بصارت سے محروم، بصیرت سے مالا مال
حضرت قاری شبیر احمد صاحب(ناظم مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ، دربھنگہ) کا سانحۂ ارتحال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، لیکن بعض اہلِ علم و فضل کا اٹھ جانا محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتا، بلکہ ایک علمی، دینی اور اخلاقی سرمایے کا رخصت ہونا ہوتا ہے۔ ان کی زندگی اپنے پیچھے جو نقوش چھوڑ جاتی ہے، وہ ان کے بعد بھی مدتوں لوگوں کی رہنمائی اور یادوں کی روشنی کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ حضرت قاری شبیر احمد صاحب کا انتقال بھی اسی نوعیت کا ایک بڑا علمی و دینی سانحہ ہے۔
گزشتہ کل 2 اکتوبر 2026ء بروز جمعہ مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ کے ناظم و ذمہ دار، دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ، ممتاز قاری، صاحبِ ذکاوت و فطانت، اچھے شاعر، خطیب، ادیب اور کامیاب منتظم حضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ اہلِ علم و فضل کے درمیان محبوب و محترم اور عام لوگوں میں بھی ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ حضرت قاضی مجاہد صاحبؒ کے محبوب نظر اور ان کے معتمد لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کی وفات سے ایک ایسا شخص ہم سے جدا ہوگیا جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیم، تدریس، انتظام، دینی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ میں صرف کیا۔

حضرت قاری صاحبؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں اور غیرمعمولی پہلو ان کی بصارت سے محرومی اور بصیرت کی فراوانی تھا۔ وہ بچپن ہی سے آنکھوں کی روشنی سے محروم تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر جو ذہنی صلاحیت، فکری گہرائی، حافظہ، ذکاوت، فطانت اور بصیرت پیدا فرمائی تھی، وہ بلاشبہ حیرت انگیز تھی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی ایک روشن مثال تھی کہ انسان کی اصل قوت صرف آنکھوں کی بینائی نہیں، بلکہ دل و دماغ کی وہ روشنی ہے جس سے آدمی اشیا کے ظاہر سے آگے ان کی حقیقت، ضرورت اور مقصد کو سمجھتا ہے۔
کورستان کا علمی سفر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخِ علم و ادب ایسے نابینا اہلِ علم و کمال کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ظاہری آنکھوں کی محرومی کے باوجود علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ حضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ بھی اسی قافلے کی ایک کڑی تھے۔ انہوں نے اپنی محرومی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو دوسری صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں، ان کو بروئے کار لاکر دینی و علمی میدان میں اپنی ایک شناخت قائم کی۔وہ قاری بھی تھے، عالم بھی؛ خطیب بھی تھے، شاعر بھی؛ ادیب بھی تھے اور منتظم بھی۔ یہی ہمہ جہتی ان کی شخصیت کو ممتاز بناتی تھی۔
ان کی بصیرت محض علمی ذہانت تک محدود نہیں تھی، بلکہ معاملات کو سمجھنے، لوگوں کو پرکھنے، حالات کا ادراک کرنے اور کام کو سلیقے سے آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی ان میں نمایاں تھی۔
ان کے شاگردوں اور متعلقین سے ان کی ذہانت، فطانت، قابلیت اور صالحیت کے جو تذکرے سننے کو ملے، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔وہ بہت سے معاملات میں اپنے معاصرین سے ممتاز نظر آتے تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور دلکش پہلو ان کی شائستگی، تہذیب، نفاست اور نستعلیقیت تھی۔ وہ صرف علم و معلومات رکھنے والے انسان نہیں تھے، بلکہ علم و تہذیب کے آداب کو اپنی شخصیت میں سموئے ہوئے تھے۔ گفتگو میں متانت، مزاج میں شرافت، برتاؤ میں سلیقہ اور نشست و برخاست میں ایک خاص تہذیبی رنگ نمایاں تھا۔ ان کی زبان و ادب سے دلچسپی اور شعری ذوق نے ان کی شخصیت میں مزید نکھار پیدا کیا تھا۔ ان کے خطوط کے بارے میں ان کے شاگردوں اور متعلقین کا بیان ہے کہ وہ علمی و ادبی رنگ لیے ہوئے ہوتے تھے۔ یہ چیز ان کی وسعتِ مطالعہ اور زبان و بیان پر قدرت کی غماز ہے۔
حضرت قاری صاحبؒ کا تعلق بہار کا مردم خیز خطہ دربھنگہ سے تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب اور علاقائی مدرسے میں حاصل کی۔ علم کی طلب نے انہیں مدرسہ دینیہ غازی پور پہنچایا، جہاں انہوں نے اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ پھر علم کی پیاس انہیں برصغیر کے عظیم علمی مرکز دارالعلوم دیوبند لے گئی۔ اس زمانے میں ان کے علاقے کے متعدد طلبہ دیوبند میں زیرِ تعلیم تھے، لیکن اپنی طبعی ذہانت، فطانت اور ہردلعزیزی کی وجہ سے وہ اپنے ہم عصروں میں نمایاں رہتے تھے۔
ان کے معاصرین میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانیؒ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، بھی ہیں ، جن سے ان کی بے تکلفی بھی تھی۔ حضرت مولانا رضوان القاسمی، مولانا نور عالم خلیل امینی اور مولانا اعجاز احمد اعظمی جیسے اہل علم وادب ان کے حلقۂ یاراں میں شامل تھے۔ مولانا محمد نسیم قاسمی، سابق معاون ناظم امارت شرعیہ، جناب مولانا اختر امام عادل صاحب قاسمی، مفتی محمد زاہد ناصری اور بعض دیگر جید اہلِ علم ان کے شاگردوں میں شامل ہیں۔مولانا سراج اکرم ہاشمی اور مولانا طارق انور ندوی جیسے بہت سے ارباب علم وفضل کے ان کے علمی دسترخوان کے خوشہ چیں رہے ہیں۔ ان کی علمی و شخصی وجاہت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ان سے وابستہ علمی حلقوں میں آج بھی ان کی ذہانت و فطانت اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
فراغت کے بعد حضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ نے ایک عرصہ مدرسہ دینیہ غازی پور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں حضرت قاضی مجاہد صاحبؒ نے انہیں غازی پور سے مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ آنے کی دعوت دی، تاکہ وہ یہاں دینی و علمی خدمت انجام دینے کے ساتھ مدرسے کے نظم و نسق اور انتظامی امور میں بھی معاونت کریں۔ انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور پھر شکر پور بھروارہ ہی ان کی زندگی کا مستقل مرکز بن گیا۔ یہ وابستگی چند برسوں کی نہیں تھی؛ تقریباً پینتیس سال وہ اس ادارے سے وابستہ رہے، اس کی علمی و دینی خدمت کی، اس کے نظم و نسق میں حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں سے اس کی آبیاری کرتے رہے۔ کسی ادارے سے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک وابستہ رہنا محض ملازمت یا منصب کا نام نہیں، بلکہ اس ادارے کے ساتھ وفاداری، تعلق اور خدمت کی ایک طویل داستان ہوتا ہے۔ حضرت قاری صاحبؒ نے یہ داستان خاموشی اور استقامت کے ساتھ لکھی۔
معاصر علماء، دینی شخصیات اور ملی قائدین سے بھی ان کے گہرے روابط تھے۔ راقم الحروف کو بھی ایک دو مرتبہ سیمیناروں میں ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ براہِ راست ملاقاتیں اگرچہ زیادہ نہ ہوسکیں، لیکن ان کے شاگردوں سے ان کا ذکر بارہا سننے کو ملا۔ خصوصاً ان کی ذہانت، فطانت، قابلیت، صالحیت اور حسنِ انتظام کا تذکرہ ان کے شاگرد محبت اور عقیدت کے ساتھ کرتے تھے۔
یہ بھی ایک خوش گوار اتفاق ہے کہ شکر پور بھروارہ کے بہت سے فیض یافتہ طلبہ کا تعلق راقم الحروف سے بھی رہا ہے۔ ان میں متعدد(محمد خالد ضیا، انیس الرحمن، محمد اعظم وغیرہ) ایسے ہیں جنہوں نے ندوہ جانے سے پہلے مدرسہ نور الاسلام، موئی کلاں، کنڈہ، پرتاپ گڑھ میں تعلیم حاصل کی، پھر اسی علمی شاخ کے ذریعے دارالعلوم ندوۃ العلماء پہنچے اور آج مختلف میدانوں میں دینی، علمی، ملی اور سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یوں حضرت قاری شبیر صاحبؒ کے علمی اثرات کا ایک بالواسطہ تعلق راقم الحروف کی اپنی علمی زندگی سے بھی قائم ہوجاتا ہے۔
حضرت قاری صاحبؒ کی وفات کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کے دن اپنے پاس بلایا۔ ان کے شاگردوں کے مطابق وہ جمعہ کے دن موت کی فضیلت سے متعلق حدیث کا کثرت سے تذکرہ کرتے تھے اور اس مبارک دن موت کی تمنا بھی کیا کرتے تھے۔ ہم اس واقعے کو ان کے لیے حسنِ ظن اور خیر کی امید کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جس دن کو وہ اپنے لیے پسند کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اسی دن انہیں اپنے حضور حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہو۔
حضرت مولانا قاری شبیر احمد صاحبؒ کی زندگی کا سب سے روشن سبق شاید یہی ہے کہ انسان کی قدر و قیمت ظاہری قوتوں سے نہیں، اس کے اندر کی روشنی سے ہوتی ہے۔ آنکھیں نہ ہوں تو بھی آدمی زمانے کو دیکھ سکتا ہے، اگر اللہ نے اسے بصیرت عطا فرمائی ہو؛ اور بسا اوقات آنکھوں والے بھی بہت کچھ دیکھ کر نہیں دیکھ پاتے، جبکہ بصیرت والا انسان ظاہری پردوں کے پیچھے چھپی حقیقتوں کو محسوس کرلیتا ہے۔ حضرت قاری صاحبؒ نے اپنی زندگی سے اس حقیقت کو عملاً ثابت کیا کہ محرومی اگر حوصلے کو شکست نہ دے تو وہ انسان کے سفر کی رکاوٹ نہیں رہتی۔ وہ بصارت سے محروم تھے، مگر علم کی دنیا میں کہیں اور کسی سے کم بھی نہیں تھے؛ آنکھوں سے محروم تھے، مگر زمانے کے حالات سے بے خبر نہیں تھے؛ ظاہری روشنی ان کے پاس نہ تھی، مگر علم، فہم، ذوق، ادب اور بصیرت کی روشنی ان کی شخصیت میں نمایاں تھی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اس کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔
آج حضرت قاری شبیراحمد صاحبؒ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے شاگرد، ان کا ادارہ، ان کی دینی و علمی خدمات، ان کی تحریری یادگاریں، ان کے خطوط، ان کا شعری و ادبی ذوق اور ان کی شائستہ و نستعلیق شخصیت ان کی یاد کو زندہ رکھے گی۔ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کے اخلاص سے کیے ہوئے کام، اس کی تربیت سے سنورنے والی زندگیاں اور اس کے چھوڑے ہوئے اچھے نقوش باقی رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت قاری شبیراحمد صاحبؒ کی مغفرت فرمائے، ان کی دینی، علمی، تدریسی اور ملی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس کو ان کا مسکن بنائے، مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، ان کے شاگردوں اور متعلقین کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق دے، اور تمام پسماندگان و وابستگان، بالخصوص ان کے لائق وفائق صاحبزادے مولانا دبیر احمد قاسمی کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

