الحاد جدید کی فلسفیانہ اساس
عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سے
(قسط اول)
🖋️ احمد نور عینی
استاذ المعہد العالی الاسلامی
کوئی بھی غالب قوم دیگر قوموں پر صرف اپنی سیاسی بالا دستی قائم نہیں کرتی بلکہ اپنی فکر اور تہذیب بھی ان کی طرف منتقل کرتی ہے، اور مغلوب قومیں کبھی غیر شعوری طور پر اور کبھی احساس فخر کے ساتھ غالب قوم کے فکری سرمایہ اور تہذیبی ورثہ کو جزوی طور پر ہی سہی قبول کر لیتی ہیں۔ اور یہ بات واضح رہے کہ کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی تہذیب دیگر عوامل کے ساتھ فکری اساس بھی رکھتی ہے، اور یہ اساس وہاں کے فلاسفہ ومفکرین کی ذہنی اپچ سے استوار ہوتی ہے۔ مغربی افکار ونظریات اور وہاں کے نظام ہائے حیات اور مغرب سے اٹھنے والے الحاد کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے مغربی فلاسفہ کو پڑھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے، مغربی فلاسفہ کا یہ مطالعہ جہاں تفہیم مغرب میں مدد دیتا ہے وہیں جلوۂ دانش حاضر سے آنکھوں کو خیرہ ہونے سے بچاتا ہے اور چشم مسلم میں خاک مدینہ ونجف کا سرمہ لگاتا ہے۔ الحاد کے تناظر میں جدید مغربی فلاسفہ کے مطالعہ سے پہلے یہ بات پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ عہد جدید کے تمام مغربی فلاسفہ ملحد نہیں تھے، بل کہ ان میں کے کئی خدا کے وجود کو مانتے تھے، لیکن ان کے تصور خدا اور ان کے فلسفہ کی تفصیلات نےالحاد کی فکری بنیادیں استوارکرنے اور الحادی مزاج کو پروان چڑھانے کا کام کیا۔
جدید فلسفہ کی باضابطہ شروعات رینے ڈیکارٹ (۱۵۹۶-۱۶۵۰) سے ہوتی ہے، یہ جدید فلسفہ کا بانی ہے، یہ فلسفی ہونے کے ساتھ ماہر ریاضیات بھی تھا، فلسفیوں کے مختلف ومتضاد بیانات سے اکتا کر اس نے ریاضی کے دو دو چار جیسے اصولوں کی طرح فلسفہ کے لیے بھی واضح اصول وضع کرنے کی ٹھانی، اپنے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے اس نے ہر چیز میں شک کرنے کا اصول بنایا، تاکہ آں کہ یقین کا حصول نہ ہوجائے، اس طرح ڈیکارٹ کا یہ فلسفیانہ سفر تشکیک کلی سے شروع ہوا، سفر کے آغاز میں توہ قدیم یونانی فلسفی پرہو کے مماثل تھا، لیکن ڈیکارٹ پرہو سے اس طور پر مختلف تھا کہ پرہو کے فلسفہ نے شک پر ہی پڑاؤ ڈال دیا تھا، جب کہ ڈیکارٹ کا شک یقین کی کسی منزل تک پہنچنے کے لیے تھا، جہاں پہنچ کر علم واستدلال کی عمارت قائم کی جا سکے۔ یقین کے حصول کے لیے اس نے ہر چیز میں شک شروع کیا، بالآخروہ ایسے نکتہ پر پہنچا جو شک وشبہ سے بالاتر ہے، اور وہ ’میں ‘ کا وجود ہے، اس نے کہا کہ ہر چیز کے وجود میں شک ہو سکتا ہے، لیکن مجھے اپنے وجود میں شک ہو ایسا نہیں ہو سکتا؛ کیوں کہ میں اپنے بارے میں شک کر رہا ہوں تو لا محالہ میں ہوں، کیوں کہ نفس وجود کے بارے میں تو شک ہو سکتا ہے، لیکن شک بغیر شک کرنے والے کے وجود میں نہیں آ سکتا، اور شک میں کر رہا ہوں ، اس لیے میں ہوں، لہذا سوچنے والی ذات ’’میں‘‘ کا وجود قطعا ماورائے شک ہے۔ اسی کو ڈیکارٹ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’ Cogito ergo sum ‘‘، انگریزی میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا: ’’I think, therefor I am ‘‘ (میں سوچتا ہے، اس لیے میں ہوں)۔ ڈیکارٹ کے جملے کو جدید مغربی فلسفہ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی تک پہنچنے کا راستہ خود کا شعوری عمل ہی ہے۔
ڈیکارٹ نے کائنات کے سارے وجود کا انکار کرنے کے بعد اپنے وجود کے ہونے کا یقین حاصل کیا، اس نے شک سے یقین تک کا سفر خالص عقل کے سہارے کیا، اس لیے اس کا فلسفہ عقلیت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس نے عقلیت (ریشنلزم) نامی دبستان فلسفہ کی بنیاد رکھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ مابعد الطبیعیاتی حقائق کو جاننے کا واحد ذریعہ عقل ہے۔ ڈیکارٹ کے عقل پرستانہ فلسفہ نے مغرب کو عقل پرستی کی راہ پر لگانے میں نمایاں اور بنیادی کردار ادا کیا۔ ڈیکارٹ نے اپنے مشہور جملے سے خدا کے وجود کو بھی ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ جب میرا وجود یقینی ہے تو میرے اندر جو ایک لا محدود ہستی کا تصور ہے کہ جو میں نے اپنے اندر نہیں ڈالا ہے بل کہ پہلے سے ہی ہے تو یقینا ایک لا محدود ہستی خارج میں بھی ہوگی، وہ کہتا ہے میرے اندر پایا جانے والا تصور خدا وجود خداکو اسی طرح ثابت کرتا ہے جس طرح دائرہ کا تصور اس شے کے گول ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ ڈیکارٹ نے خدا کے انکار کے بجائے اس کا اثبات کیا ہے، لیکن چوں کہ اس نے وجود یقینی کا اثبات اپنے آپ سے شروع کیا، پھر وہاں سے خدا کا اثبات کیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے فلسفہ میں مرکزیت انسان کو حاصل ہے نہ کہ خدا کو، جس کے نتیجہ میں ہیومنزم کی تخم ریزی ہوتی ہے اور بالآخر انسانیت پرستانہ الحاد اپنے پیر پھیلاتا ہے۔ڈیکارٹ جدید فلسفہ میں دبستان ثنویت کا بھی بانی ہے، کیوں کہ اس نے روح اور مادہ دونوں کو حقیقی بتایا، وہ کہتا ہے کہ مادہ کی صفت امتداد اور روح کی صفت فکر وشعور ہے۔ ڈیکارٹ نے تصورات کی تین قسمیں کی ہیں: ایک خارج سے آنے والے محسوسات، ایک اندر سے پیدا ہونے والے محسوسات، اور ایک وہ جو اپنی فطرت وجبلت میں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ڈیکارٹ کا فلسفہ حواس اور عقل کے علاوہ کسی اور شے کو ماخذ علم ماننے سے انکار کرتا ہے۔
تھامس ہابس (۱۵۸۸-۱۶۷۹): یہ عمر میں ڈیکارٹ سے بڑا تھا، لیکن تاریخ فلسفہ میں اس کا ذکر ڈیکارٹ کے بعد آتا ہے، ڈیکارٹ نے جس ریشنلزم (عقل پرستی) کی بنیاد رکھی تھی ہابس کا تعلق بھی اسی دبستان فلسفہ سے تھا، اس نے کہا کہ عقل انسانی رہنمائی کے لیے کافی ہے، عقل انسان میں جبلی اور خلقی نہیں، بل کہ وہ محنت ومشقت سے ترقی کرتی ہے۔ یہ قوت کو خیر سمجھتا تھا، ملوکیت کا حامی تھی، یہ کہتا تھا کہ تلوار کے بغیر معاہدے محض الفاظ ہوتے ہیں، عہد جدید کے مغربی فلاسفہ میں یہ پہلافلسفی ہے جسے سیکولر سمجھا جاتا ہے، اس نے اجتماعی زندگی کو خدا اور مذہب سے لا تعلق کر دیا، اور اقتدار اعلی کے منصب پر انسان کو بٹھادیا، اس لیے اسے مادہ پرست بھی کہا جاتا ہے، اس کے فلسفہ کی بنیاد حالت فطرت ( State of Nature) کے تصور پر ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ انسان اپنے ابتدائی مرحلۂ تاریخ میں بے ریاست زندگی گذارتا تھا، نہ وہ کسی نظام حکومت کے تابع تھا اور نہ کسی مقتدر حاکم کا محکوم ، اس فطری حالت میں تحفظ ذات سب سے بڑا خیر اور عدم تحفظ سب بڑا شر تھا، تحفظ اور عدم تحفظ کے اس احساس کے لیے وہ سیلف پریزرویشن (انسانی جبلت تحفظ) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، اس جبلت نے انسانوں کو آپس میں معاہدہ کرنے پر مجبور کیا، جسے ہوبز معاہدۂ عمرانی کہتا ہے، پھر اس معاہدہ کے انضباط وبقا کے لیے مقتدر اعلی کو تسلیم کیا گیا۔یوں ہوبز کے نزدیک اقتدار اعلی حالت فطرت کی ایک ارتقائی صورت ہے، اور یہ ایک انسانی منصب ہے نہ کہ خدائی، جب یہ منصب خدائی نہیں ہے تو خدا کو اس منصب سے لا تعلق کردینا چاہیے۔ ہوبز اجتماعی اخلاقیات کا ماخذ ریاست کو اور انفرادی اخلاقیات کا ماخذ فرد کی ذات کو قرار دیتا ہے۔
اسپینوزا (Spinoza )(۱۶۳۲-۱۶۷۶):یہ نسلا یہودی تھا، ڈیکارٹ کے عقلیت پرست مکتبۂ فکر (Rationalism) سے تعلق رکھتا ہے، یہ جدید فلسفہ میں وحدت الوجود (Pantheism) کا باوا آدم ہے۔اس کا تعارف اس کی کتاب اخلاقیات کی وجہ سے ہوا، اس کتاب میں اس نے خدا کے وجود پر بحث کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات میں ہر جگہ خدا ہے، کائنات کے ہر ذرہ میں خدا حلول کیا ہوا ہے، بل کہ جو کچھ ہے وہ خدا ہے، خدا عالم کی اسی طرح علت ہے جس طرح سیب اپنی سرخی کی اور دودھ اپنی شیرینی ، سفیدی اور مائیت کی ، نہ کہ جس طرح سورج اپنی دھوپ کی اور باپ اپنی اولاد کی ، کیوں کہ سورج اور باپ دونوں علت خارجہ ہیں۔ خدا کی ذات کائنات سے خارج کسی لا مکاں میں نہیں ہے، بل کہ پوری کائنات خدا ہے اور خدا کائنات ہے، دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ، وہ غیر شخصی اور غیر متصف بالاوصاف ہے، اس نے شخصی خدا کے خاتمہ کا اعلان کیا جس کی وجہ سے خدا خالق، حاکم، رب، رازق وغیرہ کے بجائے محض فطری قانون بن کر رہ گیا۔ خدا کے بارے اسپینوزا کے تصورات ہیں وہ تقریبا بالکل وہی ہیں جو شنکر اچاریہ کے برہم کے بارے میں ہیں، جسے ادویت واد کہا جاتا ہے، البتہ شنکر اچاریہ نے آتما (روح) کو لے کر مایا، موکش وغیرہ تفصیلات کے ذریعہ اپنے فلسفہ پر روحانیت کا رنگ چڑھا دیا، جب کہ اسپینوزا نے خدا کو فطرت کے مماثل بنا کر نیچریت اور مادیت کی راہ ہموار کی۔ (دیکھیے: تاریخ الحاد)۔ اسپینوزا کے فلسفہ میں خدا مافوق الفطرت کے بجائے ما بین الفطرت ہے۔ جب اس نے ما فوق الفطرت خدا کا انکار کردیا تو وہ ما فوق الفطرت ذریعۂ علم یعنی وحی کو کیوں کر تسلیم کرتا، اسی وجہ سے اس نے بائبل کو آسمانی کتاب ماننے سے انکار کردیا اور عقلی بنیادوں پر اس پر بہت سخت تنقیدیں کیں۔ اسپینوزا کائنات کے غائی تصور کی تردید کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ کائنات اپنے وجود کے پیچھے کوئی مقصد نہیں رکھتی، یعنی آفرینش کائنات اور حیات انسانی بلا مقصد ہے۔
جان لاک John Locke (۱۶۳۲-۱۷۰۴):یہ پہلا فلسفی ہے جس نے ڈیکارٹ کی عقلیت سے اختلاف کرکے تجربیت کی بنیاد رکھی، دونوں میں فرق یہ ہے کہ عقلیت (ریشنلزم) میں یہ مانا جاتا ہے کہ ہر انسان کے اندر کچھ ایسے تصورات ہیں جو تجربہ یعنی حواس سے حاصل نہیں ہوتے؛ بل کہ پیدائشی طور پر اس کے اندر ودیعت ہوتے ہیں، جب کہ تجربیت میں اس کا انکار کیا جاتا ہے، دوسرا فرق یہ ہے کہ ریشنلزم میں علم کی نوعیت استخراجی اور تحلیلی ہوتی ہے جب کہ تجربیت پسندی میں استقرائی۔ لاک تجربیت کا بانی تھا، اس لیے اس نے کہا کہ تجربہ ہی ہمارے تمام علم کی اساس ہے، ہمیں جو بھی علم حاصل ہوتا ہے وہ حس اور تامل وتجربے کے باعث حاصل ہوتا ہے ، ان کے بغیر ذہن کی حیثیت قرطاس سادہ کی ہوتی ہے، اس مخصوص کیفیت کے لیے اس نے Tabula Rasa کی اصطلاح استعمال کی، جس کا مطلب ہے لوح سادہ۔ یعنی وہبی تصورات اور وحی کے پیغامات کو علم کی حدود سے نکال دیا ، کیوں کہ یہ تجربہ یعنی حواس سے حاصل نہیں ہوتے ، اورعلم وہی ہے جو تجربہ یعنی حواس سے براہ راست حاصل ہو یا حواس سے حاصل شدہ علم سے استدلال کر کے حاصل ہو۔ لاک کا کہنا تھا کہ الہام کا جائزہ عقل سے لینا ضروری ہے، اور واضح رہے کہ عقل سے لاک کی مراد وہ عقل ہے جو حواس سے حاصل شدہ تصورات اور ادراکات سے تشکیل پائی ہو اور فطری رہنمائی نام کی کسی بھی خصوصیت سے نا آشنا ہو۔
لاک نے مادے کی ابتدائی صفات Primary Qualities (کثافت، حجم، شکل، حرکت، عدد) اور ثانوی صفات (رنگ، بو، مزا، آواز) کا نظریہ پیش کیا۔ ابتدائی صفات اجسام میں موجود ہوتی ہیں، جبکہ ثانوی صفات ادراک کرنے والے میں ہوتی ہیں، آنکھ کے بغیر کوئی رنگ نہیں ہوتے، کان کے بغیر کوئی آواز نہیں ہوتی ۔لاک نے اپنی کتاب آن سول گورنمنٹ مطبوعہ ۱۶۹۰ میں جمہوریت کا تصور پیش کیا اور خیر وشر کے لیے مسرت والم کو معیار بنایا، وہ فطری حقوق کا داعی ہے، خاص کر فرد کی آزادی اور حق ملکیت کو قدرتی اور فطری سمجھتا ہے اور اسےمحدود کرنے کو اس حق کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، جس سے سرمایہ داریت کی زمین ہموار ہوتی ہے۔ لاک کے فطری حق والے تصور کو اپنا کر آدم اسمتھ نے آزاد معیشت اور عدم مداخلت والے اصول اپنائے، یعنی فرد کو کسی مداخلت کے بغیر معاشی تگ ودو کی پوری آزادی ہونی چاہیے، جو کہ سرمایہ داریت کا بنیادی اصول ہے۔ اسی وجہ سے لاک کو سرمایہ داریت کا نظریاتی معمار تصور کیا جاتا ہے۔ لاک کی تجربیت جدید سائنسی نقطۂ نظر کا آئینہ دار ہے ،اس کا اصول وہی ہے جو سائنسی منہج فکر کا کہ حواس خمسہ سے ماورا کسی حقیقت کا کوئی وجود نہیں، لاک کی یہ تجربیت موجودہ سائنٹزم کی اساس بنی۔ جان لاک خود تو ملحد نہ تھا، لیکن اس کی فلسفیانہ فکر نے لبرلزم کی راہ ہموار کی۔
لیبنیز: Wilhelm Leibniz (1646۔1716): یہ جرمن فلسفی ہے، اس نے جدید فلسفہ میں کثرتیت کی بنیاد رکھی، یہ کہتا تھا کہ کائنات میں جواہر کا شمار لا محدود ہے، وہ ان جواہر کو موناد Monad کا مخصوص نام دیتا ہے، جس کا ترجمہ اردو والوں نے روحیے سے کیا ہے، ہر دو موناد ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے، باغ میں دو پتے بھی ایک طرح کے نہیں ہوسکتے، شاخ وشجر کا ہر ایک پتہ اور زمین کا ہر ذرہ اپنی اپنی جگہ وحید اور بے مثل ہے، نہ دو پتے ایک دوسرے کے مشابہ ہوسکتے ہیں اور نہ دو ذرے ایک دوسرے کے مماثل۔ لیبنیز کے فلسفہ کے مطابق ایک میز روحیوں کی ایک بستی ہوتی ہے۔ کائنات کی تمام اشیا روحیوں سے مرکب ہیں، ہر روحیہ (موناد) میں ادراک پایا جاتا ہے، لیبنیز ادراک کے بے انتہا مدارج مانتا ہے، کچھ مونادات کے ادراک بے شعور ہوتے ہیں، کچھ کے نیم شعور، کچھ کے کامل شعور والے اور کچھ کے انتہائی درجہ کا کامل شعور رکھنے والے۔ ہر جسم مونادات کا مجموعہ ہوتا ہے، ذی حیات اور بے جان اجسام کے مونادات میں یہ فرق ہے کہ ذی حیات اجسام کے مونادات میں ایک حکمراں موناد ہوتا ہے، باقی مونادات اس کے محکوم ہوتے ہیں، جب کہ بے جان اجسام کے مونادات میں کامل مساوات پائی جاتی ہے، نہ کوئی حاکم ہوتا ہے اور نہ کوئی محکوم۔تمام مونادات قدیم ہیں، موت کے وقت مونادات منتشر ہوجاتے ہیں، فنا نہیں ہوتے۔
لیبنیز کے موناد Monad کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ بے دریچہ (Windowless) ہوتے ہیں، کوئی موناد باہر سے کوئی چیز لیتا ہے نہ دیتا ہے، اگر کہیں ایسا لگتا ہے تو وہاں حقیقت میں ایک موناد کی تبدیلی دوسرے موناد کی تبدیلی کے دوران پیش ثابت ہم آہنگی (Pre-established harmony) پائی جاتی ہے۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ میں نے آگ میں ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا، پھر آگ میں ہاتھ ڈالا، تو آگ ہا تھ کو جلانے لگی، اور میں نے جلنے کا درد محسوس کیا، یہ ساری باتیں باہم مربوط معلوم ہوتی ہیں، لیکن لیبنیز کہتا ہے کہ ان باتوں کی وقوع پذیری میں آپسی کوئی ربط نہیں ہے، میرے ارادہ کرنے اور میرے آگ میں ہاتھ ڈالنے کے عمل کے درمیان ایک پیش ثابت ہم آہنگی پائی جاتی ہے، یہ بات میرے مونادات میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت موجود تھی کہ میں آگ میں ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کروں گا، اسی طرح میرے مونادات پہلے سے یہ بات تھی میں آگ میں ہاتھ ڈالوں گا اور یہ ڈالنا ارادہ کرنے کے ساتھ زمانی توافق رکھے گا، یعنی یہ محض ایک زمانی توافق ہے نہ کہ علت ومعلول کا تعلق۔
لیبنیز کے مونادات میں سے ہر موناد علم ودانش کا ایسا خزانہ ہے جسے پہلے ہی سے اس کے محفوظ کر دیا گیا، انسان کے تجربات اور خارج کے واقعات سے کوئی علم روحیہ کے اندر نہیں جاتا، ہاں ان تجربات وواقعات کی تحریک سے علم ودانش کے مدفون خزانے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ لبینیز کا یہ فلسفہ لاک کے اس فلسفہ کے بالکل برعکس ہے کہ انسانی عقل ایک سادہ کاغذ کی طرح ہے، انسان علم ودانش کا خزانہ تو دور کوئی پھوٹی کوڑی لے کر بھی پیدا نہیں ہوتا، اسے جو کچھ علم حاصل ہوتا ہے سب تجربہ یعنی حواس کے ذریعہ خارج سے آتا ہے۔
لیبنیز نے سبب کافی کا اصول (Principle of Sufficient Reason) پیش کیا، جس سے اس نے خدا کے وجود پر استدلال کیا، اس اصول کا حاصل یہ ہے کہ’’ کوئی واقعہ، حقیقت، یا وجود ایسا نہیں جس کی کوئی کافی وجہ نہ ہو‘‘۔ ہر معلول کی علت ہے، جب ہر معلول کی علت ہے تو علت اولی کا ہونا یقینی ہے، اور وہی خدا کی ذات ہے۔ لیبنیز ایک طرف روحیوں کو بے دریچہ مانتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی موناد کسی دوسرے موناد کا اثر قبول نہیں کرسکتا، دوسری طرف وہ سبب کافی کا اصول پیش کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شے دوسری شے کا سبب بنتی ہے، یعنی دوسری شے پہلی شے کا اثر قبول کرتی ہے، ان دونوں اصولوں میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے، اس تعارض کو دور کرنے کے کئی جوابات دیے گئے ہیں، جن میں ایک جواب یہ ہے کہ دو مونادات کی تغیر پذیری یا حرکت پذیری میں ایک کا دوسرے پر علت ہونے کی حیثیت سے اثر تو نہیں پڑتا لیکن ان دونوں کی حرکت وتغیر کی وقوع پذیری کا ایک سبب کافی توافق زمانی موجود ہے، اوراس قدر منظم ومستحکم توافق زمانی محض اتفاق نہیں ہوسکتی، اس توافق زمانی کے پیچھے کوئی علت فاعلی ضرور ہے ، اور وہی خدا کی ذات ہے اور اس ذات کا دو مونادات کی حرکت وتغیر میں وقوع پذیری کے لیے زمانی توافق کو وجود بخشنا ہی سبب کافی ہے۔
لائبنیز خدا کا قائل تھا، لیکن اس مونادات کو کچھ اس طریقے سے بے دریچہ کیا کہ انسان خارج سے ملنے والی رہنمائی اور ہدایت ربانی سے بے نیاز ہوگیا۔نیز اس کے فلسفہ میں خدا کی حیثیت اس گھڑی ساز کی سی ہے جو گھڑی بنا کر فارغ ہوگیا ہے، لیبنیز نے بھی خدا کو کائنات میں تصرف کرنے سے فارغ کر دیا، اور اس نے فخر کے ساتھ کہا کہ خدا کی صناعی اتنی ناقص نہیں ہے کہ کائنات کو چلانے کے لیے خدا کو مداخلت کی ضرورت پڑے۔
(جاری)