1. اکرامِ مسلم

 


1940 کے بعد تحریک نے برصغیر سے نکل کر دنیا بھر میں قدم رکھ دیا۔
پاکستان و بنگلہ دیش میں بڑے مراکز قائم ہوئے۔
خلیجی ممالک، افریقہ، یورپ، امریکہ اور جنوبی ایشیا کے ہر حصے میں جماعت کے حلقے فعال ہوئے۔
رائے ونڈ، نظام الدین، ڈھاکہ—دنیا کے سب سے بڑے دعوتی مراکز بن گئے۔
اس وقت تبلیغی جماعت دنیا کی سب سے وسیع عوامی اسلامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔

 

بین الاقوامی سطح پر مسلم بھائی چارہ اور اتحاد کا ماحول

دین سے دور نسلوں کی عملی تربیت

سیاسی و فرقہ وارانہ کشیدگی سے دور ایک محفوظ دعوتی ماحول
(ب) سماجی خدمات
اگرچہ جماعت براہ راست سماجی خدمت کی تنظیم نہیں، مگر دنیا بھر میں
مساجد کی آباد کاری،
نئی مساجد کا قیام،
دینی مدارس کا فروغ،
بے عمل طبقے کو دین سے جوڑنے
جیسے بڑے اثرات اس کے ذریعے سامنے آئے۔

علمی تنقیدات اور معروضی جائزہ
اہلِ علم نے اس تحریک پر مختلف نوعیت کی تنقیدات بھی پیش کی ہیں:
(1) علمی گہرائی سے زیادہ عملی پہلو پر توجہ
بعض ناقدین کا خیال ہے کہ جماعت عقائد و فقہ کی تفصیلی تعلیم و اصلاح پر کم توجہ دیتی ہے، جس سے گہرائی نہیں بنتی۔
(2) سماجی و سیاسی شعور سے لاتعلقی
تحریک کی مکمل غیرسیاسی پالیسی بعض اہلِ فکر کے نزدیک مسلمانوں کی اجتماعی صورتِ حال سے بے نیازی کا سبب بنتی ہے۔