی کرچکے ہیں، ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں، دینی و عصری علوم کی جامعیت حضرت والا کی امتیازی خصوصیت ہے، انگلش زبان پر عبور حاصل ہے انہیں دینی علوم کو عصری اسلوب میں اور مخاطب کی زبان میں پیش کرنے کا غیر معمولی طور پر ملکہ حاصل ہے، ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ (صرف آخری عشرہ) افریقی ملک زمیبیامیں گزرتا ہے، جہاں حضرت اپنے مریدین اور خلفاء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ اعتکاف فرماتے ہیں۔ہر سال حج کے ایام میںمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مجلسیں لگتی ہیں اور بے شمار عقیدت مند،ان مجلسوں میں ان سے استفادہ کرتے ہیں، گویا سال کے بارہ مہینے ان کا فیض جاری رہتا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کو علماء دیوبند سے بڑی عقیدت ہے اور یہ عقیدت ان کی ہر تقریر اور تحریر سے جھلکتی ہے آپ ان کی کوئی بھی تقریر سن لیں، یا کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو علماء دیوبند کا ذکر ضرور ملے گا، یہ عقیدت ہی ان کے ہندوستان آنے کا سبب بنی ، افسوس انہیں بعض مقامات کا ویزہ نہیں مل سکا ، ورنہ تھانہ بھون ، گنگوہ، نانوتہ، رائے پوراور سہارن پور جیسے مقامات پر جہاں کبھی بزرگوں کی خانقاہیں ہوا کرتی تھین ان کا دل جانے کے لیے بڑا بے چین رہا، جب کوئی سبیل جانے کی نہ نکل سکی تو دہلی سے دیوبند کا سفر انہوں نے شاملی اور تھانہ بھون کے راستے کیا تاکہ اگر ان بستیوں میں اندر نہ جاسکیں تو کم از کم ان بستیوں کے باہر سے تو گزر جائیں۔ علماء دیوبند کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جذبات قابو میں نہیں رہتے ، خود بھی روتے ہیں اور سننے والوں کو بھی رلا دیتے ہیں وہ باربار کہتے ہیں کہ اکابر علماء دیوبند تو صحابۂ کرام ؓ کی مقدس جماعت کے وہ افراد ہیں جنہیں اﷲ نے چودہ سو سال بعد پیدا فرمایا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ میرے حبیب ﷺ کے صحابہؓ ایسے ہوا کرتے تھے۔
حضرت کی زبان میں تاثیر بہت ہے ، تقریریں تو بہت لوگ کرتے ہیں ، گھنٹوں گھنٹوں کرتے ہیں، الفاظ کا سماں باندھ دیتے ہیں لیکن جب لوگ مجلسوں سے اٹھتے ہیں تو ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا ، جیسے آئے تھے ویسے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ حضرت پیر صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عام سی، سادہ سی باتیں اس سوز کے ساتھ کرتے ہیں کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہیں، ہرچہ از دل خیزد بردل ریزدکا صحیح مشاہدہ حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر ہوا، وہی باتیں جو باربار کتابوں میں پڑھیں ، وہی قصے جو زندگی بھر پڑھتے اور سنتے رہے ان کی زبان سے سنے تو بالکل نئے محسوس ہوئے ، ان کی آواز کا سوز ، اور دل کا اخلاص سننے والے کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ہزاروں کامجمع تقریر کے دوران بالکل ساکت و صامت ہوجائے اور ماحول پر ایسا سناٹا طاری ہوجائے کہ سوئی گرے تو اس کے گرنے کی آواز سنائی دے ، حضرت پیر صاحب جب تقریر شروع کرتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے اور بدشوق سے بدشوق انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب تقریر شروع ہوئی اور کب ختم ہوگئی، دو ڈھائی گھنٹے کس طرح منٹوں میں گزر گئے۔
تقریریں تو بہت سنی ہیں ، لیکن اتنی جامع ، مرتب، حسب حال اور پر اثر تقریریں کم ہی سنی ہیں۔ حضرت کے ایک خلیفہ نے راقم کے استفسار پر بتلایا کہ حضرت پیر صاحب ہر تقریر سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیں، نوٹس تیار کرتے ہیں ، احادیث کا متن نوٹ کرتے ہیں، حوالے تلاش کرتے ہیں، حسب حال واقعات اور اشعار کے ذریعے اپنی ہر تقریر کو سجاتے سنوارتے ہیں، تقریر سے کچھ دیر پہلے تنہائی اختیار کرلیتے ہیں اور رب کریم سے رو رو کر دعا کرتے ہیں کہ اے اﷲ میری تقریر میں اثر دے ، میری زبان میں حق بات کہنے کی صلاحیت پیدا فرما ، حضرت پیر صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں الہامی تقریر نہیں کرسکتا، رات رات بھر مطالعہ کرنے کے بعد سامعین کو مخاطب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر موضوع کے دائرے میں رہتی ہے ، حشو و زوائد سے پاک اور نہایت مرتب، حضرت پیر صاحب کی تقریروں میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا رنگ جھلکتا ہے، جن کے وعظ ہم نے سنے نہیں ہیں پڑھے ضرور ہیں، جو حضرت کے باکمال شاگردوں نے کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر من و عن نقل کئے، ماضی قریب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ کی تقریریں بھی سادگی، پرکاری، شگفتگی، اثر انگیزی اور برجستگی کے لحاظ سے بے نظیر تھیں، راقم کو حضرت ؒ کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان کی تقریریں سننے کی سعادت حاصل رہی ہے، حضرت پیر صاحب کی تقریریں سن کر مجھے اپنے ان دونوں بزرگوں کی یاد آگئی، اﷲ نے آج حضرت پیر صاحب کو یہ خصوصیت عطا کی ہے بلاشبہ یہ کوئی کسبی ملکہ نہیں ہے بلکہ خالص وہبی چیز ہے اﷲ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔
حضرت پیر صاحب جدید تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا مطالعہ بڑا وسیع ہے، مشاہدہ گہرا ہے، وہ مغربی تہذیب کے مظاہر دیکھ چکے ہیں ، اس کی برائیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور دینی تعلیم کی برکت سے ان برائیوں کا علاج بھی خوب جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے استفادہ کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد ڈاکٹروں ، انجینئروں اور عصری علوم سے وابستہ لوگوں کی بھی ہے۔ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ جس قدر جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے اسی قدر دینی تعلیم سے وابستہ لوگ بھی ان کے دامن سے وابستہ ہورہے ہیں۔ آج سے چند سال پہلے انہیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا،خاص طور پر ہندوستان میں تو ان سے کوئی واقف بھی نہیں تھا ، دس پندرہ سال پہلے وہ کسی کے ساتھ دیوبند آئے اور گھوم پھر کر چلے گئے نہ کسی نے ان کی آمد کا نوٹس لیا اور نہ نظر بھر کے ان کی طرف دیکھا ، اچانک ان کی شہرت کا سفر شروع ہوا ،اور جس طرح مشک کی خوشبو مہکتی ہے اسی طرح ان کے وجود کی خوشبو مہکنے لگی۔ یہ خوشبو سرحدوں سے نکلی اور دور دور تک پھیل گئی ، آج شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں یہ خوشبو نہ پہنچ رہی ہو اور مشام جاں کو معطر نہ کررہی ہو۔ اس میں بہت کچھ دخل ان تقریروں کا ہے جو مولانا صلاح الدین سیفی کے ذریعے مرتب ہو کر پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ ہندوستان کے گجرات سے تعلق رکھنے والے مولانا صلاح الدین نے ان کو کس طرح دریافت کیا، بقول ان کے وہ ہند میں سب سے پہلے بکنے والوں میں ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ دس بارہ سال قبل وہ تقریروں کا مجموعہ لے کر میرے پاس تشریف لائے اور اس کو دار الکتاب سے شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے مقرر کا نام دیکھ کر معذرت پیش کردی ۔ دراصل میرے لیے یہ نام بالکل اجنبی تھا ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تصوف کے موضوع پر ہمارے اکابر کے علاوہ بھی کسی کی تقریر یا تحریر قابل اشاعت ہوسکتی ہے مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ جس مجموعے کو میں مقرر کا نامانوس نام دیکھ کر واپس کررہا ہوں وہی مجموعہ اور اس جیسے بیسیوں مجموعے خود دیوبند سے شائع ہوں گے اور ان کو عوام و خواص میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوگی۔ حضرت پیر صاحب دوسری بار جب ہندوستان آئے تو ان کی شہرت و عظمت کاسکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھ چکا تھا، آج وہ جہاں جا رہے ہیں عقیدت مندوں کی بھیڑ انہیں سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے۔
دیوبند میں ان کے تین بڑے اجتماعات ہوئے، تینوں میں حاضرین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے اگر یہ کہا جائے کہ اجتماع گاہوں میں سر سے سر بج رہا تھا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا ، تینوں جگہ انہوں نے الگ الگ موضوع پر خطاب کیا لیکن تینوں موضوع کا تعلق ایک ہی موضوع سے تھا جسے ہم تصوف و طریقت ، سلوک اور احسان کہتے ہیں، یہ ایک ہی مفہوم کے مختلف عنوانات ہیں۔ عام طور پر تصوف کے بارے میں بڑی غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تصوف کا مقصود محض ذکر ہے، آپ جب کسی شیخ سے بیعت کرتے ہیں تو وہ آپ کو کچھ اذکار و اور اد بتلا دیتا ہے آپ ان اذکار و اوراد کا اہتمام کرتے ہیں ، صرف یہ چیز تصوف نہیں ہے، بعض لوگ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ تصوف مراقبے ، مجاہدے ا ور چلہ کشی کرنے کا دوسرا نام ہے، یہ بھی بڑی غلط فہمی ہے، ذکر اور مجاہدہ اصلی نہیں ہے اصل مقصود وہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی اس آیت میں بیان فرمایا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (الشمس 9)
’’وہ شخص کامیاب ہوا جس نے نفس کا تزکیہ کرلیا۔‘‘
اور جس کا ذکر ہمیں اس ارشاد ربانی میں ملتا ہے:
وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ (البقرۃ 129)
’’اور وہ رسول ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ کرتے ہیں۔‘‘
ان دونوں آیتوں میں تزکیے کا ذکر ہے جس کے معنی ہیں پاک صاف کرنا ۔ شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ جس طرح انسان کے ظاہری اعمال و افعال ہوتے ہیں اور ان کے بارے میںا ﷲ تعالیٰ کے اوامر و نواہی ہیں جیسے نماز پڑھو ، روزہ رکھو ،حج کرو، زکوٰۃ دو، جھوٹ نہ بولو ، شراب نہ پیو، زنا نہ کرو، چوری نہ کرو، غیبت اور چغل خوری نہ کرو، ان اوامر و نواہی کا تعلق بندوں کے ظاہری اعمال سے ہے، اسی طرح انسان کے باطن یعنی قلب سے متعلق بھی کچھ اوامر و نواہی ہیں، ان اوامر کو انجام دینا بھی واجب ہے اور ان نواہی سے بچنا بھی واجب ہے، جیسے تواضع ، اخلاص ، توکل، صبر وغیرہ اوامر ہیں، تکبر ، حسد، ریاکاری وغیرہ نواہی ہیں ،ا ن میں سے اول الذکر کو فضائل اور اخلاق فاضلہ کہتے ہیں، ثانی الذکر کو رذائل اور اخلاق رذیلہ کہا جاتا ہے۔ حضرات صوفیاء اور مشائخ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مریدین کے دلوں میں اخلاق فاضلہ کی آب یاری کرتے ہیں اور اخلاق رذیلہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں یہی تزکیہ ہے۔ اسلامی نظام حیات میں تزکیۂ نفس کی اہمیت اور ضرورت کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے ، عقائد، عبادات ، اخلاق و معاملات ، ہر شعبے میں اس کی ضرورت مسلّم ہے۔
تصوف و سلوک کی تعلیم بھی بہت ضروری ہے، اس تعلیم سے سالک کی زندگی پر بڑا خوش گوار اثر مرتب ہوتا ہے، اﷲ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط ہوجاتا ہے ، اس کے اندر اتباعِ سنت کا جذبۂ کامل پیدا ہوجاتا ہے، اس کے شخصی حالات ، اس کے اخلاق ، اس کے معاملات سب شریعت کے دائرے میں آجاتے ہیں، اس کی زندگی کا نصب العین آخرت کی فوز و فلاح بن جاتا ہے، دنیا کی بے وقعتی اس کے قلب و نظر میں سما جاتی ہے اس کے اندر مخلوق کی خیر خواہی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہوجاتا ہے کہ مخلوق کو ایذاء دینا تو ایک طرف مخلوق کی ایذاء کے تصور سے بھی اس کی روح کانپ اٹھتی ہے، بالکل ایک نئی شخصیت ابھر کر نکھر کر سامنے آتی ہے۔
سلوک و معرفت کے جتنے بھی سلسلے ہیں سب کے مشائخ یہی ایک کام کررہے ہیں ، یعنی دلوں کی دنیا آباد کررہے ہیں اور انہیں خدا سے قریب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں سب کا انداز جدا جدا ہے، مگر ایک چیز سب کے یہاں قدر مشترک کے طور پر ہے اور وہ ہے اﷲ کے ذکر پر مداومت اور اس کے ذریعے باطن کی اصلاح و تعمیر، یہ وہ نسخہ ہے جو خود سرکار دو عالم ﷺ نے صحابہؓ کے لیے تجویز فرمایا تھا۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے :حضرت عبداﷲ بن بسر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اﷲﷺ نفلی عبادات اتنی زیادہ ہیں کہ میں تمام عبادات انجام دینے کی اپنے اندر ہمت نہیں پاتا آپ میرے لیے کوئی ایسی چیز تجویز فرمادیں کہ میرا شوق بھی پورا ہوجائے اور عباداتِ نافلہ کی ادائیگی میں کمی بھی باقی نہ رہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ تمہاری زبان اﷲ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم میں اس طرح فرمائی گئی:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُ اﷲَ ذِکْرًا کَثِیْرًاo وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً o
’’اے ایمان والو اﷲ کا بہت زیادہ ذکر کیا کرواور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو۔‘‘
کبھی ارشاد فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدً وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ (آل عمران 191)
’’یہ وہ لوگ ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے اﷲ کا ذکر کرتے ہیں ۔‘‘
ان آیات مبارکہ سے دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں ، ایک یہ کہ اﷲ کا ذکر ہر حال میں کرو اور دوسرے یہ کہ ہر وقت کرو صوفیائے کرام کا کام ہی یہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو ذکر الہی اور یاد الہی کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس راستے سے انہیں قرب الہی تک لے جاتے ہیں جو مومن کا اصل مقصود ہے اور جو دین و دنیا میں فلاح و کامرانی کی دلیل ہے۔ حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی اسی ذکر کا پیغام لے کر آئے اور دے کے چلے گئے ، انہوں نے ہمیں کوئی نیا سبق نہیں دیا بلکہ ہمیں ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ۔ہمارے مدارس کا مقصدِ تاسیس ہی ظاہر کی تعمیر اور باطن کی تطہیر ہے۔ دار العلوم کے اولین معماروں کی اور ان کے بعد آنے والے بزرگوں کی نظر اسی مقصد پر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم کی فضائیں قال اﷲ و قال الرسولﷺ کے نغموں سے بھی گونجا کرتی تھیںاور اﷲ اﷲ کی ضربوں سے بھی۔ دار العلوم کا ایک دور وہ بھی تھا جب یہاں کے شیخ الحدیث سے لے کر دربان تک عابد شب زندہ دار اور تہجد گزار لوگ ہوا کرتے تھے ، یہ وہ سبق ہے جو اب فراموش ہوچکا ہے عجب نہیں کہ اﷲ نے یہ بھولا ہوا سبق یاد دلانے ہی کے لیے شیخ کو یہاں بھیجا ہو۔
شیخ کی مجلسوں میںجس طرح لوگ پہنچے اور جس ذوق و شوق کے ساتھ ان کو سنا اس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں میں تشنگی کا احساس ہے ان کے دل بے چین ہیں، اور ان کی نگاہیں کسی مرشد کامل کے انتظار میں ہیں۔ علماء کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں مقرر بھی ایک سے بڑھ کر ایک موجود ہیں لکھنے والے بھی بے شمار ہیں مگر اس ہجوم میں کوئی صاحب دل نہیں ہے اﷲ کی حقیقی معرفت رکھنے والا نہیں ہے کوئی ایسی ہستی نہیں جس کا سینہ جذبۂ سوز دروں سے معمور ہو اور جس میں عشق الٰہی کی آگ سلگ رہی ہو ، وہ آئے اور سب کو عشق الٰہی کی روشنی دکھلا کر چلے گئے اب یہ ہم پر موقوف ہے کہ ہم روشنی میں کب تک چلتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو سبق شیخ نے ہمیں یاد دلایا اسے ہم کب تک یاد رکھتے ہیں۔

پیر ذوالفقار احمد نقشبندیحضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت
مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات

Related Posts

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • hira-online.comhira-online.com
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
  • جون 6, 2026
  • 0 Comments
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) آج ہندوستان و پاکستان کے متعدد اہلِ علم حضرات نے مجھے توجہ دلائی کہ فلاں شخص کو گمراہ قرار دینے کی مہم چلائی جائے، اسے بے اعتبار کر دیا جائے، بلکہ اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جائے، اس نوع کی تحریک وقت کا اہم فریضہ اور سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ کیا کسی کو گمراہ یا کافر قرار دینا بھی کوئی فریضہ اور کارنامہ ہے؟ کیا واقعی ہماری عقلوں کے دریچے اس طرح کچکچا کر بند ہو گئے ہیں کہ ہم اس غلاظت کے علاوہ کوئی اور دینی و علمی فریضہ نہیں سوچ سکتے؟ حیف اس کند ذہنی پر! دریغ اس پست عقلی پر! لعنت اس تنگ نظری پر! کیا ہم نے حدیث کی کتابوں میں نہیں پڑھا کہ یہی وہ خصلتِ شنیعہ ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘۔ یہ بدبو دار اور گندی چیز ہے، اس سے دور رہیں۔ کیا ہمیں سنت و فقہ کا یہ سبق یاد نہ رہا کہ کسی مسلمان کو گمراہ یا کافر کہنا گناہِ کبیرہ اور جرمِ عظیم ہے؟ جب مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر گمراہی کی تہمت دھرتے ہیں تو ان میں سے کسی کی جیت نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ہارتے ہیں اور بری طرح ہارتے ہیں، ان کے اندر ایک دوسرے سے نفرت بڑھتی ہے، دشمنی کا بازار گرم ہوتا ہے، اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی، اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہنستے ہیں اور اس دین کا مذاق اڑاتے ہیں، اور بہت سے مسلمان نوجوان ہم سے اتنا بدظن بلکہ بیزار ہو جاتے ہیں کہ وہ یا تو اسلام چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان میں ہر سمت تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ تھا، مسلمان اپنے مذہبی اختلافات کے تصفیے ہندو راجاؤں اور انگریز حکمرانوں کی عدالتوں میں کرا رہے تھے، ان کی تفصیلات سے اس وقت کے پرچے اور کتابیں پُر ہیں۔ کچھ درد…

Read more

Continue reading
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ
  • hira-online.comhira-online.com
  • بشیر بدر
  • بشیر بدر حیات و خدمات
  • مئی 28, 2026
  • 0 Comments
بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہ

ڈاکٹر بشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن بابایک تحقیقی و ادبی جائزہ تمہید اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض شاعر نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تہذیبی احساس کی علامت بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو نہ صرف ایک نئی تازگی عطا کی بلکہ اسے عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت بھی بخشی۔ ان کی شاعری محبت، تنہائی، انسانی رشتوں، سماجی تغیرات اور داخلی احساسات کی شاعری ہے۔ انہوں نے غزل کو روایتی پیچیدگیوں سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی جس کی وجہ سے ان کے اشعار خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال 28 مئی 2026ء کو ہوا اور ان کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے شاعر سے محروم ہوگئی جس نے غزل کو نئی نسل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں ہوئی۔ بعض روایات میں کانپور کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم عمومی طور پر ایودھیا کو ان کی جائے پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر بھی نمایاں ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر و ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ نوجوانی کے زمانے تک ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں اور وہ اپنے کلام کی اشاعت کے خواہش مند تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی جریدے “نگار” میں شائع ہوئے۔ تعلیم اور علمی خدمات ڈاکٹر بشیر بدر نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے اردو ادب میں…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات 16.06.2026
  • میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ 16.06.2026
  • مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ 14.06.2026
  • عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں 12.06.2026
  • فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں 09.06.2026
  • ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام 08.06.2026
  • فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) 06.06.2026
  • یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 29.05.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات
مضامین و مقالات

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

  • hira-online.com
  • جون 16, 2026
میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟
مضامین و مقالات

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

  • hira-online.com
  • جون 14, 2026
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ
مضامین و مقالات

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جون 12, 2026
عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں
حدیث و علوم الحدیث

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

  • hira-online.com
  • جون 9, 2026
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں
Blog

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام

  • hira-online.com
  • جون 8, 2026
سیرت و شخصیات

فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)

  • hira-online.com
  • جون 6, 2026
فتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)
مضامین و مقالات

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

  • hira-online.com
  • مئی 29, 2026
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top