HIRA ONLINE / حرا آن لائن
چین و سکون کا فقدان اور اس کا ازالہ | ذہنی و قلبی سکون کیسے حاصل کریں؟

چین وسکون کا فقدان اور اس کا ازالہ از : پروفیسر مرزا محمد سفیان بیگ دور حاضر کا ایک سنگین مسئلہ ذہنی و قلبی سکون کا فقدان ہے۔ حضرت انسان نے اپنے گرد و پیش پر اپنی محنت و صلاحیت کو صرف کر کے مادی اعتبار سے بے پناہ ترقی کر لی۔ وہ ہواؤں میں اڑنے لگا بلکہ فضاؤں کو بھی عبور کر لیا۔ سمندر کا سینہ چاک کر کے زیر آب بھی پہنچ گیا۔ اپنے مسکن بہت آرام دہ بنا لئے ۔ ایک سے ایک سواریاں ایجاد کیں، جس میں خود سے چلنے والی کاریں بھی شامل ہیں۔ عیش پرستی سے بھر پور دفاتر ، بازار اور سیر گاہیں بنا ڈالیں ۔ لیکن اپنی ذات پر محنت کی کمی کی وجہ سے دینی وقلبی سکون سے محروم ہو گیا۔ بستر آرام دہ، لیکن نیندیں غائب ہو گئیں۔ دفاتر ائیر کنڈیشنڈ ، لیکن بلڈ پریشر کا باعث بن گئے ۔ ہوٹل میں عیش پرستی کے سارے اسباب مہیا ، لیکن ذیا بیطیس جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بن گئے ۔ نیند کی گولیاں ٹنوں میں بکنے لگیں۔ جب اس کے استعمال سے نیند نہ آئی تو سگریٹ اور شراب نوشی کا سہارا لیا۔ جب وہ بھی اطمینان نہ دلا سکے تو منشیات کا سہار الیا اور پھر آخری قدم یعنی خودکشی کی طرف روز افزوں رحجان بڑھتا چلا گیا ۔ افسوس صد افسوس۔ کسی نے کیا خوب کہا اگر دنیا کی چیزوں میں راحت و آرام ہوتا تو سب سے زیادہ خودکشی افریقہ کے غریب ممالک میں ہوتی ۔ لیکن تجربہ شاہد ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ خود کشی کی شرح پائی جارہی ہے۔ میرا سفر سین فرانسکو کے شہر میں ہوا جو کہ سیلیکان ویلی کی وجہ سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ علاقہ مانا جاتا ہے۔ کمپیوٹر کی بڑی بڑی کمپنیاں جیسے گوگل ، فیس بک ، ایڈوبی وغیرہ وہاں موجود ہیں۔ خود سے چلنے والی ٹیسلا کار کا پلانٹ وہاں نصب ہے۔ گویا اس علاقے میں سونا برستا ہے۔ لیکن وہاں کے میٹرو اسٹیشن پر میں نے اپنی آنکھوں…

Read more

دعا اور تدبیر: دعا کی اہمیت، آداب اور قبولیت کے اوقات

دعا مومن کا سہارا اور عظیم عبادت ہے۔ اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دعا کی اہمیت، آداب، قبولیت کے اوقات، قبولیت کے اسباب اور دعا و تدبیر کے صحیح تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔

Read more

حوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکم

حوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکم گھروں میں استعمال ہونے والے چھوٹے حوض، پانی کی ٹنکیاں اور دیگر ذخائرِ آب میں کبھی کبھار نجاست گر جانے کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹنکی کا پانی پاک رہے گا یا ناپاک ہوجائے گا؟ اگر پانی ناپاک ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے پانی کی دو بنیادی قسمیں اور فقہائے احناف کے مقرر کردہ اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔ پانی کی بنیادی دو قسمیں فقہ کی کتابوں میں پانی کی بنیادی طور پر دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں: پانیِ جاری: جو مسلسل بہہ رہا ہو۔ پانیِ راکد: جو ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہو۔ راکد پانی کی بھی دو صورتیں ہیں: کثیر اور قلیل۔ قلیل پانی کا حکم اگر ٹھہرا ہوا پانی کم مقدار میں ہو تو اس میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے، خواہ نجاست کی وجہ سے پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ کثیر پانی کا حکم اگر پانی کثیر مقدار میں ہو تو محض نجاست کے گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ناپاک ہوگا جب نجاست کی وجہ سے پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں تبدیلی پیدا ہوجائے۔ کثیر پانی کی مقدار کتنی ہے؟ پانی کی مقدار کو متعین کرنے کے لیے فقہائے احناف نے ایک واضح معیار بیان کیا ہے۔ ایسا حوض جس کی لمبائی اور چوڑائی تقریباً دس ہاتھ کے برابر ہو، اسے کثیر پانی کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ فقہی اصطلاح میں اسے دَہْ دَر دَہْ کہا جاتا ہے۔ لہٰذا جو حوض یا ٹنکی اس مقدار کی ہو، اس میں محض نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا، جب تک نجاست کی وجہ سے پانی کے اوصاف میں تبدیلی نہ آئے۔ پانی کی ٹنکی میں نجاست گر جائے تو کیا حکم ہے؟ گھروں میں استعمال ہونے والی پانی کی ٹنکی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، اس…

Read more

اسلام، تصور آزادی کا معیار

اسلام ، تصورِ آزادی كا معمار 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ آج کل شہروں میں چڑیا خانے (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں ، ان چڑیا خانوں کی تزئین و آرائش اور حفاظت و صیانت پر بہت بڑی رقم خرچ ہوتی ہے ، پورا چڑیا خانہ رنگ برنگ کے خوب صورت اور مہکتے ہوئے پھولوں ، لمبے ہرے بھرے درختوں اور پانی کی چھوٹی چھوٹی جھیلوں کی وجہ سے خوش منظر بنا رہتا ہے ، پھر انواع و اقسام کے حیوانات اور پرندوں کے لئے الگ الگ احاطے بنے ہوتے ہیں ، جانوروں کی دیکھ بھال اور آسائش کا جو انتظام ان چڑیا خانوں میں ہوتا ہے ، یقیناً وہ ان کو جنگلات میں بھی میسر نہیں ، اپنی غذا کے لئے نہ ان کو شکار تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ چارہ ڈھونڈھ نے کی حاجت ؛ بلکہ خود چڑیا خانہ کا عملہ ان کی غذائی ضروریات وقت پر اور فراوانی کے ساتھ فراہم کرتا ہے ، حفظانِ صحت کی جو رعایت یہاں کی جاتی ہے ، جنگلات میں ان کا میسر آنا ممکن نہیں ، باضابطہ ڈاکٹر اور معالج متعین ہیں ؛ بلکہ ان کے علاج کی اتنی فکر کی جاتی ہے کہ انسانوں کے لئے بھی اتنی فکر نہیں کی جاتی ، جانوروں کی حفاظت و صیانت کا بھی اعلیٰ درجہ کا نظام موجود ہے ، نہ کسی جانور کو اس کا خطرہ ہے کہ اس سے زیادہ طاقت ور جانور اسے اپنی خوراک بنا لے گا ، نہ شکاریوں سے کوئی خوف ہے ، غرض حیوانات کی ضروریات کی تکمیل اور ان کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو چڑیا خانے ان کے لئے ایسی راحت گاہ ہیں کہ انسانوں کو بھی ایسی سہولت و آسائش میسر نہیں ۔ لیکن اگر کسی شخص کو جانور کی زبان آتی ، وہ ان سے ہم کلام ہو سکتا اور ان جانوروں سے ان کی دلی آرزو اور سب سے پیاری خواہش کے بارے میں سوال کرتا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوتا کہ خدارا مجھے اس خوب صورت آراستہ و…

Read more

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ   از : مولانا ابو الجیش ندوی  ہم میں سے اکثر لوگ ہر ہفتے کے اختتام پر سورة الکہف کی تلاوت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس سورت میں موجود نہی یعنی منع کرنے والے دس ‘لا’ پر غور کیا ہے؟ یہ دس انکار آپ کو تدبر کی ایک نئی راہ دکھائیں گے۔ آئیے، ذرا ٹھہر کر اور اطمینان سے ان الہیٰ ارشادات پر غور کرتے ہیں۔ پہلا ‘لا’ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا لوگوں سے گفتگو اور بحث کے دوران خود کو کامل سچائی کا واحد مالک نہ سمجھیں اور نہ ہی لاحاصل تکرار میں اپنا وقت ضائع کریں۔ دوسرا ‘لا’ وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا جو مسائل آپ کے لیے الجھن کا باعث ہوں، ان میں ایسے شخص سے رہنمائی یا فتویٰ نہ طلب کریں جو معاملے کی حقیقت سے ناواقف ہو یا حق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہو۔ تیسرا ‘لا’ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا ۝ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ آئندہ کی منصوبہ بندی کرتے وقت کبھی بھی خود سے یا کسی دوسرے سے ان شاء اللہ کہے بغیر کوئی حتمی وعدہ نہ کریں۔ چوتھا ‘لا’ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا نیک اور صالح لوگوں کی صحبت میسر ہو تو دنیاوی چمک دمک کی خاطر ان سے اپنی توجہ ہرگز نہ ہٹائیں۔ پانچواں ‘لا’ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ہر اس رشتے اور چیز سے فاصلہ اختیار کریں جو آپ کو اللہ سے دور کرے۔ اس شخص کی ہرگز پیروی نہ کریں جس کا دل یادِ خدا سے غافل ہو چکا ہو، جو اپنی نفسانی خواہشات کا غلام بن گیا ہو اور جس کا ہر قدم تباہی کی طرف اٹھتا ہو۔ چھٹا ‘لا’ فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا معلومات حاصل کرنے اور چیزوں کی تہہ تک پہنچنے کے شوق میں، جب تک بات پوری طرح کھل کر سامنے نہ آ جائے، سوال کرنے میں جلدی نہ کریں۔ ساتواں ‘لا’ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ یاد رکھیں…

Read more

غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

 (26 ) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم بالوں کے مصنوعی جوڑے جو ہمارے زمانے میں عورتیں بکثرت استعمال کرنے لگی ہیں ، اور جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اگر ان کو باندھ ہی لیں تو سوال یہ ہے کہ وضو و غسل میں ان کا کیا حکم ہوگا ؟ چوں کہ یہ بال اس کے جسم کا حصہ نہیں ہیں ، نہ کسی ضرورت کی بناء پر لگائے گئے ہیں اور نہ ان کا نکالنا چنداں دشوار ہے ۔ اس لئے اس کی حیثیت ایک خارجی چیز کی ہوگی۔ غسل میں تو یوں بھی عورتوں کے لئے بال کی جڑوں تک پانی پہنچانا کافی ہے بال دھونا ضروری نہیں۔ وليس على المراة ان تنقض ضفائرها في الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر – وضو میں بھی ان کی حیثیت یہی ہوگی ۔ مثلا اگر کوئی خاتون اس طرح سر کا مسح کرے کہ صرف مصنوعی بالوں کے حصہ پر مسح ہو اور اصلی بالوں پر کم از کم چو تھائی سر کے مقدار بھی مسح نہ ہو پائے تو کافی نہ ہو گا۔ ان کو اپنے اصل بالوں پر مسح کرنا چاہئے۔   غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم حوالہ :  کتاب : جدید فقہی مسائل  صفحہ: 100  جلد : 1  کتب خانہ نعیمیہ دیوبند 

Read more