دعا اور تدبیر


از : مولانا آدم علی ندوی

حجاج اور نابینا فقیر کی حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک نابینا فقیر تقریباً بیس سال سے کعبۃ اللہ کے پاس دعائیہ انداز میں بیٹھا رہتا اور بینائی کی واپسی کی دعا کرتا رہتا۔ اسی بہانے لوگوں سے بلا کہے بھیک بھی مانگتا تھا۔ایک دن حجاج طواف کر رہا تھا کہ اس کی نظر اس فقیر پر پڑی۔ اس نے صورتِ حال معلوم کی اور نابینا فقیر کے پاس جا کر کہا: "اگر تین دن میں تمہاری بینائی واپس نہ آئی تو یہ تلوار اور تمہاری گردن!”اب اس نابینا نے خوف و اضطرار میں سچے دل سے دعا کی اور اس کی بینائی واپس آگئی۔

اگرچہ اس حکایت کی کوئی مستند سند و دلیل نہیں ہے، لیکن ہماری دعاؤں کی عکاسی اس میں خوب ہوتی ہے کہ ہم لوگ بھی صرف دعا کی شکل بناتے ہیں: ہاتھ اٹھاتے ہیں، الفاظ ادا کرتے ہیں، لیکن دل غافل ہوتا ہے؛ زبان و دل کا کوئی ربط نہیں ہوتا۔ بس ایک رسم ہے کہ امام صاحب کے ساتھ ہاتھ اٹھانا ہے اور چہرے پر پھیر لینا ہے۔ باقی ساری ذمہ داری، گویا نماز ہی کی طرح، امام صاحب کی ہے۔

تمام امور دینیہ کی طرح دعا میں بھی ہماری بے رغبتی اور بدشوقی کا یہی حال ہے کہ غفلت و لاپروائی کے ساتھ، بغیر آداب کی رعایت کے، ہم دعائیں کرتے نہیں بلکہ صرف الفاظ دہراتے ہیں۔ پھر اس پر یہ شکوہ بھی کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟
اللہ کے رسول ﷺ نے تو پہلے ہی خبر دے دی ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ۔(١)اللہ تعالیٰ غافل اور بے خبر دل سے نکلنے والی دعا کو قبول نہیں فرماتے۔

اس طرح رسمی دعا کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں دعا کی اہمیت و قیمت کا علم نہیں، اور اللہ کی عطا و بخشش اور قبولیتِ دعا پر یقین ہی نہیں۔ یہی عدمِ یقین کی کیفیت ہے جو ہم سے دنیا کے تمام تر اسباب تو اختیار کروا لیتی ہے، لیکن حقیقی کارساز کے سامنے سچے دل سے، الحاح و زاری کے ساتھ مانگنے پر آمادہ نہیں کرتی۔کسی آڑے وقت، پریشانی یا مصیبت میں ہم تمام تر تدبیریں کرتے ہیں اور مدبر حقیقی کو بھول جاتے ہیں؛ جبکہ رسول اکرم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ پہلے دو رکعت صلاۃ الحاجۃ ادا کرتے،(٢) اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، پھر تدبیریں اختیار کرتے تھے۔اور ہم، سب کچھ کرتے ہیں، بس دعا نہیں کرتے! اگر تدبیریں کرتے کرتے ہار گئے تو دعا کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ تعویذ گنڈے کے چکر میں لگ جاؤ، وظائف شروع کرو، اور پھر اسی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے زندگی گزر جاتی ہے۔حقیقی دعا تو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے اس طرزِ عمل سے ناراض ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کا در چھوڑ کر، اسی سے مانگنے کے بجائے صرف تدبیروں میں لگے رہیں یا دوسرے طریقے اختیار کریں۔حدیث میں آتا ہے:مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ۔(٣)جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ بندہ مانگے اور وہ عطا فرمائیں۔إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ۔(٤)بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں کہ ان سے مانگا جائے۔

وہ خود اعلان فرماتے ہیں:وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ۔
(غافر: 60)اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔

دعا تدبیر کی ضد نہیں،مومن اسباب ضرور اختیار کرتا ہے، مگر اسباب کو مؤثر حقیقی نہیں سمجھتا؛ وہ تدبیر کرتا ہے، لیکن نظر مدبر حقیقی ہی پر رکھتا ہے۔

دعا کی اہمیت و فضیلت

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ(سورۃ البقرۃ: 186)اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔ پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
دعا ہماری دینی و دنیاوی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے اخروی و دنیاوی مسائل کا حل، بے چین دلوں کی غذا اور ہمارا سب سے بڑا ہتھیار اور سہارا ہے۔(٥) اسی کے ذریعہ رحمت کے دروازے اور رزق کے خزانے کھلتے ہیں۔ دعا جنت کی کنجی ہے(٦) اور اس کے ذریعہ تقدیر کے فیصلوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔(٧)ہمارے اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بلند و معزز عمل دعا ہے۔(٨) یہ ہماری عبدیت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ دعا ہماری ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک اہم ترین عبادت، بلکہ عبادت کا مغز و خلاصہ ہے۔(٩) دعا کے ذریعہ ہم جہاں اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، وہیں اپنی عبدیت و بندگی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔اور دعا کے وقت ہم ایک اہم عبادت میں مشغول ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے قریب ہوتا ہے، ہماری دعا سن رہا ہوتا ہے اور ہمارے حال سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے۔اور خوش ہوتا ہے، حکمت و ضرورت سمجھتا ہے تو کبھی اسی وقت ہماری دعا کے آثار ظاہر فرما دیتا ہے، کبھی اس کے بدلے کسی مصیبت کو ٹال دیتا ہے اور کبھی اس کا اجر آخرت کے لیے محفوظ فرما دیتا ہے۔(١٠)

آدابِ دعا

ٱدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ(سورۃ الأعراف: 55)تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو، بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ بڑے داتا، نہایت رحیم و مہربان ہیں۔ اس کے رحم و کرم، عفو و درگزر کی کوئی انتہا نہیں، اور اس کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ بس بندے کے پاس عرض و معروض کا سلیقہ و ڈھنگ ہونا چاہیے۔ یہ سلیقہ و طریقہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اور اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ ہمیں بتا اور سکھا دیا ہے۔
خلوت میں آہ و زاری، مانگنا اور گڑگڑانا، راز و نیاز اور آنسوؤں کے چند قطرے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔(١١) اس سے اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور عطا کی بارش ہونے لگتی ہے۔ جب بندہ مکمل توجہ اور قبولیت کے یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھاتا ہے اور اس کی حمد و ثنا سے دعا کا آغاز کرتا ہے، اس کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ اسے پکارتا ہے،(١٢) تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے۔ بندہ قرب کا وہ مقام اور کیفیت محسوس کرتا ہے کہ اس کی لذت و سرور کو الفاظ کا پیکر نہیں دیا جا سکتا۔
جب بندہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو کر سرگوشی میں مشغول ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ جس طرح اس کے ظاہر کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کے باطن سے بھی باخبر ہے۔ وہ اپنی رحمت پاکیزہ دل اور پاکیزہ جسم پر ہی نازل فرماتا ہے۔ اس کی قربت اسی کو نصیب ہوتی ہے جس کا ظاہر و باطن دونوں پاکیزہ و طاہر ہوں۔(١٣)اسی لیے کتنے مانگنے والے ہیں جن کی دعائیں اور التجائیں قبول نہیں ہوتیں اور جن کی طرف اللہ کی رحمت متوجہ نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا کھانا حرام اور ان کا لباس حرام ہوتا ہے۔(١٤) جب ظاہر و باطن گندگی سے آلودہ ہو تو وہ رحمت کا محل بننے کے قابل ہی نہیں رہتا؛ ایسے میں قربت و معیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اوقاتِ دعا

أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ۔(١٥)کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے کی دعا اور فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔

دعا کی قبولیت اور نوازش کے لیے اللہ تعالیٰ بندے کی طلب و شوق کو بھی دیکھتے ہیں۔ وہ اس کی تڑپ اور لگن سے خوش ہوتے ہیں۔ بندے کی طلب کو پرکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض خصوصی اوقات مقرر فرمائے ہیں، جن میں اس کی خصوصی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ جب بندے میں واقعی اور سچی طلب ہوتی ہے تو وہ ان اوقات کو تلاش کرتا ہے، ان کے لیے اہتمام کرتا ہے اور اپنی ضرورتیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہے۔ پھر رحیم و کریم آقا کی رحمت و کرم اسے اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور حصن حصین بن کر اس کی حفاظت کرتی ہے۔

جب بندہ اپنی کچھ نیکیاں دربارِ الٰہی میں پیش کرکے اس کی رحمت کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو قبولیت کی امید بڑھ جاتی ہے۔(١٦) جب وہ سحر کے وقت نرم بستر چھوڑ کر دوگانہ ادا کرتا ہے اور ہاتھ اٹھاتا ہے، یا فرض نماز ادا کرکے اپنی حاجت پیش کرتا ہے، یا قرآن عظیم مکمل کرکے دستِ دعا بلند کرتا ہے،(١٧) یا صدقہ و خیرات کا نذرانہ پیش کرکے دربارِ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے،(١٨) تو قبولیت و عطا، بخشش و نوازش کی امید بڑھ جاتی ہے۔
ہماری جانب سے بس اظہارِ طلب ہو جائے اور نیکی کی نیت ہی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہو جاتی ہے اور عنایتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جب ہم اذان کی آواز سن کر مسجد میں حاضر ہو جائیں اور جماعت کے انتظار میں ہوں، اس دوران دعا کریں،(١٩) یا میدانِ جہاد میں جا کر اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ لے کر حاضر ہوں اور اس سے کچھ مانگیں،(٢٠) یا اپنا گھر چھوڑ کر وفورِ شوق کے ساتھ اس کے گھر کی زیارت کے لیے پہنچیں اور اپنی درخواست پیش کریں،(٢١) تو کریم آقا کے یہاں محرومی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کسی کی طلب و تلاش دیکھ کر اگر توفیقِ الٰہی شاملِ حال ہو جائے اور شبِ قدر یا جمعہ کے دن(٢٢) قبولیت کا وقت نصیب ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے دینے کے لئے بندے کو اپنی بارگاہ میں بلا لیا اور رحمت کا پروانہ عطا فرما دیا۔

لاچار اور بے سہارا لوگوں کی دستک بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کو بڑا ترس آتا ہے۔ کوئی مظلوم جب اپنے ظلم کا شکوہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہے تو اس کی دعا کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ظالم کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ضرور آتی ہے۔(٢٣) اسی طرح جب کوئی مسافر جنگل و بیابان میں بھٹک جائے، کوئی راہ گیر کسی مصیبت میں گرفتار ہو، یا کوئی بندۂ عاجز و ناتواں سوالی بن کر فریاد کرے،(٢٤) تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد ضرور فرماتا ہے اور اس کی بلا و مصیبت کو ٹال دیتا ہے۔

یقیناً انسان اپنی ضرورتوں کے وقت ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، لیکن وہ بندہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے جو خوش حالی کے دنوں میں بھی اللہ سے لو لگائے رکھے، اسے یاد کرے اور اس کے حضور ہاتھ پھیلاتا رہے۔ پھر جب اس پر کوئی ناگہانی آفت آتی ہے، وہ بلائے زمانہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی فریاد سنتا اور اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔(٢٥)
دل سے نکلی ہوئی وہ صدا اور دعا جس میں محبت و اخلاص کی آمیزش ہو اور کوئی غرض یا دکھاوا شامل نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ جیسے والدین اپنے بچوں کی دینی و دنیوی بھلائی کے خواستگار ہوں اور ان کی کامیابی و نیک نامی کے طلب گار ہوں،(٢٦) اسی طرح جب ایک بھائی دوسرے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں اس کی صحت و عافیت، سرخروئی اور فلاح کے لیے دعا گو ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو یہ ادا بہت بھاتی ہے، اور ایسی دعا مستجاب ہو کر اپنا اثر دکھاتی ہے۔(٢٧)

دعاؤں کا عظیم تحفہ

جس طرح ہمیں دعا کے آداب، اوقات اور مقامات کے بارے میں رہنمائی دی گئی ہے، اسی طرح اللہ رب العزت نے اپنے پاک کلام میں دعاؤں کا ایک بڑا قیمتی ذخیرہ بھی محفوظ کر دیا ہے۔ یہ وہ دعائیں ہیں جو مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کی زبانوں پر جاری ہوئیں اور بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت سے نوازی گئیں۔ اسی طرح نبی پاک ﷺ کی زبان مبارک سے بھی ایسی جامع دعائیں ادا ہوئیں جو بارگاہِ ایزدی میں قبولیت کا شرف حاصل کر چکی ہیں۔
ان قرآنی اور مأثور و مسنون دعاؤں کے بیش بہا ذخیرے میں ہماری تمام دینی و دنیوی ضرورتوں کی ترجمانی موجود ہے۔ یہ ایسی بابرکت اور نورانی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو چکی ہیں، ان کے الفاظ بارگاہِ الٰہی میں جگہ پا چکے ہیں اور ان پر رضا و خوشنودی کی مہر ثبت ہو چکی ہے۔

صحابہ و تابعین، صلحاء و اولیاء، صدیقین و شہداء نے ہمیشہ ان دعاؤں کو اپنا معمول بنایا اور انہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھا اور اپنی مرادیں پوری کیں۔ لہٰذا اگر ہم بھی ان دعاؤں کو اپنا معمول بنائیں اور انہی نورانی کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں اور راز و نیاز کریں، تو یقیناً ہماری گنہگار زبانوں میں بھی اللہ تعالیٰ کچھ تاثیر پیدا فرما دے گا۔ اگر ہماری زبانیں اس لائق نہ بھی ہوں تو وہ ان نورانی کلمات اور دعاؤں کی لاج ضرور رکھ لے گا اور ہمارا کام بنا دے گا۔

اسی طرح جناب رسالت مآب ﷺ سے مختلف مواقع کی مناسبت سے بہت سی دعائیں منقول ہیں۔ ان دعاؤں کی پابندی ہماری زندگی کو آسان بناتی ہے، ہمارے مسائل کے حل کا ذریعہ بنتی ہے، زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر، تسبیح و تحمید سے تر رکھتی ہے، دل کو غفلت سے بیدار کرتی ہے اور اسے حمد و ثنا اور شکر سے لبریز رکھتی ہے۔
یہ دعائیں دنیا کی آفات و بَلیات، بیماریوں اور ناگہانی مصیبتوں سے حفاظت کا ذریعہ بنتی ہیں اور شیطانی اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ان دعاؤں کی پابندی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پناہ میں رہتا ہے۔(٢٨)

خلاصہ یہ کہ قرآن و حدیث میں وارد یہ دعائیں ہم عاجز و ناتواں بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم تحفہ اور گراں قدر عطیہ ہیں۔ ان کے ذریعہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا ڈھنگ آتا ہے، بندگی کے اظہار کا ہنر معلوم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور کبریائی بیان کرنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا تعلقِ عبودیت مضبوط ہوتا ہے جو ہماری زندگی کا مقصد اور نصب العین ہے۔

حوالہ جات

[1] جامع ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3479۔
[2] «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى»۔ حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے۔ سنن ابی داود، کتاب التطوع، حدیث: 1319؛ «مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ… فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ…»سنن ابن ماجہ، حدیث: 1384؛ جامع ترمذی، حدیث: 479۔
[3] جامع ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3373؛
[4] «سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ مِنْ فَضْلِهِ…»۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 3571؛
(5)«الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ، وَعِمَادُ الدِّينِ، وَنُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ»۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے۔ أبو يعلى، المسند، حدیث: 439؛ الحاكم، المستدرك، حدیث: 1812؛
(6)«مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ…» حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے۔ جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3548؛ «وَفِي رِوَايَةٍ: فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ»۔ المستدرک للحاکم، حدیث: 1857؛
(7)«لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ»۔ حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے۔ مسند احمد، حدیث: 22413؛
(8)«لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ»۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ جامع الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث: 3370۔
(9)الدعاء هو العبادة»۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، کتاب تفسير القرآن، حدیث: 2969؛ «الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ» کے الفاظ بیہقی، شعب الإيمان میں منقول ہیں، لیکن محدثین کے نزدیک اس کی سند قابلِ اعتماد نہیں۔
(10)«ما من مسلم يدعو بدعوة إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث…» حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے۔ مسند احمد، حدیث: 11133؛
(11)«عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ جامع الترمذی، حدیث: 1639؛
(12)«ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة،حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 3479۔
«إن الله حيي كريم، يستحيي إذا رفع الرجل إليه يديه أن يردهما صفراً خائبتين»۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 3556؛
«إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد الله والثناء عليه، ثم ليصل على النبي، ثم ليدع بما شاء»۔ حضرت فضالہ بن عبیدؓ سے مروی ہے۔ سنن ابی داود، حدیث: 1481؛
«ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها»سورۃ الأعراف،180۔
(13)«إن الله طيب لا يقبل إلا طيباً»حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1015۔
(14)«…وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟» حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1015۔
(15)«قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ»۔ حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 3499۔
(16)صحیح بخاری، کتاب الإجارة، حدیث: 2272؛ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث: 2743۔
(17)«إن في الليل لساعة لا يوافقها رجل مسلم يسأل الله خيراً من أمر الدنيا والآخرة إلا أعطاه إياه، وذلك كل ليلة»۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، حدیث: 757۔
«قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ، وَدُبُرُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ»۔ حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 3499۔
«مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ»۔ حضرت عرباض بن ساریہؓ سے مروی ہے۔ الطبرانی، المعجم الكبير، 18/259۔
(18)«إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ»۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ جامع الترمذی، حدیث: 664؛
(19)«لا يُرَدُّ الدعاء بين الأذان والإقامة»۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ سنن ابی داود، کتاب الصلاة، حدیث: 521؛
(20)«تُفَتَّحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيُسْتَجَابُ الدُّعَاءُ فِي أَرْبَعَةِ مَوَاطِنَ: عِنْدَ الْتِقَاءِ الصُّفُوفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ… وَعِنْدَ رُؤْيَةِ الْكَعْبَةِ»۔ حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے۔ الطبرانی، المعجم الكبير، 8/170، حدیث: 7694؛
(21)ایضا۔
(22)صحیح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، حدیث: 2017؛ صحیح مسلم، حدیث: 1169۔
«في الجمعة ساعة لا يوافقها عبد مسلم، وهو قائم يصلي، يسأل الله شيئاً، إلا أعطاه إياه»۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ صحیح بخاری، کتاب الجمعة، حدیث: 935؛ صحیح مسلم، کتاب الجمعة، حدیث: 852۔
(23)«واتق دعوة المظلوم، فإنه ليس بينها وبين الله حجاب»۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 1496؛
(24)«ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ»۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 1905؛
(25)«تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة»۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں۔ جامع ترمذی، کتاب صفة القيامة، حدیث: 2516؛
(26)«ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن: دعوة المظلوم، ودعوة المسافر، ودعوة الوالد…»۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ جامع ترمذی، حدیث: 1905؛
(27)«من دعا لأخيه بظهر الغيب قال الملك الموكل به: آمين، ولك بمثل»۔ حضرت ابوالدرداءؓ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث: 2732۔

(28)قرآن کریم کی بعض آیات اور نبی کریم ﷺ سے منقول مسنون دعائیں اور اذکار انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ خصوصاً آیت الکرسی، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس (معوذتین) کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صبح و شام کے مسنون اذکار اور سوتے وقت معوذتین پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ ان قرآنی آیات اور مسنون اذکار کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا، شیطان کے شر اور مختلف آفات و بلیات سے حفاظت چاہتا اور اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مضبوط کرتا ہے۔

صحیح بخاری، حدیث: 2311، 5017؛ صحیح مسلم، حدیث: 814۔