HIRA ONLINE / حرا آن لائن
یکساں سول کوڈ اور ان کے نقصانات

یکساں سول کوڈ کیا ہے؟ دہلی ہائی کورٹ کا مؤقف، آئینی بنیاد، فوائد و نقصانات اور مسلمانوں کے تحفظات ✍️ اسجد حسن بن قاضی محمد حسن ندوی ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، برادریاں، قبائل اور ثقافتیں صدیوں سے اپنے اپنے مذہبی اور سماجی روایات کے ساتھ آباد ہیں۔ ہندوستانی قانون کے ایک اہم موضوع یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code – UCC) کا تعلق اسی متنوع معاشرے میں عائلی اور شخصی قوانین سے ہے۔ یکساں سول کوڈ کیا ہے؟ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ شادی، طلاق، وراثت، گود لینا، نان و نفقہ اور بعض دیگر شخصی و عائلی معاملات کے لیے مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں پر یکساں قانونی اصول نافذ ہوں۔ اس وقت ہندوستان میں مختلف مذہبی برادریوں کے لیے بعض عائلی معاملات میں الگ الگ قوانین اور روایات موجود ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کا یکساں سول کوڈ کے بارے میں اہم تبصرہ جولائی 2021 میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک طلاق کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت پر اہم تبصرہ کیا۔ یہ معاملہ راجستھان کی مینا برادری سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے سے متعلق تھا۔ سوال یہ تھا کہ ان کے معاملے میں Hindu Marriage Act, 1955 کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔ جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ نے 7 جولائی 2021 کے فیصلے میں کہا کہ مختلف مذاہب، ذاتوں، قبائل اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان جب شادی کرتے ہیں تو انہیں مختلف پرسنل لاز کے باہمی اختلافات، خصوصاً شادی اور طلاق کے معاملات میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے آئین ہند کے آرٹیکل 44 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں آئینی امید محض امید بن کر نہیں رہنی چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ مختلف عائلی معاملات، مثلاً شادی، طلاق اور وراثت کے لیے مشترکہ اصول، تحفظات اور طریقۂ کار وضع کیے جاسکتے ہیں، تاکہ مختلف پرسنل لاز کے درمیان موجود تضادات سے پیدا ہونے والی مشکلات کم ہوں۔ عدالت نے اپنے فیصلے…

Read more