HIRA ONLINE / حرا آن لائن
علمی سیاحت نامہ (11)* ✍️ *معاویہ محب اللہ* *مظاہر العلوم جدید

جب مولانا سعیدی کی مجلس سے فارغ ہوئے اور ان کے ارشادات سے مستفید ہوگئے تو تقریبا ساڑے گیارہ بج چکے تھے، اب کسی درسگاہ میں بیٹھ کر درسِ حدیث سننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ مظاہر العلوم جدید کی راہ لی، مظاہر کی مسجد میں کچھ دیر آرام کیا۔ مظاہرِ جدید میں چھٹی ہوجانے کی وجہ سے تقریبا تمام ہی سرگرمیاں موقوف ہوگئی تھیں، یہاں ہمارے لئے ایک ہی چیز باعثِ کشش تھی، وہ شیخ الحدیث مولانا یونس جونپوری رحمہ اللہ کی لائبریری۔ *شیخ الحدیث مولانا یونس جونپوریؒ* شیخ الحدیث مولانا یونس جونپوری رحمہ اللہ کا نام بچپن ہی سے سن رکھا تھا، کیونکہ جامعہ خلیلیہ ماہی کی وجہ سے پورا علاقہ حضرت شیخ کے قدومِ میمنت لزوم سے مستفید ہوتا رہتا تھا، البتہ کم عمری کی وجہ سے آپ کی زیارت وملاقات کا تو شرف حاصل نہ ہوسکا، لیکن درجۂ عربی سوم میں آپ کی مرگِ ناگہانی کی اندوہ ناک خبر سن کر قلب وذہن پر حزن وغم، رنج وملال اور افسردگی کے نقوش ضرور مرتسم ہوگئے، اس کے باوجود حضرت شیخ کی علمی جلالت ووقار، شخصیت وکردار سے واقفیت براہِ نام تھی۔ مشکوۃ المصابیح کے سال میں ” انوار المشکوۃ ” کی جلدیں برادرِ خُرد کی وجہ سے ہمارے گھر میں پہلی مرتبہ آئیں، تو اس کی مختصر مگر جامع تشریح وتبیین نے اتنا مانوس کردیا کہ یقینا اس کا شارح علمِ حدیث کا نہ صرف شناسا اور دیدہ ور ہے بلکہ اس فن میں گہری بصیرت بھی رکھتا ہے۔ اس کے بعد دورۂ حدیث کے سال میں بخاری کی شرح ” نبراس الساری الی ریاض البخاری ” کے جستہ جستہ مقامات نظر نواز ہوتے گئے، تو علمِ حدیث کی برکت سے آپ سے عقیدت میں اضافہ ہوگیا، رفتہ رفتہ مزید کتب دیکھنے کی خواہش ہوئی تو فراغت کے بعد تو "الیواقیت الغالیہ فی تحقیق وتخریج احادیث العالیہ ” کے نام سے جو احادیث کی تخریج پر مشتمل کتاب ہے ; کے بہت سارے مقامات کا مطالعہ کیا، ان چاروں جلدوں میں ایسے ایسے حدیث کے لعل وجواہر جڑے ہوئے…

Read more

راہل گاندھی کا بے باکانہ خطاب ——از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ)

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر پارلیامنٹ میں بحث کے دوران جس بے باکی کے ساتھ راہل گاندھی نے ملکی مسائل بے روزگاری، مہنگائی، اگنی ویر، کسانوں کی تحریک اور ایجنسیوں کے غلط استعمال پر روشنی ڈالی اور حکمراں جماعت کو گھیرے میں لیا، اس نے پورے ہندوستان کے لوگوں کے دل کو جیت لیا، ان کے مخالفین بھی اس تقریر کی تعریف پر خود کو مجبور پارہے ہیں، حکومت کے خلاف یہ تقریر اس قدر مؤثر اور مواد سے بھر پور تھی کہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری حزب مخالف کے لیڈر کی ایوان کی اس تقریر کے دوران وزیر اعظم کو دو، وزیر داخلہ امیت شاہ کو تین، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور شیو راج سنگھ چوہان کو ایک ایک بار مداخلت کرنی پڑی، حد تو تب ہو گئی، جب اسپیکر اوم برلا کو بھی اپنی صفائی میں راہل گاندھی کی تقریر روک کر بیان دینا پڑا، راہل گاندھی نے جب یہ کہا کہ اسپیکر بھی جانب داری برتتے ہیں۔ انہوں نے اپنے انتخاب کے دن وزیر اعظم نریندر مودی کو جھک کر آداب کیا اور مجھے کھڑے کھڑے، اس پر اسپیکر ضبط نہیں کر سکے اور کہا کہ ہماری تہذیب ہے کہ بڑوں سے جھک کر ملا جائے، بلکہ ان کے پاؤں بھی چھوئے جائیں، اور برابر والوں سے یا کم عمر والوں سے برابری سے ملا جائے۔ میں نے اس ہندوستانی تہذیب اور سنسکرتی کا پالن کیا، ان کے خاموش ہوتے ہی راہل گاندھی نے یہ کہہ کر سب کی بولتی بند کر دی کہ پارلیامنٹ کے اندر اسپیکر سے بڑا کوئی نہیں ہوتا۔ راہل گاندھی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ہندو صرف بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ نہیں ہیں، جو نفرت اور خوف پھیلانے کا کام کرتے ہیں، ہندو اور بھی لوگ ہیں جو شیو کو مانتے ہیں، وہ نفرت کی بات نہیں کرتے، اس پر خوب ہنگامہ ہوا، لیکن راہل گاندھی نے اس پورے ہنگامہ کے بعد پھر اپنی تقریری جاری رکھی، اور حکومت کو آئینہ دکھانے کا…

Read more

علمی سیاحت نامہ (10)——( ✍️ معاویہ محب اللہ )

رات ساڑے دس بجے ٹرین لکھنؤ سے روانہ ہوگئی اور پوری رات ٹرین میں ہی گزری، عین صبح کی پَو پھوٹتے ہی سہارنپور کے ریلوے اسٹیشن پر آموجود تھے، الحمد للہ یہ سفر بہت آسان، آرام دہ اور ہنسی وخوشی میں پورا ہوگیا، مظاہر العلوم سہارنپور میں ایسی گہری جان پہچان اور شناسائی تو کسی سے تھی نہیں لیکن اللہ تعالٰی کا فضل وکرم ہی تھا کہ مظاہر العلوم قدیم کے مہمان نواز جناب رفاقت علی صاحب نے بڑی دل داری فرمائی، مہمان خانہ میں ٹھیرایا، نلّی نہاری سے لے کر چائے وناشتہ تک کا معقول انتظام فرمایا۔ اس کے بعد مظاہرِ قدیم کے مہتمم صاحب مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے دعائیں لیں کچھ علمی گفتگو ہوئی لیکن سوال وجواب کے بجائے صرف آپ ہی کی پند ونصائح پر اکتفا فرما لیا گیا، مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب نے بڑی بصیرت افروز اور پتے کی بات کہی کہ عام طور سے سہارنپور دیکھنے والے جذبات کی رَو کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بس اکابرین کے تبرکات وبقایات سے دلچسپی ہوا کرتی ہے، عقیدت کی حد تک تو یہ بھی درست ہے، اگر ایک عاشقِ محبوب اپنی معشوقہ کی گلیوں سے عشق کر بیٹھتا ہے، اس کے دیار کے رہنے والوں سے اسے انسیت واپنائیت ہوجاتی ہے، اس شہر کی خبروں میں وہ وہ شیرینی محسوس کرتا ہے جو کہیں نہیں، لہذا اگر کسی کو اپنی محبوب علمی ودینی شخصیت سے محبت وعقیدت ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے بقایا کو دیکھنے کی آرزو رہتی ہے، اس کے متروکات کی زیارت سے دل فرحت محسوس کرتا ہے، لیکن جب عقیدت میں اندھا ہوکر غلو کی حدود کراس ہونے لگے اور محبت وعقیدت کے بجائے اس پر دینی جذبات کے پھول نچھاور ہونے لگے، اس کے متروکات کے ساتھ عقیدت ومحبت، چومنے وچاٹنے کو کارِ ثواب سمجھانے جانے لگے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے، ان کو وہ درجہ دے دینا جس سے غلو آمیز عقیدت، تبرکات وبقایات کے ساتھ وہ تمسک اختیار کیا جائے کہ غلو کی بُو…

Read more

*علمی سیاحت نامہ (9)*—–(مولانا عبد القادر ندوی پٹنی)

مولانا عبد القادر صاحب پٹنی کے ساتھ تعلق وعقیدت سالوں پرانا ہے، مولانا بھی مجھ سے بے حد محبت فرماتے ہیں، اس کا اندازہ ان کو ہوگا جنہوں نے ہمیں مولانا کے ساتھ دیکھا ہے، آپ چھوٹوں اور خردوں کو نوازنے میں بہت زیادہ تواضع سے کام لیتے ہیں، جب بھی مولانا عبد القادر صاحب کا چھاپی کے اطراف میں آنا ہوتا ہے ضرور ہم کو اطلاع دیتے ہیں اور یوں ملاقات وزیارت کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے، دو مرتبہ رمضان المبارک میں مولانا کے آگے تراویح بھی سنائی ہے، یک دفعہ شبینہ میں دو پارے سنائے تھے، اور یک دفعہ سہ شب تراویح میں ایک آد پارہ کے قریب سنانے کا اتفاق ہوا تھا، اس وقت ہمارا رہنا وہنا اور قیام وطعام مولانا کے گھر سے ہی میں تھا، اس کےعلاوہ مولانا دامت برکاتہم کے لکھنؤ کے گھر میں بھی کئی روز اور پٹن میں تو بارہا پانچ چھ دن گزارنے کا موقع میسر آیا ہے۔ اس مرتبہ بھی لکھنؤ کے سفر میں جمعہ کے بعد ظہرانہ پر مولانا نے اپنے ہی گھر پر دعوت کا انتظام فرمایا تھا، بہر حال مولانا دامت برکاتہم کے گھر جمعہ کے بعد پہنچ گئے۔ ابھی ابھی آپ کی تازہ تصنیف جو قرآن کریم کے ہندی، انگریزی اور گجراتی ترجمہ پر مشتمل ہے سامنے آئی ہے، ندوۃ العلماء میں اس کا رسمِ اجراء بھی ہوچکا ہے، مولانا نے ہم تمام رفقاء کے ہاتھ میں بھی وہ کتاب تھمائی اور تصویر بھی محفوظ کرلی، اس سے زیادہ آپ کی ذرہ نوازی کیا ہوگی کہ راقم الحروف کو اس کتاب کا ایک نسخہ بھی ہدیتا عنایت فرمایا۔ گرچہ میں مستقلا درسی اعتبار سے مولانا کا شاگرد تو نہیں ہوں لیکن ایک اعتبار سے شاگردیت کا شرف ضرور حاصل ہے، اجازتِ حدیث، مختصر سوال وجواب، اور مشکوۃ المصابیح کی مختصر سہی تقریر سننے کا موقع ملا ہے، مولانا دامت برکاتہم بھی بطور خُرد نوازی کے فرماتے کہ معاویہ بھی میرا شاگرد ہے، خلاصۂ کلام ہم بھی آپ کے خوشہ چینوں میں شامل ہیں۔ تازہ تازہ بھونی ہوئی مچھلی، گوشت کا سالن…

Read more