HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ہندوستان کی تاریخ آزادی 10

ہندوستان کی تاریخ آزادی محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی گڈا جھارکھنڈ دوستو ! پندرہ اگست کی تاریخ محض تقویم کا ایک دن نہیں، یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ روشن اور سنہری باب ہے، جس کے پیچھے ایک طویل داستانِ جدوجہد، قربانی، عزم، حوصلہ اور آزادی کی تڑپ پوشیدہ ہے۔ آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمارے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ آزادی صرف کسی ایک طبقے، ایک جماعت یا ایک قوم کی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کا ثمر ہے، جس میں ہندوستان کے مختلف مذاہب، طبقات اور علاقوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر برادرانِ وطن نے اپنی جان، مال، آرام اور مستقبل کو داؤ پر لگایا؛ جیلیں آباد ہوئیں، پھانسیاں دی گئیں، گھر اجڑے، بستیاں ویران ہوئیں اور آزادی کی خاطر نسلوں نے قربانیاں پیش کیں۔ لیکن تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس پوری داستان کو جذبات سے نہیں، حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری سچائی اور قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ برطانوی اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کی ابتدائی اور بڑی آوازوں میں مسلمانوں کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلم جیالوں کی قیادت، مولوی احمد اللہ شاہ، مولوی لیاقت علی، خان بہادر خان، بیگم حضرت محل اور بے شمار مجاہدین کی جدوجہد اس تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی علماء، مجاہدین اور عام مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے استعمار کے خلاف مزاحمت کی اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب آزادی کی یہ چنگاری مختلف گوشوں میں سلگ رہی تھی، جب مزاحمت کے یہ ابتدائی آثار نمایاں ہو رہے تھے اور جب ہندوستان کے باشندوں میں غلامی کے خلاف شعور بیدار ہونے لگا تھا، تو رفتہ رفتہ یہ جدوجہد ایک وسیع عوامی تحریک کی صورت…

Read more

اسلام، تصور آزادی کا معیار

اسلام ، تصورِ آزادی كا معمار 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎ آج کل شہروں میں چڑیا خانے (Zoo Park) بنے ہوتے ہیں ، ان چڑیا خانوں کی تزئین و آرائش اور حفاظت و صیانت پر بہت بڑی رقم خرچ ہوتی ہے ، پورا چڑیا خانہ رنگ برنگ کے خوب صورت اور مہکتے ہوئے پھولوں ، لمبے ہرے بھرے درختوں اور پانی کی چھوٹی چھوٹی جھیلوں کی وجہ سے خوش منظر بنا رہتا ہے ، پھر انواع و اقسام کے حیوانات اور پرندوں کے لئے الگ الگ احاطے بنے ہوتے ہیں ، جانوروں کی دیکھ بھال اور آسائش کا جو انتظام ان چڑیا خانوں میں ہوتا ہے ، یقیناً وہ ان کو جنگلات میں بھی میسر نہیں ، اپنی غذا کے لئے نہ ان کو شکار تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ چارہ ڈھونڈھ نے کی حاجت ؛ بلکہ خود چڑیا خانہ کا عملہ ان کی غذائی ضروریات وقت پر اور فراوانی کے ساتھ فراہم کرتا ہے ، حفظانِ صحت کی جو رعایت یہاں کی جاتی ہے ، جنگلات میں ان کا میسر آنا ممکن نہیں ، باضابطہ ڈاکٹر اور معالج متعین ہیں ؛ بلکہ ان کے علاج کی اتنی فکر کی جاتی ہے کہ انسانوں کے لئے بھی اتنی فکر نہیں کی جاتی ، جانوروں کی حفاظت و صیانت کا بھی اعلیٰ درجہ کا نظام موجود ہے ، نہ کسی جانور کو اس کا خطرہ ہے کہ اس سے زیادہ طاقت ور جانور اسے اپنی خوراک بنا لے گا ، نہ شکاریوں سے کوئی خوف ہے ، غرض حیوانات کی ضروریات کی تکمیل اور ان کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو چڑیا خانے ان کے لئے ایسی راحت گاہ ہیں کہ انسانوں کو بھی ایسی سہولت و آسائش میسر نہیں ۔ لیکن اگر کسی شخص کو جانور کی زبان آتی ، وہ ان سے ہم کلام ہو سکتا اور ان جانوروں سے ان کی دلی آرزو اور سب سے پیاری خواہش کے بارے میں سوال کرتا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوتا کہ خدارا مجھے اس خوب صورت آراستہ و…

Read more

جنگ آزادی اور مسلمان

*_جنگ آزادی اور مسلمان_* (٢)   *”جنگ آزادی کے عظیم ہیروٹیپو سلطان شہید پر شہرۂ آفاق ناول لکھنے والے بھگوان گڈوانی کا بیان ہے کہ انہیں یہ ناول لکھنے کی ترغیب اس اجنبی فرانسیسی نوجوان نے دلائی تھی‘ جو لندن میں برٹش میوزیم سے نکلتے ہوئے چند لمحوں کے لئے ان کا ہم سفر ہوا تھا ۔اس نوجوان کو بارش سے بچنے کے لئے گڈوانی نے اپنی چھتری میں پناہ دی اور وہ اس کے ساتھ کافی ہاوس چلے گئے ۔باتوں باتوں میں اس نے بتایاکہ’’ وہ ان بادشاہوں پر ریسرچ کررہا ہے جنہوں نے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا ‘لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ پوری دنیا میں ٹیپو سلطان کے علاوہ ابھی تک کوئی ایسا بادشاہ نہیں ملا جس نے جنگ کے میدان میں لڑتے ہوئے شہادت پائی ہو۔بیشتر بادشاہ یا تو بھاگ گئے یا پکڑے گئے یا ہتھیار ڈالے اور مارے گئے ۔‘‘ اس بات سے بھگوان گڈوانی اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے ٹیپو سلطان پر ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کی کئی بڑی لائبریریوں اور آرکائیوز کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک انتہائی لا جواب ناول ’’دی سورڈ آف ٹیپو سلطان ‘‘تخلیق کیا ۔ بھگوان گڈوانی نے یہ باتیں مجھے ایک انٹرویو کے دوران جنوری ١٩٩٠ء میں اس وقت بتائی تھیں جب ان کے ناول پر سنجے خان نے ایک انتہائی متاثر کن ٹی وی سیریل بنایا تھا ۔کچھ فرقہ پرست عناصر اس سیریل کو دوردرشن پر ٹیلی کاسٹ کئے جانے کے خلاف تھے اور انہوں نے اس سیریل کے خلاف طوفان برپا کررکھا تھا ۔حالانکہ بھگوان گڈوانی کے ناول کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور اس کی ڈھائی لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں ۔ٹیپو سلطان کی مخالفت آج بھی جاری ہے ۔ شیر میسور ٹیپو سلطان نے ٤/مئی ١٧٩٩ء کو سرنگا پٹنم کے مقام پر انگریزوں سے لوہا لیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔انہوں نے انگریز سپا ہ کا مقابلہ اتنی بہادری اور جرأت کے ساتھ کیا کہ ان سے لوہا لینے والی فوج کے انگریز کمانڈر نے کہا تھا…

Read more

جنگ آزادی اور مسلمان

*_جنگ آزادی اور مسلمان_*(١) *١٥/ اگست آتے ہی آزادی اور تحریک آزادی کی باتیں ہونے لگتی ہیں، اس دوران زعفرانی پرچم کی بلندی، آر ایس ایس کی چالبازیاں اور پورے ہندوستان پر سیاسی و معاشی تسلط کے باوجود مسلمانوں کا تذکرہ کئے بنا کوئی تقریر و تحریر پوری نہیں ہوتی؛ حالانکہ بار بار یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں نے آزادی ہند میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا؛ لیکن ان کے پاس سوائے پروپیگنڈہ کے اور کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے منصف مزاج قلم اٹھاتے ہیں اور یک قلم سرخی پھیر دیتے ہیں، خود انہیں کی صف کے ماہرین و مفکرین تار عنکبوت کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں، خواہ کتنی ہی سازشیں ہوں، ہندوازم اور زعفرانی پرچم کی بلندی ہو، حکومت و سلطنت پر قبضہ ہو یا پھر سماجی و معاشرتی زندگی میں زہر گھولنا ہو، ہر صورت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے – اس وقت ہندوستان کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، آزادی کے پرچم تلے، قانون کی بالادستی کی باتیں کرتے ہوئے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ بھلا کس سے پوشیدہ ہے؟ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ علی الإعلان مسلمانوں کا سر قلم کرنے کی بات کہی گئی، میڈیا نے برائے نام خبر چلائی، کچھ کو گرفتار کیا گیا؛ لیکن جلد ہی انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد ایک جبہ، ٹوپی اور داڑھی والے نوجوان کو پولس کے سامنے چند بدمعاش، اوباش اور زعفرانی رومال اوڑھے لوگوں کے ذریعے پیٹے، مارتے اور بڑی بے دردی کے ساتھ بعض غلط فہمیوں کی بنا پر کچلتے دیکھا گیا، بعضوں کی کاوشوں اور چرچا کی وجہ سے کیس درج کیا گیا، مگر جلد از جلد انہیں بھی ضمانت دے دی گئی، اس کے برعکس صرف اکا دکا تقریر اور حق کی آواز بلند کرنے پر اب بھی نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کو دیش دروہ کے الزام میں گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا گیا،…

Read more

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ   از : مولانا ابو الجیش ندوی  ہم میں سے اکثر لوگ ہر ہفتے کے اختتام پر سورة الکہف کی تلاوت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس سورت میں موجود نہی یعنی منع کرنے والے دس ‘لا’ پر غور کیا ہے؟ یہ دس انکار آپ کو تدبر کی ایک نئی راہ دکھائیں گے۔ آئیے، ذرا ٹھہر کر اور اطمینان سے ان الہیٰ ارشادات پر غور کرتے ہیں۔ پہلا ‘لا’ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا لوگوں سے گفتگو اور بحث کے دوران خود کو کامل سچائی کا واحد مالک نہ سمجھیں اور نہ ہی لاحاصل تکرار میں اپنا وقت ضائع کریں۔ دوسرا ‘لا’ وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا جو مسائل آپ کے لیے الجھن کا باعث ہوں، ان میں ایسے شخص سے رہنمائی یا فتویٰ نہ طلب کریں جو معاملے کی حقیقت سے ناواقف ہو یا حق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہو۔ تیسرا ‘لا’ وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا ۝ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ آئندہ کی منصوبہ بندی کرتے وقت کبھی بھی خود سے یا کسی دوسرے سے ان شاء اللہ کہے بغیر کوئی حتمی وعدہ نہ کریں۔ چوتھا ‘لا’ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا نیک اور صالح لوگوں کی صحبت میسر ہو تو دنیاوی چمک دمک کی خاطر ان سے اپنی توجہ ہرگز نہ ہٹائیں۔ پانچواں ‘لا’ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ہر اس رشتے اور چیز سے فاصلہ اختیار کریں جو آپ کو اللہ سے دور کرے۔ اس شخص کی ہرگز پیروی نہ کریں جس کا دل یادِ خدا سے غافل ہو چکا ہو، جو اپنی نفسانی خواہشات کا غلام بن گیا ہو اور جس کا ہر قدم تباہی کی طرف اٹھتا ہو۔ چھٹا ‘لا’ فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا معلومات حاصل کرنے اور چیزوں کی تہہ تک پہنچنے کے شوق میں، جب تک بات پوری طرح کھل کر سامنے نہ آ جائے، سوال کرنے میں جلدی نہ کریں۔ ساتواں ‘لا’ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ یاد رکھیں…

Read more

غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

 (26 ) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم بالوں کے مصنوعی جوڑے جو ہمارے زمانے میں عورتیں بکثرت استعمال کرنے لگی ہیں ، اور جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اگر ان کو باندھ ہی لیں تو سوال یہ ہے کہ وضو و غسل میں ان کا کیا حکم ہوگا ؟ چوں کہ یہ بال اس کے جسم کا حصہ نہیں ہیں ، نہ کسی ضرورت کی بناء پر لگائے گئے ہیں اور نہ ان کا نکالنا چنداں دشوار ہے ۔ اس لئے اس کی حیثیت ایک خارجی چیز کی ہوگی۔ غسل میں تو یوں بھی عورتوں کے لئے بال کی جڑوں تک پانی پہنچانا کافی ہے بال دھونا ضروری نہیں۔ وليس على المراة ان تنقض ضفائرها في الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر – وضو میں بھی ان کی حیثیت یہی ہوگی ۔ مثلا اگر کوئی خاتون اس طرح سر کا مسح کرے کہ صرف مصنوعی بالوں کے حصہ پر مسح ہو اور اصلی بالوں پر کم از کم چو تھائی سر کے مقدار بھی مسح نہ ہو پائے تو کافی نہ ہو گا۔ ان کو اپنے اصل بالوں پر مسح کرنا چاہئے۔   غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم حوالہ :  کتاب : جدید فقہی مسائل  صفحہ: 100  جلد : 1  کتب خانہ نعیمیہ دیوبند 

Read more