سیاحت نامۂ علمی(قسط پنجم) ✍️ معاویہ محب اللہ مولانا آزاد لائبریری
لائبریری اور کتب خانے ایک تمدن کی زینت ہوتے ہیں، جوں ہی کتب خانے رُو بزوال ہوتے ہیں تو تمدن بھی اجڑنا شروع ہوجاتا ہے، اس طرح رفتہ رفتہ کتاب پڑھنے والے معاشرہ سے ختم ہوجاتے ہیں، چنانچہ ہم نے مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی وہاں کی لائبریری دیکھنے کا قصد تھا جو ’’مولانا آزاد لائبریری‘‘ کے نام سے موسوم ہے، چونکہ راقم الحروف اور رفیقِ سفر مولانا سیف اللہ صاحب کو کتابوں کی لاعلاج بیماری لگی ہوئی ہے اور طُرفہ تماشا یہ کہ اس بیماری پر بجائے علاج کرنے کے فخر محسوس کررہے ہیں، اس لئے جہاں کتاب دیکھی عشق ہوگیا، دل دے بیٹھے، اس سے باتیں کرنا شروع کرلیا، اس کے ساتھ محبوبہ کی طرح عمر بھر کا عہدِ وفا باندھنے کا عزم کرلیا، جیسے ہی یہ سب احوال طاری ہوتے رفقاء سفر متنبہ کرتے، عشق لڑانے سے انکار کرتے، عہدِ وفا کو عمر بھر کے بجائے محدود کرلینا پڑتا اور دل واپس لے آتے ۔ہا۔۔ہا۔۔ بہر کیف احباب کو اس بیماری کا شدید خطرہ تھا کہ کہیں یہ بیماری ناسور بن کر درازیِ وقت کا باعث نہ بن جائے جو اس سفر کے لیے محدود ہے،شاعر نے خوب کہا ہے؛ قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں کیٹلاگ سازی لائبریری میں داخل ہوتے ہی اندر کی گلیوں میں داہنی جانب کیٹلاگ کی الماریاں رکھی ہوئی ہیں، موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر جیسے وسائل نے کام بہت آسان کردیا ہے، لیکن جس زمانہ میں ان جدید وسائل وذرایع کا عام رواج نہیں تھا اس وقت لائبریری میں کیٹلاگ سازی کا نظام کافی خوبصورت انداز میں ہوتا تھا، آج بھی لائبریری میں وہ یادگار موجود تھی۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ ایک شعبہ کے لئے لکڑی کی ایک تجوری ہے، جس میں چھوٹے چھوٹے ڈبّے (گلّہ) رکھے ہوئے ہیں، ہر ڈبہ میں بہت سارے کارڈ ہے، ہر کارڈ پر مستقل ایک کتاب کی تفصیل درج ہوتی ہے ; نام کتاب، مصنف کا نام ، طباعت وسن طباعت، ناشر، کتاب کہاں سے دستیاب ہوئی۔الغرض ہر ڈبہ…
Read more

