ارتداد کا سدِّ باب: اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟

از: قاضی محمد حسن ندوی

 

اس وقت امتِ مسلمہ دو طرح کے فتنوں سے دوچار ہے: ایک خارجی فتنہ اور دوسرا داخلی فتنہ۔ خارجی فتنوں کا مقابلہ تو مسلمان کسی نہ کسی درجے میں کرتے رہتے ہیں، لیکن داخلی فتنہ اس اعتبار سے زیادہ سنگین ہے کہ اس کے اثرات مسلم معاشرے کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں۔ عقیدہ، معاملات، اخلاق اور دینی شعور میں کمزوری جس طرح عام ہوتی جارہی ہے، وہ نسلِ نو کے لیے انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔

آج بعض مسلم نوجوان، خصوصاً ہماری مسلم بچیاں، اپنی سب سے بڑی ایمانی نعمت سے محروم ہوکر الحاد، ارتداد اور فکری گمراہی کا شکار ہورہی ہیں۔ اس صورتِ حال کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں دینی تربیت کا فقدان ایک اہم سبب ہے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور ان فتنوں کے سدِّ باب کے لیے صرف تعلیم پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ تعلیم کے ساتھ دینی تربیت، اخلاقی تربیت اور تزکیۂ نفس پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

ارتداد کا سدِّ باب: اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟
ارتداد کا سدِّ باب: اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کیوں ضروری ہے؟

تعلیم کے ساتھ تربیت کیوں ضروری ہے؟

نسلِ نو کی ترقی میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی بنیادی کردار ہے۔ تعلیم انسان کو علم فراہم کرتی ہے، جبکہ تربیت اس علم کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے۔

اس اعتبار سے تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ جو والدین اپنی اولاد کی تعلیم کے ساتھ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت کا بھی اہتمام کرتے ہیں، ان کے بچے نہ صرف دنیاوی اعتبار سے بہتر مستقبل حاصل کرسکتے ہیں بلکہ دین و ملت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر والدین صرف اعلیٰ تعلیم، ڈگری، ملازمت اور دنیاوی ترقی کو کامیابی کا معیار سمجھیں اور دینی تربیت، اخلاق اور ایمان کی حفاظت سے غفلت برتیں تو بعض اوقات یہی تعلیم اولاد کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ اپنے دین، عقیدے، اخلاق اور اسلامی تہذیب سے بھی مضبوطی سے وابستہ رکھا جائے۔

الحاد و ارتداد کے بڑھتے ہوئے فتنوں کا سدِّ باب

آج الحاد اور ارتداد کے فتنوں کے حوالے سے مختلف واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صرف تعلیمی ترقی نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت کی ضمانت نہیں ہے۔

اگر بچے کو سوال کرنے، سوچنے اور مختلف نظریات سے واقف ہونے کا موقع ملے، لیکن اسے اپنے دین کا بنیادی علم، عقیدۂ توحید، اسلامی اخلاق اور دینی شعور نہ دیا جائے تو وہ مختلف فکری شبہات سے متاثر ہوسکتا ہے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ذہن میں دین کو صرف چند رسوم و عبادات کے طور پر نہ پیش کریں، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید، رسالت، آخرت اور اسلامی اخلاق کی بنیادی تعلیم بھی دیں۔

اولاد کی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے

والدین کو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اولاد صرف دنیاوی زندگی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے۔ جس طرح انسان سے اپنی دیگر ذمہ داریوں کے بارے میں سوال ہوگا، اسی طرح اپنی اولاد کی تربیت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

(بخاری)

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی جسمانی ضروریات اور تعلیمی ترقی کے ساتھ ان کے ایمان، اخلاق اور دینی تربیت کا بھی اہتمام کریں۔

1. نومولود کے کان میں اذان دینا

بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دینی ماحول کی ابتدا ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہو، یہ ایک بابرکت عمل ہے۔ نومولود کے کان میں اذان دینے کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ اس کے کان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور توحید کے کلمات پہنچیں۔

بچے کا دل نرم اور متاثر ہونے والا ہوتا ہے۔ اس لیے ابتدائی عمر ہی سے اس کے ماحول کو دینی اور پاکیزہ بنانا چاہیے۔

اسی طرح کسی نیک شخص سے تحنیک کرانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، یعنی کھجور یا کسی میٹھی چیز کو چبا کر اس کا کچھ حصہ بچے کے منہ میں لگایا جائے۔ یہ سنتِ نبوی سے ثابت عمل ہے۔

2. بچوں کے اچھے نام رکھنا

اولاد کی اسلامی تربیت کا آغاز اچھے نام سے بھی ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ایسے نام رکھیں جن کے اچھے معانی ہوں اور جو اسلامی تہذیب و دینی شناخت سے مناسبت رکھتے ہوں۔

انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صالحین کے ناموں پر نام رکھنا بھی ایک اچھا طریقہ ہے۔

بچے کا نام اس کی شناخت کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے والدین کو نام رکھتے وقت اس کے معنی اور شرعی حیثیت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

3. عقیقہ اور اسلامی شعائر کا اہتمام

اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہو تو بچے کی پیدائش کے بعد عقیقہ کا بھی اہتمام کیا جائے۔ احادیث میں عقیقہ کی ترغیب اور اس کے احکام بیان ہوئے ہیں۔

لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنے کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔

ایسے اسلامی شعائر بچے کے گھرانے میں دینی ماحول پیدا کرنے اور اسلامی شناخت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

4. بچپن ہی سے دینی باتیں سکھانا

جب بچہ بولنے اور سمجھنے کے قابل ہوجائے تو اسے اچھی اور پاکیزہ باتیں سکھانی چاہئیں۔ کوشش کی جائے کہ اس کی زبان پر اللہ تعالیٰ کا نام، کلمہ، مسنون دعائیں اور اچھی باتیں آئیں۔

بچوں کو کہانیوں اور قصوں میں خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے اس شوق کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔

انہیں انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صالحین کے واقعات سنائے جائیں۔ اس سے بچوں کے اندر دین سے محبت، سچائی، صبر، شجاعت، امانت اور حسنِ اخلاق جیسے اوصاف پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

5. بچوں کو نماز کی تربیت دینا

بچوں کی دینی تربیت میں نماز کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کو سات سال کی عمر سے نماز کا حکم دینے کی تعلیم دی ہے۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو وضو کا طریقہ سکھائیں، انہیں اپنے ساتھ نماز کے لیے لے جائیں اور رفتہ رفتہ نماز کے اذکار اور ضروری قراءت یاد کرائیں۔

نماز کو بچوں کے لیے بوجھ بنانے کے بجائے محبت اور شوق کے ساتھ ان کی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ والدین خود نماز کے پابند ہوں، کیونکہ بچے والدین کے عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

6. بچوں کے لباس اور حیا کی تربیت

بچوں کو بچپن ہی سے اسلامی آداب اور حیا کی تعلیم دینی چاہیے۔ لباس ایسا ہو جو اسلامی اصولوں کے مطابق باوقار اور ساتر ہو۔

خاص طور پر جب بچے بڑے ہونے لگیں تو والدین کو لباس، حجاب، پردہ اور حیا کے مسائل کی مناسب انداز میں تعلیم دینی چاہیے۔

یہ بات صرف لڑکیوں تک محدود نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی لباس، نگاہ، گفتگو اور معاشرتی آداب کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

بچپن میں جو عادات پختہ ہوجاتی ہیں، وہ بڑی عمر میں بھی انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لیے حیا اور پاکیزگی کی تربیت ابتدا ہی سے ہونی چاہیے۔

7. عقیدۂ توحید بچوں کے دل میں راسخ کرنا

ارتداد اور فکری گمراہی سے بچاؤ کے لیے سب سے بنیادی چیز عقیدۂ توحید ہے۔

بچوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک اور حقیقی حاکم ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت سے ہوتا ہے۔ وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

البتہ بچوں کو عقیدہ سمجھاتے وقت ان کی عمر اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا جائے۔ مشکل فلسفیانہ بحثوں کے بجائے آسان مثالوں اور روزمرہ کی باتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور توحید کا شعور پیدا کیا جائے۔

8. بچوں کے سوالات کا اطمینان سے جواب دینا

آج کے دور میں بچے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، تعلیمی اداروں اور مختلف ذرائع سے بے شمار نظریات سنتے اور دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے ذہن میں دین سے متعلق مختلف سوالات پیدا ہوں۔

والدین کو چاہیے کہ بچے کے سوال پر ناراض ہونے کے بجائے اسے توجہ سے سنیں۔ اگر جواب معلوم نہ ہو تو کسی مستند عالمِ دین سے رہنمائی حاصل کریں۔

بچے کے سوالات کو دبانے کے بجائے علم، حکمت اور محبت کے ساتھ جواب دینا ضروری ہے۔ اس سے بچے کے اندر اپنے دین کے بارے میں اعتماد پیدا ہوگا اور وہ اپنے شبہات کے حل کے لیے والدین اور اہلِ علم کی طرف رجوع کرے گا۔

9. والدین خود عملی نمونہ بنیں

اولاد کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں ہوتی بلکہ والدین کے عمل سے بھی ہوتی ہے۔

اگر والدین بچوں کو نماز کی تلقین کریں لیکن خود نماز میں سستی کریں، سچائی کی تعلیم دیں لیکن گھر میں جھوٹ بولیں، حیا کی تلقین کریں لیکن خود اس کا اہتمام نہ کریں تو بچے کے ذہن پر نصیحت کا وہ اثر نہیں ہوگا جو عملی نمونے کا ہوتا ہے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو بھی اولاد کے لیے نمونہ بنائیں۔

10. گھر میں دینی ماحول پیدا کریں

بچوں کی دینی تربیت کے لیے گھر کا ماحول انتہائی اہم ہے۔ گھر میں قرآن کریم کی تلاوت، نماز کی پابندی، دینی گفتگو، اسلامی کتابوں کا مطالعہ اور باہمی احترام کا ماحول ہو تو اس کے اثرات بچوں کی شخصیت پر بھی پڑتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کے لیے مناسب دینی کتابیں منتخب کریں، ان کے ساتھ قرآن کا ترجمہ پڑھیں، اسلامی واقعات سنائیں اور وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو کریں۔

نتیجہ

ارتداد اور الحاد کے فتنوں سے نسلِ نو کی حفاظت صرف کسی ایک ادارے یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ والدین، اساتذہ، علماء اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تعلیم کافی نہیں؛ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔ بچوں کو دنیاوی علوم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ان کے ایمان، عقیدے، اخلاق، حیا اور اسلامی شناخت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔

اگر والدین ابتدا ہی سے اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور توحید کا یقین پیدا کریں، نماز اور اسلامی آداب کی عادت ڈالیں، ان کے سوالات کا حکمت سے جواب دیں اور خود اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کریں تو نسلِ نو کو الحاد، ارتداد اور اخلاقی گمراہی کے بہت سے فتنوں سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس لیے آج کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ تربیت، علم کے ساتھ عمل اور دنیاوی ترقی کے ساتھ دینی و اخلاقی اصلاح کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ یہی مضبوط ایمان اور صالح معاشرے کی تعمیر کی بنیاد ہے۔


کینسر سے زیادہ خطرناک ارتداد


الحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سے