HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

 (25) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیم ٹرین ، بس وغیرہ کی دیواریں عموما لکڑی ، لوہے یا پلاسٹک کی ہوتی ہیں ، ان پر تیم کرنا درست نہیں ہے ۔ البتہ عموما سفر کے دوران ان پر گرد و غبار جم جاتا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں گردو غبار پر بھی تیم کیا جاسکتا ہے : ويجوز التيمم عنه ابي حنيفة و محمد بكل ماكان من جنس الارض من التراب والرمل والحجر والجص و كذا يجوز بالغبار اگر ٹرین پر اس طرح گرد و غبار ہو تو تیمم کیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم حوالہ:  کتاب : جدید فقہی مسائل  جلد : 1  صفحہ : 98

Read more

آزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخ

آزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔ مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725   *ماضی* قریب کے مشہور اور جید عالم دین ،متعدد علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف و مترجم اور بے مثال خطیب حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رح کے صاحبزادے مولانا انظر شاہ کشمیری رح نے ۲۶/ جنوری ۱۹۷۵ء میں *جنگ آزادی میں علماء اور مسلمانوں کا مثالی کردار* اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام کے نظریئہ آزادی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ : *دوستو! میرا دعویٰ ہے کہ اسلام حریت پسندی اور آزادی کا سب سے بڑا داعی اور آزادی کا سب سے بڑا علمبردار ہے ۔ لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ اس آزادی اور حریت سے اباحت پسندی کی وہ غلاظت مراد نہیں ہے جس کے تعفن سے انسانیت کے دل و دماغ پھٹے جاتے ہیں، وہ اباحت پسندی نہیں، جو انسان کو حیوان ،متمدن کو جانور بنانے کی ٹھیکہ دار ہو،جس میں حلال و حرام کی تمیز نہ ہو ،جائز اور ناجائز کے فروق کو ختم کر دئے جائیں، نہیں نہیں ۔۔ اسلام جیسا صحیح، سچا ،واقعاتی خدا کا پسندیدہ مذہب اس طوفان بدتمیزی کا خیمہ بردار کیوں بننے لگا، بلکہ آزادی سے مراد وہ آزادی ہے جس میں تمام بندے صرف ایک خدا کے عباد ہوں، اور بس ! رسول کی رسالت، بادشاہوں کی فرمانروائی، امیروں کی امارت ،ائمہ کی امامت ،اس حیثیت سے تسلیم نہ ہون کہ وہ ہمارے خدا ہیں اور ہم ان کے بندے ،بلکہ خدا ایک ،ہم سب بندے ،سب کے مناسب حقوق، اور سب کو اپنے واقعی چوکھٹوں میں تسلیم کرنے کا جائز و متوازن سلیقہ ۔ یہ ہے وہ حریت پسندی جس کی دعوت اسلام دیتا ہے ۔ جس کا وہ علمبردار ہے ۔ جس کی جانب وہ بلاتا ہے ۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اسلام سے مراد وہ حقیقت ثابتہ و سچا دین ہے جس کے داعی آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک خدا کا ہر پیغمبر ،ہر نبی اور ہر…

Read more

کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*

*کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟* از: محمد رضی الاسلام ندوی سوال : ایک صاحب بیرونِ ملک جاب کرتے تھے ۔ وہیں ایک سڑک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی ۔ ان کے وارثین میں اہلیہ ، تین لڑکیاں (شادی شدہ) اور ایک لڑکا ہے ۔ ان کا صرف ایک چھوٹا سا مکان ہے ۔ حادثہ کے بعد بیرونِ ملک سے کچھ معاوضہ (Compensation) کی رقم ملی تھی ۔ اس سے ایک نیا مکان تعمیر کیا گیا اور ایک آٹو رکشہ خریدا گیا ۔ مکان کی ایک منزل کرایے پر اٹھا دی گئی اور آٹو رکشہ کو کرائے پر لگا دیا گیا ۔ دونوں کی آمدنی سے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کا گزر بسر ہو رہا ہے ۔ اب وراثت کی تقسیم پیشِ نظر ہے ۔ کیا مکان (جس کی قیمت بارہ لاکھ روپے لگ رہی ہے) کو فروخت کر کے اس کی رقم تمام ورثہ میں تقسیم کر دی جائے ، یا اسے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کے قبضے میں رہنے دیا جائے اور اسے فروخت کر کے ان کے لیے مزید آمدنی کے کسی ذریعے میں خرچ کر دیا جائے؟ مرحوم کی تینوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں اور خوش حال زندگی گزار رہی ہیں ، جب کہ ان کی بیوہ اور لڑکے کو رقم کی ضرورت ہے ۔ جواب: 1 ۔ ایکسیڈنٹ کے بعد ملنے والی رقم بہ طور معاوضہ دی گئی ہے تو اس میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، لیکن اگر وہ بہ طور امداد بیوہ یا لڑکے کے نام سے جاری کی گئی ہے تو وہ صرف اسی کی سمجھی جائے گی جس کے نام سے جاری کی گئی ہے ۔ 2 ۔ موروثی مکان میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، جو درج ذیل تفصیل کے مطابق دیا جائے گا : بیوہ کو آٹھواں حصہ(1/8) ملے گا ۔ باقی لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر ملے گا ۔(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیینِ) دوسرے الفاظ میں بیوہ کو 12.5% ، لڑکے کو35% اور ہر…

Read more

مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برش

فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ (24) مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برش    مسواک کے دو پہلو ہیں ۔ ایک مسواک کا اصل مقصود اور یہ ظاہر ہے کہ نظافت اور صفائی و ستھرائی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اتنے دنوں تک مسواک نہ کرنا کہ منہ میں بدبو پیدا ہو جائے اور دانتوں پر زردی آجائے ، مکروہ ہے دوسرا پہلو آلہ مسواک کا ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعے دانتوں کی صفائی و ستھرائی کا کام لیا جائے ۔ ٹوتھ پیسٹ، برش اور منجن کے ذریعہ مسواک کی پہلی سنت ادا ہو جائے گی امام نووی کا بیان ہے : و باي شيئى إستاك مما يقلع القلح ويزيل التغير كالخرقة وغيرها أجزاه لانه يحصل به المقصود وان امر اصبعه على اسنانه لم يجزئه لانه لا يسمى سواكا – (1) گندگی اور دانتوں کی زردی کو ختم کر دینے والی چیزوں میں سے جس چیز سے بھی مسواک کرے کافی ہے کہ اس سے مقصود حاصل ہو جاتا ہے اگر دانتوں پر محض انگلی سے ملا ہو تو کافی نہیں کہ اس کو مسواک سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔ اور شیخ سید سابق کہتے ہیں : وان كانت السنة تحصل بكل ما يزيل صفرة الاسنان فينظف الفم كالفرشة ونحوها – () دوسری سنت اسی وقت ادا ہو گی جب کہ مسواک لکڑی کی ہو اور اسی بنیت جس طرح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ۔ حوالہ:  کتاب : جدید فقہی مسائل  جلد : 1  صفحہ: 96

Read more

دس محرم کا روزہ کیوں ؟

*10دس محرم کا روزہ کیوں؟* *ثواب اور آداب* 1️⃣ مدینہ منورہ آمد پر رسول اللہ ﷺ نے یہود کو عاشورا کا روزہ رکھتے دیکھا کیونکہ اس دن فرعون غرق ہوا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ: 1734) 2️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162) 3️⃣ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ آئندہ سال ہم 9 محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134) 4️⃣ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عاشورہ کے علاوہ کسی دن اور رمضان کے سوا کسی مہینے کو افضل سمجھ کر روزے کا خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: 2006)    

Read more

انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ

انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ   باہر سے غذا یا دوا کی صورت میں کسی چیز کا اندر جانا ناقض وضو نہیں انجکشن پر جسم کا تھوڑا سا خون لگا رہتا ہے ۔ اس مقدار میں خون کا باہر آنا بھی ناقص نہیں ہے ، اس لئے کہ وہ اتنی کم مقدار میں ہوتا ہے کہ بہہ نہیں سکتا۔ چنانچہ فقہا ہیں کہ اگر جسم سے خون نکلے ، اسے پونچھ دیا جائے اور اس کی مقدار اتنی کم کو پونچھا جاتا تو بھی بہہ نہیں سکتا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ، ثم خرج ايضا و مسحه فان كان الدم بحال لوترك ماقد مسح منه مسال انتقض وضوءه ، وان كان لا يسيل لا ينتقض وصوه – ) جب زخم سے تھوڑا سا خون نکلے ، پھر اسے پونچھ ڈالے پھر   دوبارہ خون کے اور اسے بھی پونچھ ڈالے ، تو اگر مجموعی طور پر خون کی مقدار اتنی ہو کر پونچھا ہوا خون چھوڑ دینے کی صورت میں بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔ ہاں اگر انجکشن کا منشا ہی خون لگانا اور کھینچنا ہو تو اس کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور اس کی نظیر فقہ کا یہ جزئیہ ہے کہ : القراد اذا مص عضو انسان فامتلا دما ان كان صغيرا لا ينقض وضوء كما مصت الذباب او البعوض كان كان كبير اينقض وكذا العلقة اذا مص عضو انسان حتى امتلات من دمه انتقض الوضوء – ) چیچڑی جب کسی آدمی کا عضو چوس لے اور خون سے بھر جائے تو اگر وہ چھوٹا ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے مچھر مکھیاں وغیرہ اور اگر بڑا ہو تو ٹوٹ جائے گا ، اسی طرح جونک جب آدمی کا عضو چوسے یہاں تک کہ خون سے بھر جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ حوالہ  کتاب: جدید فقہی مسائل  صفحہ: 91  جلد : 1  مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ     غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

Read more