HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سال نوکی آمد -مرحبا ———-(از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ)

1445ھ گذرگیا اور ہم 1446ھ میں داخل ہوگیے، یعنی نئے سال کا سورج ہماری زندگی کے مہ وسال سے ایک سال اور کم کرنے والا ہے، ہم موت سے اور قریب ہو گیے، انسان بھی کتنا نادان ہے وہ بڑھتی عمر کا جشن مناتا ہے، مبارک بادپیش کرتا ہے، قبول کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ ہماری عمر جس قدر بڑھتی ہے، موت اور قبر کی منزل قریب ہوتی رہتی ہے اور بالآخر وقت موعود آجاتا ہے اور آدمی قبر کی آغوش میں جا سوتا ہے۔ جو لوگ صاحب نظر ہیں اور جن کے ذہن میں فکر آخرت رچی بسی ہوئی ہے، وہ گذرے ہوئے سال سے سبق لیتے ہیں، اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں، نئے سال کا استقبال تجدید عہد سے کرتے ہیں کہ آئندہ ہماری زندگی رب مانی گذرے گی، من مانی ہم نہیں کریں گے، اس عہد پر قائم رہ کر جو زندگی وہ گذارتے ہیں وہ رب کی خوش نودی کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں بندہ جنت کا مستحق ہوتا ہے۔ نئے سال کی آمد پر ہم لوگ نہ محاسبہ کرتے ہیں اور نہ ہی تجدید عہد، بلکہ ہم میں سے بیش تر کو تو یاد بھی نہیں رہتاکہ کب ہم نئے سال میں داخل ہو گیے، عیسوی کلینڈر سب کو یادہے، بچے بچے کی زبان پر ہے، انگریزی مہینے فرفر یاد ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے سے جب چاہیے سن لیجئے؛ لیکن اسلامی ہجری سال، جو اسلام کی شوکت کا مظہر ہے، اس کا نہ سال ہمیں یاد رہتا ہے اور نہ مہینے، عورتوں نے اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ یاد رکھا ہے، لیکن اصلی نام انہیں بھی یاد نہیں بھلا،بڑے پیراور ترتیزی، شب برأت، خالی، عید، بقرعید کے ناموں سے محرم صفر، ربیع الاول، ربیع الآخر، جمادی الاولیٰ، جمادی الآخر، رجب، شعبان، رمضان، شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ جو اسلامی مہینوں کے اصلی نام ہیں، ان کو کیا نسبت ہو سکتی ہے، ہماری نئی نسل اور بڑے بوڑھے کو عام طور پر یا تو یہ نام یاد نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ترتیب سے…

Read more

علمی سیاحت نامہ——–(ندوۃ العلماء لکھنؤ)

ندوۃ العلماء لکھنؤ ایک علمی وفکری دانش گاہ ہے، ندوۃ کے محاسن اور اس کے کارناموں کے لئے میرے قلم میں تابانی نہیں ہے، اس کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے میرے دل ودماغ میں الفاظ ومعانی کے درمیان ہنگامہ بپا ہے، الفاظ نوکِ قلم آنا چاہتے ہیں معانی نے انہیں کم ظرف اور ناتواں ہونے کے باعث روکے رکھا ہے۔ ندوۃ کی جلالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے سید سلیمان ندوی جیسا علم کا کوہِ گراں ملتِ اسلامیہ ہندیہ کی نذر کیا، ندوۃ العلماء : سیرت النبی جیسی معرکۃ الآراء کتاب کے مصنف شبلی نعمانی جیسی عبقری شخصیات کی فکر ونظر کا محور ہے، ندوۃ کو شبلی نعمانی نے بال وپَر دئے، علامہ نے ندوۃ کو ” قدیم صالح اور جدید نافع ” کا سنگم بنایا، جو بھی ، جس مسلک کا بھی، جس سوچ کے ساتھ آتا ہے اپنی جھولی بھر کے جاتا ہے۔ علومِ قرآنی کا گنجینہ سمیٹ کر جاتا ہے، قرآن میں تدبر وتفکر کا درس لےکر نکلتا ہے، طبری وابن کثیر کی مرویات سے روشناس ہوتا ہے، کشاف ورازی کے عقلی عقدوں کو حل کرنے کا گُر سیکھتا ہے، فراہی واصلاحی کے نظمِ کلام کے تصور سے متعارف ہوتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تفسیری آراء سے بہرہ مند ہوتا ہے، غرض علم تفسیر کے گوشہ گوشہ سے اپنے سینے کو لبریز پاتا ہے۔ یہاں صحیح بخاری ومسلم کے تراجم پر بحث ہوتی ہے، یہاں اسماء الرجال کی کتابیں کھنگالی جاتی ہیں، یہاں جرح وتعدیل کی میزان میں راویوں پر کلام کرنا سکھایا جاتا ہے، یہاں روایت ودرایت میں پوشیدہ علتوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، الغرض اس فن کا پیاسا یہاں سے علمِ حدیث کا شناور بن کر نکلتا ہے۔ فقہ میں دلچسپی رکھنے والا تمام مسالک کے فقہاء کرام کی فقہی آراء سے مستفید ہوتا ہے، کبھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کو ترجیح دیتا ہے تو کبھی امام اعظم رحمہ اللہ کی فقہی بصیرت کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے، یہاں عملِ اہلِ مدینہ سے واقفیت حاصل کرتا ہے…

Read more

غنچہء ادب : ایک مطالعہ—–مبصر : مظہرؔ وسطوی

"غنچہ ادب” جناب قمر اعظم صدیقی کی پہلی تصنیف ہے جو مختلف النوع مضامین کا مجموعہ ہے ۔ اس کتاب میں شامل مضامین کی تعداد 15 ہے ۔ مصنف نے غنچہ ادب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ کتاب کی فہرست میں شخصیات , صحافت اور کتابوں کی باتیں عنوان دیے گئے ہیں ۔ شخصیات کے گوشے میں سات مضامین شامل ہیں , صحافت کے حصے میں ایک مضمون شامل ہے اور گوشہ ‘کتابوں کی باتیں میں’ تبصراتی اور تاثراتی نوعیت کے سات مضامین شامل ہوئے ہیں۔ شخصیات کے عنوان سے جو مضامین شامل کتاب ہیں ان کی فہرست ہے ۔ علامہ اقبال : ایک مطالعہ , علامہ ماہر القادری کی شخصیت اور کارنامے , قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایک بے مثال شخصیت , حضرت مولانا محمد ولی رحمانی میری نظر میں , میرے نانا جان محمد داؤد حسن مرحوم , محبت و اخلاص کے پیکر ڈاکٹر ممتاز احمد خان مرحوم , ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق : تمہاری نیکیاں زندہ تمہاری خوبیاں باقی ۔ اس طرح ساتوں مضامین مختصر اور سلیس انداز میں تحریر کیے گئے ہیں ۔ نانا جان محمد داؤد حسن مرحوم , ڈاکٹر ممتاز احمد خان مرحوم اور ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق مرحوم کے تعلق سے مصنف نے جو مضامین قلم بند کیے ہیں اس حوالے سے حرف چند میں صفحہ نمبر 11 پر نامور ادیب مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ مصنف نے ان حضرات کے بارے میں اپنے تاثرات مشاہدات تعلقات اور تجربات پر کھل کر گفتگو کی ہے جس میں کہیں کہیں داستان نگاری کا رنگ و آہنگ پیدا ہو گیا ہے ۔ مفتی صاحب کے اس رائے اور خیال سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ قمر اعظم صدیقی کے اندر لکھنے کی صلاحیت اور جنون دونوں موجود ہیں ۔ کتاب میں صحافت کے عنوان سے جو مضمون شامل ہے وہ ایک عام قاری کے معلومات میں اضافہ کرنے کا اہل ہے کیونکہ اس مضمون میں مصنف کی محنت , عرق ریزی اور جانفشانی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے جیسا کہ…

Read more

*علمی سیاحت نامہ ( 7 )*——- از:معاویہ محب اللہ

بھول بھولیا دیکھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، کیونکہ وہ محض امام باڑہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عام سی عمارت اور محل ہے، ہاں ! کچھ ایسی خصوصیات ضرور ہے جو دیگر تاریخی عمارتوں ومحلات کی بھی ہوا کرتی ہیں، چونکہ میں نے جون 2020 میں لکھنؤ کی زیارت کے وقت بھول بھولیا بھی دیکھ لیا تھا، اس مرتبہ صرف اُچٹتی نظر سے زیارت کرلی۔ نیز اس سے پہلے والے لکھنؤ کے سفر میں مغرب سے لیکر عشاء تک کا وقت تقریبا ” گھنٹہ گھر ” کے گارڈن میں گزارا تھا، لکھنؤ کی شام اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے لطفِ محفل کو دوبالا کردیا تھا، خصوصا یہ وہ وقت تھا جب این آر سی اور سی اے اے کے احتجاجات زوروں پر تھے، لکھنؤ میں گھنٹہ گھر کے پاس جمع ہونے والی خواتین نے گارڈن اور پارک کو تحریک سے وابستہ کرکے ایک تاریخ بنا دیا تھا، لہذا اس سفر میں بھی تقریبا سرسری زیارت کرنے پر اکتفا کر لیا گیا۔ *فرنگی محل* ملا نظام الدین سہالوی کے نام سے کون ناواقف ہے؟ درسِ نظامی پڑھنے والا ہر طالبِ علم آپ کے نام نامی سے ضرور آشنا ہوگا، آپ کے والدِ گرامی ملا قطب الدین سہالوی کو اپنے علاقہ کے کچھ شرپسندوں نے بےدردی اور بےرحمی سے شہید کردیا، تو آپ کے تینوں صاحبزادے لکھنؤ کی طرف ہجرت کرآئیں، اس زمانہ کے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے لکھنؤ میں فرنگی محل کی کوٹھی ان کے نام الاٹ کردی، بہر حال اس خاندان نے صدیوں علمِ دین کی بے لوث خدمت انجام دی ہے، ملا نظام الدین کے نام سے ہی درسِ نظامی کو منسوب کیا جاتا ہے، فرنگی محل میں آپ نے ” مدرسہ نظامیہ ” کے نام سے علمی ودینی مدرسہ قائم فرمایا تھا، جہاں سے چہار دانگِ عالم کے طلبہ آکر اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے، ہم نے اس مدرسہ کی قدیم اور بوسیدہ عمارتوں کو دیکھا جہاں صرف خموشی اور ویرانگی کے سوا کچھ نہیں تھا، مدرسہ نظامیہ کے پیچھے جو قدیم مسجد ہے وہاں بھی بہت مختصر لمحہ ٹھہر کے…

Read more

سیاحت نامۂ علمی ( قسط ششم )

ظہر کی نماز باجماعت یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ادا کرچکنے کے بعد لکھنؤ کے لئے روانہ ہونے کا وقت آگیا، دوپہر ساڑے تین بجے کے قریب آنے والی ٹرین سے جانے کا ارادہ تھا، بد قسمتی یہ کہ کنفرم ٹکٹ ملا بھی نہیں اور لینے کی کوشش کی بھی نہیں، پھر تو وہ سب ہوا جو نہیں ہونا تھا۔ ریلوے اسٹیشن سے جنرل ٹکٹ لینے کو تو لے لیا، لیکن جیسے ہی چُھک چُھک کرتی ٹرین رُکی دل میں دَھک دَھک سا ہونے لگا، ازدحام، بھیڑ بھاڑ ، ہجوم، جمگھٹ، انبوہِ کثیر، غرض پوری ٹرین انسانیت سے کھچا کھچ بھری پڑی تھی، بیچارے رفقاء ابتداء تو ایک دوسرے کو دھیمے دھیمے لہجہ میں صلواتیں سناتے ہوئے ڈبہ میں چڑھ گئیں، لیکن وہاں قدم رکھنا تو کُجا سانس لینے کی بھی جگہ نہیں تھی، ناک اپنا کام کریں تو بدبو سے ماؤف ہوجائے، منھ سے جباہی لیں تو پسینہ کی کھٹاس سے بند کرنا پڑیں، خدا خدا کرکے ٹرین کو چھوڑ دینے میں ہی عافیت سمجھی اور ڈبہ سے اتر گئے۔ لیکن لمحہ بھر میں عزم وارادہ کا بدلنا، رائے پر نظرِ ثانی کرنا کوئی انسان ہی سے سیکھے، غور کیا مشورہ ہوا یہ طے پایا کہ کچھ بھی ہوجائے اسی ٹرین سے لکھنؤ جانا ہے، لہذا دوبارہ دوسرے ڈبہ میں چڑھ گئے ، دھیمے دھیمے لہجہ سے آگے بڑھ کر چلچلاتی گرمی میں کچھ بلند آواز میں ملامت، فضیحت اور ایک دوسرے پر سرزنش ہونے لگی، مئی مہینہ میں دوپہر کی چلچلاتی دھوپ اور یوپی کی گرمی ایک طرف۔ بھیڑ بھاڑ، ازدحام اور ہجوم الگ رہا، اس پر مستزاد یہ کہ شدید گرمی میں خُراماں خُراماں چلتا ہوا پنکھا بھی بند ہوگیا، کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، سامان اور بیگ ابھی تک ہاتھوں میں ہے، دو ڈبوں کے درمیان کی گلی میں محض قدم رکھنے کی سعادت ملی، دو تین گھنٹہ اسی حال میں گزار کر کچھ جگہ میسر آئی۔ بہر حال کچھ گھنٹوں کے بعد بیٹھنے کی کچھ سہولت میسر آئی لیکن بجلی پنکھا ابھی تک بند ہی تھا جو رات دس بجے…

Read more

اُسوۂ ابراہیمی : سرِ تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے

از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاذ: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد آج قربانی کا عظیم الشان دن ہے، ہم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کریں گے،عید الاضحی ہمارے دو سالانہ تہواروں میں ایک ہے، ہم آپ کو دل کی گہرائیوں سے عید الاضحی کی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہم ان ایام میں خوشی کا اظہار کریں گے، اور قربانی کے گوشت سے کام و دہن کی لذت کا سامان کریں گے، جلد ہی قربانی کے تین دن گزر جائیں گے، اور پھر وہی زندگی، وہی شکوے غم دوراں کے، غم جاناں کے، پھر وہی قصے آن اور بان کے، تنگی گذران کے: وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال وپر کا ہے خوشا وہ کاروان ایمان وعمل جس نے یہ قربانی ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلاۃ والسلام کی نقل میں اور ملت ابراہیمی کی اتباع میں کی، کاش وہ ہر ہر عمل میں ان کو اپناراہنما اور رول ماڈل بنالیتا، ایسا تو نہیں انہوں نے زندگی میں تنہا یہی ایک قربانی دی تھی، وفا شعارباپ اور فرماں بردار بیٹے نے کیا خود کو خدا کے سپرد نہیں کردیا تھا! کیا سر تسلیم خم نہیں کردیا تھا! کیا اپنے جذبات کو اپنے رب کریم کے حکم کے تابع نہیں بنادیا تھا! یقینا ًوہ حکم کے بندے اور اشارۂ چشم وابرو کے پابند تھے، ان کی زندگی میں’کیا،’کیوں‘ اور’کیوں کر‘ کے سوالات باقی نہیں رہے تھے، وہ عجز کے اسرار سے محرم تھے، انہوں نے حق کے جس راستہ کا انتخاب کیا تھا اس میں بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار تھے، سچ پوچھئے تو آج بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے موجود ہے، یہ ہماری پسند ہے کہ کیا ہم اس شاہراہ پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبچپن سے ہی رشدوہدایت کا تمغہ عطا ہوگیاتھا، اسی کا فیض اثر تھا کہ بت پرستی سے حد درجہ نالاں، بیزار ونفور، گھراور بازار میں معبودان باطلہ کی بے وقعتی کا بار بار اظہار ہورہا ہے، قوم کو…

Read more