مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی: حیات، علمی و ادبی خدمات اور تصانیف

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی — عالم، ادیب اور عربی زبان و ادب کے ماہر

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، عربی زبان و ادب کے ماہر، ادیب، ناقد، صحافی اور دینی و تعلیمی شخصیت ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے وابستہ ہیں اور عربی زبان و ادب کی تدریس، تصنیف و تالیف، صحافت اور دعوتی و تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم اور انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ کے چانسلر بھی رہے ہیں۔

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی شخصیت میں علمی گہرائی، عربی زبان و ادب پر عبور، خطابت، صحافتی ذوق اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیم و تدریس اور عربی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کیا۔

ولادت اور خاندانی پس منظر

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی ولادت 14 مئی 1935ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش میں ہوئی۔ ان کے والد مولانا محمد ایوب اعظمی ایک معروف عالمِ دین اور محدث تھے۔ علمی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے بچپن ہی سے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کو علم و ادب سے گہرا شغف پیدا ہوگیا۔

ان کے خاندان کا تعلق علمی روایت سے تھا، جس نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی عمر ہی میں دینی علوم کے ساتھ عربی زبان و ادب کی طرف ان کا رجحان پیدا ہوا۔

ابتدائی تعلیم

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ عربیہ مفتاح العلوم، مئو میں حاصل کی۔ مئو اس زمانے میں دینی اور علمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں متعدد جید علماء سے استفادے کے مواقع حاصل ہوتے تھے۔

جامعہ عربیہ مفتاح العلوم میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے علمی ذوق کو مزید آگے بڑھانے کے لیے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں انہوں نے عربی زبان و ادب کے میدان میں خصوصی تعلیم حاصل کی اور ادبِ عربی میں تخصص کیا۔

دار العلوم ندوۃ العلماء سے وابستگی

دار العلوم ندوۃ العلماء سے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی وابستگی ان کی علمی زندگی کا ایک اہم باب ہے۔ تخصص مکمل کرنے کے بعد انہیں ندوہ میں عربی ادب کے استاد کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔

تدریس کے دوران انہوں نے عربی زبان، ادب اور اس کے مختلف پہلوؤں کو طلبہ تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا شمار ندوہ کے ان اساتذہ میں ہوتا ہے جنہوں نے عربی زبان و ادب کی تدریس اور اس کے ذوق کو پروان چڑھانے میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔

بغداد کا علمی سفر

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے علمی سفر کا ایک اہم مرحلہ 1958ء میں بغداد کا سفر تھا۔ وہاں انہوں نے عربی زبان و ادب کے معروف ماہر اور ادیب ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے تقریباً ایک سال تک استفادہ کیا۔

عربی زبان و ادب کے ایک ممتاز عالم سے براہِ راست استفادہ نے ان کے علمی ذوق کو مزید جلا بخشی اور عربی زبان و ادب میں ان کی مہارت کو وسعت دی۔ بعد کے علمی و ادبی کاموں میں اس علمی تربیت کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

عربی زبان و ادب میں خدمات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی بنیادی طور پر عربی زبان و ادب کے عالم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ انہوں نے عربی ادب کی تدریس کے ساتھ ساتھ عربی میں تصنیف و تالیف اور صحافت کے میدان میں بھی کام کیا۔

ان کی تحریروں میں عربی زبان کی پختگی، اسلامی فکر کی ترجمانی اور ادبی اسلوب نمایاں ہے۔ انہوں نے عربی زبان کو دینی علوم اور اسلامی دعوت کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔

مجلۃ البعث الاسلامی سے وابستگی

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی صحافتی خدمات میں مجلۃ البعث الاسلامی سے ان کی وابستگی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

جب سید محمد الحسنی نے عربی علمی و فکری سرگرمیوں کے لیے المنتدی العربی قائم کیا تو مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی بھی اس علمی کوشش میں شریک رہے۔ بعد ازاں اسی کے تحت 1955ء میں مجلۃ البعث الاسلامی کا اجرا ہوا اور مولانا اس کی ادارت میں بھی شریک رہے۔

سید محمد الحسنی کی وفات 1979ء کے بعد مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اس عربی مجلے کی ذمہ داری سنبھالی اور اس کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے اس کی علمی و فکری روایت کو آگے بڑھایا۔

مجلۃ البعث الاسلامی برصغیر سے شائع ہونے والے اہم عربی رسائل میں شمار ہوتا ہے اور عرب دنیا تک ہندوستان کے دینی و علمی افکار پہنچانے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

الرائد سے تعلق

مجلۃ البعث الاسلامی کے علاوہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی عربی پندرہ روزہ الرائد سے بھی وابستہ رہے اور اس کے نائب مدیر کی ذمہ داری انجام دیتے رہے۔

اس طرح عربی صحافت کے میدان میں ان کی خدمات صرف ایک رسالے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے مختلف علمی و فکری پلیٹ فارموں کے ذریعے عربی زبان میں اسلامی فکر کی ترجمانی کی۔

کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کی سربراہی

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے 1993ء سے 1999ء تک دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

یہ ذمہ داری ان کے علمی مقام اور عربی زبان و ادب میں ان کی مہارت کی ایک نمایاں علامت تھی۔ اس عرصے میں انہوں نے عربی زبان و ادب کی تعلیم اور اس کے تعلیمی نظام سے متعلق اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کو 2000ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے منصبِ اہتمام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ادارے کی انتظامی و تعلیمی ذمہ داریوں میں اہم کردار ادا کیا۔

دار العلوم ندوۃ العلماء برصغیر کے معروف دینی و تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں دینی علوم کے ساتھ عربی زبان و ادب پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی طویل وابستگی اسی علمی روایت کا تسلسل ہے۔

انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ سے وابستگی

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ سے بھی وابستہ رہے اور یونیورسٹی کے چانسلر کی ذمہ داری انجام دی۔

اس ذمہ داری کے ذریعے ان کی علمی و تعلیمی خدمات کا دائرہ دینی مدارس سے نکل کر جدید اعلیٰ تعلیمی اداروں تک بھی پھیلا۔

خطابت اور دعوتی خدمات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ایک معروف عربی خطیب بھی ہیں۔ انہوں نے مختلف مواقع پر عربی زبان میں خطابات کیے اور اسلامی تعلیمات، دینی فکر اور علمی موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔

وہ مختلف ممالک کے دعوتی اسفار بھی کرچکے ہیں۔ ان اسفار کا مقصد علمی، دعوتی اور اسلامی فکر کو عام کرنا تھا۔

مسجدِ ندوہ کے امام و خطیب

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے طویل عرصے تک دار العلوم ندوۃ العلماء کی مسجد کے امام و خطیب کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اس ذمہ داری سے وابستگی ان کی دینی و عملی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔

دیگر علمی و تعلیمی ذمہ داریاں

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی مختلف علمی، دینی اور تعلیمی اداروں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے رکن اور دینی تعلیمی کونسل کے نائب صدر کی ذمہ داری بھی انجام دیتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ متعدد مدارس اور دینی اداروں کے ناظم یا سرپرست کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی تصانیف

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے عربی اور اردو دونوں زبانوں میں تصنیف و تالیف کی۔ ان کی تحریروں میں اسلامی فکر، عربی زبان و ادب، سیرت، دعوت اور دینی موضوعات نمایاں ہیں۔

عربی تصانیف

ان کی معروف عربی کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں:

  • شعراء الرسول
  • ساعة مع العارفين
  • صور من واقع الدين
  • جاهلية اللغة وجنايتها على الدين والإنسانية
  • أحمد بن عرفان المجاهد الشهيد
  • ندوة العلماء تواجه التحدي الكبير
  • الدعوة الإسلامية: منجزات، مشكلات، طرق المعالجة

ان کتابوں سے ان کے علمی، ادبی اور دعوتی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے۔

اردو تصانیف

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اردو میں بھی متعدد کتابیں اور تحریریں پیش کیں، جن میں نمایاں ہیں:

  • 48 سال شفقتوں کے سائے میں
  • علم التصریف
  • خطباتِ علم و دعوت
  • اسوۂ نبوی کے آئینہ میں

اردو سے عربی ترجمہ کی خدمات

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے اردو کی متعدد اہم اسلامی اور فکری کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ اس طرح انہوں نے اردو میں موجود علمی سرمایہ کو عربی دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے ترجمہ کردہ کاموں میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:

  • أسباب سعادة المسلمين وشقائهم — شیخ محمد زکریا کاندھلوی
  • منهج الدعوة في الإسلام — شیخ امین احسن اصلاحی
  • رجال الفكر والدعوة، الجزء الثاني — مولانا سید ابوالحسن علی ندوی
  • صورتان متضادتان
  • القرن الخامس عشر
  • القرآن يتحدث إليكم — مولانا محمد منظور نعمانی
  • توزيع الثروة في الإسلام — مفتی محمد شفیع عثمانی

یہ تراجم اردو اور عربی علمی دنیا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے اور برصغیر کے علمی ذخیرے کو عربی قارئین تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوئے۔

علمی و ادبی شخصیت

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی علمی زندگی کئی مختلف میدانوں پر محیط ہے۔ وہ ایک طرف عالمِ دین اور مدرس ہیں تو دوسری طرف عربی زبان و ادب کے ماہر، ادیب، ناقد اور صحافی بھی ہیں۔

انہوں نے تدریس کے ذریعے طلبہ کی علمی تربیت کی، تصنیف و تالیف کے ذریعے علمی سرمایہ میں اضافہ کیا، عربی صحافت کے ذریعے اسلامی فکر کو وسیع حلقوں تک پہنچایا اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے ذریعے دینی و تعلیمی اداروں کی خدمت انجام دی۔

نتیجہ

مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی برصغیر کی ان علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی طویل زندگی علم، ادب، تدریس، صحافت، خطابت اور دینی و تعلیمی خدمت میں گزاری۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے ان کی طویل وابستگی، عربی زبان و ادب میں ان کی مہارت، مجلۃ البعث الاسلامی سے ان کا تعلق، عربی و اردو میں ان کی تصانیف اور تراجم ان کے علمی کارناموں کی اہم جہتیں ہیں۔

ان کی شخصیت خصوصاً عربی زبان و ادب کے فروغ اور ہندوستان کے دینی و علمی افکار کو عربی دنیا تک پہنچانے کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نئی نسل کے طلبہ اور اہلِ علم کے لیے ایک قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔

7 اکتوبر 2026ء کو ان کا انتقال ایک عہد کے خاتمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور دینی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ رہیں گی۔


مفتی ابو القاسم نعمانی: سوانح، علمی خدمات | مہتمم دارالعلوم دیوبند