قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم
از : مولانا ابو الجیش ندوی
قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا وہ معجز نما کلام ہے جس کا ہر لفظ بلاغت کا شہکار اور حکمت سے لبریز ہے۔ قرآن نے انسانی عقل، غرور اور باطل معبودوں کی بے بسی کو واضح کرنے کے لیے جہاں بڑی بڑی کائناتی نشانیوں کا ذکر کیا ہے، وہاں انتہائی چھوٹی اور حقیر سمجھی جانے والی مخلوقات کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ انہی میں سے ایک مثال "مکھی” (Dhubab) کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج میں انسانی عجز اور بے بسی کی علامت کے طور پر پیش فرمایا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ ؕ وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ
(اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کر سکتے، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والا اور جس سے مدد چاہی جائے دونوں ہی کمزور ہیں!)
— [سورۃ الحج: 73]
ظاہری طور پر یہ آیت باطل معبودوں اور انسانوں کی بے بسی کی ایک سادہ مثال معلوم ہوتی ہے، لیکن لسانی اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں جب اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآنی الفاظ کی حیرت انگیز علمی و سائنسی دلالت آشکار ہوتی ہے۔
1۔ لسانی اور بلاغتی باریکی
عربی زبان اور بلاغتِ قرآنی کے نقطہ نظر سے اس آیت میں دو الفاظ خاص طور پر قابلِ غور ہیں:
«يَسْلُبْهُمُ» (سلب کا مفہوم): عربی میں عام چوری کے لیے "سرقہ” کا لفظ آتا ہے، جبکہ "سلب” کا مطلب کسی کے سامنے سے کوئی چیز جھپٹ کر، زبردستی اور اڑا کر لے جانا ہے۔ مکھی کا طریقہ کار بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ انسان کی موجودگی میں، اس کے سامنے سے غذا پر جھپٹتی ہے اور انسان اپنے تمام تر وسائل کے باوجود اسے روکنے میں ناکام رہتا ہے۔
«لَا يَسْتَنْقِذُوْهُ» (استنقاذ کا عدم امکان): قرآنِ پاک نے یہ نہیں فرمایا کہ "وہ اسے واپس نہیں لے سکتے” (لا یردّوہ)، بلکہ "استنقاذ” کا لفظ استعمال فرمایا۔ بابِ استفعال کا یہ لفظ ایک خاص معنی رکھتا ہے: کسی چیز کو اس کی اصل حالت، سلامتی اور ماہیت (Original Form) کے ساتھ محفوظ واپس نکالنا۔ یعنی اگر انسان مکھی کو فوراً پکڑ بھی لے، تب بھی وہ اس چیز کو اس کی اصل حالت میں بحال یا واپس نہیں کر سکتا۔
2۔ سائنسی دریافت: مکھی کا "خارجی نظامِ ہضم” (Extracorporeal Digestion)
جدید حیاتیات (Biology) اور حشرات کے مطالعے (Entomology) نے بیسویں صدی میں مکھی کے اندر ایک انتہائی عجیب و غریب نظامِ ہضم دریافت کیا۔
عام حیوانات اور انسان غذا کو منہ میں لے جا کر چباتے ہیں اور اندرونی معدے میں ہضم کرتے ہیں، لیکن مکھی کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے:
دانتوں کا نہ ہونا: مکھی کے پاس غذا چبانے کے لیے دانت یا جبڑے نہیں ہوتے، اس لیے وہ ٹھوس غذا کو براہِ راست نگلنے سے قاصر ہے۔
انزائمز کا اخراج: جب مکھی کسی کھانے کے ذرے یا شکر پر بیٹھتی ہے، تو وہ اپنے پیٹ/حوصلہ (Crop) سے نہایت تیز رفتار اور طاقتور کیمیائی انزائمز اور لعاب (Saliva) اس غذائی ذرے پر جسم کے باہر ہی ٹپکا دیتی ہے۔
بیرونی ہضم اور کیمیائی تبدیلی: یہ انزائمز چند ملی سیکنڈز کے اندر اس ٹھوس غذا کو توڑ کر اور حل کر کے ایک نئے کیمیائی مائع (Liquid Solution) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں اس عمل کو Extracorporeal Digestion (جسم سے باہر کا ہضم) کہا جاتا ہے۔
چوسنے کا عمل: جب غذا جسم سے باہر ہی کیمیائی طور پر پگھل کر سیال بن جاتی ہے، تو مکھی اپنی اسفنج نما سونڈ (Proboscis) کے ذریعے اسے چوس لیتی ہے۔
3۔ قرآنی معجزہ اور سائنسی مطابقت
سائنسی حقیقت کی اس روشنی میں قرآنی لفظ «لَا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ» کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے۔
جب مکھی انسان کے دسترخوان سے کسی غذائی ذرے کو چھینتی (سلب کرتی) ہے، تو وہ ذرہ انسان کے دیکھتے ہی دیکھتے محض چند لمحوں میں اپنی اصل کیمیائی ترکیب کھو دیتا ہے اور ایک نئے مائع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگر انسان مکھی کو اسی وقت مار بھی دے اور اس کا پیٹ چاک کر کے وہ چیز نکالنا چاہے، تو اسے وہ غذا اپنی اصل حالت میں کبھی نہیں مل سکتی، کیونکہ وہ غذا اب وہ رہی ہی نہیں جو چھینی گئی تھی، بلکہ ایک بدل چکا کیمیائی مادہ بن چکی ہے۔
نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک میں نہ تو مائیکروسکوپ موجود تھی اور نہ ہی حشرات کے اس پیچیدہ بائیولوجیکل نظام کا کسی کو علم تھا۔ 1400 سال قبل قرآن کا ایک ایسے لفظ (استنقاذ) کا انتخاب کرنا جو اس سائنسی حقیقت کے بالکل عین مطابق ہو، اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ یہ کلام اس ذات کا ہے جو کائنات کی ہر مائیکروسکوپک حقیقت سے باخبر ہے۔
حاصل تحریر
سورۃ الحج کی یہ آیت جہاں ایک طرف مشرکین اور منکرین کے معبودانِ باطل کی عاجزی اور بطلان کو ظاہر کرتی ہے، وہاں دوسری طرف جدید سائنسی دور کے انسان کو بھی اس کے سائنسی غرور کا آئینہ دکھاتی ہے۔ انسان دنیا بھر کی تکنیکی ترقی کے باوجود ایک چھوٹی سی مکھی کے ذریعے چھینی گئی غذا کو اس کی اصل حالت میں واپس لانے سے عاجز ہے۔
یہ آیت بندے کو اپنے خالق کے سامنے عاجزی اور انکساری کا درس دیتی ہے کہ جو انسان ایک مکھی کے سامنے اتنا بے بس ہے، اس کے لیے زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مالک و خالق کے سامنے تکبر کرے۔

