HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیرتِ رسول ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی | حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ

سیرتِ رسولﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ مدرسہ, نور الاسلام, موئی کلاں, کنڈہ, پرتاپگڑھ 9506600725 زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو ہر قدم ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جہاں محض علم کافی نہیں ہوتا، صرف جذبہ کارگر نہیں ہوتا اور محض قوت و طاقت بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی؛ وہاں دور اندیشی، معاملہ فہمی، صبر و تحمل، حکمت و بصیرت فراست و دانش مندی اور حالات کے صحیح ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔   دور اندیشی اور معاملہ فہمی کی اہمیت فرد ہو یا خاندان، جماعت ہو یا معاشرہ، قوم ہو یا ملت، سیاسی معاملات ہوں یا معاشرتی مسائل، قومی مصلحتیں ہوں یا بین الاقوامی تعلقات، حتیٰ کہ میدانِ جنگ ہو یا امن کا ماحول ،ہر جگہ کامیابی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انسان حالات کو صرف سطحی اور جذباتی نگاہ سے نہ دیکھے، بلکہ ان کے پس منظر، نتائج اور دور رس اثرات کو بھی سامنے رکھے۔ دور اندیشی دراصل آنے والے حالات کو موجودہ حالات کی روشنی میں سمجھنے اور تطبیق دینے کا نام ہے، اور معاملہ فہمی یہ ہے کہ مختلف مشکلات ،مسائل ،الجھنوں، جذبات، مصلحتوں اور امکانات کے درمیان صحیح فیصلہ کیا جائے۔ بسا اوقات ایک ایسا فیصلہ جو بظاہر بہت معمولی دکھائی دیتا ہے، مستقبل میں بڑے نتائج پیدا کرتا ہے؛ اور کبھی وقتی طور پر سخت معلوم ہونے والا اقدام کسی بڑے فساد کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ اسی طرح بعض مواقع پر حق بات کہہ دینا بھی کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ حق بات کس وقت، کس انداز، کس زبان اور کس مصلحت کے ساتھ کہی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات اور حکمت، جوش اور ہوش، فوری ردِعمل اور دور رس بصیرت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے بڑے فتنے دشمن کی طاقت سے نہیں، بلکہ اپنوں کی عجلت، جذباتیت، باہمی بداعتمادی، رقابت اور غلط فیصلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ کتنے ہی اختلافات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ابتدا ہی…

Read more

رسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت: تعلیماتِ محمدی کے انقلابی اثرات

در فشانی نے تری قطروں كو دریا كر دیا   🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ قرآن مجید نے آپ ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت قرار دیا ہے : وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الانبیاء : ۱۰۷) اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی انقلاب انگیز تعلیمات پوری انسانیت کے لئے نفع اور خیر و فلاح کی ضامن ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺ کی انقلابی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے ذریعہ آئے ہوئے دین کو اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کریں گے :لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ (التوبۃ : ۳۳) یہ صرف دعویٰ نہیں ہے ؛ بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، آپ کے ذریعہ دنیا میں جو فکری انقلاب آیا اور اس کے نتیجہ میں ترقی اور انصاف کے راستے کھلے ، وہ پیغام محمدی کے غلبہ کی واضح مثال ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺنے جس صالح انقلاب سے دنیا کو بہرہ ور کیا اور آپ ﷺکی صحبت بافیض نے ذرہ کو آفتاب بنادیا ، اکبر اِلٰہ آبادی نے اس کا خوب نقشہ کھینچا ہے :   دُر فشانی نے تری ، قطروں کو دریا کردیا دل کو روشن کردیا ، آنکھوں کو بینا کردیا خود نہ تھے جو راہ پر ، اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا ! یوں تو آپ ﷺکے ذریعہ زندگی کے ہر شعبہ میں دُور رس تبدیلیاں آئیں ؛ لیکن ان میں سے چند پہلوؤں کا ذکر مناسب معلوم ہوتاہے ، ان میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو ’ وحدتِ اِلٰہ ‘ کا تصور دیا ، خدا کو ایک ماننا بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے ؛ لیکن بمقابلہ الحاد و انکار اور شرک و مخلوق پرستی کے یہ ایک انقلابی عقیدہ ہے ، خدا کا انکار انسان کو غیرذمہ دار ، گناہوں کے بارے میں جری اور مادہ پرست بنا دیتا ہے ؛ کیوںکہ اسے جواب دہی کا کوئی خوف نہیں ہوتا ، دنیا اس کے لئے محض عشرت کدۂ حیات ہوتی…

Read more

اہل بیت اور اہل سنت

اہل بیت اور اہل سنت (پہلی قسط) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی     اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے ، اور گناہ کے کاموں میں مددگار بننے سے منع فرمایا ہے : تَعَاوَنُوْا عَلیَ البِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإثمِ وَالعُدْوَان (المائدۃ :۲) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے ؛ کیوں کہ اگر خیر و بھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونا آسان ہو جاتا ہے ، اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے ، دنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے ، ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں ، جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا ، ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں ، انبیاء کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا ؛ کیوں کہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے ، جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا تھا اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی ، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات ، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے ، ان کو اس غلط موقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کے لئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا ، علمی بصیرت ، کردار کی پاکیزگی ، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے ؛ اسی لئے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا بڑا اونچا مقام ہے ۔ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماں بردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے، رسول اللہ ﷺ پر چوں کہ سلسلۂ…

Read more

اخلاق نبوی کی چند جھلکیاں

راست گوئی و دیانتداری آپ کی راست گوئی اور دیانت مکہ میں ضرب المثل تھی ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کہتے تھے ، خود ابو جہل بھی اعتراف کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے نہیں ہیں ، لیکن کہتا تھا کہ جو باتیں آپ پیش کررہے ہیں ، وہ صحیح نہیں ہے ، آپ نے جب بادشاہ روم کو دعوت اسلام کا مکتوب لکھا ، اس وقت ابو سفیان روم ہی میں تھے ، جو اس وقت آپ کے سخت مخالف تھے ، چنانچہ شاہ روم نے ابو سفیان سے آپ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ دعوی نبوت سے پہلے جھوٹ بھی بولتے تھے ؟ ابو سفیان نے کہا : نہیں ، غرض کہ دشمنوں کو بھی آپ کی راست گوئی کا اعتراف تھا ، دیانت داری کا حال یہ تھا کہ دشمن بھی اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھواتے تھے ، چنانچہ جب آپ نے ہجرت فرمائی تو اہل مکہ کی بہت سی امانتیں آپ کے پاس تھیں جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کے حوالے کرکے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سچ بولنے اور دیانت داری کو قائم رکھنے کی خاص طور پر تاکید کرتے تھے ، ایک موقع پر ارشاد فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو تو میں تم کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، بات کرو تو سچ بولو ، وعدہ کرو تو پورا کرو ، تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو دیانت کے ساتھ واپس کرو ، اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کرو نگاہوں کو پست رکھو یعنی غیر محرم عورتوں پر نظر نہ جماؤ اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ، یعنی ظلم نہ کرو۔ ایفاء عہد کا آپ کو بڑا لحاظ تھا صلح حدیبیہ میں جو شرطیں طے پائیں ، آپ ان پر سختی سے قائم رہے ، بعض مظلوم مسلمانوں کی قابل رحم حالت دیکھ کر بھی وعدہ خلافی کرنا گوارہ نہ کیا ، غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں کے مقابلہ ایک تہائی سے…

Read more

💎 *پیغمبر اسلام ﷺ کا احترام قرآن وحدیث کے آئینے میں:*

*يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النبي*( حجرات : ۲) نبی کی آواز سے تمہاری آواز بھی بلند نہ ہو، صحابۂ کرام کو یہ فرمایا، اس کے بعد کیا حال ہوا؟ حضرت عمر جیسے صحابی جن کی آواز بلند تھی اور حضرت ثابت بن قیس جن کی آواز بھی طبعی طور پر بلند تھی، یہ اتنا آہستہ بولنے لگے کہ آپ کو پوچھنا پڑا کہ عمر تم کیا کہہ رہے ہو؟ اور دوسرے صحابی تو اپنے گھر میں ہی بیٹھ گئے اور یہ آیت سن کر وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا ، *إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللهِ أُولَبِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى* (حجرات: ۳) اللہ پاک نے ان کا امتحان لیا، اور آپ ﷺ کا ادب قرآن نے بتلایا، دوسری آیت میں فرمایا : لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ( نور:۲۳ ) تم آپس میں ایک دوسرے کو جیسے پکارتے ہو تو اللہ کے نبی کو اس طرح نہیں پکارا جائے گا ، نماز میں ہو اور اگر اللہ کے رسول ﷺ بلائے، تو نماز توڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری ہے، قرآن کریم کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے نبی جب تمہیں بلائے *لما یحییکم* (انفال: ۲۴) جس میں تمہاری زندگی ہے۔ آپ ﷺ کے ایک صحابی ہے، آپ ﷺ نے ان کو آواز لگائی، وہ نماز میں تھے، انہوں نے نماز کے بعد حاضری دی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں؟ میں نے تمہیں بلایا، کہا کہ اللہ کے رسول! میں نماز میں تھا،فرمایا اللہ کا حکم ہے کہ نماز توڑ کر میرے سامنے حاضر ہو جایا کرو ؛ (بخاری: کتاب فضائل القرآن، باب فضل فاتحة الكتاب، ترمذى: أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل فاتحة الكتاب) مطلب یہ ہے کہ اب میں جس چیز کے لئے بلاتا ہوں تو یقینا وہ تمہارے لئے افضل اور بڑی چیز ہے، یہ آپ ﷺ کا ادب اور احترام اور آپ ﷺ کے سلسلہ میں قرآن کریم کی آیات میں ہمیں فرمایا گیا۔…

Read more

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور حلم و بردباری

             کئی مرتبہ لوگوں کی طرف سے شرارتیں ہوئیں، یا کسی کی طرف سے کوئی بات ایسی نکلی جو آپ ﷺ کی شان کے خلاف ہو، جب صحابۂ کرام کو پتا چلا، حضرت عمرؓ، حضرت خالد بن ولید ، کئی قصے ان بزرگوں کے مشہور ہیں کہ فوراً عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ فرمائیں تو ہم ان کے ساتھ یہ سلوک کریں، آپ نے منع فرمایا، اللہ پاک نے فرمایا *”إِنَّكَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِيمٍ“* (قلم :۴) آپ اخلاق کے بالکل اوپر کے معیار پر ہیں، آپ کے برابر اخلاق کسی کے نہیں ہو سکتے، اور اسی لئے آپ نے فرمایا: *”إنما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق“* (مجمع الزوائد:۱۸/۹،باب ماجاء فی حسن خلقه) میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کے جو اعلیٰ کردار اور اعلیٰ کریکٹر ہیں ان کو میں مکمل کروں، دوسرے انبیاء کرام بھی اخلاق کو ذکر فرمار ہے ہیں، لیکن آپ ﷺ کے ذریعہ اخلاق کی تکمیل فرمائی۔        جناب نبی اکرم ﷺ کے یہ اخلاق تھے کہ آپ کے پاس آکر یہودیوں نے شرارت کی، *السام عليك* کہا ، سام کا معنی ہلاکت اور بربادی، سلام کے بجائے سام کہا، آپ ﷺ نے ایک ہی جملہ فرما دیا: *وعلیکم*، حضرت عائشہ نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ  یہ آپ کے لئے برے جملے استعمال کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ میں نے بھی تو ایک جملہ کہہ دیا ہے، (بخاری:کتاب الأدب، باب الرفق في الأمر كله) تم نے مجھے ہلاکت کی دعا دی، میں نے *و علیکم* کہا، سلام کرتے تو تمہیں سلام ملتی، علیکم کا معنی تم پر، تو تمہارے او پر وہی چیز ہو جو تم نے مجھے کہی، اتنے پر آپ ﷺ  نے صبر کیا۔        مال غنیمت تقسیم کر رہے ہیں، ایک صاحب آکر ز بر دستی یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے مال غنیمت میں سے حصہ دو جو اللہ نے آپ کو دیا، جبکہ آپ ﷺ مشغول تھے بانٹنے میں، چادر سے کھینچا، پھر بھی ہنستے ہنستے آپ ﷺ نے اس کو دے دیا ، (بخاری:کتاب فرض الخمس،باب ما كان النبي ﷺ يعطى المؤلفة…

Read more