HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دس محرم کا روزہ کیوں ؟

*10دس محرم کا روزہ کیوں؟* *ثواب اور آداب* 1️⃣ مدینہ منورہ آمد پر رسول اللہ ﷺ نے یہود کو عاشورا کا روزہ رکھتے دیکھا کیونکہ اس دن فرعون غرق ہوا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ: 1734) 2️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162) 3️⃣ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ آئندہ سال ہم 9 محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134) 4️⃣ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عاشورہ کے علاوہ کسی دن اور رمضان کے سوا کسی مہینے کو افضل سمجھ کر روزے کا خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: 2006)    

Read more

انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ

انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ   باہر سے غذا یا دوا کی صورت میں کسی چیز کا اندر جانا ناقض وضو نہیں انجکشن پر جسم کا تھوڑا سا خون لگا رہتا ہے ۔ اس مقدار میں خون کا باہر آنا بھی ناقص نہیں ہے ، اس لئے کہ وہ اتنی کم مقدار میں ہوتا ہے کہ بہہ نہیں سکتا۔ چنانچہ فقہا ہیں کہ اگر جسم سے خون نکلے ، اسے پونچھ دیا جائے اور اس کی مقدار اتنی کم کو پونچھا جاتا تو بھی بہہ نہیں سکتا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ، ثم خرج ايضا و مسحه فان كان الدم بحال لوترك ماقد مسح منه مسال انتقض وضوءه ، وان كان لا يسيل لا ينتقض وصوه – ) جب زخم سے تھوڑا سا خون نکلے ، پھر اسے پونچھ ڈالے پھر   دوبارہ خون کے اور اسے بھی پونچھ ڈالے ، تو اگر مجموعی طور پر خون کی مقدار اتنی ہو کر پونچھا ہوا خون چھوڑ دینے کی صورت میں بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔ ہاں اگر انجکشن کا منشا ہی خون لگانا اور کھینچنا ہو تو اس کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور اس کی نظیر فقہ کا یہ جزئیہ ہے کہ : القراد اذا مص عضو انسان فامتلا دما ان كان صغيرا لا ينقض وضوء كما مصت الذباب او البعوض كان كان كبير اينقض وكذا العلقة اذا مص عضو انسان حتى امتلات من دمه انتقض الوضوء – ) چیچڑی جب کسی آدمی کا عضو چوس لے اور خون سے بھر جائے تو اگر وہ چھوٹا ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے مچھر مکھیاں وغیرہ اور اگر بڑا ہو تو ٹوٹ جائے گا ، اسی طرح جونک جب آدمی کا عضو چوسے یہاں تک کہ خون سے بھر جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ حوالہ  کتاب: جدید فقہی مسائل  صفحہ: 91  جلد : 1  مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ     غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

Read more

صفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیر

صفاانسٹی ٹیوٹ کےزیراہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیر پروفیسرمحمد نصیب،پروفیسرمحمدزبیر،معروف صحافی ڈاکٹرمحمد اشفاق،تعلیمی کائونسلرعذراجیلانی،اورپروفیسرمسعودعالم فلاحی کی تربیتی خطابات لکھنو(10،اگست) میڈیا کی اہمیت اورافادیت سے زیادہ اس سے واقفیت اہم ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 21 ویں صدی میں انسانی دنیا کو جن مہارتوں کی ضرورت ہوگی ان میں ایک میڈیا (جرنلسٹ اسکل) بھی ہے۔ لہٰذا میڈیا سے دوری بنانے کے بجائے اس کو سمجھنے ، اپنانے اوراس کی اخلاقی و قانونی شرائط و پابندی کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دور حاضر میں میڈیا مختلف شکلوںمیںموجود ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے منفی کردار سے بچتے ہوئے مثبت استعمال کیا جائے ۔  ان خیالات کا اظہار صفا انسٹی ٹیوٹ فارمیڈیالٹریسی اینڈ جرنلزم کے تحت ہوئے ایک روزہ ورکشاپ میں مقررین نے کیا۔خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرمسعودعالم فلاحی کی صدارت میں دارالقرآن شاہن پہیا کاکور ی میں اس ورکشاپ کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں چار درجن کے قریب خواہشمند طلبہ نے رجسٹریشن کے بعد شرکت کی۔  کئی نشستوں پر مشتمل ورکشاپ میں خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی سے شعبہ ترسیل عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نصیب نے سورہ نباکے حوالے سے طلبہ کو تربیت دی۔ انٹگرل  یونیورسٹی کے شعبہ ماس کام کے ڈاکٹر محمد زبیر نے کہاکہ میڈیا کا مطلب ہے اطلاعات فراہم کرینا، اب ہم کسی خبر کے لیے دوسرے دن اخبار کے منتظر نہیں رہتے بلکہ وہ باتیںچند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک سوشل میڈیا کے توسط سے پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کو اب اپنی شناخت، صحیح بات پہنچانے اور آمدنی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے کہاکہ زندگی کے مسائل پیچیدگی کا شکار ہیں۔ منصوبہ بند طریقہ سے انسانی قدروں کو پامال کیا جارہا ہے۔ سوتی ہوئی انسانیت کا جگانے کے لیے ہمیں وہ تمام ذرائع استعمال کرنا چاہئے ان میں میڈیا بھی ہے۔  سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر محمد اشفاق نے کہاکہ ہر شعبہ میں قوانین و حدود ہوتے ہیں میڈیا میں بھی لیکن دوسرے شعبوں کی مناسبت میڈیا کو کچھ…

Read more

تلاوت و تدبر

تلاوت و تدبر آدم علی ندوی مدرسۃ العلوم الاسلامیہ، علی گڑھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کتب خانہ میں سب سے بنیادی اور اہم کتاب قرآن مجید تھی، اسی کی تلاوت و تدبر نے ان کو دنیا و آخرت دونوں جہان کی کامیابی سے ہمکنار کیا، اسی قرآن نے ان کو علم کی اس چوٹی پر پہنچا دیا کہ وہ میدانِ علم کے امام قرار پائے، انہیں آیات قرآنیہ کی تعلیمات نے ان کو اخلاق کی اس بلندی پر فائز کر دیا کہ شمس و قمر بھی رشک کرنے لگے، اسی کی پاکیزہ تعلیمات نے ان میں وہ قوت وعزیمت اور ایمانی طاقت پیدا کر دی کہ قیصر و کسریٰ کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔ قرآن نے ان امیوں کو قرّاء اور علماء بنا دیا، گلہ بانی کرنے والوں کو خیرِ امت اور ہادی و رہبر بنا دیا، صحرائے عرب کے گمنام و خانہ بدوشوں کو متمدن دنیا کے لیے ہیرو و اسوہ بنا دیا۔ صحیح لفظوں میں یوں کہیں: جو مردہ تھے، قرآن نے ان کو زندگی بخش دی، ان میں وہ روح پھونک دی کہ وہ صرف خود زندہ نہ ہوئے بلکہ مسیحا بن گئے۔وَكَذَٰلِكَ أَوْحَتلاو و تدبر يْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا(سورۃ الشوریٰ: ۵۲)ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ہے، ایک روح اپنے امر میں سے۔  ( قرآن روح ہے ! ( تلاوت و تدبر قرآن روح ہے۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی زندگی جس کمیت و کیفیت کے ساتھ اس روح سے وابستہ رہی، اسی اعتبار سے ترقی و کامیابی ان کے قدم چومتی رہی اور وہ دنیا میں زندہ اور متحرک سمجھے گئے۔ کسی کی کیا مجال تھی کہ نظر اٹھا کر دیکھ سکے! لیکن جوں جوں مسلمان اس روح سے یعنی قرآن سے دور ہوتا گیا، اس کی تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کی، وہ لاشۂ بے جان ہو گیا، اس دھرتی پر بوجھ بنتا گیا اور دنیا نے اس کو گیند اور فٹبال کی طرح لڑھکانا شروع کر دیا۔ وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا(سورۃ طٰہٰ: ١٢٤)اور جو میرے ذکر سے…

Read more

قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم

قرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضم از : مولانا ابو الجیش ندوی قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا وہ معجز نما کلام ہے جس کا ہر لفظ بلاغت کا شہکار اور حکمت سے لبریز ہے۔ قرآن نے انسانی عقل، غرور اور باطل معبودوں کی بے بسی کو واضح کرنے کے لیے جہاں بڑی بڑی کائناتی نشانیوں کا ذکر کیا ہے، وہاں انتہائی چھوٹی اور حقیر سمجھی جانے والی مخلوقات کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ انہی میں سے ایک مثال "مکھی” (Dhubab) کی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج میں انسانی عجز اور بے بسی کی علامت کے طور پر پیش فرمایا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ ؕ وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيئًا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ (اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کر سکتے، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اسے اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے، مدد چاہنے والا اور جس سے مدد چاہی جائے دونوں ہی کمزور ہیں!) — [سورۃ الحج: 73] ظاہری طور پر یہ آیت باطل معبودوں اور انسانوں کی بے بسی کی ایک سادہ مثال معلوم ہوتی ہے، لیکن لسانی اور جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں جب اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآنی الفاظ کی حیرت انگیز علمی و سائنسی دلالت آشکار ہوتی ہے۔ 1۔ لسانی اور بلاغتی باریکی عربی زبان اور بلاغتِ قرآنی کے نقطہ نظر سے اس آیت میں دو الفاظ خاص طور پر قابلِ غور ہیں: «يَسْلُبْهُمُ» (سلب کا مفہوم): عربی میں عام چوری کے لیے "سرقہ” کا لفظ آتا ہے، جبکہ "سلب” کا مطلب کسی کے سامنے سے کوئی چیز جھپٹ کر، زبردستی اور اڑا کر لے جانا ہے۔ مکھی کا طریقہ کار بھی یہی ہوتا ہے…

Read more

سرمایہ دار صحابہ کرام

سرمایہ دار صحابۂ کرامؓ مولانا مفتی محمد اعظم ندوی   اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ جن پاکیزہ نفَس لوگوں نے زہد وعبادت اور ایثار وتقویٰ کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں، وہی تجارت، معیشت اور کسب حلال کے میدان میں بھی اپنے عہد کے ممتاز ترین افراد تھے، آج جب صحابۂ کرامؓ کا تذکرہ ہوتا ہے تو عموماً ان کی سادگی اور دنیا سے بے رغبتی کا ذکر نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن ان کی زندگی کا ایک روشن باب، یعنی تجارت، معاشی خود کفالت، خود انحصاری اور عظیم اقتصادی کامیابیاں، بہت کم زیر بحث آتی ہیں۔   حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نہ کبھی مطلق دولت کی مذمت کی اور نہ خوش حالی کو روحانیت کے منافی قرار دیا، اسلام نے ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کی مذمت کی ہے، جبکہ محنت، تجارت، دیانت اور حلال کمائی کو عزت وشرف کا ذریعہ بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہؓ نے مسجد میں عبادت بھی کی، میدانِ جہاد میں قربانیاں بھی دیں اور بازار میں دیانت دار تاجر بن کر معاشی تاریخ بھی رقم کی۔   حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وہ خوش نصیب صحابہ ہیں جو ایک طرف عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں اور دوسری طرف اپنے زمانے کے بڑے اہلِ ثروت بھی تھے، اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت عبداللہ بن عامر بن کریزؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت یعلیٰ بن امیہؓ اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہؓ بھی ان صحابہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے حلال ذرائع سے غیر معمولی خوش حالی حاصل کی۔ ان سب میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی داستان سب سے زیادہ حیران کن ہے، مدینہ پہنچے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا، حضرت سعد بن ربیعؓ نے آدھی جائیداد پیش کی، مگر انہوں نے فرمایا: "مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجیے”، چند برسوں میں وہ…

Read more