دربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ طمطراق
دربارِ رسول ﷺ کا پیغمبرانہ رنگ و آہنگ یا مجلسانہ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 مجلسِ رسول اللہ ﷺ کی منفرد شان دنیا نے اقتدار کے بے شمار ایوان دیکھے ہیں، بادشاہوں کے درباروں کی شان و شوکت دیکھی ہے، تاج و تخت کی جلالت، شاہی آداب کی پابندی، بارگاہِ سلطانی کے رعب و دبدبے اور اہلِ دربار کی مرعوبیت کے مناظر بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں؛ مگر دربارِ نبوت دنیا کے ہر دربار سے نرالا، ہر مجلس سے بلند اور ہر محفل سے منفرد تھا۔ وہاں جلال بھی تھا مگر جلال کے ساتھ جمال تھا، ہیبت بھی تھی مگر ہیبت کے ساتھ محبت تھی، وقار بھی تھا مگر وقار کے ساتھ شفقت تھی، عظمت بھی تھی مگر عظمت کے باوجود بندگانِ خدا کے لیے دلوں کے دروازے کھلے تھے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے مجلسِ رسول اللہ ﷺ کو دیگر انسانی مجالس کی حدوں سے بلند کرکے ایک ایسی تربیت گاہ بنا دیا جہاں بیٹھنے والا صرف مجلس میں شریک نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح لے کر اٹھتا تھا۔ نبوی مجلس میں جلال، جمال اور رحمت کا امتزاج حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی، رسولِ برحق اور خاتم النبیین تھے۔ آپ کی ذاتِ اقدس میں نبوت کا جلال بھی تھا اور رحمتِ عالم ہونے کا جمال بھی؛ آپ کے کلام میں وحی کی صداقت بھی تھی اور دلوں کو چھو لینے والی شیرینی بھی؛ آپ کی نگاہ میں عظمتِ نبوت بھی تھی اور امت کے لیے بے پایاں شفقت بھی۔ اس لیے آپ کی مجلس نہ تو محض ایک عام انسانی نشست تھی اور نہ کسی بادشاہ کا شاہانہ دربار ہوتا۔ وہ مجلسِ نبوت تھی؛ جہاں ادب خود بخود دلوں پر اترتا تھا، خاموشی بھی گفتگو کرتی تھی اور ہر لمحہ تربیت کا پیغام دیتا تھا۔ صحابہ کرامؓ کا ادبِ رسول ﷺ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے جلو میں بیٹھتے تو ان کے دل محبت سے لبریز اور نگاہیں ادب سے جھکی ہوئی…
Read more

