Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
  • Get Started
13.10.2026
Trending News: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوشسعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوتملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندویدور اختلافات میں اتحاد کا محافظقرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیتمولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیفمفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروممریضوں پر بڑھتا بوجھحیات و ممات کا نظام کیوں برپا کیا گیا؟استغفار کی فضیلت اور اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میںحضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ کا انتقال | بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مالاصحابِ اعراف کون ہیں؟مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبندصدقہ —ہمارا بینک بیلنس؟شمالی قفقاز میں نقشبندیہ خالدیہ | شیخ شامل اور حریت پسند تحریکتہجد کیا ہے؟خواتین کی تعلیم و تربیت: اسلامی نقطۂ نظر، اہمیت اور ہماری ذمہ داریاںمقصدِ زندگی اور ہماری غفلتسود کی لعنت اور اس کا علاجمعیت الٰہی کا یقین اور ذہنی سکونپہلی صف اور تکبیر تحریمہ کی اہمیت و فضیلتیہ بھی تربیت کا حصہ ہےحسد ایک خطرناک اخلاقی بیمارینسلوں کی تعمیر میں استاذہ کا کردارمردوں کے لیے مہندی کا استعمالازواجِ مطہرات کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا سلوک | قسط 2سیرت نبوی ﷺ کی معاشی اہمیتتقویٰ کیا ہے؟ایک یادگار سہ روزہ سفرمیت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاحذکر الٰہی: 10 اہم فوائد، فضیلت اور مسنون اذکاربیمار پرسی کی فضیلت: 10 اہم آداب اور اسلامی تعلیماتاسلام اور تصورِ آزادی: 7 بنیادی اصول اور انسانی مساوات کا پیغامدربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراقصبر کی اہمیت: قرآن و سنت کی روشنی میں 7 اہم باتیںغیر درسی کتب کا مطالعہازواجِ مطہرات کے ساتھ پیغمبر اسلام ﷺ کا سلوک (قسط 1)ابو الحسن علی ندوی: زندگی، 26 مشہور کتابیں اور علمی خدماتسیرت نبوی میں عورتوں کے حقوققرآن مجید کی فضیلت و اہمیت: 10 اہم باتیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہونی چاہئیںمطالعۂ سیرت: مرحلہ وار رہنمائیدرود اور ہم | محبتِ رسول ﷺ اور فضائلِ درود | آدم علی ندویدودھ پینے کی دعاچین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہدعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقاترسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثراتربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنیاکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلماتحوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکمکاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملےآزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادی 10اسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا: 5 اہم شرعی احکام اور دلائلمولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہ
  • Home
  • About us
  • Books
  • Contact US ☺️ رابطہ
  • Courses
  • Disclaimer
  • Home
  • Privacy policy
  • Terms and Conditions
حراء آن لائن سے رابطہ کریں

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

  1. Home
  2. سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

  • hira-online.comhira-online.com
  • سیرت و شخصیات
  • جون 23, 2026
  • 0 Comments

Table of Contents

Toggle
  • سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم—
  • سہیل انجم

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم—

سہیل انجم

سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920ء میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے. ان کا انتقال 1985 میں ہوا. وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے. وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے. یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ *دارالعلوم* کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے.

انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا. ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا، لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے. 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا. ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا. ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے. اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا. اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا. ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار *زمیندار* کے صفحہ اول پر شائع کیا. اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا. سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا. ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ *غنچہ* اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ *پیامِ تعلیم* میں شائع ہوئے. دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں. 1936ء میں سہارنپور سے ہفت روزہ *صداقت* جاری ہوا تو وہ اس کے مستقل کالم نگار اور ادارتی عملہ کے رکن بن گئے. وہ صداقت میں اصلاحی، دینی اور سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ایک فکاہیہ کالم *اسرار و لطائف* بھی پابندی سے لکھتے رہے. صداقت نے 1939ء میں ان کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک خصوصی شمارہ شائع کیا. اس وقت ان کی عمر محض 19 سال تھی. یہ خصوصی شمارہ ان کی صحافتی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا. انھوں نے سلطان الحق قاسمی بجنوری کے ساتھ مل کر ہفت روزہ *استقلال* شروع کیا. یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کب جاری ہوا لیکن اس کا عید نمبر دسمبر 1937 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں ازہر شاہ قیصر کا ایک مستقل کالم *تواضعات* کے عنوان سے شائع ہوتا رہا. اسی طرح پندرہ روزہ *دیوبند ٹائمز* میں، جس کے مدیر مولانا اعجاز احمد قاسمی تھے، سیاسی حاشیے کے عنوان سے کالم لکھتے. لیکن کالم پر ان کے اصل نام کی بجائے قلمی نام *غزالی* شائع ہوتا. اس کالم میں پندرہ دن کی ملکی و غیر ملکی خبروں پر تبصرے ہوتے. انھوں نے نومبر 1940ء میں دیوبند سے دو ماہی *الانور* جاری کیا جس نے علامہ انور شاہ کشمیری کی زندگی اور کاموں پر توجہ مرکوز کی. یہ ایک دینی و اصلاحی اخبار تھا. اس کا مقصد علامہ کشمیری کے کی علمی خدمات سے اردو داں طبقہ کو روشناس کرانا تھا. انھوں نے الانور میں ان پر متعدد مضامین لکھے. اسی عرصے میں انھوں نے ماہنامہ *ہادی* دیوبند کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی. اس کا پہلا شمارہ مئی 1949 میں منظر عام پر آیا تھا. اس کے ادارہ تحریر میں سید ازہر شاہ قیصر کے علاوہ سید محبوب رضوی اور مولانا محمد سالم قاسمی کے نام شامل ہیں. مئی 1950ء میں شعبۂ ادارت میں علامہ انور صابری کا نام بھی شامل ہو گیا. اکتوبر 1950ء میں جمیل مہدی بھی اس کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے. سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی زندگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ان کو 1951میں دارالعلوم دیوبند کے رسالے *دارالعلوم* کی ادارت تفویض کی گئی. اس ذمہ داری نے ان کے قلمی جوہر کو مزید جلا بخشی اور ان کے قلم سے بے شمار اہم اور قابل ذکر مضامین نکلے. انھوں نے ایک طرح سے خود کو اس رسالے کے لیے وقف کر دیا. اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ رسالہ اور ان کا نام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہو گئے۔ وہ 1982ء تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے. اس ذمہ داری سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے دو ماہی *اجتماع* سہارنپور، ماہنامہ *خالد* دیوبند، ماہنامہ *طیب* دیوبند اور *اشاعت الحق* دیوبند کی بھی ادارت سنبھالی تھی. جب ان کی ادارت میں دارالعلوم دیوبند کی اشاعت بحال ہوئی تو انھوں نے *حرف آغاز* کے عنوان سے اپنے اداریے میں لکھا کہ القاسم کے بعد عرصہ تک دارالعلوم کا اپنا کوئی ترجمان نہیں تھا تاآنکہ 1360ھ میں رسالہ دارالعلوم نکالا گیا جو آٹھ سال تک اپنی بہت سی مجبوریوں کے باوجود اشاعت دین اور تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتا رہا.

ہمارا موجودہ رسالہ *دارالعلوم* کا دور جدید ہے جو ہمارے حلقے کے مسلسل اصرار اور خواہش پر ازسرنو جاری کیا جا رہا ہے. ان کی ادارت میں دارالعلوم جلد ہی اس مقام پر پہنچ گیا جسے رسالے کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے. سید صاحب ادب و صحافت کے شہسواروں میں شمار ہوتے تھے جس کی بنا پر وقت کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور کہنہ مشق صحافیوں سے ان کی راہ و رسم بڑی گہری تھی. ادھر ان کے با فیض اور لاثانی محقق و محدث والد علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی جو ان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے اور قلبی تعلق رکھے تھے اور اپنا ہر ممکن تعاون دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے. چنانچہ انھوں نے دارالعلوم کی ادارت سنبھالتے ہی اسے شہرت و مقبولیت کے سدرة المنتہیٰ تک پہنچا دیا. پہلے اس رسالے کی رسائی عام طور پر اہل علم و نظر اور دینی و مذہبی طبقوں ہی تک محد دو تھی اب اس کی پہنچ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے لے کر اد با شعر ایک اور عام قارئین سے لے کر بڑے بڑے صحافت پیشہ حضرات تک ہونے لگی. رسالے کا آغاز از ہر شاہ قیصر اپنے علمی، فکری، تحقیقی، ادبی و سیاسی اداریوں سے کرتے جسے وہ *حرف آغاز* کے عنوان سے لکھا کرتے تھے ( بعد میں تقریباً سترہ سال تک حرف آغاز مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی اور دو ایک دفعہ مولانا ندیم الواجدی نے بھی لکھا). اس کے بعد مقالات کے کالم کے تحت ملک کے شہرہ آفاق علماء، محققین، اسکالرس، ادبا اور صحافیوں کی نگارشات کا نمبر ہوتا. ادبیات کا مستقل گوشہ تھا جس کے تحت ہر ماہ ماہر القادری، حمید صدیقی لکھنوی زائر حرم ، روش صدیقی، الم مظفر نگری، نازش پرتاب گڑھی، جگر مراد آبادی اور ان جیسے دیگر بین الاقوامی شہرت و عظمت کے مالک شعرا کی تازہ بہ تازہ غزلیات شائع کی جاتیں. اخبار و افکار کے تحت ہر ماہ ملکی و عالمی پیمانے کی خاص خاص خبریں دی جاتیں. تنقید و تبصرہ بھی ایک مستقل کالم تھا جس میں ہر ماہ نئے مصنفین کی کتابوں پر فاضلانہ اور بے باک و حقیقت افروز تبصرے کیے جاتے. تبصرے کے لیے چونکہ بہ یک وقت کئی کئی کتابیں آتی تھیں اس لیے مولانا کے علاوہ آپ کے برادر خرد مولانا سید انظر شاہ، مولانا عبد الرؤف عالی اور مولانا قمر احمد عثمانی وغیرہ بھی تبصرہ نگاری کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے. رسالے کے اخیر میں حسب سابق حضرت مہتمم صاحب کے اسفار کی تفصیلات اور کوائف دارالعلوم درج کیے جاتے تھے. سیداز ہر شاہ قیصر نے اپنے دور ادارت میں جہاں اپنی قلمی نوازشوں سے دارالعلوم کو مثالی وقار و اعتبار بخشا و ہیں وقت کے مشہور اہل قلم و ادب و شعر کو اس رسالے میں لکھنے کی دعوت دی جنھوں نے اپنے رشحات و تخلیقات سے اس کی مقبولیت میں چار چاند لگا دیے. الغرض سید از ہر شاہ قیصر کے عرصہ ادارت میں ماہ نامہ دار العلوم ایک مکمل اور ہمہ جہت میگزین تھا جس میں علمی، دینی، ادبی، تنقیدی اور سیاسی ہر قسم کے موضوعات پوری دیدہ وری کے ساتھ برتے جاتے اور ارباب ذوق ان کا والہانہ استقبال کرتے تھے.

مولانا نے 1951 سے 1982 تک رسالہ *دارالعلوم* کی ادارت بحسن و خوبی انجام دی. مگر جب اس سال دارالعلوم سخت پر آشوب حالات سے گزرا اور اس کے تعلیمی و انتظامی شعبے تشویش ناک حد تک متاثر ہوئے تو رسالہ کی سرگرمیاں بھی ان حالات سے دو چار ہوئیں اور سال بھر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ اس کی اشاعت تعطل کا شکار رہی. پھر جب حادثات اور ہنگاموں کا طوفانِ بلا خیز تھما اور سابقہ معمولات علمی و انتظامی جدید انتظامیہ کے تحت بحال ہوئے تو رسالہ کی اشاعت کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ادارت کے لیے پھر مولانا سید از ہر شاہ قیصر کو مدعو کیا گیا. مگر حالات و انقلابات کی بے انتہا سنگینی نے ان کی طبع حساس پر غیر معمولی اثر ڈالا تھا اور وہ حد درجہ دل گیر ہو چکے تھے. اس لیے انتظامیہ کے اصرار کے باوصف انہوں نے گوشہ تنہائی ہی کو ترجیح دی اور کسی طرح بھی دوبارہ اس رسالے کی ادارت کے لیے تیار نہ ہوئے. اس طرح *دارالعلوم* اپنے ایک عظیم مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہو گیا.”(بحوالہ: دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ، مصنف: نایاب حسن قاسمی، ادارہ تحقیق اسلامی دیوبند).مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر نے *سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب ایک صحافی* نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جس میں سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے. مفسر قرآن مولانا اخلاق حسین قاسمی نے *درویش صفت صحافی* کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ حضرت شاہ جی کا سب سے پہلے میں نے جمعیة علماء ہند کے اکابرین ثلاثہ (مولانا حفظ الرحمن، مفتی عتیق الرحمن عثمانی اور مولانا محمد میاں) کی مجلس میں تذکرہ سنا. اچھے لکھنے والوں کا ذکر ہو رہا تھا. مولانا محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر الجمعیة اور ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر انصاری اخبار بھی مجلس میں موجود تھے. مفتی صاحب نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر ازہر شاہ قیصر درالعلوم کے اداریے بڑی محنت سے لکھتے ہیں. زبان بھی پرشوکت ہوتی ہے اور فکر بھی صائب ہوتا ہے. فارقلیط صاحب نے مفتی صاحب کی تائید کی. البتہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے مفتی صاحب کی *پرشوکت زبان* پر فرمایا کہ اب دور آسان رادو زبان لکھنے کا ہے. ازہر شاہ کے سامنے علما کا طبقہ رہتا ہے. اگر وہ مسلم عوام کو سامنے رکھیں تو انھیں احساس ہو. مولانا آزاد نے بھی رام گڑھ کانگریس کے خطبہ میں اپنی پرشوکت اور پروقار زبان کی بجائے آسان اور عام فہم زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے. ازہر شاہ مولانا آزاد کے الہلال و البلاغ کو دیکھتے ہیں. اس کتاب کا مقدمہ ڈاکٹر تابش مہدی نے لکھا ہے. وہ اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کرتے ہیں:

*علامہ ڈپٹی نذیر احمد، مولوی محمد حسین آزاد، خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ شبلی نعمانی اردو ادب کے عناصر اربعہ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے اسلوب تحریر اوراپنی ادبی نظریہ سازی کے ذریعہ اردو شعر وادب کی روایت کو آگے بڑھایا ہے. ہندوستان کی مردم خیز بستی دیو بند کے شعری و ادبی حوالے سے بھی چار نام بہت نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں. ان میں پہلا نام علامہ انور صابری کا ہے جنھوں نے اپنی شاعری اور بدیہہ گوئی کے ذریعہ شہرت و مقبولیت حاصل کی. دوسرا نام مولانا عامر عثمانی کا ہے جنھوں نے اپنے ماہانہ رسالہ ”تجلی“ کے ذریعہ اپنی تخلیقی، تنقیدی اور صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا. تیسرا نام جمیل مہدی کا ہے جنھوں نے دیوبند سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیااور اس کے بعد لکھنو چلے گئے. انھوں نے وہاں سے روزنامہ عزائم جاری کیا اور آخری عمر تک عزائم ہی کے ذریعہ اپنی ذہانت و فطانت کا لوہا منواتے رہے اور چو تھا نام ابن الانور مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر کا ہے جو اوائل عمری ہی سے صحافت کے دامن گرفتہ ہوئے تو زندگی کی آخری سانس تک اس کی وفاداری سے منہ نہیں موڑا.

*انھوں نے ان کی تحریری خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:*مولانا سید از ہر شاہ قیصر اردو کے معتبر صحافی بھی تھے اور شگفتہ قلم ادیب وانشا پرداز بھی. شاعری اور افسانہ نگاری سے بھی شغف رکھتے تھے …. اگرچہ وہ ایک درویش صفت، قلندر مزاج، گوشہ نشین اور عزلت پسند صحافی تھے تاہم ان کے قلم میں بلا کی شوخی اور دلاویزی تھی. ان کا مطالعہ بہت وسیع اور ہمہ جہت تھا. اس سلسلے میں انھوں نے ہمیشہ کشادہ نظری اور وسیع المشربی سے کام لیا. جو عمق اور ٹھہراؤ ان کے مشاہدے میں تھا وہ بہت کم لکھنے والوں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے. رسالہ دارالعلوم میں ان کے اداریوں کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا. متعدد معاصر جرائد انھیں اپنے ہاں نقل کرتے تھے.

*غرضیکہ مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی صحافتی و علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے. جب بھی دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کی صحافتی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ان کی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی.

سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

ڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام
سیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہ

Related Posts

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
  • 0 Comments
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

ہر دل عزیز استاذ و مربی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش از : مولانا محمد عارف صاحب ندوی بعض شخصیات صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتیں، بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، ان کا طرزِ گفتگو، اندازِ تدریس، پابندیِ وقت، علمی انہماک، عبادت و تلاوت، حتیٰ کہ ان کی خاموشی بھی شاگردوں کے لیے درس بن جاتی ہے۔ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ صرف دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم نہیں تھے؛ وہ ایک عہد کی علمی شناخت، عربی زبان و ادب کے ممتاز استاد، صاحبِ طرز ادیب، بے باک صحافی، باکمال خطیب، داعی،کئی نسلوں کے مربی اور اپنے بے شمار تلامذہ کے لیے ایک شفیق اور قابلِ احترام استاذ تھے۔ حضرت کی وفات سے ندوۃ العلماء ہی نہیں، ہندوستان کے علمی و ادبی تمام حلقوں نے بھی ایک ایسے بزرگ کو کھو دیا ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و عمل ، تعلیم و تربیت، دعوت دین اور ندوہ کی خدمت میں صرف کردی۔ 1935ء میں پیدا ہوئے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور بعد میں عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف صحافت حتی کہ نظم و نسق میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ 2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم مقرر ہوئے اور آخری وقت تک اس منصب پر فائز رہے ۔ غالباً 2003ء کے اواخر اور 2004 کے اوائل کا زمانہ تھا۔ ندوۃ العلماء میں نو وارد تھا عالیہ اولیٰ میں داخلہ ہوا۔ بقر عید تک کا زمانہ اللہ اللہ کرکے انگلیوں پر گنتے گزرا۔ کسی طور دل لگتا ہی نہیں تھا۔ گھر سے اتنی دور پہلی مرتبہ نکلا تھا سفر کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا؛ اس لیے واپس بھاگنے کا تصور بھی محال تھا ۔ عالیہ اولیٰ کی درس گاہ کلیۃ اللغۃ میں لگا کرتی تھی۔زیادہ تر درس گاہیں دار العلوم کی مرکزی پر شکوہ عمارت میں لگا کرتی تھیں کبھی کبھار…

Read more

Continue reading
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
  • hira-online.comhira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
  • 1 Comments
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 🖊️ شعیب حسینی ندوی استاد محترم حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی گوناگوں خصوصیات، کمالات اور امتیازات اہل قلم پیش کرتے رہیں گے اور ان کی نجی زندگی، انتظامی زندگی، تدریسی و ادبی خدمات، تعلق مع القرآن، ندوے کی آبیاری و ندوی روایت کی پاسداری، عصری دانشگاہ انٹیگرل یونیورسٹی کا قیام، زبان و ادب اور علم و فن میں ان کے کارہائے نمایاں جیسے گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہے گی، ان کی زندگی ایک ورق نہیں ہے جسے پلٹ کر گزر جایا جائے بلکہ وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ تابندہ نقوش رکھتا ہے، ان سب پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جائے گا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر متعدد کتابیں بھی تیار کی جائیں تو بھی حضرت استاد کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے، میں سر دست جس پہلو کو اپنے اس مختصر مضمون میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ ان سے زبان و ادب کی چاشنی کو حاصل کرنے سے متعلق ہے، میں نے حضرت سے بہت کچھ سیکھا، ایک عرصے تک ان کی صحبت پائی ہے، اور آپ کی خاص شفقتوں اور عنایتوں کے سایہ میں ایک عرصہ گزرا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ حضرت استاد کی زبان کی سلامت روی کو پایا ہے، لفظوں کا انتخاب، تعبیرات کو ڈھالنے کا انداز، اسلوب بیان، طرز تدریس، اس میں تو استاد سب سے نمایاں تھے کبھی کسی لفظ پر رک کر دو تین دفعہ اس کو دہرانا پڑتا تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی جملہ غلط تلفظ کے ساتھ پورا ہو جائے، عربی زبان کی چاشنی حضرت سے ہم کو ملی ہے، زبان بولنے میں جو ادائیگی کی لطافت تھی وہ آپ کا خاصہ تھی ہم کلاس میں بیٹھتے تھے اور حضرت جب الشعر العربی کے دروس دیا کرتے تھے تو اس میں جہاں الفاظ کی نوک پلک سمجھاتے تھے، تعبیرات کی ادائیگی کا سلیقہ بھی دیتے تھے، وہیں اپنی زبان سے موتیوں کی طرح جھڑتے ہوئے الفاظ سے ہمارے کام و دہن میں رس گھول…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش 11.10.2026
  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت 08.10.2026
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی 08.10.2026
  • دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ 08.10.2026
  • قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت 07.10.2026
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف 07.10.2026
  • مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم 06.10.2026
  • مریضوں پر بڑھتا بوجھ 06.10.2026

حالیہ تبصرے

  • سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت از حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1
  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی از سعیدی اسلوب: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی زبان و ادب کی خصوصیات 1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ: حیات، خدمات اور وفات پر تاثرات1
  • مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی عظیم صفت: اختلافات میں اتحاد اور حکمت 1
  • مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند از مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف » HIRA ONLINE / حرا آن لائن1

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Other Story

سیرت و شخصیات

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش

  • hira-online.com
  • اکتوبر 11, 2026
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ — چند یادیں، چند نقوش
سیرت و شخصیات

سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سعیدی اسلوب: زبان کی لطافت اور ادب کی حلاوت
Blog

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تاثرات بر وفات حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
سیرت و شخصیات

دور اختلافات میں اتحاد کا محافظ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 8, 2026
مضامین و مقالات

قرآن کریم کی تفسیر و تفہیم میں شعرِ جاہلی کی اہمیت

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

  • hira-online.com
  • اکتوبر 7, 2026
سیرت و شخصیات

مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مفتی ثمین اشرف قاسمی کا انتقال، ہندوستان علمی و روحانی شخصیت سے محروم
مضامین و مقالات

مریضوں پر بڑھتا بوجھ

  • hira-online.com
  • اکتوبر 6, 2026
مریضوں پر بڑھتا بوجھ
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top