Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
01.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

  1. Home
  2. امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

  • hira-online.comhira-online.com
  • فکر و نظر
  • دسمبر 20, 2024
  • 0 Comments

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاذ/مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

9506600725 گزشتہ سے پیوستہ کل یعنی 18/ دسمبر 2024ء کو بنگلہ دیش کے ٹونگی عالمی اجتماع میں تبلیغی جماعت کے دونوں گروپوں کے درمیان خون ریز لڑائی ہوئی ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک چار لوگوں کے مارے جانے اور سیکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے. بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگی میدان میں شوریٰ والے پہلے سے اعلان کے مطابق اجتماع کر رہے تھے، صبح تقریباً تین بجے سے مولانا سعد صاحب کے امارت والا گروپ متعدد اطراف سے اجتماع گاہ کا قبضہ لینے کے ارادہ سے شوریٰ والوں پر حملہ آور ہوا. میدان کے الگ الگ مقامات اور راستوں پر متعدد جھڑپیں ہوئیں. کافی دیر کے بعد پولیس ایکشن کے ذریعہ معاملہ قابو میں آیا۔۔۔۔۔۔ یقینا یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے،امت مسلمہ کی اس گھناونے واقعہ سے ذلت و رسوائی ہوئی ہے، اور دشمنوں اور خاص طور پر میڈیا والوں کو ہنسنے ہنسانے کا موقع ان نادانوں نے دیا ہے ۔یہ صورت حال ہم سب کے لیے بہت تشویشناک اور افسوسناک بھی ہے. تبلیغی جماعت کا کام جو دنیا کا پر امن ترین کام تھا، اور جس جماعت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول اکرام مسلم بھی ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے اس کے ذمہ داروں کو کیا ہوگیا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آتا ، لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ سب امارت کی ہوس ،عہدے اور منصب کے لالچ اور اپنی بالا دستی کے لیے ہو رہا ہے ۔

اقبال مرحوم نے صحیح فرمایا تھا کہ براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے ہوس چھپ چھپ کہ سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں نظام الدین سے لیکر متعدد مساجد اور اجتماعات میں خون ریز لڑائیاں عام بات سی ہوگئی ہے ،جو صرف تبلیغی جماعت سے جوڑے ہوئے لوگوں کے لئے نقصان دہ نہیں، بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا رہا ہے. مسئلہ دن بدن بگڑتا جارہا ہے اور ادھر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس سنگین صورتحال پر کیسے قابو پایا جاسکے؟. دونوں فریق کے لوگ نہایت سخت گیر اور خطرناک قسم کے متشدد بنتے جارہے ہیں، جماعت کے دونوں دھڑے کے لوگوں میں غلو، شدت اور بے اعتدالی پائی جاتی ہے ، توازن اور اعتدال کی حد درجہ کمی ہے، جو اعتدال اور توازن اسلام کی تعلیمات کی بنیاد ہے، افسوس تو ان علماء پر بھی ہے، جو جماعت میں جڑ جانے کے بعد بے خود بے اعتدالیوں کے شکار ہو جاتے ہیں اور سخت گیر اور متشدد بن جاتے ہیں، یہ چیزیں یقینا تبلیغی جماعت کے مزاج، مقصد اور اصولوں سے یکسر مختلف ہے، جو آج اس میں در آئی ہیں. اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ان لڑنے والے بھائیوں کو عقل سلیم عطا فرمائے، آمین. راقم کا احساس ہے، بلکہ تمام اہل علم اور اعتدال پسند لوگوں کا مشترکہ احساس ہے کہ امت مسلمہ میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو، مبالغہ آمیزی، شدت پسندی، افراط و تفریط اور بے اعتدالی ہی ہے ،جب تک ان بے اعتدالیوں اور شدت پسندی پر قدغن نہیں لگایا جائے گا اور اس کے انسداد کے لیے کوششیں نہیں کی جائیں گی، یہ فتنے ختم نہیں ہوں گے ۔ اس جماعت پر ناخواندہ اور کم علم لوگوں کا قبضہ ہے، جو مزاج شریعت سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور جب تک یہ یہ طبقہ قابض اور حاوی رہے گا ۔ اس طرح کے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ ضرورت ہے کہ اعتدال اور وسطیت جو امت کی اولین خصوصیات میں سے ہیں ، اس کو سمجھایا اور بتایا جائے اور فکری و ذہنی اعتدال کے لیے فضا سازگار کیا جائے ۔ راقم الحروف نے ،، اعتدال اور وسطیت کی اہمیت اور ضرورت پر ایک مضمون اس سے پہلے صفحئہ قرطاس کیا تھا ،آج پھر ،، قند مکرر ،، کے طور پر پیش کر رہے ہیں ، اس امید کے ساتھ کہ اس مضمون سے استفادہ کیا جائے اور اس کی روشنی میں امت مسلمہ کو اعتدال پر لایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ م۔ ق۔ ن

دین اسلام کا امتیازی وصف اعتدال اور توازن ہے ، اسی لئے اس امت کو امت وسط کا خطاب ملا ہے ، وسطیت ،اعتدال و توازن دنیا و آخرت میں کامیابی کی شاہ کلید ہے ۔ جب سماج اور معاشرہ اعتدال پسند ہوتا ہے، تو اس میں توازن رہتا ہے ،پھر وہ معاشرہ اس اعتدال کی برکت سے کامیاب معاشرہ رہتا ہے، اعتدال یہ وہ صفت ہے، جو زندگی کو خوشگوار اور پر بہار بناتی ہے ۔جس قوم کے افراد اعتدال پسند اور متوازن طبیعت کے ہوں، وہ قوم عروج و کمال تک پہنچتی ہے ،کامیابی و کامرانی اس کی حلیف ہوتی ہے ۔اعتدال اور توازن جمال و خوبصورتی کا سبب ہے، اور افراط و تفریط بدصورتی اور بدنمائی کا ذریعہ ہے ،جہاں اعتدال ،میانہ روی اور توازن ختم ہوتا ہے، وہیں سے افراط و تفریط کی حدیں شروع ہوجاتی ہیں اور جب یہ مزاج انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے، تو پھر عقل و منطق کی کوئی تدبیر اس کے لئے کارگر نہیں ہوتی ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں ،، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ،عام طور پر ان میں افراط و تفریط انسان کے لیے ناگوار خاطر اور دشوار ہوتی ہے ،یہاں تک کہ انسان کے لئے نفع بخش اور مفید ترین چیزیں بھی، اگر حد اعتدال سے بڑھ جائیں یا حد ضرورت سے کم ہوجائیں، تو انسان کے لئے رحمت کی بجائے زحمت اور انعام خدا وندی کی بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہیں ۔۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو اعتدال پر قائم فرمایا ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتے ہیں اور افراط و تفریط کو ناپسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا حکم دیا ہے ۔عدل کی روح اعتدال ہے اور جادئہ اعتدال سے ہٹ جانا ہی، انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے ،اعتدال زندگی کے تمام شعبوں میں اور ہر مرحلہ میں مطلوب ہے ۔ شریعت کے اصول اور قرآن وحدیث پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گفتار و رفتار خوشی و غم سلوک و برتاؤ اور بحث و مباحثہ،دوستی و دشمنی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت ہر شعبئہ زندگی میں افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے، اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے ۔ اعتدال انسان کی رفتار میں بھی ہو ،اترانے کا انداز نہیں ہونا چاہیے، یہ چال کا اعتدال ہے ۔ولا تمش فی الارض مرحا ، زمین پر اکڑ کر مت چلو ۔گفتگو بول چال میں بھی اعتدال اور توازن ہو ،آواز نہ بالکل پست ہو کہ مخاطب سن نہ سکے اور نہ اتنی کرخ دار گرج دار اور بلند کہ حد اعتدال سے گزر جائے ۔قران کہتا ہے کہ آواز حسب ضرورت پست ہونی چاہیے ،گدھے کی آواز بہت بلند ہوتی ہے ،لیکن سب سے ناپسندیدہ ۔۔ اسی طرح انسان کو لعان اور طعان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بات بات پر کسی کو لعن طعن کرے ۔ لباس و پوشاک میں بھی اعتدال مطلوب ہے ،لباس تقویٰ کو لباس خیر کہا گیا ہے ۔

اس لباس کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا ہے، جس میں جذبئہ تفاخر ہو ،نخوت تکبر اور گھمنڈ ہو۔ لباس سادہ ہو، لیکن لباس پر اس کی نعمت کا اثر ضرور ظاہر ہو ،یہ مقصد نہیں کہ آدمی پھٹے پرانے پہنے، جو اس کے مصنوعی فقر کا مظہر ہو ۔غرض یہ کہ لباس میں بھی افراط و تفریط نہ ہو ۔ داڑھی رکھنے کا شریعت میں تاکیدی حکم ہے ،لیکن روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرے کی چوڑائی اور لمبائی سے داڑھی تراشا بھی کرتے تھے، عجمی مجذوب کی صورت اپنانا اور کریھ اور بے ہنگم صورت بنا کر رکھنا یہ منع ہے ۔ دعا کے بارے میں بھی حکم شریعت ہے کہ آواز بالکل بلند نہ ہو ،بلکہ ایک حد تک پست ہو ،بہت بلند آواز میں دعا کرنے کو زیادتی قرار دیا گیا ہے ۔دوستی اور دشمنی میں بھی اعتدال مطلوب ہے اس میں بھی افراط و تفریط ناپسندیدہ ہے ۔

دشمن سے بدلہ لینے میں بھی جادئہ اعتدال نہ ہٹے اور اس میں بالکل اندھا نہ ہو جائے ، ظلم کے بقدر ہی بدلا لینا جائز ہے۔ حلال و حرام میں بھی توازن اور اعتدال کا حکم ہے ،شریعت نے جہاں حرام کو حلال کر لینے سے روکا ہے، وہیں یہ حکم بھی دیا کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو ،دین میں غلو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے حلال کو بھی حرام نہ کرلیا جائے ۔ تنقید و احترام نقد و جرح اور تبصرہ و محاکمہ میں بھی میانہ روی مطلوب ہے یہ جائز نہیں کہ کسی کی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو نشانہ بنایا جائے، ان پر خواہ مخواہ الزام تراشی کی جائے،رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدترین دشمنوں کیساتھ بھی ایسا نہیں کیا اور اس بات سے بھی منع کیا کہ کسی کی شخصیت کے احترام میں غلو کی صورت پیدا ہو جائے ۔۔۔

عام طور پر دو چیزیں انسان کو راہ اعتدال سے دور کر دیتی ہیں، محبت اور عداوت ،محبت انسان سے بصارت ہی نہیں بصیرت بھی چھین لیتی ہے ،اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں ،یہی حال نفرت و عداوت کا ہے، دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے اور پہاڑ جیسی خوبی ہو تو وہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے ۔ غلو آمیز محبت اور انکار و شدت اور سرے سے کسی کی نفی یہ دونوں غلط ہیں ۔ (مستفاد و ملخص حقائق اور غلط فہمیاں صفحہ 80/83)

آج سب سے زیادہ شخصیت پرستی کا فتنہ ہمارے مسلم معاشرہ میں پایا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے یہ امت انتشار و افتراق کا شکار ہے ۔۔ کسی صاحب دل نے بہت صحیح تجزیہ کیا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر غیر معمولی صلاحیت اور غیر معمولی خوبی اور کمال لے کر پیدا ہوتے ہیں ،ان کو اپنے معاصرین میں نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے ان کو طبعی طور پر مرجعیت حاصل ہوجاتی ہے ،کچھ لوگ ان کے ایسے گرویدہ اور فین ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہر بات بلا چون و چرا مان لیتے ہیں اور ان کے قلب و دماغ میں وہی باتیں گردش کرتی ہیں ،جو ان کے دل میں ڈالی جاتی ہے ،خواہ وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور خواہ ان کی بات سواد اعظم اور جمہور علماء کی رائے اور تعامل امت سے ہی کیوں نہ ٹکراتی ہو ۔اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ اس میں شدت اور غلو سے کام لیتے ہیں اور اگر کوئی مخلص اور ماہر شریعت عالم دین ان کی غلطی کی نشاندھی کرتا ہے، تو وہ شخص اس کے خلاف ہی محاذ کھول دیتا ہے ۔اور انہیں ہی گمراہ ثابت کرنے لگتا ہے ۔

آج اس امت کا حال یہ ہے ،جس امت کو امت وسط کا خطاب ملا اور جس کی خصوصیت اعتدال و توازن قرار دیا گیا اور جس نے پوری دنیا کو اعتدال و توازن کا سبق سکھایا آج وہی امت افراط و تفریط بے اعتدالی اور غلو کا عنوان بن گئی ہے ۔۔ زندگی کے تمام شعبوں میں بے اعتدالی عام ہے ،احترام و عقیدت میں ذرہ کو آفتاب بتانا اور اختلاف و دشمنی میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا، ہمارا مزاج اور امتیاز بن گیا ہے ۔۔۔ دوستی اور دشمنی میں بے اعتدالی ،تعمیری کاموں میں بخل اور بے فائدہ کاموں میں فضول خرچی یہ بھی آج ہمارا مزاج ہے ۔۔ افراط و تفریط کے کے بہت سے اسباب و عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان کے مزاج میں تشدد اور سختی پیدا ہوتی ہے ۔ کہیں افراط و تفریط منصوص اور غیر منصوص میں عدم تمیز کی وجہ پیدا ہوتی ہے ۔۔ کہیں افراط و تفریط غلو اور بیجا عقیدت واحترام سے پیدا ہوتی ہے ،کہیں کم علمی اور اپنی جماعت کو صرف راہ نجات پر سمجھنے سے یہ کمی پیدا ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو غلو اور افراط و تفریط سے بچائے اور ہمارے اندر اعتدال و توازن کا حصئہ وافر عطا فرمائے اور زندگی کے ہر موڑ پر افراط و تفریط غلو اور بے اعتدالی سے بچائے آمین

ناشر/ مولانا علاؤالدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ 9506600725

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*تبلیغی جماعت کے دونوں دھڑوں میں خوں ریز تصادم- ایک لمحہ فکریہ*
بنگلہ دیش سے ایک تشویش ناک خبر

Related Posts

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • hira-online.comhira-online.com
  • ذات پات کا نظام
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
  • جنوری 30, 2026
  • 0 Comments
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یہ دور نظام حیات کی جنگ کا دور ہے، مغرب ہو یا مشرق ہر جگہ مختلف نظام ہائے حیات کے مابین کشمکش جاری ہے، اسلام چوں کہ محض عقائد کا مجموعہ نہیں بل کہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو اپنے واضح عقائد کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے، اس لیے دیگر نظام ہائے حیات کے ٹھیکداروں کے لیے اسلام ایک چیلنج ہے جس کا مقابلہ کیے بغیر وہ اپنے نظام حیات کو باقی یا غالب نہیں رکھ سکتے۔ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہے، اسلامی نظام حیات اس سے متصادم ہے، اور اس کی تمام برائیوں سے پاک ہے،اس کے نظام حیات کی کشش طبقاتی نظام میں زلزلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نظام حیات کے تصادم کے اس دور میں ہمیں دیگر نظام حیات کی خصوصیات سے واقف ہونا ناگزیر ہے، اس سے اسلام کا تقابلی مطالعہ کرنے اور تقابلی تعارف کرانے میں مدد ملے گی اور اسلام کی افضلیت کا ادراک ہوگا، نیز مدعو اقوام کی نفسیات سے آگہی ہوگی اور نظریاتی جنگ میں مقابل نظریہ کے کمزور پہلووں کا ادراک ہوگا۔ یوں تو دنیا کے مختلف سماج میں مختلف بنیادوں پر انسانوں کی تقسیم پائی جاتی ہے، اور بہت سی جگہوں پر اس تقسیم کی وجہ سے آپسی نفرت بھی پائی جاتی ہے؛ لیکن بھارتی سماج کے طبقاتی نظام کی جو خصوصیات ہیں وہ اسے دنیا کے دیگر سماجی نظام سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:٭ عدم مساوات: بھارتی سماج میں پائے جانےوالی منووادی طبقاتی نظام کی یہ سب سے بنیادی خصوصیت ہے، اس نظام میں طبقات کی تقسیم عمودی ہے، یعنی یہ تقسیم نابرابری اور اونچ نیچ کی بنیاد پر ہے، اس میں انسانی مساوات کی کوئی جگہ نہیں ہے، انسانی مساوات آتے ہی یہ دھڑام سے زمیں بوس ہوجاتا ہے، اس میں کچھ ذاتیں اونچ ہیں اور کچھ نیچ ،ہر ذات کے نیچے کوئی ذات ہے اور ہر ذات کے اوپر کوئی ذات۔ اور برہمن کی ذات سب سے اوپر ہے،…

Read more

Continue reading
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • hira-online.comhira-online.com
  • UGC
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
  • جنوری 29, 2026
  • 0 Comments
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! احمد نور عینیاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد یو جی سی کے نئے ضابطوں کو لے کر پورے ملک میں ہنگامہ چل رہا ہے، جنرل کیٹگری میں آنے والی ذاتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں، جب کہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے آنے والے لوگ اس کی حمایت میں ہیں۔ یو جی سی یہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا مخفف ہے، یہ کمیشن 1956 میں بنایا گیا، اس کا کام یونیورسٹیوں کو منظوری دینا، انھیں فنڈز فراہم کرنا اور اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے قواعد وضوابط بنانا ہے، اس نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 2012 میں امتیازی سلوک کو روکنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کچھ ضوابط بنائے، جنھیں Promotion of Equity in Higher Educational Institutions) Regulations, 2012 کہا جاتا ہے، ان ضوابط کے ہوتے ہوئے امتیازی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوئے، جن میں روہت ویمولا کا کیس قابل ذکر ہے، جس نے 2016ذات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک سے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی، ڈاکٹر پایل تڑوی اور کچھ دوسروں کے نام بھی اس مناسبت سے ذکر کیے جاتے ہیں، ان واقعات سے یہ اندازہ ہوا کہ امتیازی سلوک مخالف ضوابط زمینی سطح پر صحیح ڈھنگ سے کام نہیں کر پا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امتیازی سلوک کے اعداد وشمار میں 118 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لہذا یو جی سی نے ان ضوابط میں کچھ سختی لانا ضروری سمجھا، چنان چہ ضوابط کو پہلے سے سخت بنانے کے لیے اس میں ترمیم واضافہ کیا گیا، اور یہ ترمیم شدہ ضوابط کچھ دنوں قبل 13 جنوری کو جاری کیے گئے۔ امتیازی سلوک پر ایسے سخت ضوابط بنانے کی ضرورت کیوں پڑی، اس کا جواب بھارت کے طبقاتی نظام، یہاں کی سماجی نفسیات، اور برہمنوادی تاریخ میں مضمر ہے، یہاں کی ایک بڑی آبادی کو برہمنوادی نظام کے ٹھیکیداروں نے ہزاروں سال سے نہ صرف یہ کہ مالی، تعلیمی، حکومتی اور دفاعی حقوق سے محروم رکھا، بل کہ عزت واحترام…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top