Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
28.08.2026
Trending News: ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
28.08.2026
Trending News: ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

فتنۂ انکارِ حدیث

  1. Home
  2. فتنۂ انکارِ حدیث

فتنۂ انکارِ حدیث

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • جون 22, 2026
  • 0 Comments

Table of Contents

Toggle
  • فتنۂ انکارِ حدیث
  • از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ

فتنۂ انکارِ حدیث


از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ


سوال: فضیلت مآب ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی صاحب زید مجدہ، السلام علیکم۔
آپ محدثِ کبیر ہیں، آپ کا یکتائے روزگار، یگانۂ روزگار، درۂ یتیمہ کارنامہ بے شمار محدثات کا تحقیقی دستاویزی ڈاکٹریٹ ہے۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اور منکرینِ حدیث کی ناپاک، متعفن، ناکام کوششوں کو علمی، تحقیقی انداز میں بے نقاب فرمائیں۔ اس کا پس منظر، پیش منظر اور مقاصد پر روشنی ڈال کر ہم طلبۂ علمِ حدیث کو ایک ایسا نادر، نایاب تحفہ عطا فرمائیں، جس سے ہم منکرینِ حدیث کو منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے میں کامیاب ہو سکیں۔ حوضِ کوثر پر آپ کے آتے ہی یہ ندا بلند ہونے لگے: ’’میرے کلام کا محافظ و پاسبان آ رہا ہے۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے آپ کو جامِ کوثر پلا رہے ہوں، ملائکہ آپ کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں، حشر والے کہہ رہے ہوں کہ یہ ہے مردِ جیالا، مردِ کارہائے نمایاں، جس نے فتنۂ انکارِ حدیث کا قلع قمع کیا ہے، اس کی اتھلی جڑوں کو اکھاڑ پھینکا ہے، اس کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا۔ امید ہے کہ آپ میرے ان جذبات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محقق، مدلل، مؤثر جواب عنایت فرمائیں گے۔
آپ کا نالائق دوست محمد یوسف یاسین صدیقی ندوی، بھوپال


جواب: وعلیکم السلام۔ آپ نے ازراہِ تواضع اپنے آپ کو ’’نالائق‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنا دوست بھی لکھا ہے۔ اگر فارسی مقولے ’’کند ہم جنس با ہم جنس پرواز‘‘ کو معیار بنایا جائے تو اس نسبت کا کچھ اثر مجھ پر بھی لازم آتا ہے، اس لیے اس دعوے میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاہم اہلِ علم کی مجلسوں میں اس نوع کی خود تنقیصی عموماً حسنِ ظن اور انکسار کا اظہار ہوتی ہے، ورنہ آدمی اپنے عیوب اور اپنی کوتاہیوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتا ہے۔


آپ نے میری بابت جو تعریفی کلمات تحریر فرمائے ہیں، میں نے ابتدا ہی میں عرض کیا تھا کہ انہیں حذف کر دیا جائے، کیونکہ انسان اپنی حقیقت اور اپنی علمی کم مائیگی سے دوسروں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے اصرار کے پیشِ نظر میں نے یہ سوچ کر سکوت اختیار کر لیا کہ شاید کسی مخلص دوست کی زبان سے نکلے ہوئے یہ کلمات دعا کا درجہ اختیار کر لیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان توقعات اور حسنِ ظن کو کسی درجے میں قبول فرما لے۔ اسی امید پر انہیں جوں کا توں باقی رہنے دیا گیا ہے۔ بہر حال، اصل موضوع میری ذات نہیں بلکہ وہ علمی مسئلہ ہے جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے، اور جس پر گفتگو کرتے وقت شخصیات سے زیادہ اصول، جذبات سے زیادہ دلائل، اور دعووں سے زیادہ حقائق کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔


دینِ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اس کی کتابِ عزیز میں محفوظ ہیں، اور ہدایت سے متعلق ہر بنیادی اور ضروری امر اس کتابِ مبارک میں وضاحت، حکمت اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اپنی وسعتِ معانی اور عمقِ حقائق کے اعتبار سے ایسا بحرِ بے کراں ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک آنے والی انسانی نسلیں بھی اس کے علوم و معارف کے کسی ایک گوشے کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اسی کتابِ الٰہی پر مکمل عمل کرکے قیامت تک کے لیے ایک ایسا عملی نمونہ چھوڑا جو نہ منسوخ ہو سکتا ہے اور نہ تبدیل۔ قرآنِ مجید نے احکام اور اصول عطا کیے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان اصولوں کی عملی تعبیر، تطبیق اور تفسیر اپنی زندگی کے ذریعے پیش فرمائی۔ یہی نمونۂ کامل ’’سنت‘‘ کہلاتا ہے، اور اسی سنت کی پیروی کا نام درحقیقت اطاعتِ رسول ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا منکر ہو، اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور آپؐ کی سنت کی اتباع کا منکر ہو، وہ بھی ایک نہایت سنگین گمراہی اور کفر کا مرتکب ہے، کیونکہ قرآنِ مجید نے بار بار اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔


تاہم اس موضوع پر گفتگو سے پہلے ایک بنیادی نکتے کو واضح کر لینا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ ’’انکارِ حدیث‘‘ اور ’’احادیث پر علمی نقد‘‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ محدثین، فقہاء اور اصولیین کی پوری تاریخ روایتوں کی تحقیق، ان کے فہم میں اختلاف اور ان پر علمی نقد سے بھری ہوئی ہے۔ لہٰذا کسی حدیث کی صحت پر سوال اٹھانا، کسی روایت کی تاویل کرنا، یا کسی خاص استدلال سے اختلاف کرنا بذاتِ خود انکارِ حدیث نہیں ہے۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سنت اور حدیث کی اصولی حجیت ہی کا انکار کر دیا جائے۔


حجیتِ سنت کے دلائل قرآن، سنت، اجماعِ امت، عقلِ سلیم اور فطرتِ صحیحہ، سب سے ثابت ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے، آپؐ کے فیصلوں کو واجب الاتباع قرار دیتا ہے، اور آپؐ کی تشریعی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ سنت خود قرآن کی عملی تفسیر ہے، جبکہ امت کا چودہ سو سالہ اجماع بھی اسی پر قائم رہا ہے۔ مزید برآں، عقل بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب ایک رسول کسی کتاب کے ساتھ مبعوث کیا جائے تو اس کتاب کی عملی تشریح بھی اسی کے ذریعے معلوم کی جائے۔


اس موضوع پر اہلِ علم نے نہایت وقیع اور فیصلہ کن مباحث پیش کیے ہیں۔ امام شافعیؒ کی ’’الرسالہ‘‘، امام شاطبیؒ کی ’’الموافقات‘‘، امام ابن حزمؒ کے ’’المحلی‘‘ کا مقدمہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی تصنیفات، شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’حجة الله البالغة‘‘، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی ’’منصبِ نبوت‘‘، مولانا حمید الدین فراہیؒ کی تحریریں، مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے مباحث اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصنیفات اس باب میں نہایت قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان مباحث کا مطالعہ کرنے کے بعد سنت کا حقیقی مقام پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ حقیقت بھی روشن ہو جاتی ہے کہ کسی شخص کا ذاتی ذوق، کشف، الہام یا روحانی تجربہ کبھی سنت کا قائم مقام نہیں بن سکتا۔ اس موضوع پر مصطفیٰ السباعی کی کتاب ’’السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي‘‘ بھی ایک جامع اور معیاری تصنیف ہے۔


یہاں ایک اور حقیقت سمجھ لینا ضروری ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے سنت براہِ راست سنت تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سنتے تھے، آپؐ کے اعمال دیکھتے تھے اور آپؐ کی زندگی کے عینی شاہد تھے۔ بعد کے ادوار میں یہی سنت روایت اور نقل کے ذریعے آگے منتقل ہوئی۔ اب روایت کرنے والوں میں ثقہ بھی تھے اور غیر ثقہ بھی، فقیہ بھی تھے اور غیر فقیہ بھی، قوی الحفظ بھی تھے اور کمزور حافظے والے بھی، بلکہ بعض مواقع پر خلط و اشتباہ کا شکار افراد بھی موجود تھے۔ اسی مرحلے پر سنت نے ایک مستقل علمی صورت اختیار کی۔ اب ضرورت تھی کہ اصل سنت اور اس کی روایت کے درمیان امتیاز کو محفوظ رکھا جائے۔ چنانچہ سنت کی روایات کی تحقیق کا ایک عظیم علمی عمل شروع ہوا۔ انہی منقول روایات کو اصطلاح میں ’’حدیث‘‘ یا ’’خبر‘‘ کہا جاتا ہے، اور اسی لیے محدثین روایت نقل کرتے وقت ’’حدثنا‘‘، ’’أخبرنا‘‘ اور اس قسم کے دیگر صیغے استعمال کرتے ہیں، جو خبر اور روایت کی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔


بعد ازاں یہی علمی کاوش ’’علمِ حدیث‘‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ اس علم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ روایت کی صحت و ضعف کو جانچا جائے، راویوں کے احوال معلوم کیے جائیں، اسناد کی تحقیق کی جائے، اور متن کے اندر موجود علل و نقائص کو پہچانا جائے۔ اس مقصد کے لیے علم الرجال، جرح و تعدیل، علم العلل اور دیگر علوم وجود میں آئے۔ اگر انسانی تاریخ میں روایت اور خبر کی تنقید کا کوئی سب سے زیادہ منظم اور دقیق نظام تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ محدثینِ اسلام کا قائم کردہ نظام ہے۔


محدثین کی حیرت انگیز محنتوں کے نتیجے میں روایات کے درجات متعین کیے گئے: موضوع، باطل، کذب، منکر، واہی، شاذ، مدرج، مقلوب، معلل، ضعیف، حسن اور صحیح وغیرہ۔ اس تفصیلی درجہ بندی کا مقصد یہی تھا کہ امت صحیح اور غیر صحیح روایتوں میں فرق کر سکے۔ خالص صحیح احادیث کے مجموعوں میں سب سے نمایاں مقام صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو حاصل ہے، اور ایک اعتبار سے موطأ امام مالک کو بھی ان کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔ دیگر مجموعاتِ حدیث میں صحیح اور غیر صحیح دونوں طرح کی روایات موجود ہیں، البتہ سنن ابی داود، سنن نسائی اور سنن ترمذی وغیرہ نسبتاً زیادہ قابلِ اعتماد اور تحقیقی معیار کی حامل ہیں۔


جب کوئی علمی روایت ترقی کرتی ہے تو اس کے اندر اختلافِ رائے کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے درمیان بعض روایات اور بعض راویوں کے بارے میں اختلاف موجود ہے، اور ائمۂ حدیث میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کسی نہ کسی درجے میں اختلاف کیا ہے۔


احادیث پر علمی نقد کے سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متعدد ایسی روایات ہیں جو بعد میں صحیحین کا حصہ بنیں اور اعلیٰ درجۂ صحت کی حامل قرار پائیں، لیکن امام ابو حنیفہؒ نے انہیں قبول نہیں کیا۔ ان کے نزدیک بعض روایات قرآن کے ظاہر کے خلاف تھیں، بعض معروف سنت سے متعارض معلوم ہوتی تھیں، اور بعض مضبوط قیاسِ شرعی کے خلاف تھیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے یہ موقف کسی حدیث دشمنی کی بنیاد پر اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے اجتہادی اصولوں اور علمی مبادیات کی روشنی میں اختیار کیا تھا۔ ان کے نتائج سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے استدلال پر نقد کیا جا سکتا ہے، لیکن انہیں منکرِ حدیث قرار دینا علمی انصاف کے خلاف ہوگا۔


حقیقت یہ ہے کہ ہر امام، ہر فقیہ اور ہر محدث نے بعض روایات کو کسی نہ کسی علمی بنیاد پر رد کیا ہے، یا ان کی ایسی تاویل اختیار کی ہے جو اس کے نزدیک زیادہ راجح تھی۔ یہی علمی روایت کا حسن بھی ہے اور اس کی ناگزیر ضرورت بھی۔ لہٰذا اگر کوئی عالم کسی حدیث کو علمی بنیاد پر قبول نہ کرے، یا اس کی کوئی معقول اور اصولی تاویل پیش کرے، تو ہمیں حق حاصل ہے کہ ہم اس سے اختلاف کریں اور اس کے استدلال کا علمی جائزہ لیں؛ لیکن ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اسے ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار دیں یا اس کی نیت اور دیانت کو مطعون کریں۔


البتہ وہ شخص جو اصولی طور پر حجیتِ سنت یا حجیتِ حدیث ہی کا قائل نہ ہو، وہ یقیناً قابلِ مواخذہ ہے۔ اس کی غلط فہمیوں کو علمی انداز میں دور کرنا ضروری ہے۔ اگر دلائل کے واضح ہو جانے کے بعد بھی وہ اپنے موقف پر اصرار کرے تو مسلمانوں کو اس کے فکری فتنے سے آگاہ کرنا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔
اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کی نیت اور اس کے علمی موقف کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ احادیث کے بارے میں جو علمی اعتراضات یا اشکالات پیش کیے جائیں، ان کا جواب بھی علمی اور تحقیقی انداز میں دیا جانا چاہیے۔ محض اعتراض کرنے والے یا اشکال پیش کرنے والے شخص کو مطعون کرنا، اس کی نیتوں پر حملہ کرنا، یا اسے گالی اور تہمت کا نشانہ بنانا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ اسلامی اخلاق کے۔ البتہ جو شخص سرے سے حدیث اور سنت کی حجیت کا انکار کرتا ہو، وہ حقیقتاً اطاعتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کے ایک بنیادی تقاضے سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے۔


ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امتِ مسلمہ کو ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمیں علمائے اسلام کے مقام و مرتبہ کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ان کی لغزشوں پر طعن و تشنیع کے بجائے ان کے لیے خیر، مغفرت اور حسنِ ظن کی دعا کرنے والا بنائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
10/6/2026

فتنہ انکار حدیثفتنہ انکار حدیث اور سر سید احمد خان

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*
دس محرم کا روزہ کیوں ؟

Related Posts

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت
  • اگست 27, 2026
  • 0 Comments
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت، تلاوت، تعلیم، عمل اور آخرت میں اس کی شفاعت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • جشن عید میلادالنبی
  • ربیع الاول کا پیغام
  • اگست 26, 2026
  • 0 Comments

*ماہ ربیع الاول اور بعض مسلمانوں کا طرز عمل* افادات/ حضرت مولانا محمد منظورِ نعمانی رح ۔۔۔۔۔   ترتیب و پیشکش/محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 950660075   ایک صاحب نظر بزرگ، مفکر اور عالم دین نے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،،مسلمانوں کی موجودہ قومی سیرت کے بعض کمزور پہلو ایسے ہیں کہ اگر اس کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ امت صرف نام کی امت مسلمہ رہ جائے گی اور رسم و رواج اور خرافات میں گم ہو جائے گی ۔ مسلمانوں پر تنقید کرنا اور ان کے کمزور پہلوؤں کو نمایاں کرنا کسی مسلمان کے لئے قطعاً کوئی خوش گوار کام نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی شخص آسانی سے تیار نہیں ہوسکتا ۔لیکن دنیا کے سب ضروری کام خوش گوار نہیں ہوتے ایک ایسی جماعت کی کمزوریوں کو خاموشی سے دیکھتے رہنا، جس نہ صرف اس کی قسمت بلکہ دنیا کی قسمت بھی وابستہ ہے اور جو انجیل کی زبان میں نمک ہے جس کی نمکینی کے ضائع ہو جانے کے بعد زمین کو کوئی چیز نمکین نہیں کرسکتی ۔ ایک ایسا ناخوشگوار کام ہے ،جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر ناگواری ،ہر تلخی،ہر طرح کی روحانی اذیت اور ہر قسم کی ذہنی کوفت ہیچ ہے اور اس کے مقابلے میں اپنی یا دوسروں کی یہ ناخوشگواری کوئی حقیقت نہیں رکھتی” ۔۔ بقول مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ،،مسلمانوں کی کسی قوم یا ملک کا سلطنت و اقتدار سے محروم ہو جانا یا مسلمانوں کا عالمگیر سیاسی زوال بہت بڑا حادثہ ہے ۔جس پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے اس کے جو اخلاقی اور ذہنی نتائج ہوتے ہیں وہ بھی اب کچھ پوشیدہ نہیں رہے ۔لیکن اس سے بدرجہا المناک حادثہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کی ذہنیت یا نفسیات کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے لگے جو صحیح اسلامی تعلیم و تربیت کا سانچہ نہیں ہے ۔ اور بعض انفرادی عیوب و نقائص اور غیر قوموں کے صفات و خصائص ،مسلمانوں کی سیرت کا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات 28.08.2026
  • سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق 27.08.2026
  • قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں 27.08.2026
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی 26.08.2026
  • (بلاعنوان) 26.08.2026
  • درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی 26.08.2026
  • دودھ پینے کی دعا 23.08.2026
  • چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟ 23.08.2026

حالیہ تبصرے

  • مفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدمات از ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
  • تحریری صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟ از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی از سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق: 10 اہم اسلامی تعلیمات
  • جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصد از تلاوت و تدبر
  • قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم از تلاوت و تدبر

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات

  • hira-online.com
  • اگست 28, 2026
ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدمات
سیرت النبی ﷺ

سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
سیرت نبوی میں عورتوں کے حقوق
اسلامیات

قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں

  • hira-online.com
  • اگست 27, 2026
قرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیں
Blog سیرت النبی ﷺ

مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
مطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائی
اسلامیات

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

درود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندوی

  • hira-online.com
  • اگست 26, 2026
اسلامیات

دودھ پینے کی دعا

  • hira-online.com
  • اگست 23, 2026
اسلامیات

چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟

  • hira-online.com
  • اگست 23, 2026
چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top