فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ (24)
مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برش
مسواک کے دو پہلو ہیں ۔ ایک مسواک کا اصل مقصود اور یہ ظاہر ہے کہ نظافت اور صفائی و ستھرائی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اتنے دنوں تک مسواک نہ کرنا کہ منہ میں بدبو پیدا ہو جائے اور دانتوں پر زردی آجائے ، مکروہ ہے دوسرا پہلو آلہ مسواک کا ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعے دانتوں کی صفائی و ستھرائی کا کام لیا جائے ۔
ٹوتھ پیسٹ، برش اور منجن کے ذریعہ مسواک کی پہلی سنت ادا ہو جائے گی
امام نووی کا بیان ہے :
و باي شيئى إستاك مما يقلع القلح ويزيل التغير كالخرقة وغيرها أجزاه لانه يحصل به المقصود وان امر اصبعه على اسنانه لم يجزئه لانه لا يسمى سواكا – (1)
گندگی اور دانتوں کی زردی کو ختم کر دینے والی چیزوں میں سے جس چیز سے بھی مسواک کرے کافی ہے کہ اس سے مقصود حاصل ہو جاتا ہے اگر دانتوں پر محض انگلی سے ملا ہو تو کافی نہیں کہ اس کو مسواک سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔
اور شیخ سید سابق کہتے ہیں :
وان كانت السنة تحصل بكل ما يزيل صفرة الاسنان فينظف الفم كالفرشة ونحوها – ()
دوسری سنت اسی وقت ادا ہو گی جب کہ مسواک لکڑی کی ہو اور اسی بنیت جس طرح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ۔
حوالہ:
کتاب : جدید فقہی مسائل
جلد : 1
صفحہ: 96

