Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
02.02.2026
Trending News: Quranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہحلال ذبیحہ کا مسئلہاستاذ محترم ڈاکٹر مولانا نذیر احمد ندوی کی یاد میںکتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھومفتی منور سلطان ندوی: ایک صاحبِ علم، صاحبِ قلم اور صاحبِ کردار عالمِ دین از : زین العابدین ہاشمی ندوی ،نئی دہلیہیرا جو نایاب تھاکتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہحضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور عصری آگہی از : مولانا آدم علی ندویمطالعہ کا جنوں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

  1. Home
  2. مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی کی آپ بیتی

  • hira-online.comhira-online.com
  • Blog
  • ستمبر 19, 2024
  • 0 Comments

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ

ہندوستان میں جن بزرگوں کی طرف میرا د کھینچ ہے اور ان کی محبت بھی مجھے حاصل ہے ان میں ایک بڑا نام علم وفضل، تقویٰ طہارت، صلاحیت و صالحیت اور خدمات کے اعتبار سے حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ (ولادت جولائی 1942ء) بن سید شاہ عنایت اللہ فردوسی (م 1/ دسمبر 1991ء) بن سید شاہ فضل حسین منیری (م 1924ء) بن سید شاہ امجد حسین (م 1921ء) کا ہے، وہ پیرانہ سالی کے باوجود پٹنہ میں نظام الاوقات کی پابندی کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں اور عمر کی اس منزل میں بھی لکھنے، پڑھنے کا کام کرتے ہیں، عزیزوں کی خاطر داری کے لیے اس کام کو بھی قبول کر لیتے ہیں، جو بڑی محنت کا ہوتا ہے، وقت طلب ہوتا ہے، مثال کے طور پر میری کتاب ”نئے مسائل کے شرعی احکام“ کا عربی ایڈیشن ”المسائل المستجدۃ فی ضوء الاحکام الشرعیہ“ لانا تھا، تو ڈرتے ڈرتے میں نے حضرت سے اس کتاب کے مواد اور زبان وبیان دونوں پر نظر نہائی کی درخواست کی، میں جانتا تھا کہ یہ کام کس قدر مشکل ہے، آج کے دور میں جب معاصرین بھی کتابیں پڑھنا پسند نہیں کرتے، حضرت نے بڑی خوش دلی سے اس کام کو اپنے ذمہ لے لیا اور انتہائی ژرف نگاہی کے ساتھ زبان وبیان کے اعتبار سے اس پر نظر نہائی کا کام انجام دیا، روزانہ اس کتاب کے لیے دو گھنٹے مختص کئے اور چند دنوں میں اس لائق بنا دیا کہ وہ چھپ کر منظر عام پر آجائے، چھپ کر آئی تو بھی بڑے اونچے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے، چونکہ حضرت کا اپنا مقالہ بھی عربی زبان میں ”القضایا المعاصرۃ فی فتاویٰ علماء مسلمی الشرق الاوسط“ کے عنوان سے سات سو صفحات پر مشتمل تھا، جس پر انہیں ڈاکٹریٹ (Ph.D)کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ اس لیے مواد کے اعتبار سے بھی انہوں نے اس کتاب کو جانچا، پرکھا اور اطمینان کا اظہار کیا، اتنا ہی نہیں اس کتاب پر ایک قیمتی مقدمہ لکھ کر کتاب کی اہمیت کو دو بالا کیا، یہ حضرت کی خورد نوازی کی ایک مثال ہے۔ ہم جیسے چھوٹوں کی کیا بات ہے؟ وقت کے بڑے بڑے علماء کی نگاہ میں ان کی بڑی وقعت رہی ہے، ان کی ذہانت وفطانت، دینی ذوق وشوق اور اصابت رائے کی وجہ سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ جیسے یگانہئ روزگار انہیں عزیز تر رکھتے تھے، مرشد امت حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندو ی ؒ اور مولانا سعید الرحمن اعظمی حفظہ اللہ کی شفقت بھی انہیں حاصل رہی ہے۔ طلب علم کے لئے جامعہ ازہر شریف جامعہ القاہرہ، جامعہ عین شمس جہاں کہیں تشریف لے گیے، اپنے علمی انہماک، وقت کی پابندی حسن اخلاق کی وجہ سے اساتذہ اور ساتھیوں کے منظور نظر اور محبوب بن کر رہے، زندگی کا بیش تر حصہ حضرت کا مصر اور سعودی عرب میں درس وتدیس میں گذرا، سبکدوشی کے بعد وطن کی محبت انہیں ہندوستان کھینچ لائی اور ان دنوں وہ سبزی باغ میں اپنے مکان میں فروکش ہیں اور علمی کاموں میں منہمک رہتے ہیں۔

آپ کی تحقیق کا اصل میدان فقہ ومسائل شرعیہ ہیں، عربی زبان وادب پر مہارت کے قائل ان کے عرب معاصرین بھی ہیں، ان کی عربی میں دو ۔کتاب ندوۃ العلماء سے بھی شائع ہو چکی ہے

حضرت نے آپ بیتی لکھنے کا کام بظاہر مولانا نذر الحفیظ ندویؒ کے تقاضہ پر شروع کیا تھا، میر بھی دلی خواہش تھی کہ حضرت اپنی زندگی کے احوال خود اپنے قلم سے لکھ ڈالیں، تاکہ ایک پورے دور اور شخصیات کی تاریخ محفوظ ہو جائے اور بعد میں آنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہو، مجھے یاد نہیں کہ میں ان سے اس خواہش کا اظہار کر سکا یا نہیں، مگر بزرگوں کے پاس علم کا ایک ذریعہ کشف بھی ہوا کرتا ہے، خیال چاہے جیسے پیدا ہوا ہو، مولانا نذر الحفیظ صاحب کی رائے کی تائید میری جانب سے بھی ہو گئی، چنانچہ حضرت نے اپنی آپ بیتی اپنے قلم سے ”حیاتی“ کے نام سے لکھ ڈالا، نام عربی میں ہے، زبان اردو ہے، اس نام ہی سے تواضع وانکساری کی بُو آتی ہے، کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں، صرف ”میری زندگی“ کا عنوان لگا دیا گیا ہے، اور ملک، بیرون ملک، خصوصاً مصر، سعودی عرب اور ہندوستان کے پورے ایک عہد کی تاریخ، ادارے اور شخصیات کے حوالہ سے اس کتاب میں درج ہوکر محفوظ ہو گئی، خانقاہ منیر شریف اور اس کی عظیم شخصیات کے احوال و کوائف سے بھی اس کتا ب کے ذریعہ ہم واقف ہوئے ہیں، حضرت نے اس آپ بیتی میں قارئین کے لیے ”علم سینہ“ کو ”علم سفینہ“ بنا دیا ہے، اگر یہ کام نہ ہوتا تو ہم حضرت کی زندگی کے در وبست، نشیب و فراز اور اس عہد کی نامور شخصیات اور کارناموں سے واقف نہیں ہو پاتے۔

سوانح نگاری اور آپ بیتی ایک فن ہے اور کہنا چاہیے کہ اسلامی فن ہے، قرآن کریم میں انبیاء کا تذکرہ دونوں انداز میں کیا گیا ہے، کہیں ”اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰانِیَ الْکِتَابَ“ کہہ کر نبی نے اپنی حیثیت اور مقام کا ذکر کیا، کہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلان کرنے کو کہا گیا کہ ”اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً“ اور کہیں اسے سوانحی انداز میں بیان کیا گیا اور اسے غوروفکر، عبرت وموعظت کا سامان قرار دیا گیا، ”فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ“ اور ”فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِاُولِی الْاَلْبَابِ“ کہہ کر سوانح نگاری اور آپ بیتی کے مقاصد کی طرف رہنمائی کی گئی؛ تاکہ بندہ شخصیات سے واقف ہو کر زندگی کے نشیب و فراز پر غور کرے اور جو معاملات ومسائل عبرت و موعظت کے ہوں ان سے سبق حاصل کرے۔

یہی وجہ ہے کہ عربی واردو دونوں زبانوں میں آپ بیتی لکھنے کا رواج قدیم، مضبوط اور مستحکم ہے، عصر حاضر میں طہٰ حسین کی ”الایام“ اور احمد امین کی ”حیاتی“ کا شمار عربی کی مقبول خودنوشت میں ہوتا ہے، اردو میں شعراء، ادباء اور علماء نے بھی بڑی تعداد میں آپ بیتیاں لکھی ہیں۔

اردو میں آپ بیتی لکھنے کا رجحان 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہوا، میرے علم کے مطابق پہلی آپ بیتی مولانا جعفر تھانیسریؒ نے ”تواریح عجیب المعروف کالا پانی“ کے نام سے لکھی، جن آپ بیتیوں نے شہرت حاصل کی ان میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی ”نقش حیات“ مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی ”آپ بیتی“، جوش ملیح آبادی کی ”یادوں کی برات“، حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کی ”کاروان زندگی“ مولانا منظور نعمانی ؒ کی ”تحدیث نعمت“ نواب سید خاں چھتاری کی ”یاد ایام“ عبد المجید سالک کی ”سرگذشت“ اختر حسین رائے پوری کی ”گرد راہ“ شوکت تھانوی کی ”مابدولت“ آغا سورش کاشمیری کی ”بوئے گل، نالہئ دل، دود چراغ محفل، قرۃ العین حیدر کی ”کار جہاں دراز ہے“، قدرت اللہ شہاب کا ”شہاب نامہ“ حضرت شیخ زکریاؒ کی ”آپ بیتی“ شیخ محمد عبداللہ کی ”آتش چنار“ اسیر ادروی کی ”داستان ناتمام“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، اس فہرست میں بہار کے خود نوشت لکھنے والوں کو شامل کیا جائے تو شاد عظٰم آبادی کی خودنوشت ”شاد کی کہانی شاد کی زبانی“ کلیم الدین احمد کی ”اپنی تلاش میں“ ڈاکٹر کلیم عاجز کی ”ابھی سن لو مجھ سے“ ڈاکٹر راجندر پرشاد کی ”اپنی کہانی“ مولانا مناظر احسن گیلانی کی ”احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن“ اقبال حسین کی ”داستاں میری“ اور احقر (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) کی ”یادوں کے قافلے“ کا شمار مشہور و مقبول خودنوشت میں ہوتا ہے، یہ آپ بیتی کی فہرست سازی نہیں ہے، یہاں نہ اس کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا موقع، حافظہ کی گرفت میں جو نام تھے وہ بے اختیار نوک قلم پر آگیے۔ ”حیاتی“ اسی سلسلۃ الذہب کی آخری تو نہیں مضبوط کڑی ہے اور خود نوشت نگاری کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے، حضرت نے اپنی اس آپ بیتی میں بزرگوں کے ذکر میں القاب وآداب کی پوری رعایت رکھی ہے، جو خانقاہی تربیت کا اثر ہے، وہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا سید محمد رابع حسنی رحمہما اللہ کا ذکر سماحۃ الوالد کے ساتھ کرتے ہیں، یہ احسان شناسی کی اعلیٰ مثال ہے۔ ورنہ اب تو مولانا بھی ہمارے دانشور لکھنا پسند نہیں کرتے، نام لے کر گذر جاتے ہیں، بلکہ ایک دانشور تو اسے جائز ہی نہیں سمجھتے، ”حیاتی“ میں حضرت نے حفظ مراتب کا پورا خیال رکھا ہے۔”آپ بیتی“ لکھتے وقت مصنف کو ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ اس کا بیان، ”در مدح خود می گویم“ کے مصداق نہ بن جائے کبھی اپنے کو متواضع بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے بھی بہت سی اہم باتیں رہ جاتی ہیں، اور بعد میں سوانح نگاروں کو اسے بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، مثال کے طور پر کاروان زندگی کو لے لیں حضرت مولانا علی میاں ؒ نے ان تمام احوال کو یکسر چھوڑ دیا تھا جس سے قاری کو ”در مدح خود“ کے فریب میں مبتلا ہونے کا خطرہ تھا، چنانچہ ایسے تمام احوال وواقعات کو مولانا عبد اللہ عباس ندوی ؒ نے ”میر کارواں“ میں بیان کر دیا، تب صحیح ترجمانی ہو سکی۔حضرت مولانا سید شاہ تقی الدین ندوی فردوسی حفظہ اللہ کی ”حیاتی“ اعتدال کے ساتھ لکھی ہوئی آپ بیتی ہے، احوال وواقعات کے ذکر میں غیر ضروری دراز نفسی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ایسی کتر بیونت کی گئی ہے کہ قاری کو احوال کے سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے، اس آپ بیتی میں حضرت دامت برکاتہم کی قوت حافظہ سے بھی ہم متاثر ہوتے ہیں، میں حضرت کی اس آپ بیتی ”حیاتی“ کو آپ بیتی کے باب میں ایک گراں قدر اضافہ سمجھتا ہوں، اگر شاعر نے ”انما التھنیات للاکفاء“ کہہ کر چھوٹوں کو مبارکبادی دینے کے حق سے محروم نہ کیا ہوتا تو اس کتاب کی تصنیف پر میں دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد پیش کرتا، فی الوقت صحت وعافیت کے ساتھ درازیئ عمر کی دعا پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں، دعا یہ بھی ہے کہ اللہ رب العزت حضرت کی دوسری کتابوں کی طرح اسے بھی قبول عام وتام نصیب فرمائے۔آمین یارب العالمین

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

زندگی میں اعتدال
!قوت حافظہ کا نسخہ

Related Posts

Quranic Arabic Grammar Course
  • hira-online.comhira-online.com
  • Quranic Arabic Grammar Course
  • فروری 1, 2026
  • 0 Comments
Quranic Arabic Grammar Course

Quranic Arabic Grammar Course (Ramadan Special – Level 1)📘 Duration: 1st Ramadan se 25th Ramadan⏰ Class Time: Rozana 1 Ghanta📚 Total Classes: 25Is Course mein aap kya seekhenge?1️⃣ Arabic Word Roots▪️ Quranic Arabic ka root system samajhna▪️ Lafzon ke meanings kaise bante hain2️⃣ Quranic Arabic Grammar▪️ Basic Nahw aur Sarf▪️ Qur’an ke jumlon ki structure3️⃣ Common Quranic Words▪️ Baar baar aane wale Qur’ani alfaaz▪️ Aasan yaad karne ke tareeqe4️⃣ Tafseer of Selected Verses▪️ Simple aur authentic tashreeh▪️ Qur’an ke paighaam ko samajhna5️⃣ Scientific Miracles of the Qur’an▪️ Qur’an aur modern science ki roshni mein6️⃣ Basic Arabic Conversation▪️ Rozmarra istemal ki Arabic▪️ Confidence ke saath bolna💰 Course Fee: Sirf ₹299/-⚠️ Limited seats available – Jaldi register karein!🌐 hira-online.com📸 Instagram: @al_hira_academy_1📱 Join us on WhatsApp📞 Contact: 8235826323✨ Is Ramadan Qur’an ki zaban seekhiye! ✨

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جنوری 27, 2026
  • 0 Comments
عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • Quranic Arabic Grammar Course 01.02.2026
  • شب برات کی فضیلت 01.02.2026
  • زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں 30.01.2026
  • طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات 30.01.2026
  • یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!! 29.01.2026
  • شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں 29.01.2026
  • دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے 28.01.2026
  • عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت 27.01.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

Blog

Quranic Arabic Grammar Course

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
Quranic Arabic Grammar Course
فقہ و اصول فقہ

شب برات کی فضیلت

  • hira-online.com
  • فروری 1, 2026
فقہ و اصول فقہ

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فکر و نظر

طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات

  • hira-online.com
  • جنوری 30, 2026
طبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیات
فکر و نظر

یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
یو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!
مضامین و مقالات

شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں

  • hira-online.com
  • جنوری 29, 2026
شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میں
فکر و نظر

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

  • hira-online.com
  • جنوری 28, 2026
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے
Blog

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

  • hira-online.com
  • جنوری 27, 2026
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top